زبیر بن عربی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر ؓ سے حجر اسود کا بوسہ لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ اس نے کہا: اچھا بتائیے اگر میں وہاں تک پہنچنے میں مغلوب ہوجاؤں اور اگر میں بھیڑ میں پھنس جاؤں؟ تو اس پر ابن عمر نے کہا: تم (یہ اپنا) اگر مگر یمن میں رکھو ١ ؎ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ یہ زبیر بن عربی وہی ہیں، جن سے حماد بن زید نے روایت کی ہے، کوفے کے رہنے والے تھے، ان کی کنیت ابوسلمہ ہے۔ انہوں نے انس بن مالک اور دوسرے کئی صحابہ سے حدیثیں روایت کیں ہیں۔ اور ان سے سفیان ثوری اور دوسرے کئی اور ائمہ نے روایت کی ہیں۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ان سے یہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔ ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ حجر اسود کے بوسہ لینے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور آدمی وہاں تک نہ پہنچ سکے تو اسے اپنے ہاتھ سے چھو لے اور اپنے ہاتھ کا بوسہ لے لے اور اگر وہ اس تک نہ پہنچ سکے تو جب اس کے سامنے میں پہنچے تو اس کی طرف رخ کرے اور اللہ اکبر کہے، یہ شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ مطلب یہ ہے کہ اگر مگر چھوڑ دو، اس طرح کے سوالات سنت رسول کے شیدائیوں کو زیب نہیں دیتے، یہ تو تارکین سنت کا شیوہ ہے، سنت رسول کو جان لینے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جس وقت مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور یہ آیت پڑھی: « (واتخذوا من مقام إبراهيم مصلی» مقام ابراہیم کو مصلی بناؤ یعنی وہاں نماز پڑھو (البقرہ: ١٢٥) ، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا پھر فرمایا: ہم (سعی) اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔ چناچہ آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور یہ آیت پڑھی: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں (البقرہ: ١٥٨) ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that when the Prophet ﷺ came to Makkah, he made the tawaf of the House seven rounds. He came to the Station and recited “Appoint for yourselves a place of prayer on the standing-place of Ibrahim. “(verse 2 : 125). Then prayed salah behind tbe Station, and came to the Hajr and kissed it. After that he said, “We begin with what Allah had begun.” So, he began Safa, reciting “Surely the Safa and the Marwa are among the signs appointed by Allah” (2:158, hadith 857). [Ahmed14447, Muslim 1218, Abu Dawud 1905, Nisai 708, Muslim 2960] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1374)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 862
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سعی مروہ کے بجائے صفا سے شروع کی جائے۔ اگر کسی نے صفا کے بجائے مروہ سے سعی شروع کردی تو یہ سعی کافی نہ ہوگی اور سعی پھر سے صفا سے شروع کرے گا، ٣- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کی، یہاں تک کہ واپس گھر چلا گیا، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر کسی نے صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی یہاں تک کہ وہ مکہ سے باہر نکل آیا پھر اسے یاد آیا، اور وہ مکہ کے قریب ہے تو واپس جا کر صفا و مروہ کی سعی کرے۔ اور اگر اسے یاد نہیں آیا یہاں تک کہ وہ اپنے ملک واپس آگیا تو اسے کافی ہوجائے گا لیکن اس پر دم لازم ہوگا، یہی سفیان ثوری کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اگر اس نے صفا و مروہ کے درمیان سعی چھوڑ دی یہاں تک کہ اپنے ملک واپس آگیا تو یہ اسے کافی نہ ہوگا۔ یہ شافعی کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی واجب ہے، اس کے بغیر حج درست نہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ made the rounds of the House and between Safa and Marwah so that the idolators might observe his strength. [Bukhari 1649, Muslim 1266, Nisai 2976]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 863
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابن عمر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم اسی کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے، اگر وہ سعی نہ کرے بلکہ صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلے تو اسے جائز سمجھتے ہیں۔
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو سعی میں عام چال چلتے دیکھا تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ صفا و مروہ کی سعی میں عام چال چلتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑتے بھی دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو عام چال چلتے بھی دیکھا ہے، اور میں کافی بوڑھا ہوں۔
Kathir ibn Jumhan said that he saw Sayyidina Ibn Umar (RA) walk during Sa’i. So he asked him, “Do you walk durin Sa’i betw Safa and Marwah?” So, he said, “If I run then I have seen Allah’s Messenger ﷺ also run. And if I walk then, indeed, I saw Allah’s Messenger walk. And I am an old man.” [Abu Dawud 1905, Nisai 2926, Ibn e Majah 2988]
صحيح، ابن ماجة (2988)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 864
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا جب ١ ؎ آپ حجر اسود کے پاس پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے ٢ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that the Prophet ﷺ made the tawaf on his riding beast. When he came to a corner (Hajr Aswad), he would make a gesture towards it. [Bukhari 1612,Nisai 2952]
صحيح، ابن ماجة (2948)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 865
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، ابوالطفیل اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے بیت اللہ کا طواف، اور صفا و مروہ کی سعی سوار ہو کر کرنے کو مکروہ کہا ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو، یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سواری پر طواف آپ نے اس لیے کیا تھا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ سے حج کے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگ آپ کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔ ٢ ؎: یہ اشارہ آپ اپنی چھڑی سے کرتے تھے پھر اسے چوم لیتے تھے جیسا کہ ابوالطفیل ؓ کی روایت میں ہے جو صحیح مسلم میں آئی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بیت اللہ کا طواف پچاس بار کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے اسی دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone made tawaf of the House fifty times then he will be (as) absolved of his sins, as on the day his mother had given him birth.”
ضعيف، الضعيفة (5102) // ضعيف الجامع الصغير (5682) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 866
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں انس اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابن عباس ؓ کی حدیث غریب ہے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ تو ابن عباس سے ان کے اپنے قول سے روایت کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٥٣١) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع یحییٰ بن یمان شریک القاضی اور ابواسحاق سبیعی سب میں کلام ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس کا اپنا قول ہے)
ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ لوگ عبداللہ بن سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل شمار کرتے تھے۔ اور عبداللہ کے ایک بھائی ہیں جنہیں عبدالملک بن سعید بن جبیر کہتے ہیں۔ انہوں نے ان سے بھی روایت کی ہے ١ ؎۔
Ibn Abu Umar reported from Sufyan ibn Uyaynah, from Ayyub that the scholars consider Abdullah ibn Sa’eed ibn Jubayr more excellaent than his father. He also had a brother Abdul Maalik ibn Sa’eed ibn Jubayr who was also a narrator.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 867
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف نے یہ اثر پچھلی حدیث کے راوی عبداللہ بن سعید بن جبیر کی تعریف میں پیش کیا ہے۔
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! رات دن کے کسی بھی حصہ میں کسی کو اس گھر کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔
Sayyidina Jubayr ibn Mut’im narrated that the Prophet ﷺ said, “O Children of Abd Manaf, do not disallow anyone who makes tawaf of this house to offer salah at whichever hour of night or day he likes.” [Ahmed16737, Abu Dawud 1894, Nisai 584, Ibn e Majah 1254]
صحيح، ابن ماجة (1254)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 868
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جبیر مطعم ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- عبداللہ بن ابی نجیح نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن باباہ سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- مکہ میں عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے اور طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ١ ؎ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث ٢ ؎ سے دلیل لی ہے۔ اور بعض کہتے ہیں: اگر کوئی عصر کے بعد طواف کرے تو سورج ڈوبنے تک نماز نہ پڑھے۔ اسی طرح اگر کوئی فجر کے بعد طواف کرے تو سورج نکلنے تک نماز نہ پڑھے۔ ان کی دلیل عمر ؓ کی حدیث ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد طواف کیا اور نماز نہیں پڑھی پھر مکہ سے نکل گئے یہاں تک کہ وہ ذی طویٰ میں اترے تو سورج نکل جانے کے بعد نماز پڑھی۔ یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی ارجح و اشبہ ہے۔ ٢ ؎: جو اس باب میں مذکور ہے، اس کا ماحصل یہ ہے کہ مکہ میں مکروہ اور ممنوع اوقات کا لحاظ نہیں ہے۔ ( خاص کر طواف کے بعد دو رکعتوں کے سلسلے میں ) جب کہ عام جگہوں میں فجر و عصر کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف کی دو رکعت میں اخلاص کی دونوں سورتیں یعنی «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that Allah’s Messenger ﷺ recited in the two rakaat of tawaf, the surah al-Kafirun and al-Ikhlas.
صحيح، ابن ماجة (3074)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 869
Notes · وضاحت
١ ؎: «قل يا أيها الکافرون» کو سورة الاخلاص تغلیباً کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٦١٣) (صحیح) (جعفر صادق کے طریق سے صحیح مسلم میں مروی طویل حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ مولف کی اس سند میں عبدالعزیز بن عمران متروک الحدیث راوی ہے)
محمد (محمد بن علی الباقر) سے روایت ہے کہ وہ طواف کی دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔
Hannad reported from Waki, from Sufyan, from Jafar ibn Muhammad who from his father that it is rnustahabb to recite surah al-Kafirun and al-Ikhlas in the two raka’at of salah.
صحيح الإسناد مقطوعاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 870
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سفیان کی جعفر بن محمد عن أبیہ کی روایت عبدالعزیز بن عمران کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢- اور (سفیان کی روایت کردہ) جعفر بن محمد کی حدیث جسے وہ اپنے والد (کے عمل سے) سے روایت کرتے ہیں (عبدالعزیز کی روایت کردہ) جعفر بن محمد کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ اپنے والد سے اور وہ جابر سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ١ ؎، ٣- عبدالعزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی کے اس قول میں نظر ہے کیونکہ عبدالعزیز بن عمران اس حدیث کو «عن جعفر بن محمد عن أبیہ عن جابر» کے طریق سے روایت کرنے میں منفرد نہیں ہیں، امام مسلم نے اپنی صحیح میں ( برقم: ١٢١٨) «حاتم بن اسماعیل المدنی عن جعفر بن محمد عن أبیہ عن جابر» کے طریق سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٩٣٢٤) (صحیح الإسناد)
زید بن اثیع کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ سے پوچھا: آپ کو کن باتوں کا حکم دے کر بھیجا گیا ہے؟ ١ ؎ انہوں نے کہا: چار باتوں کا: جنت میں صرف وہی جان داخل ہوگی جو مسلمان ہو، بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے۔ مسلمان اور مشرک اس سال کے بعد جمع نہ ہوں، جس کسی کا نبی اکرم ﷺ سے کوئی عہد ہو تو اس کا یہ عہد اس کی مدت تک کے لیے ہوگا۔ اور جس کی کوئی مدت نہ ہو تو اس کی مدت چار ماہ ہے۔
Ibn Uthay said that he asked Sayyidina Ali , “With what were you sent (by the Prophet ﷺ )“ ?‘ He said, “With four things : No one but a Muslim will enter Paradise. Do not make tawaf of the House in the nude. The Muslims and the idolators will not come together (for Hajj) after this year. If there is a covenant between anyone and the Prophet ﷺ then that will be valid till its expriy but if no period is stipulated then it will operate for four months.’
صحيح، الإرواء (1101)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 871
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس سال کے حج کی بات ہے جب نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ کو حج کا امیر بنا کر بھیجا تھا، ( آٹھویں یا نویں سال ہجرت میں ) اور پھر اللہ عزوجل کی طرف سے حرم مکی میں مشرکین و کفار کے داخلہ پر پابندی کا حکم نازل ہوجانے کی بنا پر آپ ﷺ نے علی ؓ کو ابوبکر ؓ کے پاس مکہ میں یہ احکام دے کر روانہ فرمایا تھا، راوی حدیث زید بن اثیع الہمدانی ان سے انہی احکام و اوامر کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں جو ان کو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دے کر بھیجا گیا تھا۔
ہم سے ابن ابی عمر اور نصر بن علی نے بیان کیا، یہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اور سفیان نے ابواسحاق سبیعی سے اسی طرح کی حدیث روایت کی، البتہ ابن ابی عمر اور نصر بن علی نے (زید بن اثیع کے بجائے) زید بن یثیع کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
Ibn Abu Umar and Nasr ibn Ali reported the like of it from Sufyan, from Abu Ishaq and they name Zayd ibn Yathi’ said and this is (more) sahih.
صحيح انظر ما قبله (871)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 872
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
شعبہ کو اس میں وہم ہوا ہے، انہوں نے: زید بن اثیل کہا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے نکل کر گئے، آپ کی آنکھیں ٹھنڈی تھیں اور طبیعت خوش، پھر میرے پاس لوٹ کر آئے، تو غمگین اور افسردہ تھے، میں نے آپ سے (وجہ) پوچھی، تو آپ نے فرمایا: میں کعبہ کے اندر گیا۔ اور میری خواہش ہوئی کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ میں ڈر رہا ہوں کہ اپنے بعد میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ۔
Say’dah Ayshah (RA) said that once the Prophet ﷺ departed from her with cool eyes and a happy disposition. When he returned to her he was grieved. She asked him and he said, “I entered the Ka’bah and I wished that I had not done that. I fear that I have put my ummah to inconvenience after me.” [Ahmed25110, Abu Dawud 2029, Ibn e Majah 3064]
ضعيف، ابن ماجة (3064) // ضعيف سنن ابن ماجة (656)، ضعيف الجامع الصغير (2085)، ضعيف أبي داود (440 / 2029) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 873
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٩٥ (٢٠٢٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک (٧٩) (٣٠٦٤) (تحفة الأشراف: ١٦٢٣٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” اسماعیل بن عبدالملک “ کثیرالوہم ہیں)
بلال ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔ جب کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: آپ نے نماز نہیں پڑھی بلکہ آپ نے صرف تکبیر کہی۔
Sayyidina Bilal (RA) said that the Prophet ﷺ offered salah inside the Ka’bah. But Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that he never prayed but called the takbir.
صحيح، ابن ماجة (3063)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 874
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- بلال ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں اسامہ بن زید، فضل بن عباس، عثمان بن طلحہ اور شیبہ بن عثمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، ٤- مالک بن انس کہتے ہیں: کعبے میں نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، اور انہوں نے کعبہ کے اندر فرض نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے، ٥- شافعی کہتے ہیں: کعبہ کے اندر فرض اور نفل کوئی بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ نفل اور فرض کا حکم وضو اور قبلے کے بارے میں ایک ہی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: راجح بلال ؓ کی روایت ہے کیونکہ اس سے کعبہ کے اندر نماز پڑھنا ثابت ہو رہا ہے، رہی ابن عباس ؓ کی نفی، تو یہ نفی ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے کیونکہ اسامہ بن زید ؓ نے انہیں اسی کی خبر دی تھی اور اسامہ کے اس سے انکار کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ لوگ کعبہ کے اندر گئے تو ان لوگوں نے دروازہ بند کرلیا اور ذکر و دعا میں مشغول ہوگئے جب اسامہ نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ دعا میں مشغول ہیں تو وہ بھی ایک گوشے میں جا کر دعا میں مشغول ہوگئے، نبی اکرم ﷺ دوسرے گوشے میں تھے اور بلال ؓ آپ سے قریب تھے اور آپ دونوں کے بیچ میں تھے، نبی اکرم ﷺ کی نماز چونکہ بہت ہلکی تھی اور اسامہ خود ذکر و دعا میں مشغول و منہمک تھے اور نبی اکرم ﷺ ان کے بیچ میں بلال حائل تھے اس لیے اسامہ کو آپ کے نماز پڑھنے کا علم نہ ہوسکا ہو گا اسی بنا پر انہوں نے اس کی نفی کی، «واللہ اعلم»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٠٣٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصلاة ٣٠ (٣٩٧)، و ٨١ (٤٨٦)، و ٩٦ (٥٠٤)، والتہجد ٢٥ (١١٦٧)، والحج ٥١ (١٥٩٨)، والجہاد ١٢٧ (٢٩٨٨)، والمغازي ٤٩ (٤٢٨٩)، و ٧٧ (٤٤٠٠)، صحیح مسلم/الحج ٢٨ (١٣٢٩)، سنن ابی داود/ الحج ٩٣ (٢٠٢٣)، سنن النسائی/المساجد ٥ (٦٩١)، والقبلة ٦ (٧٤٨)، والحج ١٢٦ (٢٩٠٨)، و ١٢٧ (٢٩٠٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٩ (٣٠٦٣)، موطا امام مالک/الحج ٦٣ (١٩٣)، مسند احمد (٢/٣٣، ٥٥، ١١٣، ١٢٠٠، ١٣٨)، سنن الدارمی/المناسک ٤٣ (١٩٠٨) من غیر ہذا الطریق وبتغیر یسیر فی السیاق۔
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر ؓ نے ان سے کہا: تم مجھ سے وہ باتیں بیان کرو، جسے ام المؤمنین یعنی عائشہ ؓ تم سے رازدارانہ طور سے بیان کیا کرتی تھیں، انہوں نے کہا: مجھ سے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کے لوگ جاہلیت چھوڑ کر نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے، تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس میں دو دروازے کردیتا ، چناچہ ابن زبیر ؓ جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے کعبہ گرا کر اس میں دو دروازے کردیئے۔
As wad ibn Yazid said that lbn Zubayr (RA) asked him to report to him that which the Mother of the Believers, Sayyidah Ayshah (RA) had disclosed to him. So he told him that she had said that Allah’s Messenger ﷺ said to her, “If your people had not been very recent (Muslims after) jahiliyah, I would have demolished the Ka’bah and made two doors into it.” So when Ibn Zubayr (RA) became governor of Makkah, he demolished it and made two doors for it. [Ahmed24763, Bukhari 1584, Muslim 1333, Ibn e Majah 2955]
صحيح، ابن ماجة (875)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 875
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٢٥ (٢٩٠٥) (تحفة الأشراف: ١٦٠٣٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ٤٢ (١٥٨٣)، والأنبیاء ١٠ (٣٣٦٨)، وتفسیر البقرة ١٠ (٤٤٨٤)، صحیح مسلم/الحج ٦٩ (١٣٣٣)، سنن النسائی/الحج ١٢٥ (٢٩٠٣)، موطا امام مالک/الحج ٣٣ (١٠٤)، مسند احمد (٦/١١٣، ١٧٧، ٢٤٧، ٢٥٣، ٢٥٢) من غیر ہذا الطریق وبتغیر یسیر في السیاق۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم ١ ؎ کے اندر کردیا اور فرمایا: اگر تم بیت اللہ کے اندر داخل ہونا چاہتی ہو تو حطیم میں نماز پڑھ لو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے، لیکن تمہاری قوم کے لوگوں نے کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے چھوٹا کردیا، اور اتنے حصہ کو بیت اللہ سے خارج کردیا۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that she longed to enter the Ka’bah and pray (salah) therein. So, Allah’s Messenger took her by her hand and admitted her into the hijr (hatirn) and said to her, “Offer the salah, if you like to enter the House, for, it is a part of the House. Your people made it small when they built the Ka’bah and took this out of the House.” (Ahmed24670, Abu Dawud 2028, 2910]
حسن صحيح، صحيح أبي داود (1769)، الصحيحة (43)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 876
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حطیم کعبہ کے شمالی جانب ایک طرف کا چھوٹا ہوا حصہ ہے جو گول دائرے میں دیوار سے گھیر دیا گیا ہے، یہ بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے اس لیے طواف اس کے باہر سے کرنا چاہیئے، اگر کوئی طواف میں حطیم کو چھوڑ دے اور اس کے اندر سے آئے تو طواف درست نہ ہوگا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حجر اسود جنت سے اترا، وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، لیکن اسے بنی آدم کے گناہوں نے کالا کردیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Black Stone was sent down from Paradise and it was more white than milk, but the sins of the children of Aadam turned it black.”
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: زیادہ طور پر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے حقیقت پر محمول کیا جائے کیونکہ عقلاً و نقلاً اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے حجر اسود کی تعظیم شان میں مبالغہ اور گناہوں کی سنگینی بتانا مقصود ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: حجر اسود اور مقام ابراہیم دونوں جنت کے یاقوت میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ نے ان کا نور ختم کردیا، اگر اللہ ان کا نور ختم نہ کرتا تو وہ مشرق و مغرب کے سارے مقام کو روشن کردیتے۔
Qutaybah reported from Yazid ibn Zuray’ from Raja’ Abu Yahya who said that he heard Ibn Umar (RA) say that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The rukn and te Maqam (Station of Ibrahim) are two rubies from the rubies of Paradise. If Allah had not blotted out their light then they would have brightened that which is between the east and the west.” [Ahmed7017]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 878
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- یہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے موقوفاً ان کا قول روایت کیا جاتا ہے، ٣- اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: مسند احمد (٢/٢١٣، ٢١٤) (التحفة: ٨٩٣٠) (صحیح) (سند میں رجاء بن صبیح ابو یحییٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے صحیح الترغیب رقم: ١١٤٧)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے منیٰ ١ ؎ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پڑھائی ٢ ؎ پھر آپ صبح ٣ ؎ ہی عرفات کے لیے روانہ ہوگئے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ prayed with us at Mina the salah of zuhr and asr and maghrib and isha and fajr. Then he departed for Arafat in the early morning.” [Ibn e Majah 3004]
صحيح حجة النبی صلی اللہ عليه وسلم (69 / 55)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 879
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اسماعیل بن مسلم پر ان کے حافظے کے تعلق سے لوگوں نے کلام کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: منیٰ: مکہ اور مزدلفہ کے درمیان کئی وادیوں پر مشتمل ایک کھلے میدان کا نام ہے، مشرقی سمت میں اس کی حد وہ نشیبی وادی ہے جو وادی محسّر سے اترتے وقت پڑتی ہے اور مغربی سمت میں جمرہ عقبہ ہے۔ ٢ ؎: یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ۔ ٣ ؎: یعنی سورج نکلنے کے بعد۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ٥١ (٣٠٠٤) (تحفة الأشراف: ٥٨٨١) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن مسلم کے اندر ائمہ کا کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منیٰ میں ظہر اور فجر پڑھی ١ ؎، پھر آپ صبح ہی صبح ٢ ؎ عرفات کے لیے روانہ ہوگئے۔
Sayyidina Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ prayed with us the zuhr and fajr salah. Then he went to Arafat in the morning.
صحيح انظر ما قبله (879)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 880
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مقسم کی حدیث ابن عباس سے مروی ہے، ٢- شعبہ کا بیان ہے کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ چیزیں سنی ہیں، اور انہوں نے انہیں شمار کیا تو یہ حدیث شعبہ کی شمار کی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی، ٣- اس باب میں عبداللہ بن زبیر اور انس سے بھی احادیث آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ظہر سے لے کر فجر تک پڑھی۔ ظہر، عصر جمع اور قصر کر کے، پھر مغرب اور عشاء جمع اور قصر کر کے۔ ٢ ؎: یعنی نویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے فوراً بعد۔