عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے بیچ میں کھڑے ہوئے اور قبلہ رخ ہو کر اپنے داہنے ابرو کے مقابل رمی شروع کی۔ پھر سات کنکریوں سے رمی کی۔ ہر کنکری پر وہ اللہ اکبر کہتے تھے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس ذات نے بھی یہیں سے رمی کی جس پر سورة البقرہ نازل کی گئی ہے۔
Abdur Rahman ibn Yazid said that when Abdullah (RA) came to jamrat uI-Aqabahh in the middle of the valley, he faced the Ka’bah and began to cast pebbles at the jamrah to his right. He cast seven pebbles, calling out the takbir at each throw. He then said, “By Allah beside Whom is no one (worthy of worship), from here, he, on whom surah al-Baqarah was revealed, cast pebbles.” [Bukhari 1747, Muslim 1296, Abu Dawud 1974, Nisai 3067, Ibn e Majah 3030]
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمرات کی رمی اور صفا و مروہ کی سعی اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “The rami of the jimar and the Sa’i between Safa and Marwah are imposed only to maintain remembrance of Allah. [Ahmed25134, Abu Dawud 1888]
ضعيف، المشکاة (2624)، ضعيف أبي داود (328) // عندنا برقم (410 / 1888) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 902
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٩١ (١٨٨٨) (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٣)، مسند احمد (٦/١٣٩)، سنن الدارمی/المناسک ٣٦ (١٨٩٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبیداللہ بن ابی زیاد “ ضعیف ہیں)
جابر ؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گائے اور اونٹ کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر (ذبح) کیا۔
Sayyidina Jabir (RA) said that in the year of Hudaybiyah, we, with Allah’s Messenger ﷺ sacrificed a cow associating seven people and a camel also seven people in association. [Ahmed14120, Muslim 1318, Abu Dawud 2809, Ibn e Majah 3132]
صحيح، ابن ماجة (3132)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 904
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ اونٹ سات لوگوں کی طرف سے اور گائے سات لوگوں کی طرف سے ہوگی۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی اور احمد کا قول ہے، ٤- ابن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ گائے سات لوگوں کی طرف سے اور اونٹ دس لوگوں کی طرف سے کافی ہوگا ١ ؎۔ یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ ابن عباس کی حدیث کو ہم صرف ایک ہی طریق سے جانتے ہیں (ملاحظہ ہو آنے والی حدیث: ٩٠٥) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جابر ؓ کی یہ حدیث حج و عمرہ کے «ھدی» کے بارے میں ہے، جس کے اندر ابن عباس ؓ کی اگلی حدیث قربانی کے بارے میں ہے ( اور اس کی تائید صحیحین میں مروی رافع بن خدیج کی حدیث سے بھی ہوتی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مال غنیمت میں ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں، یعنی: ایک اونٹ برابر دس بکریوں کے ہے ) شوکانی نے ان دونوں حدیثوں میں یہی تطبیق دی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٢ (١٣١٨)، سنن ابی داود/ الضحایا ٧ (٢٨٠٩)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٥ (٣١٣٢) (تحفة الأشراف: ٢٩٣٣)، موطا امام مالک/الضحایا ٥ (٩)، ویأتي عند المؤلف في الأضاحي ٨ (١٥٠٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: (صحیح مسلم/المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ المصدر المذکور سنن النسائی/الضحایا ١٦ (٤٣٩٨) من غیر ہذا الطریق۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ذو الحلیفہ میں (ہدی کے جانور کو) دو جوتیوں کے ہار پہنائے اور ان کی کوہان کے دائیں طرف اشعار ١ ؎ کیا اور اس سے خون صاف کیا۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ garlanded his she camel with two sandals on its neck and marked it on the right side at Zul Hulayfah and wiped off the blood from it. [Ahmed3149, Muslim 1243, Abu Dawud 1752, Nisai 2769. Ibn e Majah 3097]
صحيح، ابن ماجة (3097)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 906
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام ؓ وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اشعار کے قائل ہیں۔ یہی ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٣- یوسف بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے وکیع کو کہتے سنا جس وقت انہوں نے یہ حدیث روایت کی کہ اس سلسلے میں اہل رائے کے قول کو نہ دیکھو، کیونکہ اشعار سنت ہے اور ان کا قول بدعت ہے، ٤- میں نے ابوسائب کو کہتے سنا کہ ہم لوگ وکیع کے پاس تھے تو انہوں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے جو ان لوگوں میں سے تھا جو رائے میں غور و فکر کرتے ہیں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اشعار کیا ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ مثلہ ہے تو اس آدمی نے کہا: ابراہیم نخعی سے مروی ہے انہوں نے بھی کہا ہے کہ اشعار مثلہ ہے، ابوسائب کہتے ہیں: تو میں نے وکیع کو دیکھا کہ (اس کی اس بات سے) وہ سخت ناراض ہوئے اور کہا: میں تم سے کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اور تم کہتے ہو: ابراہیم نے کہا: تم تو اس لائق ہو کہ تمہیں قید کردیا جائے پھر اس وقت تک قید سے تمہیں نہ نکالا جائے جب تک کہ تم اپنے اس قول سے باز نہ آ جاؤ ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہدی کے اونٹ کی کوہان پر داہنے جانب چیر کر خون نکالنے اور اس کے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ ہدی کے جانوروں کی علامت اور پہچان ہے۔ ٢ ؎: وکیع کے اس قول سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیئے جو ائمہ کے اقوال کو حدیث رسول کے مخالف پا کر بھی انہیں اقوال سے حجت پکڑتے ہیں اور حدیث رسول کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس حدیث میں اندھی تقلید کا زبردست رد ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ bought his hadi at Qudayd. [Ibn e Majah 3102] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد، ابن ماجة (3102)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 907
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ثوری کی حدیث سے صرف یحییٰ بن یمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں: اور نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر نے قدید ١ ؎ سے خریدا، اور یہ زیادہ صحیح ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ ٢ ؎: یعنی یہ موقوف اثر اس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحییٰ بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٩ (٣٠٩٨) (تحفة الأشراف: ٧٨٩٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں یحییٰ بن یمان اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، صحیح بات یہ ہے کہ قدید سے ہدی کا جانور خود ابن عمر ؓ نے خریدا تھا جیسا کہ بخاری نے روایت کی ہے (الحج ١٠٥ ح ١٦٩٣) یحییٰ بن یمان نے اس کو مرفوع کردیا ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے قلادے بٹے، پھر آپ نہ محرم ہوئے اور نہ ہی آپ نے کوئی کپڑا پہننا چھوڑا۔
Sayyidah Ayshah (RA) said, “I used to twist ropes into garlands for the hadi of Allah’s Messenger ﷺ After that he would neither assume the ihram nor cease to wear (normal) garments.” [Bukhari 1696, Muslim 1321, Abu Dawud 1757, Nisai 2779, Ibn e Majah 3098]
صحيح، ابن ماجة (3098)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 908
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے اور وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر کپڑا پہننا یا خوشبو لگانا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ وہ احرام نہ باندھ لے، ٣- اور بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب آدمی اپنے ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے تو اس پر وہ سب واجب ہوجاتا ہے جو ایک محرم پر واجب ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٦٨ (٢٧٨٦) (تحفة الأشراف: ١٧٥١٣)، مسند احمد (٦/٨٥) (صحیح) (وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ١٠٦ (١٦٩٨)، و ١٠٧ (١٦٩٩)، و ١٠٨ (١٦٩٩)، و ١٠٩ (١٧٠٠)، و ١١٠ (١٧٠٢، ١٧٠٣)، الوکالة ١٤ (٢٣١٧)، والأضاحي ١٥ (٥٥٦٦)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، سنن ابی داود/ الحج ١٧ (١٧٥٨)، سنن النسائی/الحج ٦٥ (٢٧٧٧-٢٧٨١)، و ٦٦ (٢٧٨٢)، ٦٨ (٢٧٨٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٤ (٣٠٩٥)، مسند احمد (٦/٣٥، ٣٦، ٧٨، ٩١، ١٠٢، ١٢٧، ١٧٤، ١٨٠، ١٨٥، ١٩٠، ١٩١، ٢٠٠، ٢٠٨، ٢١٣، ٢١٦، ٢٢٥، ٢٣٦، ٢٥٣، ٢٦٢) من غیر ہذا الطریق۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے سارے قلادے (پٹے) میں ہی بٹتی تھی ١ ؎ پھر آپ احرام نہ باندھتے (حلال ہی رہتے تھے) ۔
Sayyidah Ayshah (RA) said, “I twisted garlands of the hadi of Allah’s Messenger ﷺ all of them sheep. After that he did not assume the ihram.” [Ahmed25930, Bukhari 1702, Muslim 1321, Nisai 2774, Ibn e Majah 3095]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہ میں سے بعض اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، وہ بکریوں کے قلادہ پہنانے کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بکریوں کی تقلید بھی مستحب ہے، امام مالک اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ بکریوں کی تقلید مستحب نہیں ان دونوں نے تقلید کو اونٹ گائے کے ساتھ خاص کیا ہے، یہ حدیث ان دونوں کے خلاف صریح حجت ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ کمزوری کا باعث ہوگی، لیکن یہ دلیل انتہائی کمزور ہے اس لیے کہ تقلید سے مقصود پہچان ہے انہیں ایسی چیز کا قلادہ پہنایا جائے جس سے انہیں کمزوری نہ ہو۔ اللہ عزوجل ہم سب کو مذہبی و معنوی تقلید سے محفوظ رکھے، «اللہم آمین»۔
رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے والے ناجیہ خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو اونٹ راستے میں مرنے لگیں انہیں میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: انہیں نحر (ذبح) کر دو، پھر ان کی جوتی انہیں کے خون میں لت پت کر دو، پھر انہیں لوگوں کے لیے چھوڑ دو کہ وہ ان کا گوشت کھائیں ۔
Sayyidina Najiyah Khuza’i (RA) narrated that he said, “O Messenger of Allah! ﷺ How should I treat the hadi that is on the point of death?” He said, “Slaughter it and dip its shoes with which it is garlanded in its blood. After that leave it among the people that they may eat it.” [Ahmed18965, Abu Dawud 1762, Ibn e Majah 3106]
صحيح، ابن ماجة (3106)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 910
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ناجیہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ذویب ابو قبیصہ خزاعی ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نفلی ہدی کا جانور جب مرنے لگے تو نہ وہ خود اسے کھائے اور نہ اس کے سفر کے ساتھی کھائیں۔ وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دے، کہ وہ اسے کھائیں۔ یہی اس کے لیے کافی ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس میں سے کچھ کھالیا تو جتنا اس نے اس میں سے کھایا ہے اسی کے بقدر وہ تاوان دے، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ نفلی ہدی کے جانور میں سے کچھ کھالے تو جس نے کھایا وہ اس کا ضامن ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ١٩ (١٧٦٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠١ (٣١٠٦) (تحفة الأشراف: ١١٥٨١)، موطا امام مالک/الحج ٤٧ (١٤٨)، مسند احمد (٤/٣٣)، سنن الدارمی/المناسک ٦٦ (١٩٥٠) (صحیح)
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو ہدی کے اونٹ ہانکتے دیکھا، تو اسے حکم دیا اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہدی کا اونٹ ہے، پھر آپ نے اس سے تیسری یا چوتھی بار میں کہا: اس پر سوار ہوجاؤ، تمہارا برا ہو ١ ؎ یا تمہاری ہلاکت ہو ۔
Sayyidina Anas (RA) narrated that the Prophet ﷺ saw a man drive his camel. He said to him, “Ride it.” The man said, “O Messenger of Allah! ﷺ It is a sacrificial camel.” So, he said three or four times, “Ride it!” and “wayhaka”, or “waylaka.” (meaning, ‘Alas for you’ or ‘shame on you’ both words have same meaning). [Ahmed13414, Bukhari 1690, Ibn e Majah 3104]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 911
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابوہریرہ، اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہ میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے، جب کہ وہ اس کا محتاج ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- بعض کہتے ہیں: جب تک مجبور نہ ہو ہدی کے جانور پر سوار نہ ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ نے تنبیہ اور ڈانٹ کے طور پر فرمایا کیونکہ سواری کی اجازت آپ اسے پہلے دے چکے تھے اور آپ کو یہ پہلے معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ نے جمرہ کی رمی کرلی تو اپنے ہدی کے اونٹ نحر (ذبح) کیے۔ پھر سر مونڈنے والے کو اپنے سر کا داہنا جانب ١ ؎ دیا اور اس نے سر مونڈا، تو یہ بال آپ نے ابوطلحہ کو دئیے، پھر اپنا بایاں جانب اسے دیا تو اس نے اسے بھی مونڈا تو آپ نے فرمایا: یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دو
Sayyidina Anas ibn Maalik said that when Allah’s Messenger ﷺ pelted pebbles at the jamrat, he sacrificed the animals. After that he called the barber and put the right side of his head towards him. He shaved it and he.gave the hair to Abu Talhah. Then he put the left side towards him and he shaved it. The Prophet ﷺ told him, “Divide them among the people.” [Ahmed12093, Muslim 1305, Abu Dawud 1981]
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سر منڈوایا، صحابہ کی ایک جماعت نے بھی سر مونڈوایا اور بعض لوگوں نے بال کتروائے۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار یا دو بار فرمایا: اللہ سر مونڈانے والوں پر رحم فرمائے ، پھر فرمایا: کتروانے والوں پر بھی ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ had his hair shaved and a section of his Companions also had their hair shaved, but some of them had theirs clipped. He added that Allah’s Messenger ﷺ said once or twice, “May Allah have mercy on those who have shaved.” After that he said, “And those who have clipped.” [Ahmed6012, Bukhari 1727, Muslim 1301, Ibn e Majah 3044]
صحيح، ابن ماجة (3044)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 913
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، ابن ام الحصین، مارب، ابو سعید خدری، ابومریم، حبشی بن جنادہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور وہ آدمی کے لیے سر منڈانے کو پسند کرتے ہیں اور اگر کوئی صرف کتروا لے تو وہ اسے بھی اس کی طرف سے کافی سمجھتے ہیں۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حلق ( منڈوانا ) تقصیر ( کٹوانے ) کے مقابلہ میں افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (تعلیقا عقب حدیث ١٧٢٧)، صحیح مسلم/الحج ٥٥ (١٣٠١) (تحفة الأشراف: ٨٢٦٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (١٧٢٧)، صحیح مسلم/الحج (المصدر المذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧١ (٣٠٤٣)، موطا امام مالک/الحج ٦٠ (١٨٤)، مسند احمد (٢/٣٤، ١٣٨، ١٥١)، سنن الدارمی/المناسک ٦٤ (١٩٤٧) من غیر ہذا الطریق۔
اس سند سے بھی خلاس سے اسی طرح مروی ہے، لیکن اس میں انہوں نے علی ؓ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Muhammad ibn Bashshar reported a similar hadith from Abu Dawud, from Hammam from Khilas without mentioning Sayyidina Ali
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث میں اضطراب ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ سے بطریق: «قتادة عن عائشة أن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عورت کو اپنا سر مونڈانے سے منع فرمایا، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے سر منڈانے کو درست نہیں سمجھتے ان کا خیال ہے کہ اس پر تقصیر (بال کتروانا) ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: اب ذبح کرلو کوئی حرج نہیں ایک دوسرے نے پوچھا: میں نے رمی سے پہلے نحر (ذبح) کرلیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اب رمی کرلو کوئی حرج نہیں ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) narrated that a man asked Allah’s Messenger ﷺ , “I have shaved before the sacrifice.” He said, “Sacrifice now. There is no harm (or sin).” Another asked, “I have sacrificed before I cast pebbles.” He said, “Cast them now, and there is no harm (or sin).” [Ahmed6499, Bukhari 83, 1736, Abu Dawud 2014, Ibn e Majah 3051, Muslim 1306]
صحيح، ابن ماجة (3051)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 916
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، جابر، ابن عباس، ابن عمر، اسامہ بن شریک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کسی نسک کو یعنی رمی یا نحر یا حلق وغیرہ میں سے کسی ایک کو دوسرے سے پہلے کرلے تو اس پر دم (ذبیحہ) لازم ہوگا (مگر یہ بات بغیر دلیل کے ہے) ۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور دسویں ذی الحجہ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے خوشبو لگائی جس میں مشک تھی ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah said, “I applied perfume to Allah’s Messenger ﷺ before he assumed the ihram and on the day 01 sacrifice before he circumambulated the House (in tawaf ziyarat) with perfume containing musk.” [Ahmed26065, Bukhari 1539, Muslim 1189, Abu Dawud 1745, Nisai 2681]
صحيح، ابن ماجة (2926)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 917
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی کرلے، جانور ذبح کرلے، اور سر مونڈا لے یا بال کتروا لے تو اب اس کے لیے ہر وہ چیز حلال ہوگئی جو اس پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ اس کے لیے ہر چیز حلال ہوگئی سوائے عورتوں اور خوشبو کے، ٥- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، اور یہی کوفہ والوں کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دسویں تاریخ کو جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی حلال ہوجاتا ہے، اسے تحلل اول کہتے ہیں، تحلل اول میں عورت کے علاوہ ساری چیزیں حلال ہوجاتی ہیں، اور طواف افاضہ کے بعد عورت بھی حلال ہوجاتی ہے، اب وہ عورت سے صحبت یا بوس وکنار کرسکتا ہے اسے تحلل ثانی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩)، سنن النسائی/الحج ٤١ (٢٦٩٣) (تحفة الأشراف: ١٧٥٢٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٩)، و ١٤٣ (١٧٥٤)، واللباس ٧٣ (٥٩٢٢)، و ٧٩ (٥٩٢٨)، و ٨١ (٥٩٣٠)، سنن ابی داود/ المناسک ١١ (١٧٤٥)، سنن النسائی/الحج ٤١ (٢٦٨٥-٢٦٩٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١١ (٢٩٢٦)، و ٧٠ (٣٠٤٢)، موطا امام مالک/الحج ٧ (١٧)، مسند احمد (٦/٩٨، ١٠٦، ١٣٠، ١٦٢، ١٨١، ١٨٦، ١٩٢، ٢٠٠، ٢٠٧، ٢٠٩، ٢١٤، ٢١٦، ٢٣٧، ٢٣٨، ٢٤٤، ٢٤٥، ٢٥٨)، سنن الدارمی/المناسک (١٨٤٤) من غیر ہذا الطریق۔
فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے مزدلفہ سے منیٰ تک اپنا ردیف بنایا (یعنی آپ مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کرلے گئے) آپ برابر تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ (عقبہ) کی رمی کی۔
Sayyidina Fadl ibn Abbas (RA) said, “Allah’s Messenger took me as a co-rider from Miizdalifah to Mina. He did not cease to recite the talbiyah till he pelted pebbles at jamrat ul-Aqabahh.” [Ahmed1831, Bukhari 6228, Muslim 1281, Nisai 3080, Ibn e Majah 3060]
صحيح، ابن ماجة (3040)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 918
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- فضل ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابن مسعود، اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حاجی تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ جمرہ کی رمی نہ کرلے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کا استدلال «حتی يرمي الجمرة» سے ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کرلینے کے بعد تلبیہ پکارنا بند کرے، لیکن جمہور علماء کا کہنا ہے کہ جمرہ عقبہ کی پہلی کنکری مارنے کے ساتھ ہی تلبیہ پکارنا بند کردینا چاہیئے، ان کی دلیل صحیح بخاری وصحیح مسلم کی روایت ہے جس میں «لم يزل يلبي حتی بلغ الجمرة» کے الفاظ وارد ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٢ (١٦٨٥)، صحیح مسلم/الحج ٤٥ (١٢٨١)، سنن ابی داود/ المناسک ٢٨ (١٨١٥)، سنن النسائی/الحج ٢١٦ (٣٠٥٧)، و ٢٢٨ (٣٠٨١)، و ٢٢٩ (٣٠٨٢)، مسند احمد (١/٢١٠، ٢١١، ٢١٢، ٢١٣) (تحفة الأشراف: ١١٠٥٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ٢٢ (١٥٤٣)، و ٩٣ (١٦٧٠)، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٩ (٣٠٤٠)، مسند احمد (١/٢١٤)، سنن الدارمی/المناسک ٦٠ (١٩٤٣) من غیر ہذا الطریق۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرہ میں تلبیہ پکارنا اس وقت بند کرتے جب حجر اسود کا استلام کرلیتے۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) traced the hadith to the Prophet ﷺ that he stopped reciting the talbiyah during umrah when he kissed the hajr aswad. [Ahmed1817]
ضعيف، والصحيح موقوف علی ابن عباس، الإرواء (1099)، ضعيف أبي داود (316) // عندنا برقم (397 / 1817) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 919
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا شخص تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ حجر اسود کا استلام نہ کرلے، ٤- بعض کہتے ہیں کہ جب مکہ کے گھروں یعنی مکہ کی آبادی میں پہنچ جائے تو تلبیہ پکارنا بند کر دے۔ لیکن عمل نبی اکرم ﷺ کی (مذکورہ) حدیث پر ہے۔ یہی سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٢٩ (١٨١٧) (تحفة الأشراف: ٥٩٥٨) (ضعیف) (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں)
عبداللہ بن عباس ؓ اور ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) and Sayydah Ayshah (RA) said that the Prophet ﷺ postponed the tawaf ziyarah (the cirumambulation of the visit) till night. [Ahmed25857, Ibn e Majah 3059, Abu Dawud 2000]
شاذ، ابن ماجة (3059) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (654)، الإرواء (4 / 264) برقم (1070)، ضعيف أبي داود (435 / 2000) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 920
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢ ؎، ٢- بعض اہل علم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے۔ اور بعض نے دسویں ذی الحجہ کو طواف زیارت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، لیکن بعض نے اسے منیٰ کے آخری دن تک مؤخر کرنے کی گنجائش رکھی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ عبداللہ بن عباس اور عائشہ ؓ کی یہ حدیث ابن عمر ؓ کی حدیث کے مخالف ہے جسے بخاری و مسلم نے روایت کی ہے، جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یوم النحر کو دن میں طواف کیا، امام بخاری نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ ابن عمر اور جابر کی حدیث کو پہلے دن پر محمول کیا جائے اور ابن عباس اور عائشہ کی حدیث کو اس کے علاوہ باقی دنوں پر، صاحب تحفۃ الأحوذی فرماتے ہیں: «حديث ابن عباس وعائشة المذکور في هذا الباب ضعيف فلا حاجة إلى الجمع الذي أشار إليه البخاري، وأما علی تقدير الصحة فهذا الجمع متعين»۔ (ابن عباس اور عائشہ کی باب میں مذکور حدیث ضعیف ہے، اس لیے بخاری نے جس جمع و تطبیق کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی ضرورت نہیں ہے اور صحت ماننے کی صورت میں جمع وتطبیق متعین ہے )۔ ٢ ؎ امام ترمذی کا اس حدیث کو حسن صحیح کہنا درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں، کیونکہ ابو الزبیر کا ابن عباس سے اور عائشہ ؓ سے سماع نہیں ہے، ابوالحسن القطان کہتے ہیں «عندي أن هذا الحديث ليس بصحيح إنما طاف النبي صلی اللہ عليه وسلم يومئذ نهارا»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٣٠ (تعلیقا فی الترجمة)، سنن ابی داود/ المناسک ٨٣ (٢٠٠٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٧ (٣٠٥٩)، ( تحفة الأشراف: ٦٤٥٢ و ١٧٥٩٤)، مسند احمد (١/٢٨٨) (ضعیف شاذ) (ابو الزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز ابوالزبیر کا دونوں صحابہ سے سماع نہیں ہے، اور یہ حدیث اس صحیح حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دن میں طواف زیارت فرمایا تھا، اس لیے شاذ ہے)۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر، عمر، اور عثمان ؓ ابطح ١ ؎ میں قیام کرتے تھے۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ (RA) and Abu Bakr (RA) Umar (RA) and Uthman (RA) used to stop at Abtah. [Ahmed2631, Muslim 1310, Ibn e Majah 3069]
صحيح، ابن ماجة (3069)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 921
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ہم اسے صرف عبدالرزاق کی سند سے جانتے ہیں، وہ عبیداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں، ٢- اس باب میں عائشہ، ابورافع اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم نے ابطح میں قیام کو مستحب قرار دیا ہے، واجب نہیں، جو چاہے وہاں قیام کرے، ٤- شافعی کہتے ہیں: ابطح کا قیام حج کے مناسک میں سے نہیں ہے۔ یہ تو بس ایک مقام ہے جہاں نبی اکرم ﷺ نے قیام فرمایا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابطح، بطحاء خیف کنانہ اور محصب سب ہم معنی ہیں اس سے مراد مکہ اور منیٰ کے درمیان کا علاقہ ہے جو منی سے زیادہ قریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٨١ (٣٠٦٩) (تحفة الأشراف: ٨٠٢٥) (صحیح) وأخرجہ مسلم فی الحج (٥٩/١٣١٠) من غیر ہذا الوجہ)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ وادی محصب میں قیام کوئی چیز نہیں ١ ؎، یہ تو بس ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, “There is nothing about Muhassab save that it is a station where Allah’s Messenger ﷺ stopped-over (for rest).” [Ahmed1925, Bukhari 1866, Muslim 1312]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 922
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- «تحصیب» کے معنی ابطح میں قیام کرنے کے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: محصب میں نزول و اقامت مناسک حج میں سے نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ نے زوال کے بعد آرام فرمانے کے لیے یہاں اقامت کی، ظہر و عصر اور مغرب اور عشاء پڑھی اور چودھویں رات گزاری، چونکہ آپ نے یہاں نزول فرمایا تھا اس لیے آپ کی اتباع میں یہاں کی اقامت مستحب ہے، خلفاء نے آپ کے بعد اس پر عمل کیا، امام مالک امام شافعی اور جمہور اہل علم نے رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین ؓ کی اقتداء میں اسے مستحب قرار دیا ہے اگر کسی نے وہاں نزول نہ کیا تو بالاجماع کوئی حرج کی بات نہیں۔