ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے حج کیا اور اس نے کوئی فحش اور بیہیودہ بات نہیں کی، اور نہ ہی کوئی گناہ کا کام کیا ١ ؎ تو اس کے گزشتہ تمام گناہ ٢ ؎ بخش دئیے جائیں گے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘If anyone performs Hajj, not being immodest (with women) or sinful (and wickedfully transgressing), his past sins are forgiven.” [Ahmed10278, Bukhari 1819, Muslim 1350, Nisai 2626, Ibn e Majah 2889]
صحيح حجة النبی صلی اللہ عليه وسلم (5)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 811
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «رفث» کے اصل معنی جماع کرنے کے ہیں، یہاں مراد فحش گوئی اور بےہودگی کی باتیں کرنی اور بیوی سے زبان سے جنسی خواہش کی آرزو کرنا ہے، حج کے دوران چونکہ بیوی سے مجامعت جائز نہیں ہے اس لیے اس موضوع پر اس سے گفتگو بھی ناپسندیدہ ہے، اور «فسق» سے مراد اللہ کی نافرمانی ہے، اور «جدال» سے مراد لوگوں سے لڑائی جھگڑا ہے، دوران حج ان چیزوں سے اجتناب ضروری ہے۔ ٢ ؎: اس سے مراد وہ صغیر ( چھوٹے ) گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، رہے بڑے بڑے گناہ اور وہ چھوٹے گناہ جو حقوق العباد سے متعلق ہیں تو وہ توبہ حق کے ادا کئے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤ (١٥٢١)، والمحصر ٩ (١٨١٩)، و ١٠ (١٨٢٠)، صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٥٠)، سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣ (٢٨٨٩)، ( تحفة الأشراف: ١٣٤٣١)، مسند احمد (٢/٤١٠، ٤٨٤، ٤٩٤) (صحیح) (غفر له ما تقدم من ذنبه کا لفظ شاذ ہے، اور اس کی جگہ رجع من ذنوبه كيوم ولدته أمهصحیح اور متفق علیہ ہے، تراجع الالبانی ٣٤٢)