ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابطح میں قیام فرمایا اس لیے کہ یہاں سے (مدینے کے لیے) روانہ ہونا زیادہ آسان تھا۔
Sayyidah Ayshah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ stopped at Abtah because that was easier for him to depart (when he had to). [Ahmed25778, Bukhari 901, Muslim 1311, Ibn e Majah 3067]
صحيح، صحيح أبي داود (1752)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 923
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا اور سفیان نے ہشام بن عروہ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٥٩ (١٣١١) (تحفة الأشراف: ١٦٧٨٥)، وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الحج (المصدر المذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨١ (٣٠٦٧) من غیر ھذا الوجہ۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ ﷺ کی طرف اٹھا کر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس پر بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور اجر تجھے ملے گا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated that a woman carried her child to Allah’s Messenger ﷺ and asked, “O Messenger of Allah! ﷺ May he perform Hajj?” He said, “Yes! And the reward (thereof) is for you.” [Ibn e Majah 2910]
صحيح، ابن ماجة (2910)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 924
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ اس میں شافعی احمد، مالک اور جمہور علماء کے لیے دلیل ہے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ نابالغ بچے کا حج صحیح ہے، اس پر اسے ثواب دیا جائے گا اگرچہ اس سے فرض ساقط نہیں ہوگا اور بالغ ہونے کی استطاعت کی صورت میں اسے پھر سے حج کرنا پڑے گا اور نابالغ کا یہ حج نفلی حج ہوگا، امام ابوحنیفہ کا کہنا ہے کہ نابالغ بچے کا حج منعقد نہیں ہوگا وہ صرف تمرین ومشق کے لیے اسے کرے گا اس پر اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا، یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ١١ (٢٩١٠) (تحفة الأشراف: ٣٠٧٦) (صحیح)
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Ahadith like it is reported marfu by Qutaybah from Qaza’ah ibn Suwayd Bahili, from Muhammad ibn Munkadir from Sayyidina Jabir (RA) while there is a hadith in mursal form, too, from Muhammad ibn Munkadir.
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ محمد بن منکدر سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، ٢- اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ بچہ جب بالغ ہونے سے پہلے حج کرلے تو (اس کا فریضہ ساقط نہیں ہوگا) جب وہ بالغ ہوجائے گا تو اس کے ذمہ حج ہوگا، کم سنی کا یہ حج اسلام کے عائد کردہ فریضہ حج کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اسی طرح غلام کا معاملہ ہے، اگر وہ غلامی میں حج کرچکا ہو پھر آزاد کردیا جائے تو آزادی کی حالت میں اس پر حج فرض ہوگا جب وہ اس کی سبیل پالے، غلامی کی حالت میں کیا ہوا حج کافی نہیں ہوگا۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے حجۃ الوداع میں مجھے ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا، میں سات برس کا تھا۔
Sayyidina Sa’ib ibn Yazid said, “My father took me along and performed Hajj with Allah’s Messenger ﷺ during the farewell pilgrimage. I was then seven years old.” [Ahmed 15718,Bukhari 1858]
صحيح الحج الکبيرصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 925
جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا تو ہم عورتوں کی طرف سے تلبیہ کہتے اور بچوں کی طرف سے رمی کرتے تھے۔
Sayyidina Jabir (RA) said, “When we performed Hajj with the Prophet ﷺ we would call the talbiyah for the women and throw the pebbles for the children.” [Ahmed14377, Ibn e Majah 3038] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (3038) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (652)، وانظر حجة النبي صلی اللہ عليه وسلم الصفحة (50) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 927
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢- اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کی طرف سے کوئی دوسرا تلبیہ نہیں کہے گا، بلکہ وہ خود ہی تلبیہ کہے گی البتہ اس کے لیے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٨ (٣٠٣٨) (تحفة الأشراف: ٢٦٦٢) (ضعیف) (سند میں اشعث بن سوار ضعیف راوی ہیں)
فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو اللہ کے فریضہ حج نے پا لیا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہیں کہ اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ نہیں سکتے (تو کیا کیا جائے؟ ) ۔ آپ نے فرمایا: تو ان کی طرف سے حج کرلے ۔
Sayyidina Fadl ibn Abbas (RA) narrated that a woman of Bani Kath’am said, O Messenger of Allah ﷺ Hajj is fard on my father but he is a very old man unable to sit on the back of a camel.” He said, “You perform Hajj for him.” [Ahmed3050, Bukhari 1513, Muslim 1334, Abu Dawud 1809, Nisai 2637, Ibn e Majah 2909]
صحيح، ابن ماجة (2909)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 928
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- فضل بن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابن عباس ؓ سے حصین بن عوف مزنی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣- ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سنان بن عبداللہ جہنی ؓ نے اپنی پھوپھی سے اور ان کی پھوپھی نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٤- ابن عباس ؓ نے براہ راست نبی اکرم ﷺ سے بھی روایت کی ہے، ٥-
میں نے ان روایات کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس باب میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جسے ابن عباس نے فضل بن عباس سے اور فضل نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ٦- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس کا بھی احتمال ہے کہ ابن عباس نے اسے (اپنے بھائی) فضل سے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں سے بھی سنا ہو اور ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، اور پھر ابن عباس ؓ نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہو اور جس سے انہوں نے اسے سنا ہو اس کا نام ذکر نہ کیا ہو، نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں کئی اور بھی احادیث ہیں، ٧- اس باب میں علی، بریدہ، حصین بن عوف، ابورزین عقیلی، سودہ بنت زمعہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٨- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے حج کیا جاسکتا ہے، ٩- مالک کہتے ہیں: میت کی طرف سے حج اس وقت کیا جائے گا جب وہ حج کرنے کی وصیت کر گیا ہو، ١٠- بعض لوگوں نے زندہ شخص کی طرف سے جب وہ بہت زیادہ بوڑھا ہوگیا ہو یا ایسی حالت میں ہو کہ وہ حج پر قدرت نہ رکھتا ہو حج کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہی ابن مبارک اور شافعی کا بھی قول ہے۔
ابورزین عقیلی لقیط بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ حج و عمرہ کرنے اور سوار ہو کر سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرلو ۔
Sayyidina Abu Razin Uqayli (RA) said that he niet the Prophet ﷺ and said to him, “O Messenger of Allah! ﷺ My father is a very old man who cannot perform Hajj or Umrah neither can he sit on the riding beast.” He said, “Make Hajj for him and the Umrah.’ [Ahmed16184, Abu Dawud 1810, Nisai 2617, Ibn e Majah 2906]
صحيح، ابن ماجة (2906)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 930
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- عمرے کا ذکر صرف اسی حدیث میں مذکور ہوا ہے کہ آدمی غیر کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٢٦ (١٨١٠)، سنن النسائی/الحج ٢ (٢٦٢٢)، و ١٠ (٢٦٣٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠ (٢٩٠٦)، ( تحفة الأشراف: ١١١٧٣)، مسند احمد (٤/١٠-١٢) (صحیح)
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں مرگئی ہے، وہ حج نہیں کرسکی تھی، کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، تو اس کی طرف سے حج کرلے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Buraydah (RA) reported from his father that a woman came to the Prophet ﷺ and said, “My mother has died and did not perform Hajj. May I perform Hajj on her behalf?” He said, “Yes, you may perform Hajj for her.” [Muslim 157, Abu Dawud 2877]
صحيح، صحيح أبي داود (2561)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 929
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے عمرے کے بارے میں پوچھا گیا: کیا یہ واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن عمرہ کرنا بہتر ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) narrated that the Prophet ﷺ was asked if umrah was wajib, he said, ‘No. But, if it is observed then that is better.” [Ahmed14404]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 931
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ واجب نہیں ہے، ٣- اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حج دو ہیں: ایک حج اکبر ہے جو یوم نحر (دسویں ذی الحجہ کو) ہوتا ہے اور دوسرا حج اصغر ہے جسے عمرہ کہتے ہیں، ٤- شافعی کہتے ہیں: عمرہ (کا وجوب) سنت سے ثابت ہے، ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے چھوڑنے کی اجازت دی ہو۔ اور اس کے نفل ہونے کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے جس سند سے (نفل ہونا) مروی ہے وہ ضعیف ہے۔ اس جیسی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاسکتی، اور ہم تک یہ بات بھی پہنچی ہے کہ ابن عباس ؓ اسے واجب قرار دیتے تھے۔ یہ سب شافعی کا کلام ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے حنفیہ اور مالکیہ نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے لائق استدلال نہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہوچکا ہے ۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “Till the Last Day, umrah is included in Hajj.” [Ahmed2115, Muslim 1241, Abu Dawud 1790, Nisai 2811]
صحيح، صحيح أبي داود (1571)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 932
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں سراقہ بن جعشم اور جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہی تشریح شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کی ہے کہ جاہلیت کے لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کرتے تھے، جب اسلام آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا: عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہوچکا ہے ، یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اشہر حج شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں ، کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ حج کے مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینے میں حج کا احرام باندھے، اور حرمت والے مہینے یہ ہیں: رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مگر حرمت والے مہینوں کا حج کے لیے احرام باندھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، امام (رح) نے ان کا ذکر صرف وضاحت کے لیے کیا ہے تاکہ دونوں خلط ملط نہ جائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٣٠١) (صحیح) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، لیکن متابعات وشواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الحج ٣١ (١٢٤١)، سنن ابی داود/ المناسک ٢٣ (١٧٩٠)، سنن النسائی/الحج ٧٧ (١٨١٧)، مسند احمد ( ١/٢٣٦، ٢٥٣، ٢٥٩، ٣٤١)، سنن الدارمی/المناسک ١٨ (١٨٩٨)، من غیر ہذا الطریق، وأصلہ عند: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٣ (١٠٨٥)، والحج ٢٣ (١٥٤٥)، و ٣٤ (١٥٦٤)، والشرکة ١٥ (٢٥٠٥)، ومناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٢)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے ١ ؎ اور حج مقبول ٢ ؎ کا بدلہ جنت ہی ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “An Umrah till another umrah is expiation for what is between the two (of sins). And a Hajj that is accepted has no reward except Paradise for it.” [Ahmed9955, Bukhari 1773, Muslim 1349, Nisai 2625, Ibn e Majah 2888] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2888)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 933
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد صغائر ( چھوٹے گناہ ) ہیں نہ کہ کبائر ( بڑے گناہ ) کیونکہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ ٢ ؎: حج مقبول وہ حج ہے جس میں کسی گناہ کی ملاوٹ نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٤٩)، ( تحفة الأشراف: ١٢٥٥٦)، مسند احمد (٢/٢٤٦، ٤٦١) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العمرة (١٧٧٣)، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور) سنن النسائی/الحج ٣ (٢٦٢٣)، و ٥ (٢٦٣٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣ (٢٨٨٨)، موطا امام مالک/الحج ٢١ (٦٥)، مسند احمد (٢/٢٦٢)، سنن الدارمی/المناسک ٧ (١٨٠٢)، من غیر ہذا الطریق۔
عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ ؓ کو تنعیم ١ ؎ سے عمرہ کرائیں۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Abu Bakr (RA) said that the Prophet ﷺ commanded him to get Sayyidah Ayshah ‘ to assume the ihram for umrah from Tan’im. [Muslim 1212, Ibn e Majah 2999]
صحيح، ابن ماجة (2999)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 934
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تنعیم مکہ سے باہر ایک معروف جگہ کا نام ہے جو مدینہ کی جہت میں مکہ سے چار میل کی دوری پر ہے، عمرہ کے لیے اہل مکہ کی میقات حل ( حرم مکہ سے باہر کی جگہ ) ہے، اور تنعیم چونکہ سب سے قریبی حِل ہے اس لیے آپ نے عائشہ ؓ کو تنعیم سے احرام باندھنے کا حکم دیا۔ اور یہ عمرہ ان کے لیے اس عمرے کے بدلے میں تھا جو وہ حج سے قبل حیض آ جانے کی وجہ سے نہیں کرسکی تھیں، اس سے حج کے بعد عمرہ پر عمرہ کرنے کی موجودہ چلن پر دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔
محرش کعبی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جعرانہ سے رات کو عمرے کی نیت سے نکلے اور رات ہی میں مکہ میں داخل ہوئے، آپ نے اپنا عمرہ پورا کیا، پھر اسی رات (مکہ سے) نکل پڑے اور آپ نے واپس جعرانہ ١ ؎ میں صبح کی، گویا آپ نے وہیں رات گزاری ہو، اور جب دوسرے دن سورج ڈھل گیا تو آپ وادی سرف ٢ ؎ سے نکلے یہاں تک کہ اس راستے پر آئے جس سے وادی سرف والا راستہ آ کر مل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے (بہت سے) لوگوں سے آپ کا عمرہ پوشیدہ رہا۔
Sayyidina Muharrish Ka’bi (RA) reported that Allah’s,Messenger ﷺ came out of Ji’ranah on a night to perform umrah and came to Makkah while it was.(still) night and performed Umrah.Then he went Out in the night and saw the morning In Ju’ranah as one spends the night. When the sun declined next day, he went Out and came to Sarif where the two roads meet. This is why this umrah of his is unknown to the people. [Ahmed15512, Abu Dawud 1996, Nisai 2863]
صحيح، صحيح أبي داود (1742)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 935
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اس حدیث کے علاوہ محرش کعبی کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو اور کہا جاتا ہے: «جاء مع الطريق» والا ٹکڑا موصول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: مکہ سے تین میل کی دوری پر ایک جگہ ہے۔
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ سے پوچھا گیا: رسول اللہ ﷺ نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر عائشہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جو بھی عمرہ کیا، اس میں وہ یعنی ابن عمر آپ کے ساتھ تھے، آپ نے رجب کے مہینے میں کبھی بھی عمرہ نہیں کیا ١ ؎۔
Sayyidina Urwab (RA) said that Sayyidina Ibn Umar (RA) was asked, “In which months did Allah’s Messenger ﷺ perform Umrah?” He said, “In Rajab.” But Sayyidah Ayshah ﷺ said, “He did not perform umrah but he, meaning Ibn Umar (RA) , was and he never performed umrah in Rajab.” [Bukhari 1775, Muslim 1255, Abu Dawud 1992, Ibn e Majah 2998]
صحيح، ابن ماجة (2997 و 2998)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 936
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے نہیں سنا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر عائشہ ؓ کی یہ بات سن کر خاموش رہے، کچھ نہیں بولے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ان پر مشتبہ تھا، یا تو وہ بھول گئے تھے، یا انہیں شک ہوگیا تھا، اسی وجہ سے ام المؤمنین کی بات کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، اس سلسلہ میں صحیح بات ام المؤمنین کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٧ (٢٩٩٨)، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٧٣)، وراجع ما عند صحیح البخاری/العمرة ٣ (١٧٧٦)، صحیح مسلم/الحج ٣٥ (١٢٥٥، ١٢٩) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چار عمرے کیے، ان میں سے ایک رجب میں تھا ١ ؎۔
Ahmad ibn Mani reported, from Hasan ibn Musa, from Shayban, from Mansur, from Mujahid and from Ibn Umar (RA) that the Prophet ﷺ performed four umrah, one of which he performed in Rajab.” [Ahmed6250, Bukhari 1775, Muslim 1255, Abu Dawud 1992]
صحيح، ولكنه مختصر من السياق الذی قبله، وفيه انکار عائشة عمرة رجبصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 937
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ترمذی نے یہ حدیث مختصراً روایت کی ہے شیخین نے اسے «جریر عن منصور عن مجاہد» کے طریق سے مفصلاً روایت کی ہے صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں «قال: دخلت أنا وعروۃ بن الزبیر المسجد فإذا عبداللہ بن عمر جالس إلی حجرۃ عائشۃ، وإذا ناس یصلون فی المسجد صلاۃ الضحیٰ، قال: فسألناہ عن صلاتہم فقال: بدعۃ، ثم قال لہ: کم اعتمر النبي صلی اللہ عليه وسلم قال: اربع احداہن فی رجب، فکرہنا أن نردعلیہ وقال: سمعنا استنان عائشۃ أم المؤمنین فی الحجرۃ فقال عروۃ: یا أم المؤمنین! ألاتسمعین ما یقول ابوعبدالرحمٰن؟ قالت: مایقول؟ قال: یقول: أن رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم اعتمر أربع عمرات إحداہن فی رجب، قالت: - ی (رح) اباعبدالرحمٰن - ما اعتمر عمرۃ إلا وہو شاہد، وما اعتمرفی رجب قط»۔ مجاہد کہتے ہیں کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن عمر ؓ کو عائشہ ؓ کے حجرے کے پاس بیٹھا پایا، لوگ مسجد میں نماز الضحی ( چاشت کی نماز ) پڑھ رہے تھے، ہم نے ابن عمر ؓ سے ان لوگوں کی نماز کے بارے میں پوچھا، فرمایا: یہ بدعت ہے، پھر مجاہد نے ان سے پوچھا نبی اکرم ﷺ نے کتنے عمرے کئے تھے؟ کہا: چار عمرے ایک ماہ رجب میں تھا، ہم نے یہ ناپسند کیا کہ ان کی تردید کریں، ہم نے ام المؤمنین عائشہ کی حجرے میں آواز سنی تو عروہ نے کہا: ام المؤمنین ابوعبدالرحمٰن ابن عمر جو کہہ رہے ہیں کیا آپ اسے سن رہی ہیں؟ کہا: کیا کہہ رہے ہیں؟، کہا کہہ رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کئے ایک رجب میں تھا فرمایا: اللہ ابوعبدالرحمٰن ابن عمر پر اپنا رحم فرمائے، رسول اللہ ﷺ کے ہر عمرہ میں وہ حاضر تھے ( پھر بھی یہ بات کہہ رہے ہیں ) آپ نے رجب میں ہرگز عمرہ نہیں کیا۔
براء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ذی قعدہ کے مہینہ میں عمرہ کیا ١ ؎۔
Sayyidina Bara ibn Aazib narrated that the Prophet ﷺ (RA) performed umrah in Dhul Qa’dah. [Bukhari 1844]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 938
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بخاری کی ایک روایت میں ہے «اعتمر رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم في ذي القعدة قبل أن يحج مرتين»۔ نبی اکرم ﷺ نے حج سے پہلے آپ نے ذوقعدہ میں دو مرتبہ عمرہ کیا )۔
ام معقل ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہے ۔
Umm Ma’qil (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Performing umrah in Ramadan is parallel to performing Hajj.” [Ahmed2736, Abu Dawud 1988, Ibn e Majah 2993]
صحيح، ابن ماجة (2993)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 939
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام معقل کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- ( وہب کے بجائے) ھرم بن خنبش بھی کہا جاتا ہے۔ بیان اور جابر نے یوں کہا ہے «عن الشعبي عن وهب بن خنبش» اور داود اودی نے یوں کہا ہے «عن الشعبي عن هرم بن خنبش» لیکن صحیح وہب بن خنبش ہی ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس، جابر، ابوہریرہ، انس اور وہب بن خنبش ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ رمضان کا عمرہ حج کے ثواب برابر ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مفہوم بھی اس حدیث کے مفہوم کی طرح ہے جو نبی اکرم ﷺ سے روایت کی گئی ہے کہ جس نے سورة «قل هو اللہ أحد» پڑھی اس نے تہائی قرآن پڑھا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر اعتبار سے عمرہ حج کے برابر ہے، بلکہ صرف اجر و ثواب میں حج کے برابر ہے، ایسا نہیں کہ اس سے فریضہء حج ادا ہوجائے گا، یا نذر مانا ہوا حج پورا ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٥ (٢٩٩٣) (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٠) (صحیح)
حجاج بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہوجائے تو اس کے لیے احرام کھول دینا درست ہے، اس پر دوسرا حج لازم ہوگا
Ikrimah said that Hajjaj ibn Amr narrated to him that the Prophet ﷺ said, “If anyone breaks a limb or becomes lame then he comes out of the ihram and it becomes wajib for him to perform Hajj nextyear.” He narrated the hadith to Abu Hurayrab and Ibn Abbas (RA) • .,- and they said, “He spoke the truth.” [ Abu Dawud 1862, Nisai 2860]
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، تو کیا میں شرط لگا سکتی ہوں؟ (کہ اگر کوئی عذر شرعی لاحق ہوا تو احرام کھول دوں گی) آپ نے فرمایا: ہاں، تو انہوں نے پوچھا: میں کیسے کہوں؟ آپ نے فرمایا: «لبيك اللهم لبيك لبيك محلي من الأرض حيث تحبسني» حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں حاضر ہوں، میرے احرام کھولنے کی جگہ وہ ہے جہاں تو مجھے روک دے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Sayyidah Duba’ah bint Zubayr (RA) met the Prophet ﷺ and asked him, “O Messenger.of Allah! I intend to perform Hajj, May I place a condition?” He said, “Yes.” She asked, “How?” He said, “Say: Here am I, O Allah! Here am I . I will come out of the sacred state whereever You stop me. [Ahmed3117, Muslim 1208, Nisai 2761, Ibn e Majah 2938] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2938)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 941
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، اسماء بنت ابی بکر اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے، وہ حج میں شرط لگا لینے کو درست سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے شرط کرلی پھر اسے کوئی مرض یا عذر لاحق ہوا تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ حلال ہوجائے اور اپنے احرام سے نکل آئے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- بعض اہل علم حج میں شرط لگانے کے قائل نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے شرط لگا بھی لی تو اسے احرام سے نکلنے کا حق نہیں، یہ لوگ اسے اس شخص کی طرح سمجھتے ہیں جس نے شرط نہیں لگائی ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ لوگ ضباعہ بنت زبیر کی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ضباعہ ہی کے ساتھ خاص تھا، ایک تاویل یہ بھی کی گئی ہے کہ «محلي حيث حبسني» میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے کا معنی «محلي حيث حبسني الموت» میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو نے مجھے موت دے دی ہے کیونکہ مرجانے سے احرام خود بخود ختم ہوجاتا ہے لیکن یہ دونوں تاویلیں باطل ہیں، ایک قول یہ ہے کہ شرط خاص عمرہ سے تحلل کے ساتھ ہے حج کے تحلل سے نہیں، لیکن ضباعہ کا واقعہ اس قول کو باطل کردیتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٢٢ (١٧٧٦)، سنن النسائی/الحج ٦٠ (٢٧٦٧)، سنن الدارمی/المناسک ١٥ (١٨٥٢)، ( تحفة الأشراف: ٦٢٣٢) (صحیح) و أخرجہ: سنن النسائی/الحج ٥٩ (٢٧٦٦)، و ٦٠ (٢٧٦٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٤ (٢٩٣٨)، مسند احمد (١/٣٥٣٧) من غیر ہذا الطریق۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ حج میں شرط لگانے سے انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمہارے لیے تمہارے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ کافی نہیں ہے ١ ؎۔
Saalim ﷺ reported from his father that he denied placing condition in (the resolve of) Hajj, saying, “Is not the sunnah of your Prophet ﷺ ?nough for you?
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 942
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دراصل ابن عمر ؓ نے یہ بات ابن عباس ؓ کی تردید میں کہی تھی جو شرط لگانے کا فتوی دیتے تھے، ان کو ضباعہ ؓ والی حدیث نہیں پہنچی تھی ورنہ ایسی بات نہ کہتے، اور آپ کا اشارہ صلح حدیبیہ میں نبی اکرم ﷺ کے عمرہ سے روک دیئے جانے کی طرف تھا۔