Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 108 of 199

2206Sunan At-Tirmidhi

علامت قیامت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: مَا مِنْ عَامٍ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ ، سَمِعْتُ هَذَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک ؓ کے گھر گئے اور ان سے حجاج کے مظالم کی شکایت کی، تو انہوں نے کہا: آنے والا ہر سال (گزرے ہوئے سال سے) برا ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو ، اسے میں نے تمہارے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے۔

Zubayr ibn Adi narrated : We went to Anas ibn Malik (RA) and complained to him of what we faced at the hands of Hajjaj. He said, “There is not a year but the one following it is worse than it till you meet your Lord. I heard this from your Prophet ﷺ . [Bukhari 7068]

صحيح، الصحيحة (1 / 10 و 1218)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2206
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٦ (٧٠٦٨) (تحفة الأشراف: ٨٣٦) (صحیح )
2207Sunan At-Tirmidhi

علامت قیامت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک روئے زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The Hour will not come as Long as there is on earth the sound of ‘Allah, Allah’.”

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2207
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب روئے زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے، کیونکہ یمن کی جانب سے ایک ہوا ایسی چلے گی جو مومنوں کی روحوں کو قبض کرلے گی، صرف غیر مومن رہ جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٥٤) (صحیح )
2209Sunan At-Tirmidhi

علامت قیامت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ. ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ الْأَشْهَلِيُّ، عَنْحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ ابْنُ لُكَعٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.

حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بیوقوفوں کی اولاد دنیا میں سب سے زیادہ خوش نصیب نہ ہوجائیں ١ ؎۔

Sayyidina Hudhayfah ibn Yaman (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Hour will not come till the stupid son of the stupid becomes the most fortunate of all. men.’ [Ahmed 22363]

صحيح، المشکاة (2365 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2209
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفردہ بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٣٦٧) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبد اللہ بن عبد الرحمن اشہلی “ ضعیف ہیں )
2208Sunan At-Tirmidhi

علامت قیامت کے متعلق

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، قَالَ: فَيَجِيءُ السَّارِقُ، فَيَقُولُ: فِي مِثْلِ هَذَا قُطِعَتْ يَدِي، وَيَجِيءُ الْقَاتِلُ، فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ، فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے قریب) زمین اپنے جگر گوشے یعنی کھمبے کی طرح سونا اور چاندی اگلے گی، اس وقت چور آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے، قاتل آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے قتل کیا ہے، رشتہ ناطہٰ توڑنے والا آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے رشتہ ناطہٰ توڑا تھا، پھر وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, When the fa’i (war booty gained without fighting) is taken as wealth, trust as a booty, zakah as a tax, knowledge is imparted for purposes other than religion, a man obeys his wife but is disloyal to his mother, he draws, near his friend but keeps away from his father, voices are raised in mosques, cjuiefs of the tribe are the most sinful of them, a leader of the people is the basest of them, a man is honoured because of fear of mischief from him, singing girls and musical instruments become common, wine is drunk, the last of this ummah curse the first of them, then await, at such time a violent red wind, earthquakes, being swallowed up by earth, transfiguration, pelting of stones from heaven and signs following each other as though beads of a rosary fall in succession when the thread has broken.”

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2208
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ١٨ (١٠١٣) (تحفة الأشراف: ١٣٤٢٢) (صحیح )
2210Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ أَبُو فَضَالَةَ الشَّامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَعَلَتْ أُمَّتِي خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً حَلَّ بِهَا الْبَلَاءُ ، فَقِيلَ: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ الْمَغْنَمُ دُوَلًا، وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، وَبَرَّ صَدِيقَهُ وَجَفَا أَبَاهُ، وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ، وَلُبِسَ الْحَرِيرُ، وَاتُّخِذَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ أَوْ خَسْفًا وَمَسْخًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ غَيْرَ الْفَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، وَالْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَقَدْ رَوَاهُ عَنْهُ وَكِيعٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میری امت پندرہ چیزیں کرنے لگے تو اس پر مصیبت نازل ہوگی ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا، اپنے دوست پر احسان کرے اور اپنے باپ پر ظلم کرے، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے، شراب پی جائے، ریشم پہنا جائے، (گھروں میں) گانے والی لونڈیاں اور باجے رکھے جائیں اور اس امت کے آخر میں آنے والے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں تو اس وقت تم سرخ آندھی یا زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کا انتظار کرو ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When my ummah perform fifteen particular things, trials will come down on them.” He was asked, “What are they,O Messenger of Allah, ﷺ ? He said, “When booty is wealth, and trust is booty, and zakah is tax, and a husband obeys his wife and disobeys his mother, and he is faithful to his friend but unfaithfrl to his father, and voices are raised in the masques, and leaders of men are the most wicked of them, and a man is honoured for fear of his evil, and wine is drunk, and silk is worn, and singing girls and stringed instruments are taken up, and the last of this ummah curse the first of them. So at that time await a red violent wind, or sinking down the earth or metamorphosis.”

ضعيف، المشکاة (5451) // ضعيف الجامع الصغير (608) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2210
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے علی بن ابوطالب کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ہم فرج بن فضالہ کے علاوہ دوسرے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کی ہو اور فرج بن فضالہ کے بارے میں کچھ محدثین نے کلام کیا ہے اور ان کے حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ان سے وکیع اور کئی ائمہ نے روایت حدیث کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٢٧٣) (ضعیف) (سند میں ” فرج بن فضالة “ ضعیف ہیں، اور ” محمد بن عمرو بن علی “ مجہول ہیں )
2211Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رُمَيْحٍ الْجُذَامِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلًا، وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، وَأَدْنَى صَدِيقَهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ، وَظَهَرَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، وَظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ وَزَلْزَلَةً وَخَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا، وَآيَاتٍ تَتَابَعُ كَنِظَامٍ بَالٍ قُطِعَ سِلْكُهُ فَتَتَابَعَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو مال غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، دین کی تعلیم کسی دوسرے مقصد سے حاصل کی جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے، اپنے دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے گا، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، فاسق و فاجر آدمی قبیلہ کا سردار بن جائے، گھٹیا اور رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے گی، گانے والی عورتیں اور باجے عام ہوجائیں، شراب پی جائے اور اس امت کے آخر میں آنے والے اپنے سے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں گے تو اس وقت تم سرخ آندھی، زلزلہ، زمین دھنسنے، صورت تبدیل ہونے، پتھر برسنے اور مسلسل ظاہر ہونے والی علامتوں کا انتظار کرو، جو اس پرانی لڑی کی طرح مسلسل نازل ہوں گی جس کا دھاگہ ٹوٹ گیا ہو ۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘This ummah will face being swallowed up, metamorphosis and pelting rain.” A man among the Muslims submitted, “O Messenger of Allah, ﷺ , and when will that be?” He said, “When singing girls and musical instruments show themselves up and wine is drunk.”

ضعيف، المشکاة (5450) // ضعيف الجامع الصغير (287) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2211
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٨٩٥) (ضعیف) (سند میں ” رمیح جذامی “ مجہول ہیں )
2212Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَتَى ذَاكَ ؟ قَالَ: إِذَا ظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس امت میں «خسف»، «مسخ» اور «قذف» واقع ہوگا ١ ؎، ایک مسلمان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کب ہوگا؟ آپ نے فرمایا: جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہوجائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی ۔

صحيح، الصحيحة (1604)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2212
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث «عن الأعمش عن عبدالرحمٰن بن سابط عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ٢ - یہ حدیث غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «خسف»: زمین کا دھنسنا، «مسخ»: صورتوں کا تبدیل ہونا، «قذف»: پتھروں کی بارش ہونا۔ اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٨٦٤) (حسن )
2213Sunan At-Tirmidhi

نبی ﷺ کی بعثت قیامت کی قرب کی نشانی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْفِهْرِيِّ، رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُعِثْتُ فِي نَفَسِ السَّاعَةِ، فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ لِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

مستورد بن شداد فہری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے زمانہ ہی میں بھیجا گیا پھر میں اس پر سبقت لے گیا جیسے یہ انگلی اس انگلی پر سبقت لے گئی، اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ١ ؎۔

Sayyidina Mustawrid ibn Shaddad Fihri reported from the Prophet ﷺ that he said, have been sent in the very Hour, so I precede it just as this precedes this”, showing his for finger and his middle finger.

ضعيف، المشکاة (5513)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2213
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث مستورد بن شداد کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اشارہ قیامت کے قریب ہونے کی طرف ہے، گویا آپ کی بعثت اور قیامت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے، جس طرح شہادت اور بیچ کی انگلی کے درمیان کوئی دوسری انگلی نہیں ہے، اس کا یہ بھی مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٢٦٢) (ضعیف) (سند میں ” مجالد بن سعید “ ضعیف ہیں )
2214Sunan At-Tirmidhi

نبی ﷺ کی بعثت قیامت کی قرب کی نشانی ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ ، وَأَشَارَ أَبُو دَاوُدَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، فَمَا فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں (یہ بتانے کے لیے) ابوداؤد نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا، چناچہ ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ ہے۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I have been sent and the Last Hour like these two and Abu Dawud indicated the forefinger and the middle finger, and he said, And like the excellence of one over the other. [Bukhari 6504]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2214
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٣٩ (٦٥٠٥)، صحیح مسلم/الفتن ٢٧ (٢٩٥١) (تحفة الأشراف: ١٢٥٣)، و مسند احمد (٣/١٢٤، ١٣٠، ١٣١، ١٩٣، ٢٣٧، ٢٧٥، ٢٨٣، ٣١٩) (صحیح )
2215Sunan At-Tirmidhi

ترکوں سے جنگ کے متعلق

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ، وَمُعَاوِيَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے جوتے بال کے ہوں گے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے چہرے تہہ بہ تہہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہوں گے۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The Last Hour will not come till you fight a people wearing shoes.{or sandals) made of hair. And the Hour will not come till you fight a people whose faces are flat like shields.” [Bukhari 2929]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2215
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، بریدہ، ابوسعید، عمرو بن تغلب اور معاویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٩٥ (٢٩٢٨)، و ٩٦ (٢٩٢٩)، والمناقب ٢٥ (٣٥٨٧، ٣٥٩٠)، صحیح مسلم/الفتن ١٨ (٢٩١٢)، سنن ابی داود/ الملاحم ٩ (٤٣٠٣، ٤٣٠٤)، سنن النسائی/الجھاد ٤٢ (٣١٩٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٦ (٤٠٩٦) (تحفة الأشراف: ١٣١٢٥)، و مسند احمد (٢/٢٣٩، ٣٠٠، ٣١٩، ٣٣٨، ٤٧٥، ٤٩٣، ٥٣٠) (صحیح )
2216Sunan At-Tirmidhi

کسی کی ہلاکت کے بعد کوئی کسری نہیں ہوگا

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ان کے خزانے کو اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے (اور یہ واقع ہوچکا ہے) ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the Chosroes is killed, there will be no Chosroes after him. When the Caesar is killed, there will be no Caesar after him. By Him in Whose hand is my soul, you will give away their treasures in the cause of Allah (in jihad).” [Bukhari 3027]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2216
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦١٨)، والأیمان والنذور ٣ (٦٦٣٠)، صحیح مسلم/الفتن ١٨ (٢٩١٨) (تحفة الأشراف: ١٣١٤٣)، و مسند احمد (٢/٢٣٣، ٢٤٠) (صحیح )
2217Sunan At-Tirmidhi

حجاز سے آگ نکلنے سے پہلے قیامت قائم نہیں ہوگی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، أَوْ مِنْ نَحْوِ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَحْشُرُ النَّاسَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر کی طرف سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم شام چلے جانا ۔

Saalum ibn Abdullah reported on the Authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “There will emerge a fire from Hadramawt or from the surrounding of the sea of Hadramawt before the Last Hour. It will gather mankind.” The sahabah asked, “O Messenger of Allah, ﷺ ‘ what do you then command us?” He said, “You must go to Syria.” [Ahmed 5376]

صحيح فضائل الشام (11)، المشکاة (6265)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2217
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابن عمر ؓ کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ بن اسید، انس، ابوہریرہ اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٧٦٥) (صحیح )
2218Sunan At-Tirmidhi

جب تک کذاب نہ نکلیں قیامت قائم نہیں ہو گی

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْبَعِثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تقریباً تیس دجال اور کذاب نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Hour will not come till the liars and dajjals, nearly thirty all of them, make their appearance each pretending that he is Allah’s messenger.” [Bukhari 3609]

صحيح، الصحيحة (683)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2218
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر بن سمرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، شجاح، بہاء اللہ، باب اللہ، اور مرزا غلام احمد قادیانی انہیں کذابوں میں سے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٠٩)، والفتن ٢٥ (٧١٢١)، صحیح مسلم/الفتن ١٨ (١٥٧/٨٤)، سنن ابی داود/ الملاحم ١٦ (٤٣٣٣، ٤٣٣٤) (تحفة الأشراف: ١٤٧١٩)، و مسند احمد (٢/٢٣٧، ٣١٣، ٤٢٩، ٤٥٠، ٤٥٧، ٥٣٠) (صحیح )
2219Sunan At-Tirmidhi

جب تک کذاب نہ نکلیں قیامت قائم نہیں ہو گی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى يَعْبُدُوا الْأَوْثَانَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں، اور بتوں کی پرستش کریں، اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے (دعویدار) نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی (دوسرا) نبی نہیں ہوگا ۔

Sayyidina Thawban reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Hour will not come till tribes of my ummah join the polytheists and worship idols. And, in my ummah there will be thirty liars each of them assuming that he is a Prophet ﷺ while I am the seal (or last) of the Prophet ﷺ s. There is no Prophet ﷺ after me.”

صحيح، المشکاة (5406)، الصحيحة (1683)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2219
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢١٠٩) (صحیح )
2220Sunan At-Tirmidhi

نبی ﷺ ثقیف میں ایک کذاب اور ایک خون ریز ہوگا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: يُقَالُ الْكَذَّابُ: الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، وَالْمُبِيرُ: الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، قَالَ: أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا، فَبَلَغَ مِائَةَ أَلْفٍ وَعِشْرِينَ أَلْفَ قَتِيلٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ. حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ نَحْوَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ، يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ، وَإِسْرَائِيلُ، يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہوگا ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There will arise among the Banu Thaqif a liar and Mubir i.e. one who is destructive.” *It is said that liar was Mukhtar bin Abu Ubaid and mubir was Hajjaj bin Yousuf

صحيح صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2220 اس سند سے ہشام بن حسان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حجاج نے جن لوگوں کو باندھ کر قتل کیا تھا انہیں شمار کیا گیا تو ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچی تھی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2220 اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اور یہ حدیث ابن عمر ؓ کی روایت سے حسن غریب ہے۔ شریک نے اپنے استاذ کا نام عبداللہ بن عصم بیان کیا ہے، جب کہ اسرائیل نے عبداللہ بن عصمہ بیان کیا ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2220
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
کہا جاتا ہے کذاب اور جھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اور ہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے ١ ؎۔ اس باب میں اسماء بنت ابوبکر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مختار بن ابوعبید بن مسعود ثقفی کی شہرت اس وقت ہوئی جب اس نے حادثہ حسین کے بعد ان کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان محض اس غرض سے کیا کہ لوگوں کو اپنی جانب مائل کرسکے، اور امارت (حکومت) کے حصول کا راستہ آسان بنا سکے، علم و فضل میں پہلے یہ بہت مشہور تھا، آگے چل کر اس نے اپنی شیطنت کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ اس کے عقیدے اور دین کا بگاڑ لوگوں پر واضح ہوگیا، یہ امارت اور دنیا کا طالب تھا، بالآخر ٦٧ ھ میں مصعب بن زبیر ؓ کے زمانے میں مارا گیا۔ حجاج بن یوسف ثقفی اپنے ظلم، قتل، اور خون ریزی میں ضرب المثل ہے، یہ عبدالملک بن مروان کا گورنر تھا، عبداللہ بن زبیر ؓ کا اندوہناک حادثہ اسی کے ہاتھ پیش آیا۔ مقام واسط پر ٧٥ ھ میں اس کا انتقال ہوا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في المناقب ٧٤ (٣٩٤٤) (تحفة الأشراف: ٧٢٨٣) (صحیح ) تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٩٥٠٨) (صحیح الإسناد ) انظر رقم ٢٢٢٠ (صحیح )
2221Sunan At-Tirmidhi

تیسری صدی کے متعلق

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ يَتَسَمَّنُونَ وَيُحِبُّونَ السِّمَنَ، يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَلِيَّ بْنَ مُدْرِكٍ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے ١ ؎۔

Sayyidina Imran ibn Husayn reported that he heard Allah’s Messenger say, “The best of people are my generation, then those who follow them. Then, there will comeafter them a people who would seek to be fat,° and love corpulence, they will offer testimony before they are asked to give it.” [Bukhari 3650]

صحيح، الصحيحة (1840)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2221
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
محمد بن فضیل نے یہ حدیث اسی طرح «عن الأعمش عن علي بن مدرک عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، کئی حفاظ نے اسے «عن الأعمش عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، اس میں علی بن مدرک کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ یہ لوگ دین و ایمان کی فکر سے خالی ہوں گے، کسی کے سامنے جواب دہی کا کوئی خوف ان کے دلوں میں باقی نہیں رہے گا، اور عیش و آرام کی زندگی کی مستیاں لے رہے ہوں گے، اس لیے موٹاپا ان میں عام ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشھادات ٩ (٢٦٥١)، و فضائل الصحابة ١ (٣٦٥٠)، والرقاق ٧ (٦٤٢٨)، والأیمان ٧ (٦٦٩٥)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٢ (٢٥٣٥)، سنن ابی داود/ السنة ١٠ (٤٦٥٧)، سنن النسائی/الأیمان والنذور ٢٩ (٢٣٠٢) (تحفة الأشراف: ١٠٨٦٦)، و مسند احمد (٤/٤٢٦، ٤٢٧، ٤٣٦، ٤٤٠) (صحیح )
2222Sunan At-Tirmidhi

تیسری صدی کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُ ذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَامٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کے درمیان میں بھیجا گیا ہوں، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ہوں گے ، عمران بن حصین کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے تیسرے زمانہ کا ذکر کیا یا نہیں، پھر اس کے بعدا ی سے لوگ پیدا ہوں گے جن سے گواہی نہیں طلب کی جائے گی پھر بھی گواہی دیتے رہیں گے، خیانت کریں گے امانت دار نہیں ہوں گے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا ۔

Sayyidina lmran ibn Husayn (RA) reported that Allah’s Messenger said, The best of my ummah is the generation to which 1 have been sent, then they who will follow them.’ The narrator said, ‘And I do not remember if he mentioned the third (generation) or not, “After that’, the Prophet ﷺ said, “A people will come who will voluntarily give testimony, they will commit treachery and will not be trustworthy. They will be corpulent, generally. [Bukhari 2651]

صحيح، الصحيحة (1840)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2222
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٠٨٢٤) (صحیح )
2223Sunan At-Tirmidhi

خلفاء کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكُونُ مِنْ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا ، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَسَأَلْتُ الَّذِي يَلِينِي، فَقَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد بارہ امیر (خلیفہ) ہوں گے ، پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جسے میں نہیں سمجھ سکا، لہٰذا میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے سوال کیا تو اس نے کہا کہ آپ نے فرمایا: یہ بارہ کے بارہ (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے ۔

Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There will he, after me, twelve amirs.” The narrator reported that he said more but he, could not grasp it, so he asked one who was next to him and he disclosed that the Prophet ﷺ said, “Everone from Quraysh.” [Bukhari 7222]

صحيح، الصحيحة (1075)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2223
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢١٩٣) (صحیح )
2224Sunan At-Tirmidhi

خلفاء کے بارے میں

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بَكْرَةَ تَحْتَ مِنْبَرِ ابْنِ عَامِرٍ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَقَالَ أَبُو بِلَالٍ: انْظُرُوا إِلَى أَمِيرِنَا يَلْبَسُ ثِيَابَ الْفُسَّاقِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: اسْكُتْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَهَانَهُ اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

زیاد بن کسیب عدوی کہتے ہیں کہ میں ابوبکرہ ؓ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے تھا، اور وہ خطبہ دے رہے تھے، ان کے بدن پر باریک کپڑا تھا، ابوبلال نے کہا: ہمارے امیر کو دیکھو فاسقوں کا لباس پہن رکھا ہے، ابوبکرہ ؓ نے کہا: خاموش رہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص زمین پر اللہ کے بنائے ہوئے سلطان (حاکم) کو ذلیل کرے تو اللہ اسے ذلیل کرے گا ۔

Ziyad ibn Kusayb Adawi narrated: I was sitting with Abu Bakrah (RA) at the foot of the pulpit of Ibn Aamir while he was delivering a sermon. He was wearing a thin dress. Abu Bilal (RA) remarked, Look at our amir wearing garments of the sinners.’ So Abu Bakrah said to me, ‘Keep quiet. I had heard Allah’s Messenger say, “He who offends Allahs king on earth, Allah humiliates him.”

صحيح، الصحيحة (2296)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2224
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٦٧٤) (حسن) (سند میں ” زیاد بن کسیب “ لین الحدیث (مقبول) ہیں، لیکن باب میں ابو بکرہ کی حدیث کے شاہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، تفصیل دیکھیے: الصحیحة رقم: ٢٢٩٧، تراجع الالبانی ٢٢٣ )
2219Sunan At-Tirmidhi(2226)

خلافت کے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِيسَفِينَةُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: وَخِلَافَةَ عُمَرَ، وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ، ثُمَّ قَالَ لِي: أَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ، قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخِلَافَةَ فِيهِمْ، قَالَ: كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ الْمُلُوكِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، قَالَا: لَمْ يَعْهَدِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخِلَافَةِ شَيْئًا، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ.

سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی ، پھر مجھ سے سفینہ ؓ نے کہا: ابوبکر ؓ کی خلافت، عمر ؓ کی خلافت، عثمان ؓ کی خلافت اور علی ؓ کی خلافت، شمار کرو ١ ؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ ؓ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔

Sayyidina Safinah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Khilafah (Caliphate) will last among my ummah for thirty years. Then there will be kingdom after that.” Thereafter, Safinah said, “Count the khilafah of Abu bakr.” Then he said, “And of Umar (RA) andUthman, and count the Khilafah of Ali . We will find the total to be thirty years. Saeed said that he told him that the Banu Umayyah imagined that the Khilafah rested with them. He said, The Banu Zarqa lie. Rather, they were kings, the worst of kings. [Ahmed 21978]

صحيح، الصحيحة (459 و 1534 و 1535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2226
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں عمر اور علی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خلافت کے بارے میں کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسند احمد میں سفینہ ؓ سے ہر خلیفہ کے دور کی تصریح موجود ہے، اس تصریح کے مطابق ابوبکر ؓ کی مدت خلافت دو سال، عمر ؓ کی دس سال، عثمان ؓ کی بارہ سال اور علی ؓ کی چھ سال ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٦٤٦، ٤٦٤٧) (تحفة الأشراف: ٤٤٨٠)، و مسند احمد (٥/٢٢١) (صحیح )