نبی اکرم ﷺ نے کس جگہ احرام باندھا
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا، فَلَمَّا أَتَى الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ نے حج کا ارادہ کیا تو آپ نے لوگوں میں اعلان کرایا۔ (مدینہ میں) لوگ اکٹھا ہوگئے، چناچہ جب آپ (وہاں سے چل کر) بیداء پہنچے تو احرام باندھا ١ ؎۔
صحيح حجة النبی صلی اللہ عليه وسلم (45 / 2)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 817
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، انس، مسور بن مخرمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے درحقیقت ذو الحلیفہ کی مسجد میں نماز کے بعد احرام باندھا، دیکھئیے اگلی حدیث۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٦١٢) (صحیح)