Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 39 of 199

820Sunan At-Tirmidhi

حج افراد

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ قِرَاءَةً، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ. (حديث مرفوع) وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ . وَأَفْرَدَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد ١ ؎ کیا۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ performed Hajj ifrad. [Ahmed26122, Muslim 1211, Abu Dawud 12777, Nisai 2711, Ibn e Majah 2904]

(الحديث الأول) شاذ، (الحديث الثاني) حسن الإسناد، ولكنه شاذ، انظر ما بعده، وبخاصة الحديث (823) (الحديث الأول)، ابن ماجة (2964)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 820
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- ابن عمر ؓ سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حج افراد کیا، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ نے بھی افراد کیا، ٥
Notes · وضاحت
١ ؎ حج کی تین قسمیں ہیں: افراد، قِران اور تمتع، حج افراد یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں صرف حج کی نیت سے احرام باندھے، اور حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرے، اور قربانی کا جانور ساتھ، جب کہ حج تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینے میں میقات سے صرف عمرے کی نیت کرے پھر مکہ میں جا کر عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کھول دے اور پھر آٹھویں تاریخ کو مکہ مکرمہ ہی سے نئے سرے سے احرام باندھے۔ اب رہی یہ بات کہ آپ ﷺ نے کون سا حج کیا تھا؟ تو صحیح بات یہ ہے کہ آپ نے قران کیا تھا، تفصیل کے لیے حدیث رقم ٨٢٢ کا حاشیہ دیکھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن ابی داود/ المناسک ٢٣ (١٧٧٧)، سنن النسائی/الحج ٤٨ (٢٧١٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٧ (٢٩٦٤)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥١٧)، موطا امام مالک/الحج ١١ (٣٧)، سنن الدارمی/المناسک ١٦ (١٨٥٣) (صحیح الإسناد شاذ) وأخرجہ مسند احمد (٦/٢٤٣) من غیر ہذا الطریق۔ (نبی اکرم ﷺ کا حج، حج قران تھا، اس لیے صحت سند کے باوجود متن شاذ ہے)۔
823Sunan At-Tirmidhi

تمتع کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس ؓ سے سنا، دونوں عمرہ کو حج میں ملانے کا ذکر کر رہے تھے۔ ضحاک بن قیس نے کہا: ایسا وہی کرے گا جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو، اس پر سعد ؓ نے کہا: بہت بری بات ہے جو تم نے کہی، میرے بھتیجے! تو ضحاک بن قیس نے کہا: عمر بن خطاب ؓ نے اس سے منع کیا ہے، اس پر سعد ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اسے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی اسے کیا ہے۔

Muhammad ibn Abdullah ibn Harith ibn Nawfal heard Sad ibn Abu Waqqas (RA) and Dahhak ibn Qays discuss tamattu’ which includes Hajj and Umrah. Dahhaksaid, “Only he who is ignorant of Allah’s corn- mand will do it.” Sad said, “What a bad thing you have said, O nephew!” Dahhak said, “Indeed, Umar ibn al-Khattab had disallowed it.” Sad asserted, “Certainly. Allah’s Messenger ﷺ had performed it and those with him had performed it.” [Nisai 2730]

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 822
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٥٠ (٢٧٣٥)، ( تحفة الأشراف: ٣٩٢٨)، موطا امام مالک/الحج ١٩ (٦٠)، سنن الدارمی/الحج ١٨ (١٨٥٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل لین الحدیث ہیں، لیکن اصل مسئلہ دیگر احادیث سے ثابت ہے)
824Sunan At-Tirmidhi

تمتع کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: هِيَ حَلَالٌ، فَقَالَ الشَّامِيُّ: إِنَّ أَبَاكَ قَدْ نَهَى عَنْهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَبِي نَهَى عَنْهَا وَصَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَأَمْرَ أَبِي نَتَّبِعُ أَمْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: الرَّجُلُ بَلْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَقَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے اہل شام میں سے ایک شخص سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر ؓ سے حج میں عمرہ سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: یہ جائز ہے۔ اس پر شامی نے کہا: آپ کے والد نے تو اس سے روکا ہے؟ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: ذرا تم ہی بتاؤ اگر میرے والد کسی چیز سے روکیں اور رسول اللہ ﷺ نے اسے کیا ہو تو میرے والد کے حکم کی پیروی کی جائے گی یا رسول اللہ ﷺ کے حکم کی، تو اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے حکم کی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا ہے۔

Ibn Shihab narrated that Saalim ibn Abdullah ﷺ told him that he heard a man of Syria ask Abdullah ibn Umar (RA) about tamattu’, the Hajj with umrah. Abdullah ibn Umar (RA) said to him. “It is lawful.” The Syrian said, “But, your father had disallowed it.” So, Abdullah ibn Umar (RA) said, “What would you say if my father disallowed it while Allah’s Messenger ﷺ performed it, will you obey my father’s command or the command of Allah’s Messenger ﷺ ?“ The man said, “Rather, the command of Allah’s Messenger ﷺ (will I obey).” So, he asserted, “Allah’s Messenger had done it indeed.”

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 823
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث ( ٨٢٢) حسن ہے، ٢- اس باب میں علی، عثمان، جابر، سعد، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے کہ حج میں عمرہ کو شامل کر کے حج تمتع کرنا درست ہے، ٤- اور حج تمتع یہ ہے کہ آدمی حج کے مہینوں میں عمرہ کے ذریعہ داخل ہو، پھر عمرہ کر کے وہیں ٹھہرا رہے یہاں تک کہ حج کرلے تو وہ متمتع ہے، اس پر ہدی کی جو اسے میسر ہو قربانی لازم ہوگی، اگر اسے ہدی نہ مل سکے تو حج میں تین دن اور گھر لوٹ کر سات دن کے روزے رکھے، ٥- متمتع کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ حج میں تین روزے رکھے تو ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دنوں میں رکھے اور اس کا آخری روزہ یوم عرفہ کو ہو، اور صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر اور عائشہ ؓ بھی شامل ہیں کے قول کی رو سے اگر وہ دس دنوں میں یہ روزے نہ رکھ سکے تو ایام تشریق میں رکھ لے۔ یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٦- اور بعض کہتے ہیں: ایام تشریق میں روزہ نہیں رکھے گا۔ یہ اہل کوفہ کا قول ہے۔ اہل حدیث حج میں عمرہ کو شامل کر کے حج تمتع کرنے کو پسند کرتے ہیں، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٨٦٢) (صحیح الإسناد)
822Sunan At-Tirmidhi

تمتع کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ،عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ. قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج تمتع کیا ١ ؎ اور ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ نے بھی ٢ ؎ اور سب سے پہلے جس نے اس سے روکا وہ معاویہ ؓ ہیں ٣ ؎۔

Sayyidina lbn Abbas said, “Allahs Messenger ﷺ performed tamattu. And Abu Bakr, Umar and Uthman (also performed it). And the first person to disallow it was Mu’awiyah.’ [Ahmed2732, Nisai 2732]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے کون سا حج کیا تھا؟ اس بارے میں احادیث مختلف ہیں، بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے حج افراد کیا اور بعض سے حج تمتع اور بعض سے حج قران، ان روایات میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ ہر ایک نے نبی اکرم ﷺ کی طرف اس چیز کی نسبت کردی ہے جس کا آپ نے اسے حکم دیا تھا، اور یہ صحیح ہے کہ آپ نے حج افراد کا احرام باندھا تھا اور بعد میں آپ قارن ہوگئے تھے، جن لوگوں نے اس بات کی روایت کی ہے کہ آپ نے حج تمتع کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے انہیں اس کا حکم دیا کیونکہ آپ کا ارشاد ہے «لولا معي الهدى لأحللت» اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں عمرہ کرنے کے بعد حلال ہوجاتا، اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ آپ متمتع نہیں تھے، نیز صحابہ کی اصطلاح میں قران کو بھی تمتع کہا جاتا تھا، کیونکہ ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج دونوں کا فائدہ تو بہرحال حج قران میں بھی حاصل ہے، اسی طرح جن لوگوں نے قران کی روایت کی ہے انہوں نے آخری حال کی خبر دی ہے کیونکہ شروع میں آپ کے پیش نظر حج افراد تھا بعد میں آپ نے حج میں عمرہ کو بھی شامل کرلیا، اور آپ سے کہا گیا: «قل عمرة في حجة» اس طرح آپ نے حج افراد کو حج قران سے بدل دیا۔ اب رہا یہ مسئلہ کہ ان تینوں قسموں میں سے کون سی قسم افضل ہے؟ تو احناف حج قرِان کو افضل کہتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کے لیے اسی حج کو پسند کیا تھا اور اس میں مشقت بھی زیادہ اٹھانی پڑتی ہے، امام احمد اور امام مالک نے حج تمتع کو افضل کہا ہے کیونکہ اس میں سہولت ہے اور نبی اکرم ﷺ نے ایک مرحلہ پر اس کی خواہش کا اظہار بھی فرمایا تھا اور بعض نے حج افراد کو افضل قرار دیا ہے۔ آخری اور حق بات یہی ہے کہ حج تمتع سب سے افضل ہے۔ ٢ ؎: یہ حدیث مسلم کی اس روایت کے معارض ہے جس میں ہے: «قال عبدالله بن شقيق: کان عثمان ينهى عن المتعة وکان علي يأمربها» اور نیچے کی روایت سے عمر ؓ کا منع کرنا بھی ثابت ہوتا ہے، تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ ان دونوں کی ممانعت تنزیہی تھی، ان دونوں کی نہی اس وقت کی ہے جب انہیں اس کے جائز ہونے کا علم نہیں تھا، پھر جب انہیں اس کا جواز معلوم ہوا تو انہوں نے بھی تمتع کیا۔ ٣ ؎: روایات سے معاویہ ؓ سے پہلے عمر و عثمان ؓ سے ممانعت ثابت ہے، ان کی یہ ممانعت تنزیہی تھی، اور معاویہ ؓ کی نہی تحریمی، لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاویہ ؓ کی اوّلیت تحریم کے اعتبار سے تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف و ٣٤ (١٢٥١)، و سنن ابی داود/ المناسک ٢٤ (١٧٩٥)، وسنن ابن ماجہ/الحج ١٤ (٢٩١٧)، و ٣٨ (٢٩٦٨)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٤٥)، و مسند احمد (٣/٩٩)، وسنن الدارمی/المناسک ٧٨ (١٩٦٤)، من غیر ہذا الطریق وبتصرف فی السیاق (ضعیف الإسناد) (سند میں لیث بن ابی سلیم اختلاط کی وجہ سے متروک الحدیث راوی ہے، لیکن اس حدیث کا اصل مسئلہ دیگر احادیث سے ثابت ہے)
825Sunan At-Tirmidhi

تلبیہ ( لبیک) کہنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ .

نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر ؓ نے تلبیہ پکارا اور تلبیہ پکارتے ہوئے چلے، وہ کہہ رہے تھے: «لبيك اللهم لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك»۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the talbiyah of the Prophet ﷺ was Here I am! O Allah, Here, I am! Here I am,no partner have You. Here I am. Surely all praise and blessing are for You and the dominion. No partner have You. [Bukhari 818, Muslim 1184]

صحيح، ابن ماجة (2918)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 826
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن عمر ؓ کہتے تھے: یہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٣١٤) (صحیح)
826Sunan At-Tirmidhi

تلبیہ ( لبیک) کہنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، وَالْعَمَلُ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنْ زَادَ فِي التَّلْبِيَةِ شَيْئًا مِنْ تَعْظِيمِ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا قُلْنَا: لَا بَأْسَ بِزِيَادَةِ تَعْظِيمِ اللَّهِ فِيهَا، لِمَا جَاءَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ حَفِظَ التَّلْبِيَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ زَادَ ابْنُ عُمَرَ فِي تَلْبِيَتِهِ مِنْ قِبَلِهِ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك» حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔ سب تعریف اور نعمت تیری ہی ہے اور سلطنت بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ۔

Qutaybah reported from Layth, from Nafi’, from lbn UmarL., that he recited the talbiyah in the same way. Sayyidina Ibn Umar (RA) .i said that this itself was the Prophet ﷺ ‘ talbiyah. Later he added these words on his own: I am hare. I am here. Willingly obeying You. All good is in Your Hands. I am here My desires and deeds are for You. [Ahmed4457, Bukhari 1549, Muslim 1184, Abu Dawud 1812, Nisai 2745, Ibn e Majah 2918]

صحيح، ابن ماجة (2918)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 825
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، جابر، ام المؤمنین عائشہ ؓ، ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- شافعی کہتے ہیں: اگر وہ اللہ کی تعظیم کے کچھ کلمات کا اضافہ کرلے تو کوئی حرج نہیں ہوگا - ان شاء اللہ۔ لیکن میرے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ پر اکتفا کرے۔ شافعی کہتے ہیں: ہم نے جو یہ کہا کہ اللہ کی تعظیم کے کچھ کلمات بڑھا لینے میں کوئی حرج نہیں تو اس دلیل سے کہ ابن عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے تلبیہ یاد کیا پھر اپنی طرف سے اس میں «لبيك والرغباء إليك والعمل» حاضر ہوں، تیری ہی طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے کا اضافہ کیا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جابر بن عبداللہ کی ایک روایت میں ہے کہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے تلبیہ میں اپنی طرف سے «ذا المعارج» اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم ﷺ سنتے تھے لیکن کچھ نہ فرماتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ اس طرح کا اضافہ جائز ہے، اگر جائز نہ ہوتا تو آپ منع فرما دیتے، آپ کی خاموشی تلبیہ کے مخصوص الفاظ پر اضافے کے جواز کی دلیل ہے، ابن عمر ؓ کا یہ اضافہ بھی اسی قبیل سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٥٩٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ٢٦ (١٥٤٩)، واللباس ٦٩ (٥٩٥١)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٣)، سنن ابی داود/ الحج ٢٧ (١٨١٢)، سنن النسائی/الحج ٥٤ (٢٧٤٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١ (٢٩٨)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٢٨)، مسند احمد (٢/٣، ٢٨، ٣٤، ٤١، ٤٣، ٤٧، ٤٨، ٥٣، ٧٦، ٧٧، ٧٩، ١٣)، سنن الدارمی/المناسک ١٣ (١٨٤٩)، من غیر ہذا الطریق، وانظر الحدیث الآتی۔
827Sunan At-Tirmidhi

تلبیہ اور قربانی کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ. ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: الْعَجُّ وَالثَّجُّ .

ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس میں کثرت سے تلبیہ پکارا گیا ہو اور خوب خون بہایا گیا ہو ١ ؎۔

Sayyidian Abu Bakr (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ was asked, “Which (kind of) Hajj is more excellent?” He said, “Al-Ajj wa ath-thajj meaning “The voiciferous which abounds with talbiyah and in which much blood flows.” [Ibn e Majah 2924]

صحيح، ابن ماجة (2924)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 827
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قربانی کی گئی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ١٦ (٢٩٢٤)، ( تحفة الأشراف: ٦١٠٨)، سنن الدارمی/المناسک ٨ (١٨٣٨) (صحیح)
828Sunan At-Tirmidhi

تلبیہ اور قربانی کی فضیلت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا .

Sayyidina Sahi ibn Sad (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Hardly does a Muslim call the talbiyah, when all on his right and his left, be stone or trees or clods of mud, also call it out till the earth is penetrated from here and from there.” [Ibn e Majah 2921]

829Sunan At-Tirmidhi

تلبیہ آواز سے پڑھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَصِحُّ، وَالصَّحِيحُ هُوَ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ: وَهُوَ خَلَّادُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ.

سائب بن خلاد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل نے آ کر مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں ١ ؎۔

Khallad ibn Saib reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “Jibrail came to me and instructed me to command my Companions that they should raise their voices on reciting the talbiyah.” (The narrator was not sure which word the Prophet ﷺ used : ihlal or talbiyah). [Ahmed16569, Abu Dawud 1814, Nisai 2752, Ibn e Majah 2922] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2922)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 829
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- خلاد بن السائب کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے، حسن صحیح ہے۔ ٢- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «خلاد بن السائب عن زيد بن خالد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ صحیح یہی ہے کہ خلاد بن سائب نے اپنے باپ سے روایت کی ہے، اور یہ خلاد بن سائب بن خلاد بن سوید انصاری ہیں، ٣- اس باب میں زید بن خالد، ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مردوں کے لیے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مستحب ہے «اصحابی» کی قید سے عورتیں خارج ہوگئیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز پست رکھیں۔ مگر وجوب کی دلیل بالصراحت کہیں نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٢٧ (١٨١٤)، سنن النسائی/الحج ٥٥ (٢٧٥٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٦ (٢٩٢٢)، ( تحفة الأشراف: ٣٧٨٨)، موطا امام مالک/الحج ١٠ (٣٤)، مسند احمد (٤/٥٥، ٥٦)، سنن الدارمی/الحج ١٤ (١٨٥٠) (صحیح)
830Sunan At-Tirmidhi

احرام باندھتے وقت غسل کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الِاغْتِسَالَ عِنْدَ الْإِحْرَامِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ.

زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے احرام باندھنے کے لیے اپنے کپڑے اتارے اور غسل کیا۔

Kharijah ibn Zayd ibn Thabit reported from his father that he saw the Prophet ﷺ took off his garments and had a bath to assume his ihram.

صحيح التعليقات الجياد، المشکاة (2547 / التحقيق الثانی، الحج الکبير)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 830
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اہل علم کی ایک جماعت نے احرام باندھنے کے وقت غسل کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ احرام کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، اکثر لوگوں کی یہی رائے ہے، اور بعض نے اسے واجب کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: سنن الدارمی/المناسک ٦ (١٨٣٥) (تحفة الأشراف: ٣٧١٠) (صحیح) (سند میں عبداللہ بن یعقوب مجہول الحال ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
831Sunan At-Tirmidhi

آفا قی کے لئے احرام باندھنے کی جگہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: مِنْ أَيْنَ نُهِلُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ . قَالَ: وَيَقُولُونَ: وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم احرام کہاں سے باندھیں؟ آپ نے فرمایا: اہل مدینہ ذی الحلیفہ ٢ ؎ سے احرام باندھیں، اہل شام جحفہ ٣ ؎ سے اور اہل نجد قرن سے ٤ ؎۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اہل یمن یلملم سے ٥ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man asked, ‘From where do we assume the ihram, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, from Dhul Hulayfah, the Syrians from Juhafah, the Najdis from Qarn, and the Yamanis from Yalamlam.” [Ahmed5087, Bukhari 1525, Muslim 1182, Abu Dawud V37, Nisai 2647, Ibn e Majah 2914]

صحيح، ابن ماجة (2914)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 831
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «مواقیت» میقات کی جمع ہے، میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج کی نیت کرتا ہے۔ ٢ ؎: مدینہ کے قریب ایک مقام ہے۔ جس کی دوری مدینہ سے مکہ کی طرف دس کیلو میٹر ہے اور یہ مکہ سے سب سے دوری پر واقع میقات ہے۔ ٣ ؎: مکہ کے قریب ایک بستی ہے جسے اب رابغ کہتے ہیں۔ ٤ ؎: اسے قرن المنازل بھی کہتے ہیں، یہ مکہ سے سب سے قریب ترین میقات ہے۔ مکہ سے اس کی دوری ٩٥ کیلو میٹر ہے۔ ٥ ؎: ایک معروف مقام کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٥٩٣) وانظر: مسند احمد (٢/٤٨، ٦٥) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العلم ٥٢ (١٣٣)، والحج ٤ (١٥٢٢)، و ٨ (١٥٢٥)، و ١٠ (١٥٢٧)، والاعتصام ١٥ (٧٣٣٤)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٢)، سنن ابی داود/ المناسک ٩ (١٧٣٧)، سنن النسائی/المناسک ١٧ (٢٦٥٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٣ (٢٩١٤)، موطا امام مالک/الحج ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٥٥)، سنن الدارمی/المناسک ٥ (١٨٣١)، من غیر ہذا الطریق۔
832Sunan At-Tirmidhi

آفاقی کے لئے احرام باندھنے کی جگہ

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ هُوَ أبُو جَعْفَرٍ مُحمَّدُ بنُ عَلِيِّ بنِ حُسَيْنِ بنِ عَلِيِّ بنِ أبِي طَالبٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اہل مشرق کی میقات عقیق ١ ؎ مقرر کی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ appointed Aqiq as the miqat for the people of the east. [Ahmed3205, Abu Dawud 1740]

منكر، والصحيح ذات عرق .، الإرواء (1002)، ضعيف أبي داود (306) // عندنا برقم (381 / 1740)، المشکاة (2530) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 832
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- محمد بن علی ہی ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک معروف مقام ہے، جو عراق کی میقات ذات العرق کے قریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٩ (١٧٤٠)، ( تحفة الأشراف: ٦٤٤٣) (ضعیف منکر) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے، نیز محمد بن علی کا اپنے دادا ابن عباس سے سماع ثابت نہیں ہے، اور حدیث میں وارد ” عقیق “ کا لفظ منکر ہے، صحیح لفظ ” ذات عرق “ ہے، الإرواء: ١٠٠٢، ضعیف سنن ابی داود: ٣٠٦)
833Sunan At-Tirmidhi

کہ محرم ( احرام والے) کے لئے کون سالباس پہننا جائز نہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْحَرَمِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑ ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کون کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے اور نہ موزے، الا یہ کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ خف (چمڑے کے موزے) پہنے اور اسے کاٹ کر ٹخنے سے نیچے کرلے ١ ؎ اور نہ ایسا کوئی کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو ٢ ؎، اور محرم عورت نقاب نہ لگائے اور نہ دستانے پہنے ٣ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man stood up and asked, “O Messenger of Allah ﷺ I What garments do you order us to wear in the state of ihram?” So, Allah’s Messenger ﷺ said : “Do not wear the shirt, the trousers, hooded cloak, turban or the socks; but, if one of you does not have the sandals then he may wear socks, cutting them below the ankles. And, do not wear garments on which saffron or wursO is applied. And, a woman must not put a veil over her face nor wear hand gloves.” [Ahmed4835, Bukhari 1542, Muslim 1177, Abu Dawud 1824, Nisai 2670, Ibn e Majah 2929]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 833
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے «خف» چمڑے کے موزوں کے کاٹنے کی شرط لگائی ہے لیکن امام احمد نے بغیر کاٹے «خف» (موزہ ) پہننے کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ ابن عباس ؓ کی روایت «من لم يجد نعلين فليلبس خفين» جو بخاری میں آئی ہے مطلق ہے، لیکن جمہور نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، حنابلہ نے اس روایت کے کئی جوابات دیئے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ابن عمر ؓ کی یہ روایت منسوخ ہے کیونکہ یہ احرام سے پہلے مدینہ کا واقعہ ہے اور ابن عباس ؓ کی روایت عرفات کی ہے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ابن عمر ؓ کی روایت حجت کے اعتبار سے ابن عباس کی روایت سے بڑھی ہوئی ہے کیونکہ وہ ایسی سند سے مروی ہے جو أصح الاسانید ہے۔ ٢ ؎: ایک زرد رنگ کی خوشبودار گھاس ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے تھے، اس بات پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں مرد کے لیے حدیث میں مذکور یہ کپڑے پہننے جائز نہیں ہیں، قمیص اور سراویل ( پاجانے ) میں تمام سلے ہوئے کپڑے داخل ہیں، اسی طرح عمامہ اور خفین سے ہر وہ چیز مراد ہے جو سر اور قدم کو ڈھانپ لے، البتہ پانی میں سر کو ڈبونے یا ہاتھ یا چھتری سے سر کو چھپانے میں کوئی حرج نہیں، عورت کے لیے حالت احرام میں وہ تمام کپڑے پہننے جائز ہیں جن کا اس حدیث میں ذکر ہے البتہ وہ ورس اور زعفران میں رنگے ہوئے کپڑے نہ پہننے۔ ٣ ؎: محرم عورت کے لیے نقاب پہننا منع ہے، مگر اس حدیث میں جس نقاب کا ذکر ہے وہ چہرے پر باندھا جاتا تھا، برصغیر ہندو پاک کے موجودہ برقعوں کا نقاب چادر کے پلو کی طرح ہے جس کو ازواج مطہرات مردوں کے گزرتے وقت چہروں پر لٹکا لیا کرتی تھیں اس لیے اس نقاب کو عورتیں بوقت ضرورت چہرے پر لٹکا سکتی ہیں اور چونکہ اس وقت حج میں ہر وقت اجنبی مردوں کا سامنا پڑتا ہے اس لیے ہر وقت اس نقاب کو چہرے پر لٹکائے رکھ سکتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٣ (١٨٣٨)، سنن ابی داود/ المناسک ٣٢ (١٨٢٥)، سنن النسائی/الحج ٢٨ (٢٦٧٧)، ( تحفة الأشراف: ٨٢٧٥)، مسند احمد (٢/١١٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العلم ٥٣ (١٣٤)، والصلاة ٩ (٣٩٦)، والحج ٢١ (١٥٤٢)، وجزاء الصید ١٥ (١٨٤٢)، واللباس ٨ (٥٧٩٤)، و ١٣ (٥٨٠٣)، و ١٤ (٥٨٠٥)، و ١٥ (٥٨٠٦)، و ٣٤ (٥٨٤٧)، و ٣٧ (٥٨٥٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٩ (٢٩٢٩)، موطا امام مالک/الحج ٣ (٨)، مسند احمد (٢/٤، ٨، ٢٩، ٣٢، ٣٤، ٤١، ٥٤، ٥٦، ٥٩، ٦٥، ٧٧)، سنن الدارمی/الحج ٩ (١٨٣٩) من غیر الطریق۔
834Sunan At-Tirmidhi

اگر تہبند اور جوتے نہ ہوں تو پاجامہ اور موزے پہن لے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْمُحْرِمُ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: محرم کو جب تہبند میسر نہ ہو تو پاجامہ پہن لے اور جب جوتے میسر نہ ہوں تو «خف» (چمڑے کے موزے) پہن لے ١ ؎۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) said that he heard Allahs Messenger ﷺ say, “If one who assumes the ihram does not have the lower wrapper theu he may wear the trousers. And if he does not have sandals, he may wear socks. [Ahmed5075, Bukhari 1740, Muslim 1178, Nisai 2668, Ibn e Majah 2931]

835Sunan At-Tirmidhi

جو شخص قمیص یا جبہ پہنے ہوئے احرام باند ھے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيًّا قَدْ أَحْرَمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْزِعَهَا .

یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک اعرابی کو دیکھا جو احرام کی حالت میں کرتا پہنے ہوئے تھا۔ تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے ١ ؎۔

Ata reported from Yala ibn Ummayyah that the Prophet ﷺ saw a villager who was in a state of ihram wearing a robe. He commanded him to remove it. [Ahmed17989, Bukhari 1837, Muslim 1180. Abu Dawud 1819] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1596 - 1599)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 835
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبی اکرم ﷺ جعرانہ میں تھے تفصیل کے لیے دیکھئیے ابوداؤد المناسک ٣١، نسائی الحج ٢٩۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٣١ (١٨٢٠)، (٤/٢٢٤)، وانظر الحدیث الآتي ( تحفة الأشراف: ١١٨٤٤) (صحیح)
836Sunan At-Tirmidhi

جو شخص قمیص یا جبہ پہنے ہوئے احرام باند ھے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. وَهَذَا أَصَحُّ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ قَتَادَةُ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

یعلیٰ ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ یہ زیادہ صحیح ہے اور حدیث میں ایک قصہ ہے ١ ؎۔

Ibn Abu Umar reported a hadith of the same purport from Sufyan ibn Amr ibn Dinar, from Ata, from Safwan ibn Ya’la from his father, from the Prophet

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 836
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اسی طرح اسے قتادہ، حجاج بن ارطاۃ اور دوسرے کئی لوگوں نے عطا سے اور انہوں نے یعلیٰ بن امیہ سے روایت کی ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جسے عمرو بن دینار اور ابن جریج نے عطاء سے، اور عطاء نے صفوان بن یعلیٰ سے اور صفوان نے اپنے والد یعلیٰ سے اور یعلیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس قصہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ابوداؤد المناسک ٣١، و نسائی الحج ٢٩۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٧ (١٥٣٦)، والعمرة ١٠ (١٧٨٩)، وجزاء الصید ١٩ (١٨٤٧)، والمغازي ٥٦ (٤٣٢٩)، وفضائل القرآن ٢ (٤٩٨٥)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٨٠)، سنن ابی داود/ الحج ٣١ (١٨١٩)، سنن النسائی/الحج ٢٩ (٢٦٦٩)، و ٤٤ (٢٧٠٩-٢٧١١)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٣٦)، مسند احمد (٤/٢٢٤) (صحیح)
837Sunan At-Tirmidhi

محرم کا کن جانوروں کو مارنا جائز ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ، الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جو حرم میں یا حالت احرام میں بھی مارے جاسکتے ہیں: چوہیا، بچھو، کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Five noxious creatures may be killed in the Haram. They are : the rat, the scorpion, the crow, the eagle and the biting dog.” [Bukhari 3314, Muslim 1198, Nisai 2887]

صحيح، ابن ماجة (3087)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 837
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ کاٹ کھانے والے کتے سے مراد وہ تمام درندے ہیں جو لوگوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کردیتے ہوں مثلاً شیر چیتا بھیڑیا وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٦ (٣٣١٤)، صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٨)، سنن النسائی/الحج ١١٨ (٢٨٩٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٦٢٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٩)، سنن النسائی/الحج ٨٣ (٢٨٣٢)، و ١١٣ (٢٨٨٤)، و ١١٤ (٢٨٨٥)، و ١١٦ (٢٨٩٠)، و ١١٧ (٢٨٩١)، سنن ابن ماجہ/الحج ٩١ (٣٠٨٧) مسند احمد (٦/٨٧، ٩٧، ١٢٢، ٢٠٣، ٢٥٩، ٢٦١) من غیر ہذا الطریق۔
838Sunan At-Tirmidhi

محرم کا کن جانوروں کو مارنا جائز ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ: السَّبُعَ الْعَادِيَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفَأْرَةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْحِدَأَةَ وَالْغُرَابَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: الْمُحْرِمُ يَقْتُلُ السَّبُعَ الْعَادِيَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: كُلُّ سَبُعٍ عَدَا عَلَى النَّاسِ أَوْ عَلَى دَوَابِّهِمْ فَلِلْمُحْرِمِ قَتْلُهُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: محرم سرکش درندے، کاٹ کھانے والے کتے، چوہا، بچھو، چیل اور کوے مار سکتا ہے ۔

Sayyidina Abu Saeed reported that the Prophet ﷺ said, A pilgrim who has assumed tbe ihram may kill seven : the wild beasts, the dog that bites, the rat, the scorpion, the eagle, and the crow [Ahmed11755, Abu Dawud 1848, Ibn e Majah 3089]

ضعيف، ابن ماجة (3089) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (660)، الإرواء (4 / 226)، المشکاة (2702)، ضعيف الجامع الصغير (6433) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 838
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں: محرم ظلم ڈھانے والے درندوں کو مار سکتا ہے، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: محرم ہر اس درندے کو جو لوگوں کو یا جانوروں کو ایذاء پہنچائے، مار سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٤٠ (١٨٤٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩١ (٣٠٨٩)، ( تحفة الأشراف: ٤١٣٣)، مسند احمد (٣/٣) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے)
839Sunan At-Tirmidhi

محرم کے پچھنے لگانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ، قَالُوا: لَا يَحْلِقُ شَعْرًا، وقَالَ مَالِكٌ: لَا يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ، وقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ: لَا بَأْسَ أَنْ يَحْتَجِمَ الْمُحْرِمُ وَلَا يَنْزِعُ شَعَرًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے ١ ؎۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ had himself cupped when he was in the state of ihram. [Ahmed1928, Bukhari 1835, Muslim 1202, Abu Dawud 1835, Nisai 2843, Ibn e Majah 3081] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1682)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 839
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ٢ ؎، عبداللہ بن بحینہ ٣ ؎ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو پچھنا لگوانے کی اجازت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بال نہیں منڈائے گا، ٤- مالک کہتے ہیں کہ محرم پچھنا نہیں لگوا سکتا، الا یہ کہ ضروری ہو، ٥- سفیان ثوری اور شافعی کہتے ہیں: محرم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بال نہیں اتار سکتا۔
Notes · وضاحت
١ ؎ اس روایت سے معلوم ہوا کہ حالت احرام میں پچھنا لگوانا جائز ہے، البتہ اگر بچھنا لگوانے میں بال اتروانا پڑے تو فدیہ دینا ضروری ہوگا، یہ فدیہ ایک بکری ذبح کرنا ہے، یا تین دن کے روزے رکھنا، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ ٢ ؎: انس ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے احرام کی حالت میں اپنے پاؤں کی پشت پر تکلیف کی وجہ سے پچھنا لگوایا۔ ٣ ؎: عبداللہ ابن بحینہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حالت احرام میں لحی جمل میں اپنے سرکے وسط میں پچھنا لگوایا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٥)، والصوم ٣٢ (١٩٣٨)، والطب ١٢ (٥٦٩٥)، و ١٥ (٥٧٠٠)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٣)، سنن ابی داود/ المناسک ٣٦ (١٨٣٥)، سنن النسائی/الحج ٩٢ (٢٨٤٨)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٩٢، ٣٧٢)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٣٧، ٥٩٣٩)، وأخرجہ کل من: سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٧ (٣٠٨١)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢٢، ٢٣٦، ٢٤٨، ٢٤٩، ٢٨٣، ٢٨٦، ٣١٥، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٧٢)، سنن الدارمی/ الحج ٢٠ (١٨٦٠) من غیر ہذا الطریق وبتصرف یسیر فی السیاق (صحیح)
840Sunan At-Tirmidhi

احرم کی حالت میں نکاح کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ مَعْمَرٍ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ، فَبَعَثَنِي إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ بِمَكَّةَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ يُرِيدُ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ فَأَحَبَّ أَنْ يُشْهِدَكَ ذَلِكَ، قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا أَعْرَابِيًّا جَافِيًا، إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكَحُ أَوْ كَمَا قَالَ: ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ مِثْلَهُ يَرْفَعُهُ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ، وَمَيْمُونَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عُمَرَ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق لَا يَرَوْنَ أَنْ يَتَزَوَّجَ الْمُحْرِمُ، قَالُوا: فَإِنْ نَكَحَ فَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ.

نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ ابن معمر نے اپنے بیٹے کی شادی کرنی چاہی، تو انہوں نے مجھے ابان بن عثمان کے پاس بھیجا، وہ مکہ میں امیر حج تھے۔ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا: آپ کے بھائی اپنے بیٹے کی شادی کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں، تو انہوں نے کہا: میں انہیں ایک گنوار اعرابی سمجھتا ہوں، محرم نہ خود نکاح کرسکتا اور نہ کسی کا نکاح کرا سکتا ہے - «أو كما قال» - پھر انہوں نے (اپنے والد) عثمان ؓ سے روایت کرتے ہوئے اسی کے مثل بیان کیا، وہ اسے مرفوع روایت کر رہے تھے۔

Nubayh ibn Wahb reported that Ibn Ma’mar decided to have his son married. So, he sent Nubayh to the amir of the pilgrimage Aban ibn Uthman (RA). He went to him and said, ‘Your brother intends to have his son married and that you should witness the solemnising.’ He said, ‘I find him not but illiterate. Neither does a pilgrim in the state of ihram marry nor have anyone married.’ (Or, as he said). Then he narrated from Uthman like that a marfu hadith. [Ahmed462,Muslim 1409,Abu Dawud 1841,Nisai 2840,Ibn e Majah 1966]

صحيح، ابن ماجة (1966)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 840
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عثمان ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابورافع اور میمونہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض صحابہ کرام جن میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب اور ابن عمر ؓ بھی شامل ہیں اسی پر عمل ہے، اور یہی بعض تابعین فقہاء کا بھی قول ہے اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ یہ لوگ محرم کے لیے نکاح کرنا جائز نہیں سمجھتے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر محرم نے نکاح کرلیا تو اس کا نکاح باطل ہوگا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: شرعی ضابطہ یہی ہے کہ محرم حالت احرام میں نہ تو خود اپنا نکاح کرسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرا سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤٠٩)، سنن ابی داود/ الحج ٣٩ (١٨٤١)، سنن النسائی/الحج ٩١ (٢٨٤٥)، والنکاح ٣٨ (٣٢٧٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٦)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٧٦)، موطا امام مالک/الحج ٢٢ (٧٠)، مسند احمد (١/٥٧، ٦٤، ٦٩، ٧٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٤) (صحیح)