Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 45 of 199

943Sunan At-Tirmidhi

طواف زیارت کے بعد کسی عورت کو حیض آجانا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: ذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ حَاضَتْ فِي أَيَّامِ مِنًى، فَقَالَ: أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ قَالُوا: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَا إِذًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا طَافَتْ طَوَافَ الزِّيَارَةِ ثُمَّ حَاضَتْ فَإِنَّهَا تَنْفِرُ وَلَيْسَ عَلَيْهَا شَيْءٌ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ صفیہ بنت حیی منیٰ کے دنوں میں حائضہ ہوگئی ہیں، آپ نے پوچھا: کیا وہ ہمیں (مکے سے روانہ ہونے سے) روک دے گی؟ لوگوں نے عرض کیا: وہ طواف افاضہ کرچکی ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تب تو کوئی حرج نہیں ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated that Allah’s Messenger was told that (Sayyidah) Safiyah bint Huyyay began to mentsruate during the days of Mina. He asked “Will she detain us?” They said, “She has performed the tawaf ifadah.” So, he said, “Then, there’s no need to stay behind.” [Ahmed24168, Muslim 1211]

صحيح، ابن ماجة (3072 و 3073)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 943
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عورت جب طواف زیارت کرچکی ہو اور پھر اسے حیض آ جائے تو وہ روانہ ہوسکتی ہے، طواف وداع چھوڑ دینے سے اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٧ (١٢١١/٣٨٣) (تحفة الأشراف: ١٧٥١٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحیض ٢٧ (٣٢٨)، والحج ١٢٩ (١٧٣٣)، و ١٤٥ (١٧٥٧)، و ١٥ (١٧٧١)، صحیح مسلم/الحج (المصدر المذکور رقم: ٣٨٢)، سنن ابی داود/ الحج ٨٥ (٢٠٠٣)، سنن النسائی/الحیض ٢٣ (٣٩١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٣ (٣٠٧٢)، موطا امام مالک/الحج ٧٥ (٢٦٦)، مسند احمد (٦/٣٨، ٣٩، ٨٢، ٩٩، ١٢٢، ١٦٤، ١٧٥، ١٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧، ٢١٣، ٢٢٤، ٢٣١، ٢٥٣)، سنن الدارمی/المناسک ٧٣ (١٩٥٨) من غیر ہذا الطریق۔
944Sunan At-Tirmidhi

طواف زیارت کے بعد کسی عورت کو حیض آجانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا الْحُيَّضَ، وَرَخَّصَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جس نے بیت اللہ کا حج کیا، اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (وداع) ہونا چاہیئے حائضہ عورتوں کے سوا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں رخصت دی ہے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said, “One who performs the Hajj must make the last tawaf at the House, but Allah’s Messenger ﷺ has allowed women to go without observing it. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (4 / 289)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 944
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٨٠٨١) (صحیح)
945Sunan At-Tirmidhi

حائضہ کون کون سے افعال کرسکتی ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ: ابْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: حِضْتُ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: الْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا مَا خَلَا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھے حیض آگیا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) said, “I was menstruating. So the Prophet ﷺ commanded me to observe all the rituals except the tawaf of House.

صحيح، ابن ماجة (2963)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 945
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس طریق کے علاوہ سے بھی عائشہ سے مروی ہے۔ ٢- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ حائضہ خانہ کعبہ کے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرے گی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بخاری و مسلم کی روایت میں ہے «أهلي بالحج واصنعي ما يصنع الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت» یعنی حج کا تلبیہ پکارو اور وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے خانہ کعبہ کے طواف کے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٠١٣) (صحیح) (سند میں جابر جعفی سخت ضعیف ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحیض ٧ (٣٠٥)، والحج ٣٣ (١٥٠٦)، و ٨١ (١٦٥٠)، والعمرة ٩ (١٧٨٨)، والأضاحي ٣ (٥٥٤٨)، و ١٠ (٥٥٥٩)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن ابی داود/ المناسک ٢٣ (١٧٨٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٨٣ (٢٩١)، والحیض ١ (٣٤٩)، والجہاد ٥ (٢٧٤٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٦ (٢٩٦٣)، سنن الدارمی/المناسک ٦٢ (١٩٤٥) من غیر ہذا الطریق وبسیاق آخر۔
946Sunan At-Tirmidhi

جو شخص حج یا عمرہ کے لئے آئے اسے چاہیے کہ آخر میں بیت اللہ سے ہو کر واپس لو ٹے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: خَرَرْتَ مِنْ يَدَيْكَ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تُخْبِرْنَا بِهِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أرْطَاةَ مِثْلَ هَذَا وَقَدْ خُولِفَ الْحَجَّاجُ فِي بَعْضِ هَذَا الْإِسْنَادِ.

حارث بن عبداللہ بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے اس گھر (بیت اللہ) کا حج یا عمرہ کیا تو چاہیئے کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو۔ تو ان سے عمر ؓ نے کہا: تم اپنے ہاتھوں کے بل زمین پر گرو یعنی ہلاک ہو، تم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی اور ہمیں نہیں بتائی ١ ؎۔

Sayyidina Harith ibn Abdullah ibn Aws (RA) narrated that he heard the Prophet ﷺ say, “One who performs the Hajj of this House, or the Umrah, let his last rite be tawaf of the House.” Sayyidiana Umar .(RA) said to him, “How sad! You heard this from Allah’s Messenger 3i and did not inform us of it!” [Ahmed15442, Abu Dawud 2004]

منکر بهذا اللفظ، و، الصحيحة معناه دون قوله: أو اعتمر، صحيح أبي داود (1749)، الضعيفة (4585) // عندنا برقم (1763 / 2002)، ضعيف الجامع الصغير (5555) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 946
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حارث بن عبداللہ بن اوس ؓ کی حدیث غریب ہے، اسی طرح دوسرے اور لوگوں نے بھی حجاج بن ارطاۃ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ اور اس سند کے بعض حصہ کے سلسلہ میں حجاج سے اختلاف کیا گیا ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ طواف وداع واجب ہے یہی اکثر علماء کا قول ہے، وہ اس کے ترک سے دم کو لازم قرار دیتے ہیں، امام مالک، داود اور ابن المنذر کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے اور اس کے ترک سے کوئی چیز لازم نہیں آتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف: ٣٢٧٨) وانظر مسند احمد (٣/٤١٦-٤١٧) (منکر) (اس لفظ سے منکر ہے، لیکن اس کا معنی دوسرے طرق سے صحیح ہے، اور ” أواعتمر “ کا لفظ ثابت نہیں ہے، سند میں ” عبدالرحمن بن بیلمانی ضعیف ہیں، اور حجاج بن ارطاة مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
947Sunan At-Tirmidhi

قارن صرف ایک طواف کرے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ، قَالُوا: الْقَارِنُ يَطُوفُ طَوَافًا وَاحِدًا، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يَطُوفُ طَوَافَيْنِ وَيَسْعَى سَعْيَيْنِ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ملا کر ایک ساتھ کیا اور ان کے لیے ایک ہی طواف کیا ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) said, that Allah’s Messenger ﷺ performed the qiran (which combines) Hajj and Umrah. He made only one tawaf for both. [Ibn e Majah 2973]

صحيح، ابن ماجة (2971 - 2974)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 947
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام ؓ وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حج قران کرنے والا ایک ہی طواف کرے گا۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ وہ دو طواف اور دو سعی کرے گا۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے جمہور نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ قارن کے لیے ایک ہی طواف کافی ہے۔ اور اس سے مراد «طواف بین الصفا والمروۃ» یعنی سعی ہے نہ کہ خانہ کعبہ کا طواف، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ میں بھی خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور یوم النحر کو طواف افاضہ بھی کیا، البتہ طواف افاضہ میں صفا و مروہ کی سعی نہیں کی ( دیکھئیے صحیح مسلم کتاب الحج باب رقم: ١٩)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٦٧٧) (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاة اور ابوالزبیر دونوں مدلس راوی ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
948Sunan At-Tirmidhi

قارن صرف ایک طواف کرے

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَجْزَأَهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَسَعْيٌ وَاحِدٌ عَنْهُمَا حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، تَفَرَّدَ بِهِ: الدَّرَاوَرْدِيُّ عَلَى ذَلِكَ اللَّفْظِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَلَمْ يَرْفَعُوهُ، وَهُوَ أَصَحُّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اس کے لیے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے یہاں تک کہ وہ ان دونوں کا احرام کھول دے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Onewho has assumed the ihram for Hajj and Umrah should suffice with one tawaf and sa’i for both till he comes out of the sacredstate from both.” [Ahmed5350, Ibn e Majah 2975]

صحيح، ابن ماجة (2975)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 948
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں عبدالعزیز دراوردی منفرد ہیں، اسے دوسرے کئی اور لوگوں نے بھی عبیداللہ بن عمر (العمری) سے روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٩ (٢٩٧٥)، ( تحفة الأشراف: ٨٠٢٩) (صحیح)
949Sunan At-Tirmidhi

مہاجر حج کے بعد تین دن تک مکہ میں رہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، سَمِعَ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ يَعْنِي مَرْفُوعًا، قَالَ: يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ بِمَكَّةَ ثَلَاثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا.

علاء بن حضرمی ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہاجر اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہر سکتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ata ibn Hadrami (RA) reported in a marfu’ form that the muhajir must tarry in Makkah for three days after having observed his rites (pertaining to Hajj). [Ahmed19006, Bukhari 1832, Muslim 441]

صحيح، ابن ماجة (1073)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 949
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اس سند سے اور طرح سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی گئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے منیٰ سے لوٹنے کے بعد مہاجرین کی مکہ میں اقامت جائز نہیں تھی، بعد میں اسے جائز کردیا گیا اور تین دن کی تحدید کردی گئی، اس سے زیادہ کی اقامت اس کے لیے جائز نہیں کیونکہ اس نے اس شہر کو اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا ہے لہٰذا اس سے زیادہ وہ وہاں قیام نہ کرے، ورنہ یہ اس کے واپس آ جانے کے مشابہ ہوگا ( یہ مدینے کے مہاجرین مکہ کے لیے خاص تھا )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٤٧ (٣٩٣٣)، صحیح مسلم/الحج ٨١ (١٣٥٢)، سنن ابی داود/ المناسک ٩٢ (٢٠٢٢)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٤ (١٤٥٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٦ (١٠٧٣)، ( تحفة الأشراف: ١١٠٠٨)، مسند احمد (٥/٥٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٠ (١٢٤٧) (صحیح)
950Sunan At-Tirmidhi

حج اور عمرے سے واپسی پر کیا کہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةً أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَعَلَا، فَدْفَدًا مِنَ الْأَرْضِ، أَوْ شَرَفًا كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَائِحُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ . وَفِي الْبَاب: عَنْ الْبَرَاءِ، وَأَنَسٍ، وجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی غزوے، حج یا عمرے سے لوٹتے اور کسی بلند مقام پر چڑھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو علی كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون سائحون لربنا حامدون صدق اللہ وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ سلطنت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں، رجوع کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سیر و سیاحت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا ہی ساری فوجوں کو شکست دے دی ،

Sayyidina Ibn Umar (RA) said that whenever the Prophet ﷺ returned from a battle or Hajj or Umrah and came across a height or an uneven place, he called the takbir (Allahu Akbar) three times and said: There is no God but Allah Who is Alone and Who has no partner. To Him belongs the dominion and for Him is all praise, and He is over all things Powerful. We return repentant, worshipping, returners for our Lord, glorifying and praising our Lord. Allah made His promise true and helped .His slave and He alone routed the confederates. [Ahmed49603, Bukhari 1797, Muslim 1344]

صحيح، صحيح أبي داود (2475)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 950
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں براء، انس اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٦ (١٣٤٤)، ( تحفة الأشراف: ٧٥٣٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العمرة ١٢ (١٧٩٧)، والجہاد ١٣٣ (٢٩٩٥)، والمغازي ٢٩ (٤١١٦)، والدعوات ٥٢ (٦٣٨٥)، صحیح مسلم/الحج ٧٦ (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ الجہاد ١٧٠ (٢٧٧٠)، مسند احمد (٢/٥، ١٥، ٢١، ٣٨، ٦٣، ١٠٥) من غیر ہذا الوجہ۔
951Sunan At-Tirmidhi

محرم جو احرام میں مر جائے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلًا قَدْ سَقَطَ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ أَوْ يُلَبِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا مَاتَ الْمُحْرِمُ انْقَطَعَ إِحْرَامُهُ وَيُصْنَعُ بِهِ كَمَا يُصْنَعُ بِغَيْرِ الْمُحْرِمِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گرپڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا وہ محرم تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے انہی (احرام کے) دونوں کپڑوں میں کفناؤ اور اس کا سر نہ چھپاؤ، اس لیے کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) s narrated that they were with the Prophet ﷺ a ourney. They saw a man fall down from his camel. He broke his neck and died. He was a muhrim. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Give him a bath with water and lotus leaves, shroud him in his two garments and do not cover his head, for, he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Kalimah or the talbiyah.” (The narrator said the tahlil or the talbiyah) [Ahmed3230, Bukhari 1849, Muslim 1206, Nisai 2710, Ibn e Majah 3084]

صحيح، ابن ماجة (3084)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 951
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب محرم مرجاتا ہے تو اس کا احرام ختم ہوجاتا ہے، اور اس کے ساتھ بھی وہی سب کچھ کیا جائے گا جو غیر محرم کے ساتھ کیا جاتا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ قول حنفیہ اور مالکیہ کا ہے، ان کی دلیل ابوہریرہ کی حدیث «إذا مات ابن آدم انقطع عمله» ہے اور باب کی حدیث کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ ممکن ہے نبی اکرم ﷺ کو وحی کے ذریعہ یہ بتادیا گیا ہو کہ یہ شخص مرنے کے بعد اپنے احرام ہی کی حالت میں باقی رہے گا، یہ خاص ہے اسی آدمی کے ساتھ، لیکن کیا اس خصوصیت کی کوئی دلیل ہے؟، ایسی فقہ کا کیا فائدہ جو قرآن وسنت کی نصوص کے ہی خلاف ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢١ (١٢٦٨)، وجزاء الصید ٢٠ (١٨٤٩)، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦)، سنن ابی داود/ الجنائز ٨٤ (٣٢٢٨)، سنن النسائی/الجنائز (١٩٠٥)، والحج ٤٧ (٢٧١٥)، و ١٠١ (١٨٦١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٩ (٣٠٨٤)، ( تحفة الأشراف: ٥٥٨٢)، مسند احمد (١/٣٤٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز ١٩ (١٢٦٥)، و ٢٠ (١٢٦٦)، و ٢١ (١٢٦٧)، وجزاء الصید ١٣ (١٨٣٩)، و ٢١ (١٨٥١)، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور)، سنن النسائی/الحج ٤٧ (٢٧١٤)، و ٩٧ (٢٨٥٦)، و ٩٨ (٢٨٥٧)، و ٩٩ (٢٨٥٨، ٢٨٥٩)، و ١٠٠ (٢٨٦٠)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٦٦، ٢٨٦)، سنن الدارمی/المناسک ٣٥ (١٨٩٤) من غیر ہذا الطریق۔
952Sunan At-Tirmidhi

محرم اگر آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہوجائے تو صَبِر ( ایلوے) کالیپ کرے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ اشْتَكَى عَيْنَيْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَسَأَلَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، فَقَالَ: اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَيَذْكُرُهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يَتَدَاوَى الْمُحْرِمُ بِدَوَاءٍ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ.

نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کرلو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: ان پر ایلوے کا لیپ کرلو ١ ؎۔

Nubayh ibn Wahb reported that Umar ibn Ubaydullah ibn Ma’mar had eye trouble while he was a muhrjm. He asked Aban ibn Uthman who said, “Give them a dressin with aloes. For, I had heard Uthman ibn Affan mention that Allah’s Messenger ﷺ said : Dress that with aloes.” [Muslim 1204, Abu Dawud 1838, Nisai 2707]

صحيح، صحيح أبي داود (1612)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 952
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ محرم کے ایسی دوا سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جس میں خوشبو نہ ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایلوے، یا اس جیسی چیز جس میں خوشبو نہ ہو سے آنکھوں میں لیپ لگانا جائز ہے، اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا، رہیں ایسی چیزیں جن میں خوشبو ہو تو بوقت ضرورت و حاجت ان سے بھی لیپ کرنا درست ہوگا، لیکن اس پر فدیہ دینا ہوگا، علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ بوقت ضرورت محرم کے لیے آنکھ میں سرمہ لگانا جس میں خوشبو نہ ہو جائز ہے، اس سے اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں آئے گا، البتہ زینت کے لیے سرمہ لگانے کو امام شافعی وغیرہ نے مکروہ کہا ہے، اور ایک جماعت نے اس سے منع کیا ہے، امام احمد اور اسحاق کی بھی یہی رائے ہے کہ زینت کے لیے سرمہ لگانا درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٢ (١٢٠٤)، سنن ابی داود/ المناسک ٣٧ (١٨٣٨)، سنن النسائی/المناسک ٤٥ (٢٧١٢)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٧٧)، مسند احمد (١/٦٠، ٦٥، ٦٨، ٦٩)، سنن الدارمی/المناسک ٨٣ (١٩٤٦) (صحیح)
953Sunan At-Tirmidhi

اگر محرم احرام کی حالت میں سر منڈ ادے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وحميد الأعرج، وعبد الكريم، عَنْمُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: احْلِقْ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً . قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الْمُحْرِمَ إِذَا حَلَقَ رَأْسَهُ أَوْ لَبِسَ مِنَ الثِّيَابِ مَا، لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَلْبَسَ فِي إِحْرَامِهِ أَوْ تَطَيَّبَ، فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، بِمِثْلِ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ان کے پاس سے گزرے، وہ حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے۔ اور ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے۔ جوئیں ان کے منہ پر گر رہی تھیں تو آپ نے پوچھا: کیا یہ جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: سر منڈوا لو اور چھ مسکینوں کو ایک فرق کھانا کھلا دو، (فرق تین صاع کا ہوتا ہے) یا تین دن کے روزے رکھ لو۔ یا ایک جانور قربان کر دو۔ ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے یا ایک بکری ذبح کر دو ۔

Sayyidina Ka’b ibn Ujrah (RA) reported that the Prophet ﷺ passed by him in Hudaybiyah before enterring Makkah while he was a muhrim, kindling a fire un a vessel and lice infested his face. He (the Prophet) asked him, ‘Do they trouble you?” He said, “Yes.” So, the Prophet ﷺ said, “Shave your head and feed a faraq to six poor people-and a faraq is three sa-or fast three days, or sacrifice an animal.” The version of lbn Nujayh has, “or sacrifice a goat.” [Bukhari 921, Muslim 80]

صحيح، ابن ماجة (3079 و 3080)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 953
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام ؓ وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب اپنا سر مونڈا لے، یا ایسے کپڑے پہن لے جن کا پہننا احرام میں درست نہیں یا خوشبو لگالے۔ تو اس پر اسی کے مثل کفارہ ہوگا جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المحصر (١٨١٤)، و ٦ (١٨١٥)، و ٧ (١٨١٦)، و ٨ (١٨١٧)، والمغازي ٣٥ (٤١٥٩، ٤١٩٠)، وتفسیر البقرة ٣٢ (٤٥١٧)، والمرضی ١٦ (٥٦٦٥)، والطب ١٦ (٥٧٠٣)، والکفارات ١ (٦٨٠٨)، صحیح مسلم/الحج ١٠ (١٢٠١)، سنن ابی داود/ المناسک ٤٣ (١٨٥٦)، سنن النسائی/المناسک ٩٦ (٢٨٥٤)، ( تحفة الأشراف: ١١١١٤)، موطا امام مالک/الحج ٧٨ (٢٣٨)، مسند احمد (٤/٢٤٢، ٢٤٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الحج ١٠ (المصدر المذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٦ (٣٠٧٩)، مسند احمد (٤/٢٤٢، ٢٤٣) من غیر ہذا الوجہ۔
954Sunan At-Tirmidhi

چرواہوں کو اجازت ہے کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑیں۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، وَرِوَايَةُ مَالِكٍ أَصَحُّ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ.

عدی ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں ١ ؎۔

Abu al-Baddah ibn Aasim ibn Adi reported from his father that the Prophet ﷺ gave consession to the shepherd to cast pebbles one day and skip the next day. [Ahmed23835, Abu Dawud 1976, Nisai 3068, Ibn e Majah 3036]

صحيح، ابن ماجة (3036)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 954
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اسی طرح ابن عیینہ نے بھی روایت کی ہے، اور مالک بن انس نے بسند «عبد اللہ بن أبي بکر بن محمد ابن عمرو بن حزم عن أبيه عن أبي البداح بن عدي عن أبيه أن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، اور مالک کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٢- اہل علم کی ایک جماعت نے چرواہوں کو رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ترک کردیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چرواہوں کے لیے جائز ہے کہ وہ ایام تشریق کے پہلے دن گیارہویں کی رمی کریں پھر وہ اپنے اونٹوں کو چرانے چلے جائیں پھر تیسرے دن یعنی تیرہویں کو دوسرے اور تیسرے یعنی بارہویں اور تیرہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کریں پھر اس کے بعد والے دن گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں اور پھر روانگی کے دن تیرہویں کی رمی کریں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٧٨ (١٩٧٥)، سنن النسائی/الحج ٢٢٥ (٣٠٧١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٧ (٣٠٣٦)، ( تحفة الأشراف: ٥٠٣٠)، مسند احمد (٥/٤٥٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥٨ (١٩٣٨) (صحیح)
955Sunan At-Tirmidhi

چرواہوں کو اجازت ہے کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑیں۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ، أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا . قَالَ مَالِكٌ: ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ: فِي الْأَوَّلِ مِنْهُمَا، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.

عاصم بن عدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کے چرواہوں کو (منی میں ) رات گزارنے کے سلسلہ میں رخصت دی کہ وہ دسویں ذی الحجہ کو (جمرہ عقبہ کی) رمی کرلیں۔ پھر دسویں ذی الحجہ کے بعد کے دو دنوں کی رمی جمع کر کے ایک دن میں اکٹھی کرلیں ١ ؎ (مالک کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا) پہلے دن رمی کرلے پھر کوچ کے دن رمی کرے ۔

Abu al-Baddah ibn Aasim ibn Adi reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ allowed the cameiherds to not stay in Mina and to cast pebbles on the day of sacrifice and after that make rami of two days together after the day of sacrifice on one of the days. Maalik said: I imagine that he said, “On the first of those days and then on the day of departure.” [Ahmed23837, Al 1975, Nisai 3069, Ibn e Majah 3037]

صحيح، ابن ماجة (3037)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 955
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ ابن عیینہ کی عبداللہ بن ابی بکر سے روایت والی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس جمع کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ تیرہویں کو بارہویں اور تیرہویں دونوں دنوں کی رمی ایک ساتھ کریں، دوسری صورت یہ ہے کہ گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی ایک ساتھ کریں پھر تیرہویں کو آ کر رمی کریں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح)
956Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَال: سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ عَلِيًّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ: بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْلَا أَنَّ مَعِي هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ ﷺ نے پکارا، اور جو احرام رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے ١ ؎ آپ نے فرمایا: اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا ٢ ؎،

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated that Sayyidina Ali came to Allah’s Messenger ﷺ from Yaman. He asked, “What intention have you formed?” He said, “I have formed the same intention that Allah’s Messenger ﷺ has formed.” He said, “If I did not have with me the hadi then I would have come out of the ihram.” [Bukhari 1558, Muslim 1250]

صحيح، الإرواء (1006)، الحج الکبيرصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 956
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے احرام کو دوسرے کے احرام پر معلق کرنا جائز ہے۔ ٢ ؎: یعنی: عمرہ کے بعد احرام کھول دیتا، پھر ٨ ذی الحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھنا، جیسا کہ حج تمتع میں کیا جاتا ہے، مذکورہ مجبوری کی وجہ سے آپ نے قران ہی کیا، ورنہ تمتع کرتے، اس لیے تمتع افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٢ (١٥٥٨)، صحیح مسلم/الحج ٣٤ (١٢٥٠)، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٥)، مسند احمد (٣/١٨٥) (صحیح)
957Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ يَوْمِ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، فَقَالَ: يَوْمُ النَّحْرِ .

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: حج اکبر (بڑے حج) کا دن کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «یوم النحر» قربانی کا دن ۔

Sayyidina Ali said that he asked Allah’s Messenger ﷺ “What day is the Hajj Akbar (the greater pilgrimage)?” He said, ‘On the day of sacrifice (10th Dhul Hajjah).”

صحيح، الإرواء (1101)، صحيح أبي داود (1700 و 1701)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 957
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وأخرجہ في تفسیر التوبة أیضا (٣٠٨٨) (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٩) (صحیح) (سند میں حارث اعور سخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
958Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ مَوْقُوفًا، أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق مَرْفُوعًا، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا.

علی ؓ کہتے ہیں کہ حج اکبر (بڑے حج) کا دن دسویں ذی الحجہ کا دن ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ali (RA) said, “The day of the Hajj Akbar is the day of sacrifice,” and he did not trace the hadith to the Prophet ﷺ

صحيح انظر ما قبله (957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 958
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن ابی عمر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے اور ابن عیینہ کی موقوف روایت محمد بن اسحاق کی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح بہت سے حفاظ حدیث نے اسے بسند «أبي إسحق عن الحارث عن علي» موقوفاً روایت کیا ہے، شعبہ نے بھی ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے انہوں نے یوں کہا ہے «عن عبد اللہ بن مرة عن الحارث عن علي موقوفا» ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دسویں تاریخ کو حج اکبر ( بڑا حج ) اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسی دن حج کے اکثر افعال انجام دیئے جاتے ہیں، مثلاً جمرہ عقبہ کی رمی ( کنکری مارنا ) ، حلق ( سر منڈوانا ) ، ذبح، طواف زیارت وغیرہ اعمال حج، اور عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ حج اکبر اس حج کو کہتے ہیں جس میں دسویں تاریخ جمعہ کو آ پڑی ہو، تو اس کی کوئی اصل نہیں، رہی طلحہ بن عبیداللہ بن کرز کی روایت «أفضل الأيام يوم عرفه وإذا وافق يوم جمعة فهو أفضل من سبعين حجة في غير يوم جمعة» تو یہ مرسل ہے، اور اس کی سند بھی معلوم نہیں، اور حج اصغر سے جمہور عمرہ مراد لیتے ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حج اصغر یوم عرفہ ہے اور حج اکبر یوم النحر۔ ٢ ؎: یعنی شعبہ والی روایت میں ابواسحاق سبیعی اور حارث کے درمیان عبداللہ بن مرہ کے واسطے کا اضافہ ہے جب کہ دیگر حفاظ کی روایت میں ایسا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح)
959Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ. فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنْ أَفْعَلْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ، كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَى إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً، وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ حجر اسود اور رکن یمانی پر ایسی بھیڑ لگاتے تھے جو میں نے صحابہ میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ تو میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ دونوں رکن پر ایسی بھیڑ لگاتے ہیں کہ میں نے صحابہ میں سے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ان پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: جس نے اس گھر کا طواف سات مرتبہ (سات چکر) کیا اور اسے گنا، تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: وہ جتنے بھی قدم رکھے اور اٹھائے گا اللہ ہر ایک کے بدلے اس کی ایک غلطی معاف کرے گا اور ایک نیکی لکھے گا ۔

Abu Ubayd ibn Umayr reported from his father that Sayyidina ibn Umar used to crowd (stop) at the two corners. So, he said to him, “O Abu Abdur Rahman! you stop at the two corners making a crowd. I have not seen any of the Prophet’s ﷺ companions stop here.” He said, “If I do that then I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘The touching of these two is an atonement of sins’. And I had heard him say, ‘If anyone makes circuit of this House seven times and counts them then it is like setting a slave free’. And, I had heard him say, ‘Hardly is a foot put down (during tawaf) and the other raised, but Allah obliterates by it sin from him and ious deed is recorded for him’.” [Ahmed 5706]

(قوله:صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 959
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- حماد بن زید نے بطریق: «عطا بن السائب، عن ابن عبید بن عمير، عن ابن عمر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے ابن عبید کے باپ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٣١٧) (صحیح)
960Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ، فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا، وَلَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ، أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ الرَّجُلُ فِي الطَّوَافِ إِلَّا لِحَاجَةٍ، أَوْ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى، أَوْ مِنَ الْعِلْمِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کے گرد طواف نماز کے مثل ہے۔ البتہ اس میں تم بول سکتے ہو (جب کہ نماز میں تم بول نہیں سکتے) تو جو اس میں بولے وہ زبان سے بھلی بات ہی نکالے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The tawaf round the House is like the salah except that you converse during it (the tawaf). And, he who converses does not do so except with a good word.”

صحيح، الإرواء (121)، المشکاة (2576)، التعليق الرغيب (2 / 121)، التعليق علی ابن خزيمة (2739)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 960
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث ابن طاؤس وغیرہ نے ابن عباس سے موقوفاً روایت کی ہے۔ ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، ٢- اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، یہ لوگ اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ آدمی طواف میں بلا ضرورت نہ بولے (اور اگر بولے) تو اللہ کا ذکر کرے یا پھر علم کی کوئی بات کہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٧٣٣) (صحیح)
961Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجَرِ: وَاللَّهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ (یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے) اس کا استلام کیا ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said concerning the (Black) stone, “By Allah! Allah will raise it on the Day of Resurrection such that it will have two eyes with which it will see, and a tongue whereby it will speak to give testimony over those who made its istilam with truth, (meaning) touched it or kissed it truly).” [Ibn e Majah 2944]

صحيح، المشکاة (2578)، التعليق الرغيب (2 / 122)، التعليق علی ابن خزيمة (2735)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 961
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کو چوما یا چھوا ہوگا یہ حدیث اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوگی اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ حجر اسود کو آنکھیں اور زبان دیدے اور دیکھنے اور بولنے کی طاقت بخش دے بعض لوگوں نے اس حدیث کی تاویل کی ہے کہ یہ کنایہ ہے حجر اسود کا استلام کرنے والے کو ثواب دینے اور اور اس کی کوشش کو ضائع نہ کرنے سے لیکن یہ محض فلسفیانہ موشگافی ہے، صحیح یہی ہے کہ حدیث کو ظاہر ہی پر محمول کیا جائے۔ اور ایسا ہونے پر ایمان لایا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٧٣٥)، ( تحفة الأشراف: ٥٥٣٦)، سنن الدارمی/المناسک ٢٦ (١٨٨١) (صحیح)
962Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ وَهُوَ مُحْرِمٌ غَيْرِ الْمُقَتَّتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: الْمُقَتَّتُ الْمُطَيَّبُ، . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، فِي فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، وَرَوَى عَنْهُ النَّاسُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اور یہ (تیل) بغیر خوشبو کے ہوتا تھا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ used to apply to himself while he was a muhrim olive oil which was not perfumed. [Ahmed4783, Ibn e Majah 3083] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 962
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف فرقد سبخی کی روایت سے جانتے ہیں، اور فرقد نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے سلسلے میں کلام کیا ہے، اور فرقد سے لوگوں نے روایت کی ہے، ٢- مقتت کے معنی خوشبودار کے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرم کے لیے زیتون کا تیل جس میں خوشبو کی ملاوٹ نہ ہو لگانا جائز ہے، لیکن حدیث ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٨ (٣٠٨٣)، ( تحفة الأشراف: ٧٠٦٠) (ضعیف الإسناد) (سند میں فرقد سبخی لین الحدیث اور کثیر الخطاء راوی ہں ذ) (وأخرجہ صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٧) موقوفا علی ابن عمر وہو أصح)