Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 38 of 199

797Sunan At-Tirmidhi

سردیوں کے روزے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ عُرَيْبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، عَامِرُ بْنُ مَسْعُودٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ وَالِدُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ الْقُرَشِيِّ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ.

عامر بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھنڈا ٹھنڈا بغیر محنت کا مال غنیمت یہ ہے کہ روزہ سردی میں ہو ۔

Aamir ibn Mas’ud (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Fasting in winter is unearned booty’. [Ahmed18982]

صحيح، الصحيحة (1922)، الروض النضير (69)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 797
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث مرسل ہے۔ عامر بن مسعود نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں پایا۔ یہ ابراہیم بن عامر قرشی کے والد ہیں جن سے شعبہ اور ثوری نے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٠٤٩) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” نمیربن عریب “ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث مرسل ہے، دیکھئے: الصحیحہ رقم: ١٩٢٢، تراجع الألبانی ٤٧٣)
798Sunan At-Tirmidhi

ان لوگوں کا روزہ رکھنا جو اس کی طاقت رکھتے ہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184، كان من أراد منا أن يفطر ويفتدي حتى نزلت الآية التي بعدها فنسختها . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَيَزِيدُ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «وعلی الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے (البقرہ: ١٨٤) اتری تو ہم میں سے جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی ١ ؎ آیت نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوخ کردیا ٢ ؎۔

Sayyidina Salamah ibn Aku’ (RA) reported that when the verse was revealed, those of us who desired did not fast but paid a fidyah, till the next verse was revealed abrogating it (the command). (Bukhari 4507, Muslim 1145, Abu Dawud 2315, Nisai 2312]

صحيح، الإرواء (4 / 22)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 798
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعد والی آیت سے مراد آیت کریمہ «فمن شهد منکم الشهر فليصمه» (البقرة: 185) ہے۔ ٢ ؎: یہ حدیث اس بات پر صریح دلیل ہے کہ آیت کریمہ «وعلی الذين يطيقونه فدية» منسوخ ہے، یہی جمہور کا قول ہے اور یہی حق ہے، اور ابن عباس کی رائے ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور اس کا حکم ان بڑے بوڑھوں کے ساتھ خاص ہے جنہیں روزہ رکھنے میں زحمت اور پریشانی ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة البقرة ٢٦ (٤٥٠٦)، صحیح مسلم/الصوم ٢٥ (١١٤٥)، سنن ابی داود/ الصیام ٢ (٢٣١٥)، سنن النسائی/الصیام ٦٣ (٢٣١٨)، سنن الدارمی/الصوم ٢٩ (١٧٧٥)، ( تحفة الأشراف: ٤٥٣٤) (صحیح)
802Sunan At-Tirmidhi

عید الفطر اور عید الا ضحی کب ہوتی ہے ؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْفِطْرُ يَوْمَ يُفْطِرُ النَّاسُ، وَالْأَضْحَى يَوْمَ يُضَحِّي النَّاسُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا، قُلْتُ لَهُ: مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ، قَالَ: نَعَمْ، يَقُولُ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عید الفطر کا دن وہ ہے جب لوگ عید منائیں، اور عید الاضحی کا دن وہ ہے جس دن لوگ قربانی کریں ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “The (Eid) aI-Fitr is when people break (cease to) fast and al-Adha when people make the sacrifice”. [Ibn e Majah 1660]

صحيح، ابن ماجة (1660)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 802
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث، اس سند سے حسن غریب صحیح ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا: کیا محمد بن منکدر نے عائشہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ اپنی روایت میں کہتے ہیں: میں نے عائشہ سے سنا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے حدیث رقم ٦٩٧ اور اس کا حاشیہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٦٠) (صحیح)
803Sunan At-Tirmidhi

ایام اعتکاف کز رجا نا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمُعْتَكِفِ إِذَا قَطَعَ اعْتِكَافَهُ قَبْلَ أَنْ يُتِمَّهُ عَلَى مَا نَوَى، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا نَقَضَ اعْتِكَافَهُ وَجَبَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَاحْتَجُّوا بِالْحَدِيثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ اعْتِكَافِهِ فَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ نَذْرُ اعْتِكَافٍ أَوْ شَيْءٌ أَوْجَبَهُ عَلَى نَفْسِهِ، وَكَانَ مُتَطَوِّعًا فَخَرَجَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَقْضِيَ إِلَّا أَنْ يُحِبَّ ذَلِكَ اخْتِيَارًا مِنْهُ، وَلَا يَجِبُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَكُلُّ عَمَلٍ لَكَ أَنْ لَا تَدْخُلَ فِيهِ، فَإِذَا دَخَلْتَ فِيهِ فَخَرَجْتَ مِنْهُ فَلَيْسَ عَلَيْكَ أَنْ تَقْضِيَ إِلَّا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، ایک سال آپ اعتکاف نہیں کرسکے تو جب اگلا سال آیا تو آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔

Sayyidina Anas ibn Maalik said, “The Prophet ﷺ used to observe i’tikaf during the last ten days of Ramadan. One year he did not observe it. So, during the year following, he observed the i’tkaf for twenty days”. [Ibn e Majah 1770 ]

صحيح، صحيح أبي داود (2126)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 803
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس بن مالک کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- معتکف جب اپنا اعتکاف اس مدت کے پورا کرنے سے پہلے ختم کر دے جس کی اس نے نیت کی تھی تو اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے کہا: جب وہ اعتکاف توڑ دے تو اس پر قضاء واجب ہوگی انہوں نے اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے اعتکاف سے نکل آئے تو آپ نے شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا، یہ مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں: اگر اس پر اعتکاف کی نذر یا کوئی ایسی چیز نہ ہو جسے اس نے اپنے اوپر واجب کرلی ہو اور وہ نفل کی نیت سے اعتکاف میں رہا ہو پھر اعتکاف سے نکل آیا ہو تو اس پر قضاء واجب نہیں الا یہ کہ وہ اپنی پسند سے اسے چاہے اور یہ اس پر واجب نہیں ہوگا۔ یہی شافعی کا قول ہے، ٣- شافعی کہتے ہیں: ہر وہ عمل جس کے کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں تمہیں اختیار ہو جب تم اسے کرنا شروع کر دو پھر اس کے پورا ہونے سے پہلے تم اسے چھوڑ دو تو اس کی قضاء تم پر لازم نہیں ہے۔ سوائے حج اور عمرہ کے، ٣- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٥٣) (صحیح)
804Sunan At-Tirmidhi

کیا معتکف اپنی حاجت کے لئے نکل سکتا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ قِرَاءَةً، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ أَدْنَى إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. وَالصَّحِيحُ عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر میرے قریب کردیتے میں اس میں کنگھی کردیتی ١ ؎ اور آپ گھر میں کسی انسانی ضرورت کے علاوہ ٢ ؎ داخل نہیں ہوتے تھے۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated that when Allah’s Messenger ﷺ observed the i’tikaf, he would put his head towards her and she combed it. And he never entered the house except or human compulsion (to relieve himself). [Ahmed2696, Bukhari 2029, Muslim 297, Abu Dawud 2468, Ibn e Majah 1776]

صحيح، ابن ماجة (633 و 1778)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 804
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح اسے دیگر کئی لوگوں نے بھی بطریق: «مالک عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اسے بطریق: «مالک عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے، اور صحیح یہ ہے کہ ابن شہاب زہری نے اسے عروہ اور عمرہ دونوں سے اور ان دونوں نے عائشہ سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ معتکف اپنے جسم کا کوئی حصہ اگر مسجد سے نکالے تو اس کا اعتکاف باطل نہیں ہوگا۔ ٢ ؎: انسانی ضرورت کی تفسیر زہری نے پاخانہ اور پیشاب سے کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٧٦ (١٧٩)، (٢٧٩)، ( تحفة الأشراف: ١٦٦٠٢ و ١٧٩٢١)، وانظر الحدیث الآتی (صحیح)
805Sunan At-Tirmidhi

کیا معتکف اپنی حاجت کے لئے نکل سکتا ہے

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا اعْتَكَفَ الرَّجُلُ أَنْ لَا يَخْرُجَ مِنَ اعْتِكَافِهِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ، وَاجْتَمَعُوا عَلَى هَذَا أَنَّهُ يَخْرُجُ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، ثُمَّ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَشُهُودِ الْجُمُعَةِ وَالْجَنَازَةِ لِلْمُعْتَكِفِ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنْ يَعُودَ الْمَرِيضَ وَيُشَيِّعَ الْجَنَازَةَ وَيَشْهَدَ الْجُمُعَةَ إِذَا اشْتَرَطَ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ لَهُ أَنْ يَفْعَلَ شَيْئًا مِنْ هَذَا، وَرَأَوْا لِلْمُعْتَكِفِ إِذَا كَانَ فِي مِصْرٍ يُجَمَّعُ فِيهِ أَنْ لَا يَعْتَكِفَ إِلَّا فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ، لِأَنَّهُمْ كَرِهُوا الْخُرُوجَ لَهُ مِنْ مُعْتَكَفِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَلَمْ يَرَوْا لَهُ أَنْ يَتْرُكَ الْجُمُعَةَ، فَقَالُوا: لَا يَعْتَكِفُ إِلَّا فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ حَتَّى لَا يَحْتَاجَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ مُعْتَكَفِهِ لِغَيْرِ قَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ، لِأَنَّ خُرُوجَهُ لِغَيْرِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ قَطْعٌ عِنْدَهُمْ لِلِاعْتِكَافِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ أَحْمَدُ: لَا يَعُودُ الْمَرِيضَ وَلَا يَتْبَعُ الْجَنَازَةَ عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ، وقَالَ إِسْحَاق: إِنِ اشْتَرَطَ ذَلِكَ فَلَهُ أَنْ يَتْبَعَ الْجَنَازَةَ وَيَعُودَ الْمَرِيضَ.

ہم سے اسے قتیبہ نے بسند «الليث بن سعد عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے۔

We were informed by Qutaybah on the authority of Layth. All the ulama maintain that a mutakif must not come out of his place except to answer to nature’s call. They differ on the issue of a mutakif coming out to pay a sick visit and to offer Friday salah and the funeral prayer.

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 805
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ جب آدمی اعتکاف کرے تو انسانی ضرورت کے بغیر اپنے معتکف سے نہ نکلے، اور ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ پاخانہ پیشاب جیسی اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نکل سکتا ہے، ٢- پھر معتکف کے لیے مریض کی عیادت کرنے، جمعہ اور جنازہ میں شریک ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے ہے کہ وہ مریض کی عیادت کرسکتا ہے، جنازہ کے ساتھ جاسکتا ہے اور جمعہ میں شریک ہوسکتا ہے جب کہ اس نے اس کی شرط لگا لی ہو۔ یہ سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے، ٣- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے ان میں سے کوئی بھی چیز کرنے کی اجازت نہیں، ان کا خیال ہے کہ معتکف کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ کسی ایسے شہر میں ہو جہاں جمعہ ہوتا ہو تو مسجد جامع میں ہی اعتکاف کرے۔ اس لیے کہ یہ لوگ جمعہ کے لیے اپنے معتکف سے نکلنا اس کے لیے مکروہ قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے جمعہ چھوڑنے کو بھی جائز نہیں سمجھتے، اس لیے ان کا کہنا ہے کہ وہ جامع مسجد ہی میں اعتکاف کرے تاکہ اسے انسانی حاجتوں کے علاوہ کسی اور حاجت سے باہر نکلنے کی ضرورت نہ باقی رہے، اس لیے کہ بغیر کسی انسانی ضرورت کے مسجد سے نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے۔ ٤- اور احمد کہتے ہیں: عائشہ ؓ کی حدیث کی رو سے نہ وہ مریض کی عیادت کرے گا، نہ جنازہ کے ساتھ جائے گا۔ ٥- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اگر وہ ان چیزوں کی شرط کرلے تو اسے جنازے کے ساتھ جانے اور مریض کی عیادت کرنے کی اجازت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ٣ (٢٠٢٩)، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، سنن ابی داود/ الصیام ٧٩ (٢٤٦٨)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٦٤ (١٧٧٨)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٧٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: ح/الحیض ٢ (٢٩٥)، والاعتکاف ٢ (٢٠٢٨)، و ١٩ (٢٠٤٦)، واللباس ٧٦ (٥٩٢٥)، و سنن ابی داود/ الصیام ٧٩ (٢٤٦٧)، وط/الطہارة ٢٨ (١٠٢)، والاعتکاف ١ (١)، و مسند احمد (٦/١٠٤)، ٢٠٤، ٢٣١، ٢٤٧، ٢٦٢)، وسنن الدارمی/الطہارة ١٠٧ (١٠٨٥)، من غیر ہذا الطریق، وبتصرف یسیر فی السیاق۔
806Sunan At-Tirmidhi

رمضان میں رات کو نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثٌ مِنَ الشَّهْرِ، وَصَلَّى بِنَا فِي الثَّالِثَةِ وَدَعَا أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا الْفَلَاحَ، قُلْتُ لَهُ: وَمَا الْفَلَاحُ ؟ قَالَ: السُّحُورُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يُصَلِّيَ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ رَكْعَةً مَعَ الْوِتْرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّونَ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وقَالَ أَحْمَدُ: رُوِيَ فِي هَذَا أَلْوَانٌ وَلَمْ يُقْضَ فِيهِ بِشَيْءٍ، وقَالَ إِسْحَاق: بَلْ نَخْتَارُ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ رَكْعَةً عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَاخْتَارَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَاخْتَارَ الشَّافِعِيُّ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ إِذَا كَانَ قَارِئًا، وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صیام رمضان رکھے تو آپ نے ہمیں نماز (تراویح) نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ رمضان کے صرف سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی تہجد پڑھی) یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی۔ پھر جب چھ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، (یعنی تہجد نہیں پڑھی) اور جب پانچ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی تہجد پڑھی) یہاں تک کہ آدھی رات ہوگئی۔ تو ہم نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس رات کے باقی ماندہ حصہ میں بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے (تو بہتر ہوتا) ؟ آپ نے فرمایا: جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھا جائے گا، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ مہینے کے صرف تین دن باقی رہ گئے، پھر آپ نے ہمیں ستائیسویں رات کو نماز پڑھائی۔ اور اپنے گھر والوں اور اپنی عورتوں کو بھی بلایا، آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں فلاح کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہوا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے پوچھا: فلاح کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے کہا: سحری ہے۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) narrated : We kept fast with Allah’s Messenger. He did not pray with us till seven (nights) remained in the month when he stood with us (in prayer) till the third of the night passed away. Then he did not stand with us on the sixth (last ningh) but stood with us (in salah) on the fifth (last night) till the middle of the night was gone. So, we submitted, “O Messenger of Allah! ﷺ Would that you had prayed the supererogatory (salah) with us for the remainder of the night. “He said, “He who stood with the Imam till he finishes has a full night’s standing (in salah) recorded for him”. Thereafter, he did not pray with us till three (nights) remained in the month, He prayed (the salah) with us on the third (last night) and called the folk of his house and his wives, standing so long that we feared that we might miss al-falah. The sub-narrator said that he asked him, “What is al-falah?” He said, “It is sahr (predawn meal)”. [Ab 21476, Abu Dawud 1375, Nisai 1364, Ibn e Majah 1327]

صحيح، ابن ماجة (1327)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 806
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، نعمان بن بشیر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- رمضان کے قیام کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وتر کے ساتھ اکتالیس رکعتیں پڑھے گا، یہ اہل مدینہ کا قول ہے، ان کے نزدیک مدینے میں اسی پر عمل تھا، ٤- اور اکثر اہل علم ان احادیث کی بنا پر جو عمر، علی اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے مروی ہے بیس رکعت کے قائل ہیں۔ یہ سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔ اور شافعی کہتے ہیں: اسی طرح سے میں نے اپنے شہر مکہ میں پایا ہے کہ بیس رکعتیں پڑھتے تھے، ٥- احمد کہتے ہیں: اس سلسلے میں کئی قسم کی باتیں مروی ہیں ١ ؎ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی، ٦- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: ہمیں ابی بن کعب کی روایت کے مطابق ٤١ رکعتیں مرغوب ہیں، ٧- ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے ماہ رمضان میں امام کے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کیا ہے، ٨- شافعی نے اکیلے پڑھنے کو پسند کیا ہے جب وہ قاری ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے اس سلسلے میں صرف دو قول کا ذکر کیا ہے ان کے علاوہ اور بھی بہت سے اقوال اس سلسلہ میں وارد ہیں ان میں راجح اور مختار اور دلائل کے اعتبار سے سب سے قوی گیارہ رکعت کا قول ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے صحیح سند سے یہی قول ثابت ہے دیگر اقوال میں سے کوئی بھی آپ سے صحیح سند سے ثابت نہیں اور نہ ہی خلفاء راشدین ؓ میں سے کسی سے صحیح سند سے ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٨ (١٣٧)، سنن النسائی/السہو ١٠٣ (١٣٦٥)، الإقامة ١٧٣ (١٣٢٧)، ( تحفة الأشراف: ١١٩٠٣)، مسند احمد (٥/١٥٩)، سنن الدارمی/الصوم (١٨١٨) (صحیح)
807Sunan At-Tirmidhi

روزہ افطار کرانے کی فضیلت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں سے ذرا بھی کم کیا جائے ۔

Sayyidina Zayd ibn Khalid Juhanni reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone gives to a person who is fasting something with which to break his fast then for him is an equivalent reward without the least being diminished from the reward of the fasting person”. [Ahmed17030, Ibn e Majah 1746] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1746)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 807
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٥ (١٧٤٦)، ( تحفة الأشراف: ٣٧٦٠)، مسند احمد (٤/١١٤-١١٥، ١١٦) (صحیح)
808Sunan At-Tirmidhi

رمضان میں نماز شب ( یعنی تراویح) کی ترغیب اور فضلیت

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، وَيَقُولُ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ. ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ كَذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ. وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے قیام (تہجد پڑھنے) کی ترغیب دلاتے، بغیر اس کے کہ انہیں تاکیدی حکم دیں اور فرماتے: جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ، چناچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی اور معاملہ اسی پر قائم رہا، پھر ابوبکر ؓ کے عہد خلافت میں اور عمر ؓ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی پر رہا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger encouraged people to offer (voluntary) salah during Ramadan without prescribing it as an obligation. He would say, “He who stands in prayer during Ramadan with faith and seeking reward sincerely is forgiven what has past of his sins”. Then Allah’s Messenger ﷺ died while this was practiced. Then it was done like that in the caliphate of Abu Bakr (RA) and the early period of the caliphate of Umar ibn Khattab (RA) in the same manner. [Ahmed7792, Muslim 759, Abu Dawud 1371, Nisai 2100]

صحيح، صحيح أبي داود (1241)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 808
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی سے حدیث آئی ہے، ٣- یہ حدیث بطریق: «الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ کے عہد میں اور ابوبکر ؓ کے عہد میں اور عہد فاروقی کے ابتدائی سالوں میں بغیر عزیمت و تاکید کے اکیلے اکیلے ہی تراویح پڑھنے کا معاملہ رہا، پھر عمر فاروق ؓ نے ابی بن کعب ؓ کی امامت میں باضابطہٰ گیارہ رکعت تراویح باجماعت کا نظم قائم کردیا۔ اس ضمن میں مؤطا امام میں صحیح حدیث موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٥٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٨ (١٣٧١)، ( تحفة الأشراف: ١٥٢٧٠)، وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الإیمان ٢٧ (٣٧)، والصوم ٦ (١٨٩٨)، والتراویح ١ (٢٠٠٩)، و سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٨ (١٣٧١)، وسنن النسائی/قیام اللیل ٣ (١٦٠٣)، والصیام ٣٩ (٢١٩٨-٢٢٠١، ٢٢٠٣-٢٢٠٤، ٢٢١٢)، والإیمان ٢١ (٥٠٢٧- ٥٠٢٩)، و ٢٢ (٥٠٣٠) من غیر ھذا الطریق (صحیح)
809Sunan At-Tirmidhi

مکہ کا حرم ہونا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا أَوْ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكَ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهِ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ . فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو ؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى وَلَا فَارًّا بِخِزْيَةٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي شُرَيْحٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ الْعَدَوِيُّ وَهُوَ الْكَعْبِيُّ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ يَعْنِي الْجِنَايَةَ، يَقُولُ: مَنْ جَنَى جِنَايَةً أَوْ أَصَابَ دَمًا ثُمَّ لَجَأَ إِلَى الْحَرَمِ، فَإِنَّهُ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ.

ابوشریح عدوی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید ٢ ؎ سے - جب وہ مکہ کی طرف (عبداللہ بن زبیر سے قتال کے لیے) لشکر روانہ کر رہے تھے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن فرمایا، میرے کانوں نے اسے سنا، میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا، جب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: مکہ (میں جنگ و جدال کرنا) اللہ نے حرام کیا ہے۔ لوگوں نے حرام نہیں کیا ہے، لہٰذا کسی شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے، یا اس کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ ﷺ کے قتال کو دلیل بنا کر (قتال کا) جواز نکالے تو اس سے کہو: اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اس کی اجازت دی تھی، تمہیں نہیں دی ہے۔ تو مجھے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے آج اجازت تھی، آج اس کی حرمت ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ جو لوگ موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں ، ابوشریح سے پوچھا گیا: اس پر عمرو بن سعید نے آپ سے کیا کہا؟ کہا: اس نے مجھ سے کہا: ابوشریح! میں یہ بات آپ سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں، حرم مکہ کسی نافرمان (یعنی باغی) کو پناہ نہیں دیتا اور نہ کسی کا خون کر کے بھاگنے والے کو اور نہ چوری کر کے بھاگنے والے کو۔

Sayyidina Abu Shurayh Adawi reported that he said to Amr ibn Sa’eed while he was despatching an army to Makkah, “Permit me, O Amir to narrate the hadith that Allah’s Messenger . delivered standing on the morning of the conquest (of Makkah). My two ears heard it and my heart remembers it and my two eyes observed it while he was speaking. He praised Allah and glorified Him. He said: Allah has made Makkah sacred and men have not made it sacred. It is not lawful for a man who believes in Allah and the Last Day to shed blood here or to cut down its trees. So, if anyone regards fighting allowed because of the fighting of Allah’s Messenger L. here then tell them that Allah had permitted His Messenger and did not permit you. And, permission was given to me only for some time during the day and the sanctity is restored hereafter, today as its sanctity (unlawfulness) was last evening. So, let those who are present convey it to those who are not here. Abu Shurayh was asked, “What did Amr ibn Sa’eed say to you?” (He said that Amr) said, “I know better than you about it, O Abu Shurayh. Indeed the Haram does not give refuge to the disobedient and the rebels or to those who flee after slaying someone or robbing someone.” [Ahmed16373, Bukhari 1832, Muslim 1354, Nisai 1873] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 809
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوشریح ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوشریح خزاعی کا نام خویلد بن عمرو ہے۔ اور یہی عدوی اور کعبی یہی ہیں، ٣- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- «ولا فارا بخربة» کی بجائے «ولا فارا بخزية» زائے منقوطہٰ اور یاء کے ساتھ بھی مروی ہے، ٥- اور «ولا فارا بخربة» میں «خربہ» کے معنی گناہ اور جرم کے ہیں یعنی جس نے کوئی جرم کیا یا خون کیا پھر حرم میں پناہ لی تو اس پر حد جاری کی جائے گی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے اس کی فرضیت ٥ ھ یا ٦ ھ میں ہوئی اور بعض نے ٩ ھ یا ١٠ ھ کہا ہے، زادالمعاد میں ابن القیم کا رجحان اسی طرف ہے۔ ٢ ؎: عمرو بن سعید: یزید کی طرف سے مدینہ کا گونر تھا اور یزید کی حکومت کا عبداللہ بن زبیر ؓ کی خلافت کے خلاف لشکر کشی کرنا اور وہ بھی مکہ مکرمہ پر قطعا غلط تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٧ (١٠٤)، وجزاء الصید ٨ (١٨٣٢)، والمغازي ٥١ (٤٢٩٥)، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٤)، سنن النسائی/الحج ١١١ (٢٨٧٩)، ( تحفة الأشراف: ١٢٠٥٧)، مسند احمد (٤/٣١)، ویأتي عند المؤلف في الدیات (برقم: ١٤٠٦)، و مسند احمد (٦/٣٨٥) من غیر ہذا الطریق (صحیح)
810Sunan At-Tirmidhi

حج اور عمرے کا ثواب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدُ الله ابْنِ مَسْعُودٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ ایک کے بعد دوسرے کو ادا کرو اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو مٹا دیتی ہے اور حج مبرور ١ ؎ کا بدلہ صرف جنت ہے ۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ‘ said, ‘Let the Hajj and Umrah follow one another, for they remove poverty and sin as the bellows remove rust from iron, gold and silver. And there is no reward for an accepted Hajj but Paradise.” [Ahmed3669. Nisai 2627]

حسن صحيح، ابن ماجة (2887)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 810
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے، اور ابن مسعود کی روایت سے غریب ہے، ٢- اس باب میں عمر، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ، عبداللہ بن حبشی، ام سلمہ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حج مبرور وہ حج ہے جس میں حاجی اللہ کی کسی نافرمانی کا ارتکاب نہ کرے اور بعض نے حج مبرور کے معنی حج مقبول کے کئے ہیں، اس کی علامت یہ بتائی ہے کہ حج کے بعد وہ انسان اللہ کا عبادت گزار بن جائے جب کہ وہ اس سے پہلے غافل رہا ہو۔ اور ہر طرح کے شرک و کفر اور بدعت اور فسق و فجور کے کام سے تائب ہو کر اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی گزارے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٦ (٢٦٣٢)، ( تحفة الأشراف: ٩٢٧٤)، مسند احمد (١/٣٨٧) (حسن صحیح)
811Sunan At-Tirmidhi

حج اور عمرے کا ثواب

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَازِمٍ كُوفِيٌّ وَهُوَ الْأَشْجَعِيُّ وَاسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے حج کیا اور اس نے کوئی فحش اور بیہیودہ بات نہیں کی، اور نہ ہی کوئی گناہ کا کام کیا ١ ؎ تو اس کے گزشتہ تمام گناہ ٢ ؎ بخش دئیے جائیں گے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘If anyone performs Hajj, not being immodest (with women) or sinful (and wickedfully transgressing), his past sins are forgiven.” [Ahmed10278, Bukhari 1819, Muslim 1350, Nisai 2626, Ibn e Majah 2889]

صحيح حجة النبی صلی اللہ عليه وسلم (5)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 811
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «رفث» کے اصل معنی جماع کرنے کے ہیں، یہاں مراد فحش گوئی اور بےہودگی کی باتیں کرنی اور بیوی سے زبان سے جنسی خواہش کی آرزو کرنا ہے، حج کے دوران چونکہ بیوی سے مجامعت جائز نہیں ہے اس لیے اس موضوع پر اس سے گفتگو بھی ناپسندیدہ ہے، اور «فسق» سے مراد اللہ کی نافرمانی ہے، اور «جدال» سے مراد لوگوں سے لڑائی جھگڑا ہے، دوران حج ان چیزوں سے اجتناب ضروری ہے۔ ٢ ؎: اس سے مراد وہ صغیر ( چھوٹے ) گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، رہے بڑے بڑے گناہ اور وہ چھوٹے گناہ جو حقوق العباد سے متعلق ہیں تو وہ توبہ حق کے ادا کئے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤ (١٥٢١)، والمحصر ٩ (١٨١٩)، و ١٠ (١٨٢٠)، صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٥٠)، سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣ (٢٨٨٩)، ( تحفة الأشراف: ١٣٤٣١)، مسند احمد (٢/٤١٠، ٤٨٤، ٤٩٤) (صحیح) (غفر له ما تقدم من ذنبه کا لفظ شاذ ہے، اور اس کی جگہ رجع من ذنوبه كيوم ولدته أمهصحیح اور متفق علیہ ہے، تراجع الالبانی ٣٤٢)
812Sunan At-Tirmidhi

ترک حج کی مذمت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْبَاهِلِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ، وَالْحَارِثُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر کے خرچ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے اور وہ حج نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر، اور یہ اس لیے کہ اللہ نے اپنی کتاب (قرآن) میں فرمایا ہے: اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔

Sayyidina Ali (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a person possesses enough provision of journey and a ridingbeast to take him to the House of Allah but does not perform Hajj then it makes no difference whether he dies a Jew or a Christian. and that is because Allah has said in His Book.” And pilgrimage to the House is a duty of Mankind towards Allah, for him who is able to make his way to it. (3: 97)

ضعيف، المشکاة (2521)، التعليق الرغيب (2 / 134) // ضعيف الجامع الصغير (5860) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 812
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے ١ ؎، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس کی سند میں کلام ہے۔ ہلال بن عبداللہ مجہول راوی ہیں۔ اور حارث حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ضعیف ہے، مگر علی ؓ کے اپنے قول سے صحیح ہے، اور ایسی بات کوئی صحابی اپنی رائے سے نہیں کہہ سکتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (سند میں ہلال اور حارث اعور دونوں ضعیف راوی ہیں)
813Sunan At-Tirmidhi

زرد راہ اور سواری کی ملکیت سے حج فرض ہوجاتا ہے

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُوجِبُ الْحَجَّ ؟ قَالَ: الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَجُّ، وَإِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ الْمَكِّيُّ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز حج واجب کرتی ہے؟ آپ نے فرمایا: سفر خرچ اور سواری ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man came to the Prophet ﷺ and said, ‘O Messenger of Allah! ﷺ What makes Hajj obligatory?” He said, “Possession of provision of journey and a riding-beast.”

ضعيف جدا، ابن ماجة (2896) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (631)، وانظر صحيح ابن ماجة رقم (2341)، الإرواء (988) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 813
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابراہیم ہی ابن یزید خوزی مکی ہیں اور ان کے حافظہ کے تعلق سے بعض اہل علم نے ان پر کلام کیا ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب سفر خرچ اور سواری کا مالک ہوجائے تو اس پر حج واجب ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (٢٨٩٦)، ویأتي في التفسیر (برقم: ٢٩٩٨) (تحفة الأشراف: ٨٤٤) (ضعیف جدا) (سند میں ” ابراہیم بن یزید الخوزی “ متروک الحدیث راوی ہے)
814Sunan At-Tirmidhi

کتنے حج فرض ہے

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ ؟ فَسَكَتَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كُلِّ عَامٍ، قَالَ: لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَاسْمُ أَبِي البَخْتَرِيِّ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ فَيْرُوزَ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اللہ کے لیے لوگوں پر خانہ کعبہ کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھیں ، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال (فرض ہے) ؟ آپ خاموش رہے۔ لوگوں نے پھر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہوجاتا اور پھر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا: اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تم پر شاق گزریں ۔

Sayyidina Ali narrated that when the verse. (3 : 97) was revealed, they said, O Messenger of Allah! ﷺ Is that every year?” So he observed silence. They said (again), “O Messenger of Allah, is that every year?” he said, “No! and if I had said Yes then that would have become fard (every year).” So Allah the Exalted, revealed: O you who believe! Question not about things which if they were disclosed to you, would annoy you. (5:101)

ضعيف، ابن ماجة (2884) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (628)، الإرواء (980)، وسيأتي برقم (584 / 3261) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 814
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- ابوالبختری کا نام سعید بن ابی عمران ہے اور یہی سعید بن فیروز ہیں، ٣- اس باب میں ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٢ (٢٨٨٤)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر المائدہ (٣٠٥٥) (ضعیف) (سند میں ابو البختری کی علی ؓ سے معاصرت وسماع نہیں ہے، اس لیے سند منقطع ہے)
815Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ نے کتنے حج کئے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَاب، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ ثَلَاثَ حِجَجٍ، حَجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ، وَحَجَّةً بَعْدَ مَا هَاجَرَ وَمَعَهَا عُمْرَةٌ، فَسَاقَ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ بَدَنَةً، وَجَاءَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ بِبَقِيَّتِهَا فِيهَا جَمَلٌ لِأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَنَحَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَطُبِخَتْ وَشَرِبَ مِنْ مَرَقِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَاب، وَرَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ فِي كُتُبِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَلَمْ يَعْرِفْهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتُهُ لَمْ يَعُدَّ هَذَا الْحَدِيثَ مَحْفُوظًا، وقَالَ: إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ مُرْسَلًا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے تین حج کئے، دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج ہجرت کے بعد، اس کے ساتھ آپ نے عمرہ بھی کیا اور ترسٹھ اونٹ ہدی کے طور پر ساتھ لے گئے اور باقی اونٹ یمن سے علی لے کر آئے۔ ان میں ابوجہل کا ایک اونٹ تھا۔ اس کی ناک میں چاندی کا ایک حلقہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں نحر کیا، پھر آپ نے ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا لے کر اسے پکانے کا حکم دیا، تو پکایا گیا اور آپ نے اس کا شوربہ پیا۔

Sayyidina All narrated that when the verse. (3 : 97) was revealed, they said, O Messenger of Allah! ﷺ Is that every year?” So he observed silence. They said (again), “O Messenger of Allah, is that every year?” he said, “No! and if I had said Yes then that would have become fard (every year).” So Allah the Exalted, revealed: O you who believe! Question not about things which if they were disclosed to you, would annoy you. (5:101)

صحيح، ابن ماجة (3076)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 815
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث سفیان کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کے طریق سے جانتے ہیں ١ ؎، ٢- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ حدیث عبداللہ بن ابی زیاد کے واسطہ سے روایت کی ہے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے سلسلے میں پوچھا تو وہ اسے بروایت «الثوري عن جعفر عن أبيه عن جابر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» نہیں جان سکے، میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے اس حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا: یہ ثوری سے روایت کی جاتی ہے اور ثوری نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے مجاہد سے مرسلاً روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن ماجہ کے یہاں عبدالرحمٰن بن داود نے زید بن حباب کی متابعت کی ہے، نیز ان کے یہاں اس کی ابن عباس ؓ کی روایت شاہد بھی موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ٨٤ (٣٠٧٦) (تحفة الأشراف: ٢٦٠٦) (صحیح)
816Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ نے کنتے عمرے کئے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الثَّانِيَةِ مِنْ قَابِلٍ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةَ الثَّالِثَةِ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ، وَالرَّابِعَةِ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ،وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چار عمرے کئے: حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا عمرہ اگلے سال یعنی ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ جعرانہ ١ ؎ کا، چوتھا عمرہ جو اپنے حج کے ساتھ کیا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ performed umrah four times: the umratul Hudaybiyah, the second umrah (next year) in Dhulqa’dah to make up for the one of Hudaybiyah, the third umrah from Jiranah and the fourth which was with his Hajj. [Abu Dawud 1994, Ibn e Majah 3003]

صحيح، ابن ماجة (3003)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 816 ابن عیینہ نے بسند عمرو بن دینار عن عکرمہ روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے چار عمرے کئے، اس میں عکرمہ نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے،
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں انس، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جعرانہ طائف اور مکہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے بعد یہیں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ المناسک ٨٠ (١٩٩٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٠ (٣٠٠٣) (تحفة الأشراف: ٦١٦٨)، مسند احمد (١/٢٤٦) (صحیح)
817Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ نے کس جگہ احرام باندھا

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا، فَلَمَّا أَتَى الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ نے حج کا ارادہ کیا تو آپ نے لوگوں میں اعلان کرایا۔ (مدینہ میں) لوگ اکٹھا ہوگئے، چناچہ جب آپ (وہاں سے چل کر) بیداء پہنچے تو احرام باندھا ١ ؎۔

صحيح حجة النبی صلی اللہ عليه وسلم (45 / 2)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 817
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، انس، مسور بن مخرمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے درحقیقت ذو الحلیفہ کی مسجد میں نماز کے بعد احرام باندھا، دیکھئیے اگلی حدیث۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٦١٢) (صحیح)
818Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ نے کس جگہ احرام باندھا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: الْبَيْدَاءُ الَّتِي يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ. قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: بیداء جس کے بارے میں لوگ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھتے ہیں (کہ وہاں سے احرام باندھا) ١ ؎ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے مسجد (ذی الحلیفہ) کے پاس درخت کے قریب تلبیہ پکارا ٢ ؎۔

Sayyidinah lbn Umar said, ‘You lie (when you say) Allah’s Messenger assumed the ihram at Bayda. By Allah, he assumed it at the mosque (at Dhul Hulayfa) near the tree.” [Bukhari 1541, Muslim 1186]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 818
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بات ابن عمر نے ان لوگوں کی غلط فہمی کے ازالہ کے لیے کہی جو یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیداء کے مقام سے احرام باندھا تھا۔ ٢ ؎: ان روایات میں بظاہر تعارض ہے، ان میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ آپ نے احرام تو مسجد کے اندر ہی باندھا تھا جنہوں نے وہاں آپ کے احرام کا مشاہدہ کیا انہوں نے اس کا ذکر کیا اور جب آپ مسجد سے باہر تشریف لائے اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بلند آواز سے تلبیہ پکارا تو دیکھنے والوں نے سمجھا کہ آپ نے اسی وقت احرام باندھا ہے، پھر جب آپ بیداء پر پہنچے اور آپ نے لبیک کہا تو جن حضرات نے وہاں لبیک کہتے سنا انہوں نے سمجھا کہ آپ نے یہاں احرام باندھا ہے، گویا ہر شخص نے اپنے مشاہدہ کے مطابق خبر دی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٢ (١٥١٥)، و ٢٠ (١٥٤١)، والجہاد ٥٣ (٢٨٦٥)، صحیح مسلم/الحج (١١٨٦)، سنن ابی داود/ المناسک ٢١ (١٧٧١)، سنن النسائی/الحج ٥٦ (٢٧٥٨)، ( تحفة الأشراف: ٧٠٢٠)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣٠)، مسند احمد (٢/١٠، ٦٦، ١٥٤) (صحیح)
819Sunan At-Tirmidhi

نبی ﷺ نے کب احرام باند ھا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز کے بعد احرام باندھا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) said : The Prophet ﷺ recited the tahieel after offering the salah. [Nisai 2750]

ضعيف، ضعيف أبي داود (312) // عندنا برقم (388 / 1770)، ضعيف سنن النسائي برقم (175 / 2754) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 819
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم عبدالسلام بن حرب کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث روایت کی ہو، ٣- جس چیز کو اہل علم نے مستحب قرار دیا ہے وہ یہی ہے کہ آدمی نماز کے بعد احرام باندھے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٥٦ (٢٧٥٥) (تحفة الأشراف: ٥٥٠٢) (ضعیف) (سند میں خصیف مختلط راوی ہیں)