ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منی میں ایک گھر نہ بنادیں جو آپ کو سایہ دے۔ آپ نے فرمایا: نہیں ١ ؎، منیٰ میں اس کا حق ہے جو وہاں پہلے پہنچے ۔
Sayyidah Ayshah reported that they said, “O Messenger of Allah! ﷺ Shall we build for you a structure in Mina to give you shade?” He said, “No. He who comes to Mina first, it is his place.” [Ahmed25776, Ibn e Majah 3006, Abu Dawud 2019] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (3006) // ضعيف سنن ابن ماجة (648)، ضعيف أبي داود (438 / 2019) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 881
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ منی کو کسی کے لیے خاص کرنا درست نہیں، وہ رمی، ذبح اور حلق وغیرہ عبادات کی سر زمین ہے، اگر مکان بنانے کی اجازت دے دی جائے تو پورا میدان مکانات ہی سے بھر جائے گا اور عبادت کے لیے جگہ نہیں رہ جائے گی۔
حارثہ بن وہب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی جب کہ لوگ ہمیشہ سے زیادہ مامون اور بےخوف تھے۔
Sayyidina Harithahi bnWahb (RA) said, “I prayed with the Prophet ﷺ (RA) at Mina, all people being at peace, and they prayed two raka’at (qasr, or shortened salah). [Bukhari 1083, Muslim 696, Abu Dawud 1965, Nisai 2441]
صحيح، صحيح أبي داود (1714)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 882
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حارثہ بن وہب کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور ابن مسعود ؓ سے بھی مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان ؓ کے ساتھ ان کے ابتدائی دور خلافت میں دو رکعتیں پڑھیں، ٤- اہل مکہ کے منیٰ میں نماز قصر کرنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ منیٰ میں نماز قصر کریں ١ ؎، بجز ایسے شخص کے جو منیٰ میں مسافر کی حیثیت سے ہو، یہ ابن جریج، سفیان ثوری، یحییٰ بن سعید قطان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے منیٰ میں نماز قصر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ اوزاعی، مالک، سفیان بن عیینہ، اور عبدالرحمٰن بن مہدی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کے نزدیک منیٰ میں قصر کی وجہ منسک حج نہیں سفر ہے، مکہ اور منیٰ کے درمیان اتنی دوری نہیں کہ آدمی اس میں نماز قصر کرے، اور جوگ مکہ والوں کے لیے منیٰ میں قصر کو جائز کہتے ہیں ان کے نزدیک قصر کی وجہ سفر نہیں بلکہ اس کے حج کا نسک ہوتا ہے۔
یزید بن شیبان کہتے ہیں: ہمارے پاس یزید بن مربع انصاری ؓ آئے، ہم لوگ موقف (عرفات) میں ایسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جسے عمرو بن عبداللہ امام سے دور سمجھتے تھے ١ ؎ تو یزید بن مربع نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تم لوگ مشاعر ٢ ؎ پر ٹھہرو کیونکہ تم ابراہیم کے وارث ہو۔
Sayyidina Yazid ibn Shayban (RA) said that Ibn Mirba’ Ansari (RA) came to them while they were standing at the Mawqif (place of standing), a place distant from Amr (the imam). He (lbn Mirba) said, “I am the envoy of Allah’s Messenger ﷺ to you. Stand, all of you, at your places so that you keep to the legacy of Ibrahim ‘ [Ahmed17233, Abu Dawud 1919, Nisai 3014, Ibn e Majah 3011]
صحيح، ابن ماجة (3011)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 883
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یزید بن مربع انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے ہم صرف ابن عیینہ کے طریق سے جانتے ہیں، اور ابن عیینہ عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں، ٣- ابن مربع کا نام یزید بن مربع انصاری ہے، ان کی صرف یہی ایک حدیث جانی جاتی ہے، ٤- اس باب میں علی، عائشہ، جبیر بن مطعم، شرید بن سوید ثقفی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ مدرج ہے عمرو بن دینار کا تشریحی قول ہے۔ ٢ ؎: مشاعر سے مراد مواضع نسک اور مواقف قدیمہ ہیں، یعنی ان مقامات پر تم بھی وقوف کرو کیونکہ ان پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے دور سے بطور روایت چلا آ رہا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ - اور یہ «حمس» ١ ؎ کہلاتے ہیں - مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم تو اللہ کے خادم ہیں۔ (عرفات نہیں جاتے) ، اور جوان کے علاوہ لوگ تھے وہ عرفہ میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے آیت کریمہ «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» اور تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں (البقرہ: ١٩٩) نازل فرمائی۔
Sayyidah Ayshah narrated that the Quraysh and those who were on their religion, the Hums, stood at Muzdalifa. They used to say. We are servants of Allah. (so they did not go to Arafat). And those besides them would (go and) stand at Arafat. So Allah the Majestic and Glorious revealed: Then hasten onward from the place wherefrom the people hasten onward. (2 : 199) [Bukhari 4520, Muslim 1219, Abu Dawud 1910, Nisai 3009]
صحيح، ابن ماجة (3018)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 884
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اہل مکہ حرم سے باہر نہیں جاتے تھے اور عرفہ حرم سے باہر ہے۔ اہل مکہ مزدلفہ ہی میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم اللہ کے آباد کئے ہوئے لوگ ہیں۔ اور اہل مکہ کے علاوہ لوگ عرفات میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے حکم نازل فرمایا: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں «حمس» سے مراد اہل حرم ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حمس» کے معنی بہادر اور شجاع کے ہیں۔ مکہ والے اپنے آپ کے لیے یہ لفظ استعمال کیا کرتے تھے۔
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں قیام کیا اور فرمایا: یہ عرفہ ہے، یہی وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے، عرفہ (عرفات) کا پورا ٹھہرنے کی جگہ ہے، پھر آپ جس وقت سورج ڈوب گیا تو وہاں سے لوٹے۔ اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھایا، اور آپ اپنی عام رفتار سے چلتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، اور لوگ دائیں بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے، آپ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہتے جاتے تھے: لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو ، پھر آپ مزدلفہ آئے اور لوگوں کو دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء قصر کر کے) ایک ساتھ پڑھائیں، جب صبح ہوئی تو آپ قزح ١ ؎ آ کر ٹھہرے، اور فرمایا: یہ قزح ہے اور یہ بھی موقف ہے اور مزدلفہ پورا کا پورا موقف ہے ، پھر آپ لوٹے یہاں تک کہ آپ وادی محسر ٢ ؎ پہنچے اور آپ نے اپنی اونٹنی کو مارا تو وہ دوڑی یہاں تک کہ اس نے وادی پار کرلی، پھر آپ نے وقوف کیا۔ اور فضل بن عباس ؓ کو (اونٹنی پر) پیچھے بٹھایا، پھر آپ جمرہ آئے اور رمی کی، پھر منحر (قربانی کی جگہ) آئے اور فرمایا: یہ منحر ہے، اور منیٰ پورا کا پورا منحر (قربانی کرنے کی جگہ) ہے ، قبیلہ خثعم کی ایک نوجوان عورت نے آپ سے مسئلہ پوچھا، اس نے عرض کیا: میرے والد بوڑھے ہوچکے ہیں اور ان پر اللہ کا فریضہ حج واجب ہوچکا ہے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں تو کافی ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اپنے باپ کی طرف سے حج کرلے ۔ علی ؓ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے فضل کی گردن موڑ دی، اس پر آپ سے، عباس ؓ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کی گردن کیوں پلٹ دی؟ تو آپ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں جوان ہیں تو میں ان دونوں کے سلسلہ میں شیطان سے مامون نہیں رہا ٣ ؎، پھر ایک شخص نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف افاضہ کرلیا۔ آپ نے فرمایا: سر منڈوا لو یا بال کتروا لو کوئی حرج نہیں ہے ۔ پھر ایک دوسرے شخص نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی، آپ نے فرمایا: رمی کرلو کوئی حرج نہیں ٤ ؎ پھر آپ بیت اللہ آئے اور اس کا طواف کیا، پھر زمزم پر آئے، اور فرمایا: بنی عبدالمطلب! اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہیں مغلوب کردیں گے تو میں بھی (تمہارے ساتھ) پانی کھینچتا ۔ (اور لوگوں کو پلاتے)
Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ stood at Arafat. He said, ‘This is Arafat and it is the Mawqif (standing place), and all of it is the Mawqif.” Then, he returned when the sun set and took Usamah ibn Zayd (RA)as his co-rider. And as was his wont, he began to gesture with his hand. And the people were on the right and left beating the track.° He turned towards them and said, “O People! You must be peaceful.’ Then they all came to Muzdalifah and he prayed with them the two prayers (of maghrib and isha) together. When it was dawn, he came to Quzah and stood there and said, “This is quzah and it is the mawqif. Rather, the whole of Muzdalifah is the mawqif.” Then, he moved forward till he came to the valley Muhassir where he struck his she-camel a whip so that it began to run till they were beyond the valley. He stopped and took Fadi ibn Abbas as his co-rider and came to the jamrah and hit it with pebbles (which is called rami). Then he came to the slaughtering place. He said, “This is the mazbah (slaughtering place) and all of Mina is place of slaughtering. A young girl of the tribe Kath’am said, “My father is old. The obligation of Hajj is on him. May I perform Hajj on his behalf?” He said, “Perform Hajj on behalf of your father.” He then turned away Fadi’s neck from this girl. So, Abbas asked. “O Messenger of Allah! ﷺ Why did you turn the neck of the son of your uncle?” He said, “I saw a young man and a young woman and was apprehensive of the devil’s Mischief.” A man came shortly and said, “O Messenger of Allah! ﷺ I have performed the tawaf of if’adah before shaving my head.” He said, “Shave it now. There is no sin in that.” Another man came and submitted, “O Messenger of Allah! ﷺ I have made the sacrifice before pelting the stones.” He said, “Make rami (pelt stones) now. There is no sin.” Then he came to the House (of Allah), made the tawaf and came to the well of zamzam. He said, “O children of Abdul Muttalib! Were it not that people would overpower you (and draw water) I would have drawn for myself.” [Ahmed562, Abu Dawud 1935, Ibn e Majah 3010]
حسن حجاب المرأة المسلمة (28)، الحج الکبيرصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 885
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے علی کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔ یعنی عبدالرحمٰن بن حارث بن عیاش کی سند سے، اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ثوری سے اسی کے مثل روایت کی ہے، ٢- اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا خیال ہے کہ عرفہ میں ظہر کے وقت ظہر اور عصر کو ملا کر ایک ساتھ پڑھے، ٤- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: جب آدمی اپنے ڈیرے (خیمے) میں نماز پڑھے اور امام کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہو تو چاہے دونوں نمازوں کو ایک ساتھ جمع اور قصر کر کے پڑھ لے، جیسا کہ امام نے کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مزدلفہ میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔ ٢ ؎: منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان ایک وادی ہے جس میں اصحاب فیل پر عذاب آیات ھا۔ ٣ ؎: یعنی: مجھے اندیشہ ہوا کہ فضل جب نوجوان لڑکی کی طرف سے ملتفت تھے، شیطان ان کو بہکا نہ دے۔ ٤ ؎: حاجی کو دسویں ذوالحجہ میں چار کام کرنے پڑتے ہیں، ١- جمرہ عقبیٰ کی رمی، ٢- نحر ہدی ( جانور ذبح کرنا ) ، ٣- حلق یا قصر، ٤- طواف افاضہ، ان چاروں میں ترتیب افضل ہے، اور اگر کسی وجہ سے ترتیب قائم نہ رہ سکے تو اس سے دم لازم نہیں ہوگا اور نہ ہی حج میں کوئی حرج واقع ہوگا جب کہ بعض نے کہا کہ حرج تو کچھ نہیں ہوگا لیکن دم لازم آئے گا۔ مگر ان کے پاس نص صریح میں سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وادی محسر میں تیز چال چلے۔ (بشر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ) آپ مزدلفہ سے لوٹے، آپ پرسکون یعنی عام رفتار سے چل رہے تھے، لوگوں کو بھی آپ نے سکون و اطمینان سے چلنے کا حکم دیا۔ (اور ابونعیم کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ نے انہیں ایسی کنکریوں سے رمی کرنے کا حکم دیا جو دو انگلیوں میں پکڑی جاسکیں، اور فرمایا: شاید میں اس سال کے بعد تمہیں نہ دیکھ سکوں ۔
Sayyidina Jabir reported that the Prophet ﷺ hurried out of the valley Muhassir. Bishr (RA) added that when he returned from the assembly (Muzdalilfah), he was at peace and commanded them (the sahabah) to be at peace. Abu Nu’aym added that the Prophet ﷺ commanded them to cast such pebbles at the jamrah which they could hoid in their fingers. He also said, “Perhaps, I may not see you after this year.” [Ahmed14559, Muslim 1297, Abu Dawud 1944, Nisai 3021, Ibn e Majah 3023] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1699 و 1719)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 886
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں اسامہ بن زید ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٦٦ (١٩٤٤)، سنن النسائی/الحج ٢٠٤ (٣٠٢٤)، و ٢١٥ (٣٠٥٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦١ (٣٠٢٣)، ( تحفة الأشراف: ٢٧٤٧ و ٢٧٥)، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٣٢، ٣٦٧، ٣٩١)، ویأتي عند المؤلف رقم: ٨٩٧) (صحیح)
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے مزدلفہ میں نماز پڑھی اور ایک اقامت سے مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھیں اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس جگہ پر ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔
Abdullah ibn Maalik said that Sayyidina Ibn Umar (RA) led the salah at Muzdalifah, combining two prayers with one iqamah. He said, “I had seen Allah’s Messenger ﷺ do like this at this place.” [Ahmed5287, Muslim 1288, Abu Dawud 1932, Nisai 3026]
صحيح، صحيح أبي داود (1682 - 1690)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 887
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے برخلاف جابر ؓ کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے ایک اذان اور دو تکبیروں سے دونوں نمازیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، «واللہ اعلم»۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٦٥ (١٩٢٩) (تحفة الأشراف: ٧٢٨٥) (صحیح) (ہر صلاة کے لیے الگ الگ اقامت کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے/ دیکھئے اگلی روایت)
اس سند سے بھی ابن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ محمد بن بشار نے («حدثنا» کے بجائے) «قال یحییٰ» کہا ہے۔ اور صحیح سفیان والی روایت ہے۔
Muhammad ibn Bashshar reported like this in a marfu’ form from Yahya ibn Sa’eed from Isma’il ibn Abu Khalid, from Abu Ishaq, from Sa’eed ibn Jubyr from the Prophet ﷺ Muhammad ibn Bashshar said on the authority of Yahya ibn Saeed that the hadith of Sufyan is sahih.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 888
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث جسے سفیان نے روایت کی ہے اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور سفیان کی حدیث صحیح حسن ہے، ٢- اسرائیل نے یہ حدیث ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے اور ابواسحاق سبیعی نے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور عبداللہ اور خالد نے ابن عمر سے روایت کی ہے۔ اور سعید بن جبیر کی حدیث جسے انہوں نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، سلمہ بن کہیل نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے، رہے ابواسحاق سبیعی تو انہوں نے اسے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور ان دونوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں علی، ابوایوب، عبداللہ بن سعید، جابر اور اسامہ بن زید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس لیے کہ مغرب مزدلفہ آنے سے پہلے نہیں پڑھی جائے گی، جب حجاج جمع ١ ؎ یعنی مزدلفہ جائیں تو دونوں نمازیں ایک اقامت سے اکٹھی پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھیں گے۔ یہی مسلک ہے جسے بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے اور اس کی طرف گئے ہیں اور یہی سفیان ثوری کا بھی قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ چاہے تو مغرب پڑھے پھر شام کا کھانا کھائے، اور اپنے کپڑے اتارے پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے، ٤- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرے۔ مغرب کے لیے اذان کہے اور تکبیر کہے اور مغرب پڑھے، پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے یہ شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جمع مزدلفہ کا نام ہے، کہا جاتا ہے کہ آدم اور حوا جب جنت سے اتارے گئے تو اسی مقام پر آ کر دونوں اکٹھا ہوئے تھے اس لیے اس کا نام جمع پڑگیا۔
عبدالرحمٰن بن یعمر ؓ کہتے ہیں کہ نجد کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اس وقت آپ عرفہ میں تھے۔ انہوں نے آپ سے حج کے متعلق پوچھا تو آپ نے منادی کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا: حج عرفات میں ٹھہرنا ہے ١ ؎ جو کوئی مزدلفہ کی رات کو طلوع فجر سے پہلے عرفہ آ جائے، اس نے حج کو پا لیا ٢ ؎ منی کے تین دن ہیں، جو جلدی کرے اور دو دن ہی میں چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو دیر کرے تیسرے دن جائے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ (یحییٰ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ نے ایک شخص کو پیچھے بٹھایا اور اس نے آواز لگائی۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Yamur (RA) said that some people of Najd met Allahs Messenger ﷺ while he was at Arafat. They asked him (about Hajj), so he ordered an announcer to proclaim and he proclaimed that Hajj was (the standing) at Arafah. One who reaches Arafat before rise of dawn on the night of Muzdalifah has, indeed, performed Hajj. The days of Mina are three days, but Then whosoever hastens (his departure) after his stay of two days (at Mina) there is no sin on him and whosoever delays there is no sin on him. (2 203) Muhammad said that Yahya added, The Prophet ﷺ took a co-rider and got him to proclaim. [Ahmed18976, Abu Dawud 1949, Nisai 3016, Ibn e Majah 3015]
صحيح، ابن ماجة (3015)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 889
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے کیونکہ اس کے فوت ہوجانے سے حج فوت ہوجاتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی اس نے عرفہ کا وقوف پا لیا جو حج کا ایک رکن ہے اور حج کے فوت ہوجانے سے مامون و بےخوف ہوگیا، یہ مطلب نہیں کہ اس کا حج پورا ہوگیا اور اسے اب کچھ اور نہیں کرنا ہے، ابھی تو طواف افاضہ جو حج کا ایک اہم رکن ہے باقی ہے بغیر اس کے حج کیسے پورا ہوسکتا ہے۔
A had ith of same meaning is reported by Ibn Abu Umar from Sufyan ibn Uyaynah (RA) from Sufyan Thawrim from Bukayr ibn Ata, from Abdur Rahman ibn Yamur and he from the Prophet ﷺ .
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 890
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- شعبہ نے بھی بکیر بن عطا سے ثوری ہی کی طرح روایت کی ہے، ٢- وکیع نے اس حدیث کا ذکر کیا تو کہا کہ یہ حدیث حج کے سلسلہ میں ام المناسک کی حیثیت رکھتی ہے، ٣- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل عبدالرحمٰن بن یعمر کی حدیث پر ہے کہ جو طلوع فجر سے پہلے عرفات میں نہیں ٹھہرا، اس کا حج فوت ہوگیا، اور اگر وہ طلوع فجر کے بعد آئے تو یہ اسے کافی نہیں ہوگا۔ اسے عمرہ بنا لے اور اگلے سال حج کرے ، یہ ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام الطائی ؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مزدلفہ آیا، جس وقت آپ نماز کے لیے نکلے تو میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قبیلہ طی کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو اور خود اپنے کو خوب تھکا دیا ہے، اللہ کی قسم! میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا جہاں میں نے (یہ سوچ کر کہ عرفات کا ٹیلہ ہے) وقوف نہ کیا ہو تو کیا میرا حج ہوگیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی ہماری اس نماز میں حاضر رہا اور اس نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم یہاں سے روانہ ہوں اور وہ اس سے پہلے دن یا رات میں عرفہ میں وقوف کرچکا ہو ١ ؎ تو اس نے اپنا حج پورا کرلیا، اور اپنا میل کچیل ختم کرلیا ٢ ؎۔
Sayyidina Urwah ibn Mudarris ibn Aws ibn Harithah ibn al-Umm at-Ta’i said that he met Allahs Messenger at Muzdalifah while he was coming out for salah. He submitted, O Messenger of Allah, I have come from Mount Tai. I have tired my riding beast (she-camel) and wearied myself. By Allah, I have not let any mountain go where I have not stood. Is my Hajj valid?” So Allah’s Messenger ﷺ said, ‘He who offered this prayer with us and stays with us till we are here and he has observed the standing at Arafat before this during (any portion of) day or night, has indeed performed Hajj and done his duty.” [Ahmed18328, Abu Dawud 1950, Nisai 3036, Ibn e Majah 3016]
صحيح، ابن ماجة (3016)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 891
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- «تَفَثَهُ» کے معنی «نسكه» کے ہیں یعنی مناسک حج کے ہیں۔ اور اس کے قول: «ما ترکت من حبل إلا وقفت عليه» کوئی ٹیلہ ایسا نہ تھا جہاں میں نے وقوف نہ کیا ہو کے سلسلے میں یہ ہے کہ جب ریت کا ٹیلہ ہو تو اسے حبل اور جب پتھر کا ہو تو اسے جبل کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عرفات میں ٹھہرنا ضروری ہے اور اس کا وقت نو ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے لے کر دسویں تاریخ کے طلوع فجر تک ہے ان دونوں وقتوں کے بیچ اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی عرفات میں وقوف مل جائے تو اس کا حج ادا ہوجائے گا۔ ٢ ؎: یعنی حالت احرام میں پراگندہ ہو کر رہنے کی مدت اس نے پوری کرلی اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کرسکتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے گھر والوں میں سے کمزوروں (یعنی عورتوں اور بچوں) کو پہلے ہی روانہ کردیا، اور آپ نے (ان سے) فرمایا: جب تک سورج نہ نکل جائے رمی جمار نہ کرنا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ sent ahead the weak people of his household and told them that they should not pelt the pebbles on the jamrah before the sun rise. [Ahmed3203]
صحيح، ابن ماجة (3025)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 893
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابن عباس ؓ کی حدیث «بعثني رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم في ثقل» صحیح حدیث ہے، یہ ان سے کئی سندوں سے مروی ہے، شعبہ نے یہ حدیث مشاش سے اور مشاش نے عطاء سے اور عطا نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے فضل بن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے گھر والوں میں سے کمزور لوگوں کو پہلے ہی رات کے وقت مزدلفہ سے منیٰ کے لیے روانہ کردیا تھا، یہ حدیث غلط ہے۔ مشاش نے اس میں غلطی کی ہے، انہوں نے اس میں فضل بن عباس کا اضافہ کردیا ہے۔ ابن جریج اور دیگر لوگوں نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس سے روایت کی ہے اور اس میں فضل بن عباس کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- مشاش بصرہ کے رہنے والے ہیں اور ان سے شعبہ نے روایت کی ہے، ٤- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ کمزور لوگ مزدلفہ سے رات ہی کو منیٰ کے لیے روانہ ہوجائیں، ٥- اکثر اہل علم نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث کے مطابق ہی کہا ہے کہ لوگ جب تک سورج طلوع نہ ہو رمی نہ کریں، ٦- اور بعض اہل علم نے رات ہی کو رمی کرلینے کی رخصت دی ہے۔ اور عمل نبی اکرم ﷺ کی حدیث پر ہے کہ وہ رمی نہ کریں جب تک کہ سورج نہ نکل جائے، یہی سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ بھیج دینا جائز ہے تاکہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہوجائیں لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہماری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے: اے میرے بچو جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ سورج نہ نکل جائے، یہی قول راجح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٧٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الحج ٦٦ (١٩٤٠)، سنن النسائی/الحج ٢٢٢ (٣٠٦٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٢ (٣٠٢٥)، مسند احمد (١/٢٣٤، ٣١١) من غیر ہذا الطریق۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دسویں ذی الحجہ کو (ٹھنڈی) چاشت کے وقت رمی کرتے تھے اور اس کے بعد زوال کے بعد کرتے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ cast pebbles at the time of duha (chaast) on the day of sacrifice (tenth Dul Hajjah). Thereafter, he cast them after zawal (declination of the sun). [Ahmed14360, Muslim 1299, Abu Dawud 1971, Nisai 3060, Ibn e Majah 3053]
صحيح، ابن ماجة (3053)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 894
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ وہ دسویں ذی الحجہ کے زوال بعد کے بعد ہی رمی کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ سنت یہی ہے کہ یوم النحر ( دسویں ذوالحجہ، قربانی والے دن ) کے علاوہ دوسرے، گیارہ اور بارہ والے دنوں میں رمی سورج ڈھلنے کے بعد کی جائے، یہی جمہور کا قول ہے اور عطاء و طاؤس نے اسے زوال سے پہلے مطلقاً جائز کہا ہے، اور حنفیہ نے کوچ کے دن زوال سے پہلے رمی کی رخصت دی ہے، عطاء و طاؤس کے قول پر نبی اکرم ﷺ کے فعل و قول سے کوئی دلیل نہیں ہے، البتہ حنفیہ نے اپنے قول پر ابن عباس کے ایک اثر سے استدلال کیا ہے، لیکن وہ اثر ضعیف ہے اس لیے جمہو رہی کا قول قابل اعتماد ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (مزدلفہ سے) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Prophet ﷺ returned (from Muzdalifah) before sunrise. [Ahmed2051]
صحيح بما بعده (896)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 895
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٧٣) (صحیح بما بعدہ) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” حکم “ نے ” مقسم “ سے صرف پانچ احادیث سنی ہیں، اور یہ حدیث شاید ان میں سے نہیں ہے؟ )
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے، عمر بن خطاب ؓ نے کہا: مشرکین جب تک کہ سورج نکل نہیں آتا نہیں لوٹتے تھے اور کہتے تھے: ثبیر! تو روشن ہوجا (تب ہم لوٹیں گے) ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت کی، چناچہ عمر ؓ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔
Abu Ishaq narrated that he heard Amr ibn Maymum say: We were at Muzdalifah when Umar ibn Khattab (RA) said, “The idolators did not depart from Muzdalifah till the sun had risen. They used to say. “Let Thabir shine (before going). But, Allah’s Messenger miS’ j_1_ differentiated from them.” So, Umar went onward before sunrise. [Ahmed84, Bukhari 1684, Nisai 3044, Abu Dawud 1938, Ibn e Majah 3022]
صحيح، ابن ماجة (3022)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 896
جابر ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ایسی کنکریوں سے رمی جمار کر رہے تھے جو انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کے درمیان پکڑی جاسکتی تھیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) said, “I saw Allah’s Messenger ﷺ throw pebbles at the jamrat like the ones in a sling (that is, small pebbles). [Ahmed14559, Muslim 313, Abu Dawud 1944, Nisai 3071, Ibn e Majah 3023]
صحيح، ابن ماجة (3023)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 897
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سلیمان بن عمرو بن احوص (جو اپنی ماں ام جندب ازدیہ سے روایت کرتے ہیں) ، ابن عباس، فضل بن عباس، عبدالرحمٰن بن عثمان تمیمی اور عبدالرحمٰن بن معاذ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ کنکریاں جن سے رمی کی جاتی ہے ایسی ہوں جو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑی جاسکیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کنکریاں «باقلاّ» کے دانے کے برابر ہوتی تھیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمی جمار اس وقت کرتے جب سورج ڈھل جاتا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that Allah’s Messenger used to cast the pebbles after the sun had passed the meridian. [Ibn e Majah 3054]
صحيح بحديث جابر رقم (901)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 898
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یوم النحر کے علاوہ باقی دنوں میں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٥ (٣٠٥٤) (تحفة الأشراف: ٦٤٦٦) (صحیح) (سابقہ حدیث نمبر ٨٩٤ سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، حکم نے مقسم سے صرف پانچ احادیث ہی سنی ہیں، اور یہ شاید ان میں سے نہیں)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی سواری پر کی۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ cast pebbles at the jamrat while riding (a beast). [Ahmed2056, Ibn e Majah 3034]
صحيح، وانظر الحديث (887)، ابن ماجة (3034)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 899
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں جابر، قدامہ بن عبداللہ، اور سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- بعض نے یہ پسند کیا ہے کہ وہ جمرات تک پیدل چل کر جائیں، ٥- ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ جمرات تک پیدل چل کر جاتے، ٦- ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی کبھار سواری پر رمی اس لیے کی تاکہ آپ کے اس فعل کی بھی لوگ پیروی کریں۔ اور دونوں ہی حدیثوں پر اہل علم کا عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٦ (٣٠٣٤) (تحفة الأشراف: ٦٤٦٧) (صحیح) (سابقہ جابر کی حدیث نمبر ٨٨٦ سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب رمی جمار کرتے، تو جمرات تک پیدل آتے جاتے تھے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ walked to the jamrat and back when he cast pebbles at them.
صحيح، الصحيحة (2072)، صحيح أبي داود (1718)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 900
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض لوگوں نے اسے عبیداللہ (العمری) سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوسکتا ہے، اور دسویں کے بعد باقی دنوں میں پیدل جائے گا۔ گویا جس نے یہ کہا ہے اس کے پیش نظر صرف نبی اکرم ﷺ کے اس فعل کی اتباع ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوئے جب آپ رمی جمار کرنے گئے۔ اور دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ ہی کی رمی کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٠١١) (صحیح) وأخرجہ مسند احمد (٢/١٣٨) من طریق عبد العمری عن نافع بہ۔