Sunan At-Tirmidhi 122

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

122Sunan At-Tirmidhi

عورت جو خواب میں مرد کی طرح دیکھے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِنْتُ مِلْحَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَعْنِي غُسْلًا إِذَا هِيَ رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ قَالَ: نَعَمْ إِذَا هِيَ رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قُلْتُ لَهَا: فَضَحْتِ النِّسَاءَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ فَأَنْزَلَتْ أَنَّ عَلَيْهَا الْغُسْلَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَخَوْلَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ.

ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ام سلیم بنت ملحان نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اللہ حق سے نہیں شرماتا ١ ؎ کیا عورت پر بھی غسل ہے، جب وہ خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ٢ ؎ آپ نے فرمایا: ہاں، جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے ٣ ؎ ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے ام سلیم سے کہا: ام سلیم! آپ نے تو عورتوں کو رسوا کردیا۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) said that Umm Sulaym bint Milhan (RA) came to ., the Prophet ﷺ and said, "Messenger of Allah! Allah is not ashamed of the truth. Is it wajib for a woman to have a bath if she has sexual dream as a man does?" He said, "Yes, when she sees signs of mani, she must have a bath." Sayyidah Umm Salamah (RA) said that she remarked, "O Umm Sulaym! You have disgraced women."

صحيح، ابن ماجة (600)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 122
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بیشتر فقہاء کا قول ہے کہ عورت جب خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے پھر اسے انزال ہوجائے (یعنی منی نکل جائے) تو اس پر غسل واجب ہے، یہی سفیان ثوری اور شافعی بھی کہتے ہیں، ٣- اس باب میں ام سلیم، خولہ، عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شرم و حیاء کی وجہ سے حق کے بیان کرنے سے نہیں رکتا، تو میں بھی ان مسائل کے پوچھنے سے باز نہیں رہ سکتی جن کی مجھے احتیاج اور ضرورت ہے۔ ٢ ؎: جو مرد دیکھتا ہے سے مراد احتلام ہے۔ ٣ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ منی کے نکلنے سے عورت پر بھی غسل واجب ہوجاتا ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی احتلام ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٠ (١٣٠)، والغسل ٢٢ (٢٨٢)، والأنبیاء ١ (٣٣٢٨)، والأدب ٦٨ (٦٠٩١)، و ٧٩ (٦١٢١)، صحیح مسلم/الحیض ٧ (٣١٣)، سنن النسائی/الطہارة ١٣١ (١٩٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٧ (٦١٠)، ( تحفة الأشراف: ١٨٢٦٤)، مسند احمد (٦/٢٩٢، ٣٠٢، ٣٠٦) (صحیح)