Sunan At-Tirmidhi 121

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

121Sunan At-Tirmidhi

جنبی سے مصافحہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ، قَالَ: فَانْبَجَسْتُ أَيْ فَانْخَنَسْتُ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ أَوْ أَيْنَ ذَهَبْتَ ؟ ، قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا قَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قال أبو عيسى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ فَانْخَنَسْتُ يَعْنِي: تَنَحَّيْتُ عَنْهُ، وَقَدْ رَخَّصَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ وَلَمْ يَرَوْا بِعَرَقِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ بَأْسًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان سے ملے اور وہ جنبی تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ یا: کہاں چلے گئے تھے (راوی کو شک ہے) ۔ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا۔ آپ نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) said, "The Prophet ﷺ met me while I was sexually defiled. So, I slipped away quietly, had a bath and came to him. He asked me where I had gone away and I told him that I was impure. He said: A Believer does not become impure."

صحيح، ابن ماجة (534)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 121
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں حذیفہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور ان کے قول «فانخنست» کے معنی «تنحیت عنہ» کے ہیں یعنی میں نظر بچا کر نکل گیا ، ٤- بہت سے اہل علم نے جنبی سے مصافحہ کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور جب پسینے میں کوئی حرج نہیں تو بغیر پسینے کے بدن کی جلد ( سے پاک آدمی کے ہاتھ اور جسم کے ملنے ) میں بدرجہ اولیٰ کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢٣ (٢٨٣)، صحیح مسلم/الحیض ٢٩ (٣٧١)، سنن ابی داود/ الطہارة ٩٢ (٢٣٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٧٢ (٢٧٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٠ (٥٣٤)، ( تحفة الأشراف: ١٤٦٤٨)، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٢٨٢، ٤٧١) (صحیح)