Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 107 of 199

2186Sunan At-Tirmidhi

سورج کا مغرب سے نکلنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ، فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا اطْلُعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ 0 وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا 0 ، قَالَ: وَذَلِكَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد میں مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ابوذر! جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: وہ سجدے کی اجازت لینے جاتا ہے، اسے اجازت مل جاتی ہے لیکن ایک وقت اس سے کہا جائے گا: اسی جگہ سے نکلو جہاں سے آئے ہو، لہٰذا وہ پچھم سے نکلے گا ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: «وذلک مستقر لها» یہ اس کا ٹھکانا ہے ، راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت یہی ہے۔

Sayvidina Abu Dharr (RA) narrated : I went into the mosque after sunset. The Prophet ﷺ was already seated there. He asked me, “O Abu Dharr, do you know where this (sun) goes?” I said, Allah and His Messenger know best.” He said, “It goes to seek permission to make prostration and it is given permission, as though it is said to it, Rise from where you have come. So it rises from its west.” And he recited That is determined for it. This is the recital of Abdullah ibn Mas’ud. [Bukhari 3199, Muslim 159]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2186
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں صفوان بن عسال، حذیفہ، اسید، انس اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٤ (٣١٩٩)، والتوحید ٢٢ (٧٤٢٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٧٢ (١٥٩)، ویأتي في تفسیر یسین برقم: ٣٢٢٧) (تحفة الأشراف: ١١٩٩٣) (صحیح )
2187Sunan At-Tirmidhi

یاجوج اور ماجوج کے نکلنے کے متعلق

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يُرَدِّدُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ، وَعَقَدَ عَشْرًا، قَالَتْ زَيْنَبُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَنَهْلَكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخُبْثُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ جَوَّدَ سُفْيَانُ هَذَا الْحَدِيثَ، هَكَذَا رَوَى الْحُمَيْدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ نَحْوَ هَذَا، وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: حَفِظْتُ مِنَ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ: زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، وَهُمَا رَبِيبَتَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَكَذَا رَوَى مَعْمَرٌ، وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ حَبِيبَةَ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ ابْنِ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ.

زینب بنت جحش ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سو کر اٹھے تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے: «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں آپ نے اسے تین بار دہرایا، پھر فرمایا: اس شر (فتنہ) سے عرب کے لیے تباہی ہے جو قریب آگیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے اور آپ نے (ہاتھ کی انگلیوں سے) دس کی گرہ لگائی ١ ؎، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، جب برائی زیادہ ہوجائے گی ۔

Sayyidah Zaynab bint Jahsh (RA) narrated Allah’s Messenger ﷺ got up from sleep once and his face had turned red. He was reciting, There is no God but Allah. He repeated it three times. “There is trouble for the Arabs from this mischief which is near. he waH of Yajuj and Majuj has been opened this much”, indicating with his fingers a round circle. Sayyidah Zaynab (RA) said, “O Messenger of Allah, ﷺ will they perish while we, righteous people are among them?” He said, “Yes if evil overwhelms.” [Bukhari 3346, Muslim 2880]

صحيح، ابن ماجة (3953)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2187
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - (سند میں چار عورتوں کا تذکرہ کر کے) سفیان بن عیینہ نے یہ حدیث اچھی طرح بیان کی ہے، حمیدی، علی بن مدینی اور دوسرے کئی محدثین نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣ - حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے اس حدیث کی سند میں زہری سے چار عورتوں کا واسطہ یاد کیا ہے: «عن زينب بنت أبي سلمة، عن حبيبة، عن أم حبيبة، عن زينب بنت جحش»، زینب بنت ابی سلمہ اور حبیبہ نبی اکرم ﷺ کی سوتیلی لڑکیاں ہیں اور ام حبیبہ اور زینب بنت جحش نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں، ٤ - معمر اور کئی لوگوں نے یہ حدیث زہری سے اسی طرح روایت کی ہے مگر اس میں حبیبہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ابن عیینہ کے بعض شاگردوں نے ابن عیینہ سے یہ حدیث روایت کرتے وقت اس میں ام حبیبہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے اس سوراخ کی مقدار بتائی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٧ (٣٣٤٦)، والمناقب ٢٥ (٣٥٩٨)، والفتن ٤ (٧٠٥٩)، و ٢٨ (٧١٣٥)، صحیح مسلم/الفتن ١ (٢٨٨٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٩ (٣٩٥٢) (تحفة الأشراف: ١٥٨٨٠)، و مسند احمد (٦/٤٢٨، ٤٢٩) (صحیح )
2188Sunan At-Tirmidhi

خارجی گروہ کی نشانی کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ وَصَفَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، إِنَّمَا هُمْ الْخَوَارِجُ الْحَرُورِيَّةُ، وَغَيْرُهُمْ مِنَ الْخَوَارِجِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ ١ ؎ میں ایک قوم نکلے گی جس کے افراد نوعمر اور سطحی عقل والے ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن کی بات کریں گے لیکن وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر آر پار نکل جاتا ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There will rise in the final period a people, young of age but poor of intelligence. They will recite the Qur’an but it will not get past their throats. They will mention from the sayings of the best of creation (the Prophet ﷺ but will come out of religion as an arrow comes out of the game.” [Ibn Majah 168]

حسن صحيح، ابن ماجة (168)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2188
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - دوسری حدیث میں نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے جس میں آپ نے انہیں لوگوں کی طرح اوصاف بیان کیا کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے، مگر ان کے گلے کے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے، ان سے مقام حروراء کی طرف منسوب خوارج اور دوسرے خوارج مراد ہیں، ٣ - اس باب میں علی، ابوسعید اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد خلافت راشدہ کا اخیر زمانہ ہے، اس خلافت کی مدت تیس سال ہے، خوارج کا ظہور علی ؓ کے دور خلافت میں ہوا، جب خلافت راشدہ کے دو سال باقی تھے تو علی ؓ نے نہروان کے مقام پر ان سے جنگ کی، اور انہیں قتل کیا، خوارج میں نوعمر اور غیر پختہ عقل کے لوگ تھے جو پرفریب نعروں کا شکار ہوگئے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ پیش گوئی ہر زمانہ میں ظاہر ہو رہے ہیں آج کے پرفتن دور میں اس کا مظاہرہ جگہ جگہ نظر آ رہا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ دے اور ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھے، آمین۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٢ (١٦٨) (تحفة الأشراف: ٩٢١٠)، و مسند احمد (١/٤٠٤) (صحیح )
2189Sunan At-Tirmidhi

اثرہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اسید بن حضیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں کو عامل بنادیا اور مجھے عامل نہیں بنایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد (غلط) ترجیح دیکھو گے، لہٰذا تم اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو ۔

Sayyidina Usayd ibn Hudayr (RA) reported that an Ansar submitted, “O Messenger of Allah, ﷺ you availed of the services of ‘that.’ man but did not ask for me to serve you.” So, he said, “You people will see atharah after me, so be patient till you meet me at the pond (Kawthar in Paradise).” [Bukhari 3792, Muslim 1845, Nisai 5398]

صحيح الظلال (752 و 753)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2189
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٨ (٣٧٩٢)، والفتن ٢ (٧٠٥٧)، صحیح مسلم/الإمارة ١١ (١٨٤٥)، سنن النسائی/آداب القضاة ٤ (٥٣٨٥) (تحفة الأشراف: ١٤٨)، و مسند احمد (٤/٣٥١، ٣٥٢) (صحیح )
2190Sunan At-Tirmidhi

اثرہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا ، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد عنقریب (غلط) ترجیح اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم برا جانو گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم حکام کا حق ادا کرنا (ان کی اطاعت کرنا) اور اللہ سے اپنا حق مانگو ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah reported from the Prophet ﷺ that he said, you will see, after me, the atharah and such things as you would dislike.” They said, ‘Then, what do you command us (to do)?” He said, “Give them their rights (and obey them without rebelling against their rule), and ask Allah for that which is yours.” [Bukhari 3603, Muslim 1843, Ahmed 4166]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2190
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حکام اگر ایسے لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دیں جو قابل ترجیح نہیں ہیں تو تم صبر سے کام لیتے ہوئے ان کی اطاعت کرو اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو، کیونکہ اللہ نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٠٣)، والفتن ٢ (٧٠٥٢)، صحیح مسلم/الإمارة ١٠ (١٨٤٣) (تحفة الأشراف: ٩٢٢٩)، و مسند احمد (١/٣٨٤، ٣٨٧، ٤٣٣) (صحیح )
2191Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو قیامت تک کے واقعات کی خبر دی

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةَ الْعَصْرِ بِنَهَارٍ، ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا أَخْبَرَنَا بِهِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ: إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ فِيمَا قَالَ: أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو سَعِيدٍ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ رَأَيْنَا أَشْيَاءَ فَهِبْنَا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَكَانَ فِيمَا قَالَ: أَلَا إِنَّهُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ يُرْكَزُ لِوَاؤُهُ عِنْدَ اسْتِهِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَكَانَ فِيمَا حَفِظْنَا يَوْمَئِذٍ: أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى، فَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمُ الْبَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ، وَمِنْهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْءِ فَتِلْكَ بِتِلْكَ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمْ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ، أَلَا وَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْءِ، أَلَا وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ بَطِيءُ الْفَيْءِ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمْ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ، وَمِنْهُمْ سَيِّئُ الْقَضَاءِ حَسَنُ الطَّلَبِ، وَمِنْهُمْ حَسَنُ الْقَضَاءِ سَيِّئُ الطَّلَبِ فَتِلْكَ بِتِلْكَ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمُ السَّيِّئَ الْقَضَاءِ السَّيِّئَ الطَّلَبِ، أَلَا وَخَيْرُهُمُ الْحَسَنُ الْقَضَاءِ الْحَسَنُ الطَّلَبِ، أَلَا وَشَرُّهُمْ سَيِّئُ الْقَضَاءِ سَيِّئُ الطَّلَبِ، أَلَا وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، أَمَا رَأَيْتُمْ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَجَعَلْنَا نَلْتَفِتُ إِلَى الشَّمْسِ هَلْ بَقِيَ مِنْهَا شَيْءٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ، وَأَبِي مَرْيَمَ، وَأَبِي زَيْدِ بْنِ أَخْطَبَ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کچھ پہلے پڑھائی پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اور آپ نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کے بارے میں ہمیں خبر دی، یاد رکھنے والوں نے اسے یاد رکھا اور بھولنے والے بھول گئے، آپ نے جو باتیں بیان فرمائیں اس میں سے ایک بات یہ بھی تھی: دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنائے گا ١ ؎، پھر دیکھے گا کہ تم کیسا عمل کرتے ہو؟ خبردار! دنیا سے اور عورتوں سے بچ کے رہو ٢ ؎، آپ نے یہ بھی فرمایا: خبردار! حق جان لینے کے بعد کسی آدمی کو لوگوں کا خوف اسے بیان کرنے سے نہ روک دے ، ابو سعید خدری ؓ نے روتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت ساری چیزیں دیکھی ہیں اور (بیان کرنے سے) ڈر گئے آپ نے یہ بھی بیان فرمایا: خبردار! قیامت کے دن ہر عہد توڑنے والے کے لیے اس کے عہد توڑنے کے مطابق ایک جھنڈا ہوگا اور امام عام کے عہد توڑنے سے بڑھ کر کوئی عہد توڑنا نہیں، اس عہد کے توڑنے والے کا جھنڈا اس کے سرین کے پاس نصب کیا جائے گا ، اس دن کی جو باتیں ہمیں یاد رہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی: جان لو! انسان مختلف درجہ کے پیدا کیے گئے ہیں کچھ لوگ پیدائشی مومن ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں مرتے ہیں، کچھ لوگ مومن پیدا ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندہ رہتے ہیں، اور ایمان کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگوں کو غصہ دیر سے آتا ہے اور جلد ٹھنڈا ہوجاتا ہے، کچھ لوگوں کو غصہ جلد آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ دونوں برابر ہیں، جان لو! کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جلد غصہ آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، جان لو! ان میں سب سے بہتر وہ ہیں جو دیر سے غصہ ہوتے ہیں اور جلد ٹھنڈے ہوجاتے ہیں، اور سب سے برے وہ ہیں جو جلد غصہ ہوتے ہیں اور دیر سے ٹھنڈے ہوتے ہیں، جان لو! کچھ لوگ اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتے ہیں اور اچھے ڈھنگ سے قرض وصول کرتے ہیں، کچھ لوگ بدسلوکی سے قرض ادا کرتے ہیں، اور بدسلوکی سے وصول کرتے ہیں، جان لو! ان میں سب سے اچھا وہ ہے جو اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتا ہے اور اچھے ڈھنگ سے وصول کرتا ہے، اور سب سے برا وہ ہے جو برے ڈھنگ سے ادا کرتا ہے، اور بدسلوکی سے وصول کرتا ہے، جان لو! غصہ انسان کے دل میں ایک چنگاری ہے کیا تم غصہ ہونے والے کی آنکھوں کی سرخی اور اس کی گردن کی رگوں کو پھولتے ہوئے نہیں دیکھتے ہو؟ لہٰذا جس شخص کو غصہ کا احساس ہو وہ زمین سے چپک جائے ، ابو سعید خدری کہتے ہیں: ہم لوگ سورج کی طرف مڑ کر دیکھنے لگے کہ کیا ابھی ڈوبنے میں کچھ باقی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جان لو! دنیا کے گزرے ہوئے حصہ کی بہ نسبت اب جو حصہ باقی ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا حصہ آج کا تمہارے گزرے ہوئے دن کی بہ نسبت باقی ہے ٣ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported : Allah’s Messenger ﷺ offered the salah of asr with us one day. Then, he got up and addressed us, leaving out nothing that would happen till the Last Hour and informed us of all that. So, he who did, remembered it and he who forgot, forgot it. Of what he said is, “The world is green and sweet and Allah has made you khaufah here. He will see how you work. Beware! Preserve yourself from the world and preserve yourself from women. Beware ! Let not awe of the people prevent one who has knowledge from speaking the truth. “The sub-narrator said that Abu Sa’eed (RA) wept and said, “By Allah, we saw something and were awe-stricken.” The Prophet ﷺ also said, “Beware! The standard will be set up on the Day of Resurrection for the betrayer according to the degree of his betrayal. And no betrayal is greater then the betrayal of the general imam. His standard will he posted on his back.” Sayyidina Abu Sa’eed reported that of what they remembered that day is (the Prophet ﷺ saying), “Beware ! The children of Adam are created on different stages: Among them is he who is born a Believer, lives a Believer and dies a Believer. Among them is he too who is born an infidel, lives as an infidel and dies an infidel. Among them is he who is born Believer, Lives as a Believer hut dies an infidel. And among them is he who is born an infidel, lives as an infidel but dies a Believer. Beware! And among them is one who is slow to get angry but quick to cool down. And among them is he who is quick to get angry and also quick to cool down. They are auke, equal. And of them is one who is quick to get angry, but slow to cool down. Beware! The best of them is the slow to get angry and quick to cool down and the worst of them is the quick to get angry and the slow to cool down. Beware! Among them is the one who is a good pay master and mild in demanding repayment. And among them is he who is had at repayment and mild in demanding repayment. And among them is he who is good at repaymant and harsh in demanding repayment. That is the equilibrium. Beware! Among them is he who is a bad paymaster and a harsh collector (of debts). Beware, the best of them is the good paymaster and mild in demanding repayment. Beware! And the worst of them is he who is bad at repayment and harsh in demanding. Beware! Anger is a firebrand in the heart of the son of Adam. Do you not see the redness of his eyes and the swollen vein on his neck. Thus, one who feels something of that, let him cling down to earth, close to it.’ The narrator said that they looked at the sun to see if it was there or had set down. The Prophet ﷺ then said, Beware! The world’s life will not last but onv as much as is past, except like this day of yours compared to what has gone by of it.’ [ Ibn Majah 4000]

ضعيف، لکن بعض فقراته صحيح . فانظر مثلا ابن ماجة (4000) الرد علی بليق (86)، ابن ماجة (4000) // ضعيف سنن ابن ماجة (865 ) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2191
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ، ابومریم، ابوزید بن اخطب اور مغیرہ بن شعبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے قیامت تک ہونے والی چیزوں کو بیان فرمایا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تم کو پچھلی قوموں کا وارث و نائب بنائے گا، یہ نہیں کہ انسان اللہ کا خلفیہ و نائب ہے یہ غلط بات ہے، بلکہ اللہ خود انسان کا خلیفہ ہے جیسا کہ خضر کی دعا میں ہے «والخلیف ۃ بعد»۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٩ (٤٠٠٠) (تحفة الأشراف: ٤٣٦٦) (ضعیف) (سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں، اس لیے یہ حدیث اس سیاق سے ضعیف ہے، لیکن اس حدیث کے کئی ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے: الصحیحہ: ٤٨٦، و ٩١١ )
2192Sunan At-Tirmidhi

اہل شام کی فضلیت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

قرہ بن ایاس المزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہوجائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی، میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Qurrah reported that Allah’s Messenger said, “When people of Syria become bad, there remains no good in you. There continues to be a section of my ummah who are helped always and they will suffer no harm if anyone lets them down, till the Hour comes. Muhammad ibn Isma’il (Bukhari) said that Ali ibn Madini explained that they were scholars of hadith. [Ahmed 20383, Ibn Majah 6]

صحيح، ابن ماجة (6)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2192
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن حوالہ، ابن عمر، زید بن ثابت اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا کہ علی بن مدینی نے کہا: ان سے مراد اہل حدیث ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اللہ کی نصرت و مدد سے سرفراز رہے گا، اس کی نصرت و تائید نہ کرنے والے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، امام نووی کہتے ہیں: یہ گروہ اقطار عالم میں منتشر ہوگا، جس میں بہادر قسم کے جنگجو، فقہاء، محدثین، زہداء اور معروف و منکر کا فریضہ انجام دینے والے لوگ ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١ (٦) (تحفة الأشراف: ١١٠٨١)، و مسند احمد (٥/٣٤، ٣٥) (صحیح )
2193Sunan At-Tirmidhi

میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کو قتل نہ کرنے لگ جانا

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَرِيرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَكُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، وَالصُّنَابِحِيِّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مت مارنا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not return to disbelief, some of you striking the neck of some others, after me.” [Bukhari 1739]

صحيح، ابن ماجة (3942 و 3943)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2193
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، جریر، ابن عمر، کرز بن علقمہ، واثلہ اور صنابحی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ ـ: یعنیکفار سے مشابہتمتاختیارکرنا اور کفریہاعمالکونہاپنانا، اسحدیث میں کافرکالفظزجروتوبیخ کے طورپ رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٣٢ (١٧٣٩)، والفتن ٨ (٧٠٧٩) (تحفة الأشراف: ٦١٨٥)، و مسند احمد (١/٢٣٠، ٤٠٢) (صحیح )
2194Sunan At-Tirmidhi

ایسا فتنہ جس میں بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ عِنْدَ فِتْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي وَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ لِيَقْتُلَنِي، قَالَ: كُنْ كَابْنِ آدَمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي وَاقِدٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَخَرَشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَزَادَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

بسر بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے عثمان بن عفان ؓ کے دور خلافت میں ہونے والے فتنہ کے وقت کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ ہوگا جس میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ، میں نے عرض کیا: آپ بتائیے اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے اور قتل کرنے کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: آدم کے بیٹے (ہابیل) کی طرح ہوجانا ۔

Busr ibn Sa’eed reported on the authorityof Sayyidina Sa’d ibn Waqqas (RA) that Sayyid ma Uthman ibn Affan (RA) bore testimony that Allah’s Messenger said concerning trial, “There will come a trial when the sitter during it will be better than one who is standing. He who keeps standing will be better than he who walks while the walker will be better than the runner.’ He asked, “What should I do if anyone intrudes into my home and raises his hand over me to kill me?” He said, “Be like the son of Adam.” (Habil was killed at the hands of his brother). [Muslim 2887, Ahmed 20434]

صحيح، الصحيحة (758)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2194
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسے لیث بن سعد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «رجلا» (ایک آدمی) کا اضافہ کیا ہے، ٣ - سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت سے نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٤ - اس باب میں ابوہریرہ، خباب بن ارت، ابوبکرہ، ابن مسعود، ابو واقد، ابوموسیٰ اشعری اور خرشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٨٤٦) (صحیح )
2195Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہوگا، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہوگا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Set about doing (good) deeds before trials engulf you like a portion of a dark night (when) a man commences his morning as a believer but becomes a disbeliever by evening, or is a believer in the evening and morning finds him a disbeliever. He sells his religion against a little of this world.” [Ahmed 8036, Muslim 118]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرب قیامت کے وقت بکثرت فتنوں کا ظہور ہوگا، ہر ایک دنیا کا طالب ہوگا، لوگوں کی نگاہ میں دین و ایمان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، انسان مختلف قسم کے روپ اختیار کرے گا، یہاں تک کہ دنیوی مفادات کی خاطر اپنا دین و ایمان فروخت کر بیٹھے گا، اس حدیث میں ایسے حالات میں اہل ایمان کو استقامت کی اور بلا تاخیر اعمال صالحہ بجا لانے کی تلقین کی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٥١ (١١٨) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٥) (صحیح )
2196Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ لَيْلَةً، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ ؟ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ؟ يَا رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْآخِرَةِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات بیدار ہوئے اور فرمایا: سبحان اللہ! آج کی رات کتنے فتنے اور کتنے خزانے نازل ہوئے! حجرہ والیوں (امہات المؤمنین) کو کوئی جگانے والا ہے؟ سنو! دنیا میں کپڑا پہننے والی بہت سی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی ١ ؎۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that one night the Prophet ﷺ woke up and said, “SubhanAllah (Glory be to Allah)! How many trials descended tonight! And how many treasures came down tonight! Who will wake up the ladies of the chamber (the pure wives of the Prophet ﷺ ? Most of the dressed in this world will be bare in the hereafter.” [Bukhari 115, Ahmed 26607]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2196
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو بےانتہا باریک لباس پہنتی ہیں، یا وہ عورتیں مراد ہیں جن کے لباس مال حرام سے بنتے ہیں، یا وہ عورتیں ہیں جو بطور زینت بہت سے کپڑے استعمال کرتی ہیں، لیکن عریانیت سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھتیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٠ (١١٥)، والتھجد ٥ (١١٢٦)، والمناقب ٢٥ (٣٥٩٩)، واللباس ٣١ (٥٨٤٤)، والأدب ١٢١ (٦٢١٨)، والفتن ٦ (٧٠٦٩) (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٠)، و مسند احمد (٦/٢٩٧) (صحیح )
2197Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجُنْدَبٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت سے پہلے سخت تاریک رات کی طرح فتنے (ظاہر) ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام میں کافر ہوجائے گا، شام میں مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے کچھ لوگ اپنا دین بیچ دیں گے ۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As the Hour approaches, there will be trials like a portion of a dark night. A man who wakes up in it as a believer turns a disbeliever in the evening. Or, he is believer in the evening but wakes up a disbeliever in the morning. People will sell their religion for a little of this world.”

حسن صحيح، الصحيحة (758 و 810 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2197
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، جندب، نعمان بن بشیر اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ الموٌلف (تحفة الأشراف: ٨٥٠) (حسن صحیح )
2198Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، قَالَ: يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُحَرِّمًا لِدَمِ أَخِيهِ وَعِرْضِهِ وَمَالِهِ وَيُمْسِي مُسْتَحِلًّا لَهُ، وَيُمْسِي مُحَرِّمًا لِدَمِ أَخِيهِ وَعِرْضِهِ وَمَالِهِ وَيُصْبِحُ مُسْتَحِلًّا لَهُ .

حسن بصری کہتے ہیں کہ اس حدیث صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صبح کو اپنے بھائی کی جان، عزت اور مال کو حرام سمجھے گا اور شام کو حلال سمجھے گا۔

Hasan said in explanation of this hadith (A man begins his morning a believer and turns a disbeliever in the evening, or begins his evening as a believer and turns a disbeliever in the morning). He said, Morning finds him holding the blood, honour and property of his brother sacred (and disallawed to him), but by evening he will regard them as lawful to him. And evening finds him holding his brothers blood, honour and property as sacred (and forbidden to him), but by morning he regards them as lawful to him.

صحيح الإسناد عن الحسن، وهو البصریصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2198
Takhrij · تخریج
تفرد بہ الموٌلف (لم یذکرہ المزي) (صحیح الإسناد )
2199Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ سَأَلَهُ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَمْنَعُونَا حَقَّنَا وَيَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، اس وقت آپ سے ایک آدمی سوال کرتے ہوئے کہہ رہا تھا: آپ بتائیے اگر ہمارے اوپر ایسے حکام الحکمرانی کریں جو ہمارا حق نہ دیں اور اپنے حق کا مطالبہ کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کا حکم سنو اور ان کی اطاعت کرو، اس لیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہیں اور تم اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہو ١ ؎۔

Sayyidina Wail ibn Hujr (RA) narrated I heard a man ask Allah’s Messenger ‘If such rulers govern us who deny us our rights but demand their own rigths, what should we do? le said, Listen and obey, for on them is what they carry and on you is what you carry.” (‘[heir deeds are with them and yours are with you). [Muslim 1846]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2199
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر حکام مال غنیمت وغیرہ میں سے تمہارا حق نہ دیں، پھر بھی تم ان کی اطاعت کرو، ان کے خلاف سر مت اٹھاؤ تمہارا حق تمہیں آخرت میں ایسے ہی ملے گا جس طرح ان ظالم حکمرانوں کو ان کے ظلم کی سزا ملے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ١٢ (١٨٤٦) (تحفة الأشراف: ١١٧٧٢) (صحیح )
2200Sunan At-Tirmidhi

قتل کے بارے میں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ: الْقَتْلُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے بعد ایسے دن آنے والے ہیں جس میں علم اٹھا لیا جائے گا، اور ہرج زیادہ ہوجائے گا ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہرج کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: قتل و خوں ریزی ۔

Sayyidina Abu Musa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A time will come after you when knowledge (and learning) will be removed and harj will be rampant.” The companions asked what harj was and he said, Killing!.’ [Bukhari 7064)

صحيح صحيح الجامع (2233)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2200
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، خالد بن ولید اور معقل بن یسار ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٥ (٧٠٦٢-٧٠٦٤)، صحیح مسلم/العلم ٥ (٢٦٧٢)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٦ (٤٠٥١) (تحفة الأشراف: ٩٠٠٠) (صحیح )
2201Sunan At-Tirmidhi

قتل کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، رَدَّهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، رَدَّهُ إِلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، رَدَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَالْهِجْرَةِ إِلَيَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُعَلَّى.

معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قتل و خوں ریزی کے زمانہ میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مانند ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ma’qil ibn Yasari reported the Prophet ﷺ as saying, ‘Worship during harj will be like making hijrah to me.” (Harj is turmoil, killing, and hijrah is migration). [Muslim 2348]

صحيح، ابن ماجة (3985)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2201
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ معلی سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قتل و خوں ریزی یعنی فتنہ کے زمانہ میں فتنہ سے دور رہ کر عبادت میں مشغول رہنا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے مثل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٦ (٢٩٤٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٤ (٣٩٨٥) (تحفة الأشراف: ١١٤٧٦)، و مسند احمد (٥/٢٥) (صحیح )
2202Sunan At-Tirmidhi

قتل کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی ١ ؎۔

Sayyidina Thawban (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the sword is placed in my ummah, it will not be with drawn from them till the Last Hour” [Ahmed 22515]

صحيح، المشکاة (5406)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2202
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب وہ آپس میں لڑنے لگیں گے تو قیامت تک یہ لڑائی چلتی رہے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفتن ١ (٤٢٥٢)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٩ (٣٩٥٢) والفتن (٢١٠٨)، و مسند احمد (٥/٢٧٨، ٢٨٤) (کلہم: ١٧٣٤) (صحیح )
2203Sunan At-Tirmidhi

لکڑی کی تلوار بنانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُدَيْسَةَ بِنْتِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَتْ: جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى أَبِي، فَدَعَاهُ إِلَى الْخُرُوجِ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ ، فَقَدِ اتَّخَذْتُهُ فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ، قَالَتْ: فَتَرَكَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ.

عدیسہ بنت اہبان غفاری کہتی ہیں کہ میرے والد کے پاس علی ؓ آئے اور ان کو اپنے ساتھ لڑائی کے لیے نکلنے کو کہا، ان سے میرے والد نے کہا: میرے دوست اور آپ کے چچا زاد بھائی (رسول اللہ ﷺ ) نے مجھے وصیت کی کہ جب لوگوں میں اختلاف ہوجائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں ، لہٰذا میں نے بنا لی ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے لے کر آپ کے ساتھ نکلوں، عدیسہ کہتی ہیں: چناچہ علی ؓ نے میرے والد کو چھوڑ دیا ١ ؎۔

Sayyidah Udaysah bint Uhban ibn Sayfi (RA) narrated Sayyidina Ali ibn Abu Taub (RA) came to my father and asked him to enlist with him (for a battle). My father said to him, My friend and your cousin took a promise from me that when people dispute with each other, I should make for myself a sword of wood. So, I have taken it up and if you like I will come out with you.’ So, he left him alone. [Ibn Majah 3960]

حسن صحيح، ابن ماجة (3960)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2203
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عبیداللہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں محمد بن مسلمہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لکڑی کی تلوار بنانے کا مطلب فتنہ کے وقت قتل و خوں ریزی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٠ (٣٩٦٠) (تحفة الأشراف: ١٧٣٤) (حسن صحیح )
2204Sunan At-Tirmidhi

لکڑی کی تلوار بنانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فِي الْفِتْنَةِ كَسِّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ، وَالْزَمُوا فِيهَا أَجْوَافَ بُيُوتِكُمْ، وَكُونُوا كَابْنِ آدَمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ هُوَ أَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فتنہ کے بارے میں فرمایا: اس وقت تم اپنی کمانیں توڑ ڈالو، کمانوں کی تانت کاٹ ڈالو، اپنے گھروں کے اندر چپکے بیٹھے رہو اور آدم کے بیٹے (ہابیل) کے مانند ہوجاؤ ١ ؎۔

Sayyidina Abu Musa (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “During the commotion, break your bows. Cut your bowstrings during it and bind yourself to the inside of your houses during it, and be like the son of Adam.” [Ahmed 19751]

صحيح، ابن ماجة (3361)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2204
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہابیل نے اپنے بھائی قابیل سے کہا تھا: «لئن بسطت إلي يدک لتقتلني ما أنا بباسط يدي إليك لأقتلک إني أخاف اللہ رب العالمين إني أريد أن تبوئ بإثمي وإثمك» گو تو میرے قتل کے لیے دست درازی کرے لیکن میں تیرے قتل کی طرف اپنے ہاتھ نہ بڑھاؤں گا، میں تو اللہ رب العالمین سے خوف کھاتا ہوں، میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنے گناہ اپنے سر پر رکھ لے (المائدة: ٢٨، ٢٩)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفتن ٢ (٤٢٥٩)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٠ (٣٩٦١) (تحفة الأشراف: ٩٠٣٢) (صحیح )
2205Sunan At-Tirmidhi

علامت قیامت کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَفْشُوَ الزِّنَا، وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں تم لوگوں سے ایک ایسی حدیث بیان کر رہا ہوں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور میرے بعد تم سے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث کوئی نہیں بیان کرے گا ١ ؎، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے: علم کا اٹھایا جانا، جہالت کا پھیل جانا، زنا کا عام ہوجانا، شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگراں ہوگا۔

Sayyidina Anas ibn Malik reported having heard a hadith from Allah’s Messenger which he said, “I would narrate to yu. No one will narrate it after me as having heard from Allah’s Messenger.’(The Prophet ﷺ said:) Of the signs of the last Hour is that knowledge will be taken away, ignorance will be apparent, adultery will be widespread, wine will be consumed, women will outnumber (men) and men will be few so that for every fifty women there will be one male as (their) overseer. [Bukhari 80, Muslim 2671]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2205
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: انس ؓ وہ آخری صحابی ہیں جن کا انتقال بصرہ میں ہوا ہے، ممکن ہے یہ بات انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دور میں کہی ہو، ظاہر ہے اس وقت گنے چنے ایسے صحابہ موجود رہے ہوں گے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث نہیں سنی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢١ (٨٠، ٨١)، والنکاح ١١٠ (٥٢٣١)، والأشربة ١ (٥٥٧٧)، صحیح مسلم/العلم ٥ (٢٦٧١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥) (تحفة الأشراف: ١٢٤٠) (صحیح )