Sunan At-Tirmidhi 110

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

110Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ منی نکلنے سے غسل فرض ہوتا ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ نُهِيَ عَنْهَا . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي الْفَرْجِ وَجَبَ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلَا.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ صرف منی (نکلنے) پر غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، پھر اس سے روک دیا گیا۔

Sayyidina Ubayy ibn Kab (RA) said that in early Islam bath was Fard only when there was an emission. This was a concession granted but it was withdrawn. Ahmad ibn Mani reports from Ibn Mubarak from Mumar from Dhuhri a hadith like this hadith with same isnaad on him.

صحيح، ابن ماجة (609)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 110 اس سند سے بھی زہری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 111
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صرف منی نکلنے ہی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، ٣- اسی طرح صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے جن میں ابی بن کعب اور رافع بن خدیج ؓ بھی شامل ہیں، مروی ہے، ٤- اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، کہ جب آدمی اپنی بیوی کی (شرمگاہ) میں جماع کرے تو دونوں (میاں بیوی) پر غسل واجب ہوجائے گا گرچہ ان دونوں کو انزال نہ ہوا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور حکم دیا گیا کہ منی خواہ نکلے یا نہ نکلے اگر ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٨٤ (٢١٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١١ (٩٠٦)، ( تحفة الأشراف: ٢٧)، مسند احمد (٥/١١٥، ١١٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٣ (٧٨٦) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح)