Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 40 of 199

841Sunan At-Tirmidhi

احرم کی حالت میں نکاح کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْأَبِي رَافِعٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ، وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ، وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ فِيمَا بَيْنَهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَبِيعَةَ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ، وَهُوَ حَلَالٌ رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا، قَالَ: وَرَوَاهُ أَيْضًا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ مُرْسَلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرُوِي عَنْيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ حَلَالٌ . وَيَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ هُوَ ابْنُ أُخْتِ مَيْمُونَةَ.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ سے نکاح کیا اور آپ حلال تھے پھر ان کے خلوت میں گئے تب بھی آپ حلال تھے، اور میں ہی آپ دونوں کے درمیان پیغام رساں تھا۔

Sayyidina Abu Rafi (RA) narrated that when Allah’s Messenger ﷺ married Sayyidah Maymunah’ (RA)’ he had not assumed the ihram and when he consumated the marriage, he had (still) not assumed the ihram. Abu Rafi (RA) said, ‘I was the one who carried the proposal between them.” [Ahmed27267]

ضعيف، لکن الشطر الأول منه صحيح من الطريق الآتية (887)، الإرواء (1849)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 841
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور ہم حماد بن زید کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے مطر وراق کے واسطے سے ربیعہ سے مسنداً روایت کیا ہو، ٣- اور مالک بن انس نے ربیعہ سے، اور ربیعہ نے سلیمان بن یسار سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ سے شادی کی اور آپ حلال تھے۔ اسے مالک نے مرسلا روایت کیا ہے، اور سلیمان بن ہلال نے بھی اسے ربیعہ سے مرسلا روایت کیا ہے، ٤- یزید بن اصم ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی اور آپ حلال تھے یعنی محرم نہیں تھے۔ یزید بن اصم میمونہ کے بھانجے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٦) (تحفة الأشراف: ١٢٠١٧)، و مسند احمد (٦/٣٩٢-٣٩٣) (ضعیف) (اس کا آخری ٹکڑا میں ” أنا الرسول بينهما “ میں دونوں کے درمیان قاصد تھا)، ضعیف ہے کیونکہ اس سے قوی روایت میں ہے کہ ” عباس ؓ “ نے یہ شادی کرائی تھی، اس کے راوی ” مطرالوراق “ حافظے کے ضعیف ہیں، اس روایت کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، اس کا پہلا ٹکڑا حدیث رقم: ٨٤٥ کے طریق سے صحیح ہے)
842Sunan At-Tirmidhi

محرم کو نکاح کی اجازت

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ سے شادی کی اور آپ محرم تھے۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) said that the Prophet ﷺ married Maymunah (RA) while he was a muhrim.

شاذ، ابن ماجة (1965) // ضعيف ابن ماجة (426)، الإرواء (1037) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 842
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ بھی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٢٣٠) (صحیح) (یہ روایت سنداً صحیح ہے، لیکن ابن عباس ؓ سے اس واقعہ کے نقل کرنے میں وہم ہوگیا تھا، اس لیے یہ شاذ کے حکم میں ہے، اور صحیح یہ ہے کہ میمونہ ؓ کی شادی حلال ہونے کے بعد ہوئی جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ١٢ (١٨٣٧)، والمغازي ٤٣ (٤٢٥٨)، والنکاح ٣٠ (٥١١٤)، صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١٠)، سنن ابی داود/ الحج ٣٩ (١٨٤٤)، سنن النسائی/الحج ٩٠ (٢٨٤٠- ٢٨٤٤)، والنکاح ٣٧ (٣٢٧٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٥)، مسند احمد (١/٢٢، ٢٤، ٢٦)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٣)، من غیر ہذا الطریق۔
843Sunan At-Tirmidhi

محرم کو نکاح کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ سے شادی کی اور آپ محرم تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ayyub (RA) reported from Ikrimah who from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ married Sayyidah Maymunah (RA) while he was a muhrim.

شاذ انظر ما قبله (842)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 843
Notes · وضاحت
١ ؎: سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ ابن عباس کو اس سلسلہ میں وہم ہوا ہے کیونکہ ام المؤمنین میمونہ ؓ کا خود بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو ہم دونوں حلال تھے، اسی طرح ان کے وکیل ابورافع کا بیان بھی جیسا کہ گزرا یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ سے نکاح کیا تو آپ حلال تھے، اس سلسلہ میں صاحب معاملہ کا بیان زیادہ معتبر ہوگا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ٥٩٩٠) (صحیح) (سندا صحیح ہے، لیکن متن شاذ ہے، کماتقدم)
844Sunan At-Tirmidhi

محرم کو نکاح کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ، وَاخْتَلَفُوا فِي تَزْوِيجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: تَزَوَّجَهَا حَلَالًا وَظَهَرَ أَمْرُ تَزْوِيجِهَا، وَهُوَ مُحْرِمٌ، ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ بِسَرِفَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، وَمَاتَتْ مَيْمُونَةُ بِسَرِفَ حَيْثُ بَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدُفِنَتْ بِسَرِفَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ سے شادی کی تو آپ محرم تھے۔

Qutaybah reported from Dawud ibn Abdur Rahman Attar, from Amr ibn Dinar, from Abu Shatha on the authority of Sayyidina Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ married Sayyidah Maymunah while he was in a sacred state. [Bukhari 5114, Muslim 1410, Nisai 3269]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 844
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ کے میمونہ سے شادی کرنے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ کے راستے میں ان سے شادی کی تھی، بعض لوگوں نے کہا: آپ نے جب ان سے شادی کی تو آپ حلال تھے البتہ آپ کے ان سے شادی کرنے کی بات ظاہر ہوئی تو آپ محرم تھے، اور آپ نے مکہ کے راستے میں مقام سرف میں ان کے ساتھ خلوت میں گئے تو بھی آپ حلال تھے۔ میمونہ کا انتقال بھی سرف میں ہوا جہاں رسول اللہ ﷺ نے ان سے خلوت کی تھی اور وہ مقام سرف میں ہی دفن کی گئیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٤٢ (تحفة الأشراف: ٥٣٧٦) (صحیح) (سندا صحیح ہے، لیکن متن شاذ ہے، کماتقدم)
845Sunan At-Tirmidhi

محرم کو نکاح کی اجازت

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ أَبَا فَزَارَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ، وَدَفَنَّاهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ مُرْسَلًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ .

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی اور آپ حلال تھے اور ان سے خلوت کی تو بھی آپ حلال تھے۔ اور انہوں نے سرف ہی میں انتقال کیا، ہم نے انہیں اسی سایہ دار مقام میں دفن کیا جہاں آپ نے ان سے خلوت کی تھی۔

Sayyidah Maymunah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ married her while he was not in a state of ihram. He cohabited with her also when he was not in the sacred state. She died (later) at Sarif and they buried her in the same place where he had cohabited with her. [Ahmed26892, Muslim 1411, Abu Dawud 1843, Ibn e Majah 1964]

صحيح، ابن ماجة (1964)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 845
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث یزید بن اصم سے مرسلاً روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ سے شادی کی اور آپ حلال تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١١)، سنن ابی داود/ الحج ٣٩ (١٨٤٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٤)، ( تحفة الأشراف: ١٨٠٨٢)، مسند احمد (٣٣٣، ٣٣٥)، دي ٢١ (١٨٦٥) (صحیح)
846Sunan At-Tirmidhi

محرم کو شکار کا گوشت کھانا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَطَلْحَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ، وَالْمُطَّلِبُ لَا نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ جَابِرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ بَأْسًا إِذَا لَمْ يَصْطَدْهُ أَوْ لَمْ يُصْطَدْ مِنْ أَجْلِهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَذَا أَحْسَنُ حَدِيثٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَاب وَأَفْسَرُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خشکی کا شکار تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جب کہ تم نے اس کا شکار خود نہ کیا ہو، نہ ہی وہ تمہارے لیے کیا گیا ہو۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said, The flesh of the game is lawful for you while you have assumed the ihram provided you have not hunted it or had it hunted for you.” [Ahmed14900, Abu Dawud 1851, Nisai 1851]

ضعيف، المشکاة (2700 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (3524)، ضعيف أبي داود (401 / 1851) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 846
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابوقتادہ اور طلحہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- جابر کی حدیث مفسَّر ہے، ٣- اور ہم مُطّلب کا جابر سے سماع نہیں جانتے، ٤- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ محرم کے لیے شکار کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب اس نے خود اس کا شکار نہ کیا ہو، نہ ہی وہ اس کے لیے کیا گیا ہو، ٥- شافعی کہتے ہیں: یہ اس باب میں مروی سب سے اچھی اور قیاس کے سب سے زیادہ موافق حدیث ہے، اور اسی پر عمل ہے۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٤١ (١٨٥١)، سنن النسائی/الحج ٨١ (٢٨٣٠)، ( تحفة الأشراف: ٣٠٩٨)، مسند احمد (٣/٣٦٢) (ضعیف) (سند میں عمروبن ابی عمرو ضعیف ہیں، لیکن اگلی روایت سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)
847Sunan At-Tirmidhi

محرم کو شکار کا گوشت کھانا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ .

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ آپ جب مکہ کا کچھ راستہ طے کرچکے تو وہ اپنے بعض محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے جب کہ ابوقتادہ خود غیر محرم تھے، اسی دوران انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دے دیں تو ان لوگوں نے اسے انہیں دینے سے انکار کیا۔ پھر انہوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا۔ تو ان لوگوں نے اسے بھی اٹھا کردینے سے انکار کیا تو انہوں نے اسے خود ہی (اتر کر) اٹھا لیا اور شکار کا پیچھا کیا اور اسے مار ڈالا، تو بعض صحابہ کرام نے اس شکار میں سے کھایا اور بعض نے نہیں کھایا۔ پھر وہ نبی اکرم ﷺ سے آ کر ملے اور اس بارے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ تو ایک ایسی غذا ہے جسے اللہ نے تمہیں کھلایا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Qatadah (RA) narrated that he was with the Prophet ﷺ till somewhere on the road to Makkah, he lagged behind with some of his companions who where muhrirn while he was not a muhrim. He observed a wild donkey: He jumped on his horse and asked his mates to give him a spear, but they declined. So he asked them for a whip, but they again dedined. So, he took (the weapon) himself and rushed towards the donkey and killed it. Some ot the sahahah (RA) of the Prophet ﷺ ate its flesh and some of them declined. They caught up with the Prophet ﷺ and asked him about it and he said, ‘That was only a meal br you that Allah fed you. [Ahmed22630, Bukhari 1823, Muslim 1196, Abu Dawud 1852, Nisai 2812]

صحيح، الإرواء (1028)، صحيح أبي داود (1623)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 847
Notes · وضاحت
١ ؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خشکی کا شکار اگر کسی غیر احرام والے نے اپنے لیے کیا ہو اور محرم نے کسی طرح کا تعاون اس میں نہ کیا ہو تو اس میں اسے محرم کے لیے کھانا جائز ہے، اور اگر کسی غیر محرم نے خشکی کا شکار محرم کے لیے کیا ہو یا محرم نے اس میں کسی طرح کا تعاون کیا ہو تو محرم کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٤ (١٨٢٣)، والجہاد ٨٨ (٢٩١٤)، والذباع ١٠ (٥٤٩٠)، و ١١ (٥٤٩٢)، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٦)، سنن ابی داود/ الحج ٤١ (١٨٥٢)، سنن النسائی/الحج ٧٨ (٢٨١٨)، ( تحفة الأشراف: ١٢١٣١)، موطا امام مالک/الحج ٢٤ (٧٦)، مسند احمد (٥/٣٠١) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ٢ (١٨٢١)، و ٣ (١٨٢٢)، و ٥ (١٨٢٤)، والہبة ٣ (٢٥٧٠)، والجہاد ٤٦ (٢٨٥٤)، والأطعمة ١٩ (٥٤٠٦، ٥٤٠٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٣ (٣٠٩٣)، مسند احمد (٥/٣٠٧)، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٦٧) من غیر ہذا الطریق۔
848Sunan At-Tirmidhi

محرم کو شکار کا گوشت کھانا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اس سند سے بھی ابوقتادہ سے نیل گائے کے بارے میں ابونضر ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے البتہ زید بن اسلم کی اس حدیث میں اتنا زائد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے ۔

Qutaybah reported a hadith like the hadith of Abu an-Nadr about a wild animal from MaaliL from Zayd ibn Aslam, from Ata ibn Yasar, from Qatadah. But, it has these words too: (The Prophet ﷺ said, Do you still have some of its flesh with you?’) [Ahmed22631, Bukhari 2914, Muslim 1196]

صحيح انظر الذي قبله (847)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 848
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٢١٢٠) (صحیح)
849Sunan At-Tirmidhi

محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَى لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِهِ مِنَ الْكَرَاهِيَةِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ وَكَرِهُوا أَكْلَ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا وَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا إِنَّمَا رَدَّهُ عَلَيْهِ، لَمَّا ظَنَّ أَنَّهُ صِيدَ مِنْ أَجْلِهِ وَتَرَكَهُ عَلَى التَّنَزُّهِ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ: أَهْدَى لَهُ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ ؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ابواء یا ودان میں ان کے پاس سے گزرے، تو انہوں نے آپ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا، تو آپ نے اسے لوٹا دیا۔ ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ہم تمہیں لوٹاتے نہیں لیکن ہم محرم ہیں ۔

Ubaydullah ibn Abdullah reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) informed him from Sayyidina Sab ibn Jaththamah (RA) who said that Allah’s Messenger ﷺ met him at Ahwa or Waddan (between Makkah and Madinah). He presented him (the Prophet ﷺ a wild donkey hut he returned it to him. When Allah’s Messenger ﷺ observed on his face dislike (for that), he said, ‘It is not that I returned it to you (for any reason), hut I am in a sacred state.” [Ahmed16423, Bukhari 1825, Muslim 1193, Nisai 2815, Ibn e Majah 3090]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 849
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت اسی حدیث کی طرف گئی ہے اور انہوں نے محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانے کو مکروہ کہا ہے، ٣- شافعی کہتے ہیں: ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے وہ گوشت صرف اس لیے لوٹا دیا کہ آپ کو گمان ہوا کہ وہ آپ ہی کی خاطر شکار کیا گیا ہے۔ سو آپ نے اسے تنزیہاً چھوڑ دیا، ٤- زہری کے بعض تلامذہ نے یہ حدیث زہری سے روایت کی ہے۔ اور اس میں «أهدى له حمارا وحشياً» کے بجائے «أهدى له لحم حمارٍ وحشٍ» ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے، ٥- اس باب میں علی اور زید بن ارقم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٦ (١٨٢٥)، والہبة ٦ (٢٥٧٣)، و ١٧ (٢٥٩٦)، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٣)، سنن النسائی/الحج ٧٩ (٢٨٢١، ٢٨٢٢، ٢٨٢٥، ٢٨٢٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٢ (٣٠٩٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٩٤٠)، موطا امام مالک/الحج ٢٤ (٨٣)، مسند احمد ( ٤/٣٧، ٣٨، ٧١، ٧٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٧٠، و ١٨٧٢) (صحیح)
850Sunan At-Tirmidhi

کہ محرم کے لئے سمندری جانوروں کا شکار حلال ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوهُ فَإِنَّهُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَصِيدَ الْجَرَادَ وَيَأْكُلَهُ، وَرَأَى بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ صَدَقَةً إِذَا اصْطَادَهُ وَأَكَلَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آگیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah said that they went out with Allah’s Messenger ﷺ to perform Hajj or Umrah. They encountered a swarm of locusts and they began to strike them with their sticks and whips. The Prophet ﷺ said, “Eat it, for it is the game of the sea.” [Abu Dawud 1854, Ibn e Majah 3222] ]

ضعيف، ابن ماجة (3222) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (693)، الإرواء (1031)، ضعيف الجامع الصغير (4207) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 850
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوالمھزم کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، ٢- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے ان میں کلام کیا ہے، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو ٹڈی کا شکار کرنے اور اسے کھانے کی رخصت دی ہے، ٤- اور بعض کا خیال ہے کہ اگر وہ اس کا شکار کرے اور اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٤٢ (١٨٥٤)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢٩ (٣٢٢)، ( تحفة الأشراف : ١٤٨٣٢)، مسند احمد (٢/٣٠٦، ٣٦٤) (ضعیف) (سند میں ابو الہزم ضعیف راوی ہے)
851Sunan At-Tirmidhi

محرم کے لئے بجو کے شکار کا حکم

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: الضَّبُعُ أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ آكُلُهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْمُحْرِمِ إِذَا أَصَابَ ضَبُعًا، أَنَّ عَلَيْهِ الْجَزَاءَ.

ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر ؓ سے پوچھا: کیا لکڑ بگھا شکار میں داخل ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، (پھر) میں نے پوچھا: کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ـ؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

Sayyidina Ibn Abu Ammar (RA) said that he asked Jabir jbn Abdullah (RA) about hunting the hyena.He said, “Yes (it is allowed).” He asked about eating it and he answered, “Yes (it is allowed).” He asked, “Did Allah’s Messenger ﷺ eat it?” Jabir r’said, “Yes!” [Abu Dawud 3801, T 1798, Ibn e Majah 3085, Ahmed14456]

صحيح، ابن ماجة (3085)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کا بیان ہے کہ یہ حدیث جریر بن حزم نے بھی روایت کی ہے لیکن انہوں نے جابر سے اور جابر نے عمر ؓ سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٣- اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور بعض اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ محرم جب لگڑ بگھا کا شکار کرے یا اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ٣٢ (٣٨٠١)، سنن النسائی/الحج ٨٩ (٢٨٣٩)، والصید ٢٨ (٤٣٢٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٠ (٣٠٨٥)، والصید ١٥ (٣٢٣٦)، ( تحفة الأشراف: ٢٣٨١)، مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣١٨، ٣٢٢)، سنن الدارمی/المناسک ٩٠ (١٩٨٤) (صحیح)
852Sunan At-Tirmidhi

مکہ داخل ہونے کے لئے غسل کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِدُخُولِهِ مَكَّةَ بِفَخٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَغْتَسِلُ لِدُخُولِ مَكَّةَ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ يُسْتَحَبُّ الِاغْتِسَالُ لِدُخُولِ مَكَّةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں داخل ہونے کے لیے (مقام) فخ میں ١ ؎ غسل کیا۔

Sayyidjna lbn Umar said that before entering Makkah, the Prophet ﷺ had a bath at Fakh.

ضعيف الإسناد جدا، لکن رواه الشيخان دون ذکر فخ، صحيح أبي داود (1629)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 852
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ٢- صحیح وہ روایت ہے جسے نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ وہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرتے تھے۔ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، ٣- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں۔ احمد بن حنبل اور علی بن مدینی وغیرہما نے ان کی تضعیف کی ہے اور ہم اس حدیث کو صرف انہی کے طریق سے مرفوع جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٧٣٢) (ضعیف الإسناد جدا) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم سخت ضعیف ہیں، لیکن مقام ” فخ “ کے ذکر کے بغیر مطلق دخول مکہ کے لیے غسل ابن عمر ہی سے بخاری ومسلم میں مروی ہے)
853Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ مکہ میں بلندی کی طرف سے باہر نکلے

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، دَخَلَ مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ آتے تو بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور نشیب کی طرف سے نکلتے۔

Sayyidah Ayshah (RA) said that when the Prophet ﷺ came to Makkah, he entered through its heights. When he departed, he went out through its lowlands. [Bukhari 1577,Muslim 1258,Abu Dawud 1869]

صحيح، صحيح أبي داود (1633)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 853
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بلندی سے مراد ثنیہ کداء ہے جو مکہ مکرمہ کی مقبرۃ المعلیٰ کی طرف ہے، اور بلند ہے اور نشیب سے مراد ثنیۃ کدی ہے جو باب العمرۃ اور اب ملک فہد کی طرف نشیب میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤١ (١٥٧٦)، صحیح مسلم/الحج ٣٧ (١٢٥٧)، سنن ابی داود/ الحج (١٨٦٩) (تحفة الأشراف: ١٦٩٢٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/المغازي ٤٩ (٤٢٩٠)، سنن ابی داود/ الحج ٤٥ (١٨٦٨) من غیر ہذا الطریق۔
854Sunan At-Tirmidhi

آنحضرت ﷺ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said that the Prophet ﷺ entered makkah during day time. [Muslim 1257, Ahmed5230, Ibn e Majah 2941]

صحيح، صحيح أبي داود (1629)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 854
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوا جائے مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٦ (٢٩٤١) (تحفة الأشراف: ٧٧٢٣) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبداللہ العمری “ ضعیف ہیں، دیکھئے صحیح ابی داود: ١٦٢٩، وسنن ابی داود: ١٨٦٥)
855Sunan At-Tirmidhi

بیت اللہ کے دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَيَرْفَعُ الرَّجُلُ يَدَيْهِ إِذَا رَأَى الْبَيْتَ ؟ فَقَالَ: حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنَّا نَفْعَلُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْبَيْتِ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، وَأَبُو قَزَعَةَ اسْمُهُ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ.

مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ سے پوچھا گیا: جب آدمی بیت اللہ کو دیکھے تو کیا اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے؟ انہوں نے کہا: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا، تو کیا ہم ایسا کرتے تھے؟۔

Muhajir Makki said that Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) was asked if a man might raise his hands on seeing BaythAllah. He asked (in response), “We performed Hajj with Allah’s Messenger ﷺ , did we ever raise our hands?”

ضعيف، ضعيف أبي داود (326)، المشکاة (2574 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 855
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کی حدیث ہم شعبہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں، شعبہ ابوقزعہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابوقزعہ کا نام سوید بن حجیر ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں استفہام انکار کے لیے ہے، ابوداؤد کی روایت میں «أفكنا نفعله» کے بجائے «فلم يكن يفعله» اور نسائی کی روایت میں «فلم نکن نفعله» ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے اس سے استدلال صحیح نہیں اس کے برعکس صحیح احادیث اور آثار سے بیت اللہ پر نظر پڑتے وقت ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٤٦ (١٨٧٠)، سنن النسائی/الحج ١٢٢ (٢٨٩٨)، سنن الدارمی/المناسک ٧٥ (١٩٦١) (تحفة الأشراف: ٣١١٦) (ضعیف) (سند میں مہاجر بن عکرمہ، لین الحدیث راوی ہیں، نیز اس کے متن میں اثبات ونفی تک کا اختلاف ہے)
856Sunan At-Tirmidhi

بیت اللہ کے دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ مَضَى عَلَى يَمِينِهِ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى الْمَقَامَ، فَقَالَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَالْمَقَامُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الْحَجَرَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا أَظُنُّهُ، قَالَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ آئے تو آپ مسجد الحرام میں داخل ہوئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اپنے دائیں جانب چلے آپ نے تین چکر میں رمل کیا ١ ؎ اور چار چکر میں عام چال چلے۔ پھر آپ نے مقام ابراہیم کے پاس آ کر فرمایا: مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ، چناچہ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان تھا۔ پھر دو رکعت کے بعد حجر اسود کے پاس آ کر اس کا استلام کیا۔ پھر صفا کی طرف گئے۔ میرا خیال ہے کہ (وہاں) آپ نے یہ آیت پڑھی: « (إن الصفا والمروة من شعائر الله» صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that when the Prophet ﷺ came to Makkah, he entered the mosque, he kissed the Black stone. Then he went to its right and practised ramal three times and walked four times. Then he came to the station (of Ibrahim) and said: Take to yourselves Ibrahim’s station as a place for prayer. (2:125) .There he prayed two raka’at, placing the station between him and the House. Then he came to the stone, after the two raka’at, kissed it and went to Safa. The narrator said that he thought h, recited: Surely the Safa and the Marwa are among the emblemce of Allah. (2:158) [Ahmed14666, Muslim 1218. Abu Dawud 3969, Nisai 2936, Ibn e Majah 1008]

صحيح، ابن ماجة (3074)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 856
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رمل یعنی اکڑ کر مونڈھا ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لیے چلتا ہے، یہ طواف کعبہ کے پہلے تین پھیروں میں سنت ہے، نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو یہ حکم اس لیے دیا تھا کہ وہ کافروں کے سامنے اپنے طاقتور اور توانا ہونے کا مظاہرہ کرسکیں، کیونکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مدینہ کے بخار نے انہیں کمزور کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٩ (١٢١٨)، سنن ابی داود/ الحج ٥٧ (١٩٠٥)، والحروف ١ (٣٩٦٩)، سنن النسائی/الحج ١٤٩ (٢٩٤٢)، ١٦٣ (٢٩٦٤، ٢٩٦٥)، و ١٦٤ (٢٩٦٦)، و ١٧٢ (٢٩٧٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠٠٨)، والمناسک ٢٩ (٢٩٥١)، و ٨٤ (٣٠٧٤)، ( تحفة الأشراف: ٢٥٩٤ و ٢٥٩٥ و ٢٥٩٦)، مسند احمد (٣/٣٢٠)، سنن الدارمی/المناسک ١١ (١٨٤٦)، وانظر ما یأتي برقم: ٨٥٧ و ٨٦٢ و ٢٩٦٧) (صحیح)
857Sunan At-Tirmidhi

حجر اسود سے رمل شروع کرنے اور اسی پر ختم کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِذَا تَرَكَ الرَّمَلَ عَمْدًا فَقَدْ أَسَاءَ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَإِذَا لَمْ يَرْمُلْ فِي الْأَشْوَاطِ الثَّلَاثَةِ لَمْ يَرْمُلْ فِيمَا بَقِيَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ رَمَلٌ وَلَا عَلَى مَنْ أَحْرَمَ مِنْهَا.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین پھیروں میں رمل ١ ؎ کیا اور چار میں عام چل چلے۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ began ramal from the Black stone back again to it after three rounds, and he walked the (remaining) four. [Ahmed15275, Muslim 1263, Nisai 2936, Ibn e Majah 2951]

صحيح، ابن ماجة (3074)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 857
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- شافعی کہتے ہیں: جب کوئی جان بوجھ کر رمل کرنا چھوڑ دے تو اس نے غلط کیا لیکن اس پر کوئی چیز واجب نہیں اور جب اس نے ابتدائی تین پھیروں میں رمل نہ کیا ہو تو باقی میں نہیں کرے گا، ٥- بعض اہل علم کہتے ہیں: اہل مکہ کے لیے رمل نہیں ہے اور نہ ہی اس پر جس نے مکہ سے احرام باندھا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمل حجر اسود سے حجر اسود تک پورے مطاف میں مشروع ہے، رہی ابن عباس کی روایت جس میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلنے کا ذکر ہے تو وہ منسوخ ہے، اس لیے کہ ابن عباس کی روایت عمرہ قضاء کے موقع کی ہے جو ٧ ھ میں فتح مکہ سے پہلے ہوا ہے اور جابر ؓ کی حدیث حجۃ الوداع کے موقع کی ہے جو ١٠ ھ میں ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح)
858Sunan At-Tirmidhi

حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی چیز کو بوسہ نہ دے۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُعَاوِيَةُ لَا يَمُرُّ بِرُكْنٍ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ الْبَيْتِ مَهْجُورًا. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنْ لَا يَسْتَلِمَ إِلَّا الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ.

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کے ساتھ تھا، معاویہ ؓ جس رکن کے بھی پاس سے گزرتے، اس کا استلام کرتے ١ ؎ تو ابن عباس نے ان سے کہا: نبی اکرم ﷺ نے حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہیں کیا، اس پر معاویہ ؓ نے کہا: بیت اللہ کی کوئی چیز چھوڑی جانے کے لائق نہیں ٢ ؎۔

Abu Tufayl reported that they were (performing tawaf) with Sayyidina Ibn Abbas (RA) and Mu’awiyah (RA)would never go by a corner without kissing it. So, Sayyidina Ibn Abbas (RA) said to him, “Surely the Prophet ﷺ never kissed (any corner) except the Hajr Aswad and Rukn Yamani.” Sayyidina Mu’awiyah (RA) said, “There is nothing in the House that may be forsaken.” [Bukhari 849, Muslim 1269]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 858
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہ کیا جائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خانہ کعبہ چار رکنوں پر مشتمل ہے، پہلے رکن کو دو فضیلتیں حاصل ہیں، ایک یہ کہ اس میں حجر اسود نصب ہے دوسرے یہ کہ قواعد ابراہیمی پر قائم ہے اور دوسرے رکن کو صرف دوسری فضیلت حاصل ہے یعنی وہ بھی قواعد ابراہیمی پر قائم ہے اور رکن شامی اور رکن عراقی کو ان دونوں فضیلتوں میں سے کوئی بھی فضیلت حاصل نہیں، یہ دونوں قواعد ابراہیمی پر قائم نہیں اس لیے پہلے کی تقبیل ( بوسہ ) ہے اور دوسرے کا صرف استلام ( چھونا ) ہے اور باقی دونوں کی نہ تقبیل ہے نہ استلام، یہی جمہور کی رائے ہے، اور بعض لوگ رکن یمانی کی تقبیل کو بھی مستحب کہتے ہیں، جو ممنوع نہیں ہے۔ ٢ ؎: معاویہ ؓ کے اس قول کا جواب امام شافعی نے یہ کہہ کردیا ہے کہ ان رکن شامی اور رکن عراقی دونوں کا استلام نہ کرنا انہیں چھوڑنا نہیں ہے حاجی ان کا طواف کر رہا ہے انہیں چھوڑ نہیں رہا، بلکہ یہ فعلاً اور ترکاً دونوں اعتبار سے سنت کی اتباع ہے، اگر ان دونوں کا استلام نہ کرنا انہیں چھوڑنا ہے تو ارکان کے درمیان جو جگہیں ہیں ان کا استلام نہ کرنا بھی انہیں چھوڑنا ہوا حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٧٨٠) (صحیح)
859Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ نے اضطباع کی حالت میں طواف کیا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مُضْطَبِعًا وَعَلَيْهِ بُرْدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ.

یعلیٰ بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع کی حالت میں ١ ؎ بیت اللہ کا طواف کیا، آپ کے جسم مبارک پر ایک چادر تھی۔

Ibn Abu Ya’la reported from his father that the Prophet ﷺ circumambulated the Ka’bah observing idtiba; He had a green mantle on him [Abu Dawud 1883, Ibn e Majah 2954]

حسن، ابن ماجة (2954)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 859
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی ثوری کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے اور اسے ہم صرف کے انہی طریق سے جانتے ہیں، ٣- عبدالحمید جبیرہ بن شیبہ کے بیٹے ہیں، جنہوں نے ابن یعلیٰ سے اور ابن یعلیٰ نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور یعلیٰ سے مراد یعلیٰ بن امیہ ہیں ؓ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چادر ایک سرے کو داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر سینے سے گزارتے ہوئے پیٹھ کی طرف کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈالنے کو اضطباع کہتے ہیں، یہ طواف کے سبھی پھیروں میں سنت ہے، بخلاف رمل کے، وہ صرف شروع کے تین پھیروں ( چکروں ) میں ہے، طواف کے علاوہ کسی جگہ اور کسی حالت میں اضطباع نہیں ہے بعض لوگ حج و عمرہ میں احرام ہی کے وقت سے اضطباع کرتے ہیں، اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ نماز کی حالت میں یہ مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٥٠ (١٨٨٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٠ (٢٩٥٤)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٣٩)، مسند احمد (٤/٢٢٢)، سنن الدارمی/المناسک ٢٨ (١٨٨٥) (حسن)
860Sunan At-Tirmidhi

حجر اسود کو بوسہ دینا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِيُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: إِنِّي أُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو حجر اسود کا بوسہ لیتے دیکھا، وہ کہہ رہے تھے: میں تیرا بوسہ لے رہا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تیرا بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا ١ ؎۔

Aabis ibn Rabi’ah said that he saw Sayyidina Umar kiss the Stone and say. “I kiss you while I know well that you are a stone, and had I not seen Allah’s Messenger kiss you I would not have kissed you.” [Muslim 1270, Abu Dawud 1873, Nisai 2934]

صحيح، ابن ماجة (2943)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 860
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوبکر اور ابن عمر سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنے اس قول سے عمر ؓ لوگوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ حجر اسود کا چومنا رسول اللہ کے فعل کی اتباع میں ہے نہ کہ اس وجہ سے کہ یہ خود نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے جیسا کہ جاہلیت میں بتوں کے سلسلہ میں اس طرح کا لوگ عقیدہ رکھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٥٠ (١٥٩٧)، و ٥٧ (١٦٠٥)، (١٦١٠)، صحیح مسلم/الحج ٤١ (١٢٧٠)، سنن ابی داود/ المناسک ٤٧ (١٨٧٣)، سنن النسائی/الحج ١٤٧ (٢٩٤٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٩٤٣)، ( تحفة الأشراف: ١٠٤٧٣)، مسند احمد (١/٢٦، ٤٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: موطا امام مالک/الحج ٣٦ (١١٥)، مسند احمد (١/٢١، ٣٤، ٣٥، ٣٩، ٥١، ٥٣، ٥٤)، سنن الدارمی/المناسک ٤٢ (١٩٠٦) من غیر ہذا الطریق۔