Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 109 of 199

2225Sunan At-Tirmidhi

خلافت کے متعلق

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لَوِ اسْتَخْلَفْتَ، قَالَ: إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ، وَإِنْ لَمْ أَسْتَخْلِفْ لَمْ يَسْتَخْلِفْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ سے کہا گیا: کاش! آپ کسی کو خلیفہ نامزد کردیتے، انہوں نے کہا: اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کروں تو ابوبکر ؓ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور اگر کسی کو خلیفہ نہ مقرر کروں تو رسول اللہ ﷺ نے خلیفہ نہیں مقرر کیا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab was asked, “Had you appointed a Khaufah! He said, “If I appoint one then indeed Abu Bakr (RA) had appointed one. And if I do not then Allah’s Messenger ﷺ had not appointed a khaufah.” The had ith has a lengthy narration. [Bukhari 7218]

صحيح، صحيح أبي داود (2605)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2225
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث میں ایک قصہ بھی مذکور ہے ٢ ؎، ٢ - یہ حدیث صحیح ہے، اور کئی سندوں سے ابن عمر ؓ سے مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر میں کسی کو خلافت کے لیے نامزد کر دوں تو اپنے پیش رو کی اقتداء میں ایسا ہوسکتا ہے، اور اگر نہ مقرر کروں تو یہ رسول اللہ ﷺ کی اقتداء ہے کہ آپ ﷺ نے کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا تھا۔ ٢ ؎: یہ قصہ صحیح مسلم میں کتاب الإمارہ کے شروع میں مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ٥١ (٧٢١٨)، صحیح مسلم/الإمارة ٢ (١٨٢٣)، سنن ابی داود/ الخراج الإمارة ٨ (٢٩٣٩) (تحفة الأشراف: ١٠٥٢١)، و مسند احمد (١/٤٣) (صحیح )
2227Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ خلفاء قیامت تک قریش ہی میں سے ہوں گے

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ، يَقُولُ: كَانَ نَاسٌ مِنْ رَبِيعَةَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَتَنْتَهِيَنَّ قُرَيْشٌ، أَوْ لَيَجْعَلَنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِنَ الْعَرَبِ غَيْرِهِمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: كَذَبْتَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قُرَيْشٌ وُلَاةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن ابی ہذیل کہتے ہیں کہ قبیلہ ربیعہ کے کچھ لوگ عمرو بن العاص ؓ کے پاس تھے، قبیلہ بکر بن وائل کے ایک آدمی نے کہا: قریش باز رہیں ١ ؎، ورنہ اللہ تعالیٰ خلافت کو ان کے علاوہ جمہور عرب میں کر دے گا، عمرو بن العاص ؓ نے کہا: تم جھوٹ اور غلط کہہ رہے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قریش قیامت تک خیر (اسلام) و شر (جاہلیت) میں لوگوں کے حاکم ہیں ٢ ؎۔

Abdullah ibn Abu Hudhayl narrated Some of the (tribe) Rabiah were sitting with Sayyidina Amr ibn Aas (RA) when a man of Bakr ibn Wail (tribe) said, ‘The Quraysh must refrain themselves, or Allah will hand over this affair to the Arabs collectively, apart from them.” So, Amr ibn Aas (RA) said, ‘You lie I had heard Allah’s Messenger ‘ say, The Quraysh are rulers of men, in good or bad, till the Last Day.’”

صحيح، الصحيحة (1155)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2227
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فسق و فجور سے قریش باز رہیں۔ ٢ ؎: یعنی زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں قریش حاکم و خلیفہ ہیں، اور قیامت تک خلافت انہیں میں باقی رہنی چاہیئے، یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم نہیں مانا، جیسے دوسرے فرمان رسول کو نہیں مان رہے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٧٣٦) (صحیح )
2228Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ خلفاء قیامت تک قریش ہی میں سے ہوں گے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي، يُقَالُ لَهُ: جَهْجَاهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رات اور دن اس وقت تک باقی رہیں گے (یعنی قیامت نہیں آئے گی) یہاں تک کہ جہجاہ نامی ایک غلام بادشاہت کرے گا ۔

Umar (RA) ibn Hakam reported having heard Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrate the words of Allah’s Messenger He said, “The night and day will not pass away before a man, the freedman, of Jahjah will take over authority(rule)” *Other Ahadith disclose that the Jahaja will be a tribe of Qahtan and that person will rule after Imam Mahdi and he will be among righteous rulers. [Muslim 2911]

صحيح، الصحيحة (2441)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2228
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٨ (٢٩١١) (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٧)، و مسند احمد (٢/٣٢٩) (صحیح )
2229Sunan At-Tirmidhi

گمراہ حکمرانوں کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ يَخْذُلُهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ فَقَالَ عَلِيٌّ: هُمْ أَهْلُ الْحَدِيثِ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں (حاکموں) سے ڈرتا ہوں ١ ؎، نیز فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے ۔

Sayyidina Thawban (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I fear for the misled rulers over my ummah.’ He also said, “A section of my ummah will never cease to be on the right. They will prevail and they will not be harmed by those who desert them till the command of Allah comes.” [Muslim 1920]

صحيح، الصحيحة (4 / 110 و 1957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2229
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میں نے علی بن مدینی کو کہتے سنا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیث میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی ذکر کی اور کہا: وہ اہل حدیث ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ حکمراں ایسے ہوں گے جو بدعت اور فسق و فجور کے داعی ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٣ (١٩٢٠)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١ (١٠) (تحفة الأشراف: ٢١٠٢)، و مسند احمد (٥/٢٧٩) (کلہم بالشطر الثاني فحسب) (صحیح )
2230Sunan At-Tirmidhi

امام مہدی کے متعلق

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہوگا عرب کا بادشاہ نہ بن جائے گا ۔

Sayyidina Abdullah reported that Allahs Messenger ﷺ said, “The world will not end before a man of my house rules over the Arabs. His name will be the same as mine.” [Ahmed 3573]

حسن صحيح، المشکاة (5452)، فضائل الشام ص (16)، الروض النضير (647)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2230
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، ابو سعید خدری، ام سلمہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ المھدي ١ (٤٢٨٢) (تحفة الأشراف: ٩٢٠٨) (حسن صحیح )
2231Sunan At-Tirmidhi

امام مہدی کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَلِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي ، قَالَ عَاصِمٌ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَلِيَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہوگا حکومت کرے گا ۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا یہاں تک کہ وہ آدمی حکومت کرلے۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “A man of my house, his name being as my name, will follow (to rule over the world).

حسن صحيح انظر ما قبله (2230)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2231
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (حسن صحیح )
2232Sunan At-Tirmidhi

امام مہدی کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدًا الْعَمِّيَّ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ، فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيَّ يَخْرُجُ يَعِيشُ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ تِسْعًا ، زَيْدٌ الشَّاكُّ، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ: سِنِينَ ، قَالَ: فَيَجِيءُ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ، أَعْطِنِي أَعْطِنِي، قَالَ: فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، وَيُقَالُ: بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے ڈرے کہ ہمارے نبی کے بعد کچھ حادثات پیش آئیں، لہٰذا ہم نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: میری امت میں مہدی ہیں جو نکلیں گے اور پانچ، سات یا نو تک زندہ رہیں گے، (اس گنتی میں زیدالعمی کی طرف سے شک ہوا ہے ، راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: ان گنتیوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: سال) آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ان کے پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا: مہدی! مجھے دیجئیے، مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: وہ اس آدمی کے کپڑے میں (دینار و درہم) اتنا رکھ دیں گے کہ وہ اٹھا نہ سکے گا ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated We were apprehensive lest innovations begin after our Prophet ﷺ So we asked the Prophet ﷺ (about it). He said, There will be in my ummah a Mahdi who will live five, seven or nine” the narrator Zayd was unsure (of the figure). They asked what was that and he said, “Years.” He then said, “A man will come to him and say, ‘O Mahdi, give me, give me!’ So, he will pour out for him in his garment as much as he is able to carly.” [Ibn Majah 4083]

حسن، ابن ماجة (4083)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2232
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٤ (٤٠٨٣) (تحفة الأشراف: ٣٩٧٦) (حسن )
2233Sunan At-Tirmidhi

عیسی بن مریم کے نزول کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ، حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تمہارے درمیان عیسیٰ بن مریم حاکم اور منصف بن کر اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کردیں گے، اور مال کی زیادتی اس طرح ہوجائے گی کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “By Him in Whose hand is my soul, Ibn Maryam will soon descend among you as a just judge. He will break the cross, kill swine and abolish the jizyah, and wealth will flow to such abundance that no one will take it.” [Ahmed 10944, Bukhari 2222, Muslim 155, Ibn Majah 4078]

صحيح، ابن ماجة (4078)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2233
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کا کہنا ہے کہ دیگر انبیاء کو چھوڑ کر عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اس نزول سے یہود کے اس زعم کو کہ انہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا ہے، باطل کرنا مقصود ہے، چناچہ نزول عیسیٰ سے ان کے جھوٹ کی قلعی کھل جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٠٢ (٢٢٢٢)، والمظالم ٣١ (٢٤٧٦)، والأنبیاء ٤٩ (٣٤٤٨)، صحیح مسلم/الأیمان ٧٠ (١٥٥)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٨) (تحفة الأشراف: ١٣٢٢٨)، و مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٧٢، ٣٩٤، ٤٨٢، ٥٣٨) (صحیح )
2234Sunan At-Tirmidhi

دجال کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ، إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ، قَالَ: مِثْلُهَا ، يَعْنِي الْيَوْمَ أَوْ خَيْرٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جُزَيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، لَا أَعْرِفُهُ إِلا مِنْ حَدِيثِ خَالِدٍ الْحَدَّادِ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ أَيْضًا عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عِبْدُ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ.

ابوعبیدہ بن جراح ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نوح (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اس کا حال بیان کیا اور فرمایا: ہوسکتا ہے مجھے دیکھنے والے یا میری بات سننے والے کچھ لوگ اسے پالیں ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: آج کی طرح یا اس سے بہتر ۔

Sayyidina Abu Ubaydah ibn Jarrah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There has not been a Prophet ﷺ after Nuh who has not warned his people of dajjal. And I warn you of him.’ And he described him for them, saying, “Perhaps of those who see me or hear my words, some might encounter him.” They submitted, “O Messenger of Allah, ﷺ , how will (the condition of) our hearts be on that day?” He said, “Like this (as today) or better” [Ahmed 1693].

ضعيف، المشکاة (5486 / التحقيق الثاني) //، ضعيف أبي داود (1019 / 4756) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2234
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوعبیدہ بن جراح کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن حارث بن جزی، عبداللہ بن مغفل اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٢٩ (٤٧٥٦) (تحفة الأشراف: ٥٠٤٦) (ضعیف) (سند میں ” عبد اللہ بن سراقہ “ کا سماع ” ابو عبیدہ ؓ “ سے نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے )
2235Sunan At-Tirmidhi

دجال کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، وَلَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَئِذٍ لِلنَّاسِ وَهُوَ يُحَذِّرُهُمْ فِتْنَتَهُ: تَعْلَمُونَ أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ حَتَّى يَمُوتَ، وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر، يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے لائق اس کی تعریف کی پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: میں تمہیں دجال سے ڈرا رہا ہوں اور تمام نبیوں نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا ہے، نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہہ رہا ہوں جسے کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، تم لوگ اچھی طرح جان لو گے کہ وہ کانا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ، زہری کہتے ہیں: ہمیں عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ انہیں نبی اکرم ﷺ کے بعض صحابہ نے بتایا: نبی اکرم ﷺ جس دن لوگوں کو دجال کے فتنے سے ڈرا رہے تھے (اس دن) آپ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ کوئی آدمی اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتا، اور اس کی آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر لکھا ہوگا، اس کے عمل کو ناپسند سمجھنے والے اسے پڑھ لیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported Once, Allah’s Messenger ﷺ stood among the people and glorified Allah as He is worthy of it. Then he mentioned the dajjal, saying, “Indeed, I do warn you of him, and there has not been a Prophet ﷺ who has not warned his people (of him). And indeed, Nuh warned his people, but I will speak a word on it which no Prophet ﷺ has spoken to his people. You know that he is blind in one eye while your Lord is not one-eyed.” Zuhri said that Umar (RA) ibn Thabit Ansari informed him on the authorityof same sahabah that the Prophet ﷺ warned the people that day of the mischief of dajjal and said, “You know that none of you will ever see his Lord till he dies. And that it is written between dajjal’s eyes kafir (infidel). Those who will detest his conduct will (be able to) read it.” [Bukhari 1304]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2235
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دجال دنیا میں ربوبیت کا دعویدار ہوگا اور ساتھ ہی کانا بھی ہوگا، جب کہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ رب تعالیٰ کو کوئی مرنے سے قبل دنیا میں نہیں دیکھ سکتا، وہ ہر عیب سے پاک ہے، دجال کے کفر سے وہی لوگ آگاہ ہوں گے جو اس کے عمل سے بےزار ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٧٨ (٣٠٥٧)، وأحادیث الأنبیاء ٣ (٣٣٣٧)، والمغازي ٧٧ (٤٤٠٢)، والأدب ٩٧ (٦١٧٥)، والفتن ٢٦ (٧١٢٧)، صحیح مسلم/الفتن ١٩ (٢٩٣١)، سنن ابی داود/ السنة ٢٩ (٤٧٥٧) (تحفة الأشراف: ٦٩٣٢)، و مسند احمد (٢/١٣٥، ١٤٩) (صحیح )
2236Sunan At-Tirmidhi

دجال کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود تم سے لڑیں گے اور تم ان پر غالب ہوجاؤ گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے قتل کر دو ١ ؎۔

Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s MessengerL said, The Jews will fight you and the Muslims will be empowered over them so much so that a stone will disclose : O Muslim! This is a Jew behind me, so kill him.’ [Bukhari 2925, Muslim 2921]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2236
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیگر احادیث کے مطالعہ سے اس ضمن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسا مہدی اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) کے دور میں جاری جہاد کے وقت ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٩٦١) (صحیح )
2237Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ دجال کہاں سے نکلے گا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الدَّجَّالُ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ، يُقَالُ لَهَا: خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي التَّيَّاحِ.

ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا: دجال مشرق (پورب) میں ایک جگہ سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے، اس کے پیچھے ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Bakr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ “The dajjal will emerge from a land of the east called Khurasan. There will he people with him, their faces flat like shields.’ [Ibn Majah 4072]

صحيح، ابن ماجة (4072)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2237
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - عبداللہ بن شوذب اور کئی لوگوں نے اسے ابوالتیاح سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف ابوتیاح کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دجال کی پیروی کرنے والے چوڑے چہرے اور ابھرے رخسار والے ہوں گے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ (ملک ایران کے شہر) اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کا لشکر بن کر نکلیں گے اور ان پر کالے لباس ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٢) (تحفة الأشراف: ٦٦١٤) (صحیح )
2238Sunan At-Tirmidhi

دجال کے نکلنے کی نشانیوں کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ صَاحِبِ مُعَاذٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَلْحَمَةُ الْعُظْمَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ملحمہ عظمی (بڑی لڑائی) ، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال (یہ تینوں واقعات) سات مہینے کے اندر ہوں گے ۔

Sayyidina Mu’adh ibn Jabal reported that the Prophet ﷺ said, ‘The mighty bloodshed, the conquest of Constantinople and the emergence of the dajjal will take place within seven years.” [Abu Dawud 4295, Ibn Majah 4092]

ضعيف، ابن ماجة (4092) // ضعيف ابن ماجة برقم (890)، ضعيف أبي داود (925 / 4295)، المشکاة (5425)، ضعيف الجامع الصغير (5945) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2238
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں صعب بن جثامہ، عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن مسعود اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الملاحم ٤ (٤٢٩٥)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٥ (٤٩٠٢) (تحفة الأشراف: ١١٣٢٨) (ضعیف) (سند میں دو راوی ” ابوبکر بن ابی مریم “ اور ” ولید بن سفیان غسانی “ ضعیف، اور ” یزید بن قطیب “ لین الحدیث ہیں )
2239Sunan At-Tirmidhi

دجال کے نکلنے کی نشانیوں کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ مَعَ قِيَامِ السَّاعَةِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، هِيَ مَدِينَةُ الرُّومِ، تُفْتَحُ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ، قَدْ فُتِحَتْ فِي زَمَانِ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ قسطنطنیہ قیامت کے قریب فتح ہوگا۔ محمود بن غیلان کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that the conquest of Constantinople will be the forerunner of the last Hour. [Ahmed 17646, Muslim 2937, Abu Dawud 4321, Ibn Majah 4075]

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2239
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٦٣) (صحیح الإسناد )
2240Sunan At-Tirmidhi

دجال کے فتنے کے متعلق

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، دخل حديث أحدهما في حديث الآخر، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، قَالَ: فَانْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَيْهِ فَعَرَفَ ذَلِكَ فِينَا، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، قَالَ: غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ، شَبِيهٌ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، فَمَنْ رَآهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ فَوَاتِحَ سُورَةِ أَصْحَابِ الْكَهْفِ، قَالَ: يَخْرُجُ مَا بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا، يَا عِبَادَ اللَّهِ، اثْبُتُوا ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ: أَرْبَعِينَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الْيَوْمَ الَّذِي كَالسَّنَةِ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ اقْدُرُوا لَهُ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا سُرْعَتُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ: كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ، فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيُكَذِّبُونَهُ وَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ، فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ وَيُصْبِحُونَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ وَيُصَدِّقُونَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ، وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ، فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ كَأَطْوَلِ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَمَدِّهِ خَوَاصِرَ وَأَدَرِّهِ ضُرُوعًا، قَالَ: ثُمَّ يَأْتِي الْخَرِبَةَ، فَيَقُولُ: لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَيَنْصَرِفُ مِنْهَا فَتَتْبَعُهُ كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ، ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا شَابًّا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ، إِذْ هَبَطَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بِشَرْقِيِّ دِمَشْقَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَّانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، قَالَ: وَلَا يَجِدُ رِيحَ نَفْسِهِ يَعْنِي أَحَدًا إِلَّا مَاتَ وَرِيحُ نَفْسِهِ مُنْتَهَى بَصَرِهِ، قَالَ: فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلَهُ، قَالَ: فَيَلْبَثُ كَذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: ثُمَّ يُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ حَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ، قَالَ: وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ: مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96، قَالَ: فَيَمُرُّ أَوَّلُهُمْ بِبُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ فَيَشْرَبُ مَا فِيهَا، ثُمَّ يَمُرُّ بِهَا آخِرُهُمْ، فَيَقُولُ: لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ بَيْتِ الْمَقْدِسٍ، فَيَقُولُونَ: لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ هَلُمَّ، فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مُحْمَرًّا دَمًا، وَيُحَاصَرُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَأَصْحَابُهُ، حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ يَوْمَئِذٍ خَيْرًا لِأَحَدِهِمْ مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ، قَالَ: فَيَرْغَبُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِلَى اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ، قَالَ: فَيُرْسِلُ اللَّهُ إِلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى مَوْتَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، قَالَ: وَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، فَلَا يَجِدُ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا وَقَدْ مَلَأَتْهُ زَهَمَتُهُمْ وَنَتَنُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ، قَالَ: فَيَرْغَبُ عِيسَى إِلَى اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ، قَالَ: فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، قَالَ: فَتَحْمِلُهُمْ، فَتَطْرَحُهُمْ بِالْمَهْبِلِ، وَيَسْتَوْقِدُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ قِسِيِّهِمْ وَنُشَّابِهِمْ وَجِعَابِهِمْ سَبْعَ سِنِينَ، قَالَ: وَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ وَبَرٍ وَلَا مَدَرٍ، قَالَ: فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ فَيَتْرُكُهَا كَالزَّلَفَةِ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَخْرِجِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ، فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ، وَيَسْتَظِلُّونَ بِقَحْفِهَا، وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ، حَتَّى إِنَّ الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ لَيَكْتَفُونَ باللَّقْحَةِ مِنَ الْإِبِلِ، وَإِنَّ الْقَبِيلَةَ لَيَكْتَفُونَ باللَّقْحَةِ مِنَ الْبَقَرِ، وَإِنَّ الْفَخِذَ لَيَكْتَفُونَ باللَّقْحَةِ مِنَ الْغَنَمِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَقَبَضَتْ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ، وَيَبْقَى سَائِرُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ كَمَا تَتَهَارَجُ الْحُمُرُ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ.

نواس بن سمعان کلابی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا، تو آپ نے (اس کی حقارت اور اس کے فتنے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے دوران گفتگو) آواز کو بلند اور پست کیا ١ ؎ حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ (مدینہ کی) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے واپس آ گئے، (جب بعد میں) پھر آپ کے پاس گئے تو آپ نے ہم پر دجال کے خوف کا اثر جان لیا اور فرمایا: کیا معاملہ ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح دجال کا ذکر کرتے ہوئے (اس کی حقارت اور سنگینی بیان کرتے ہوئے) اپنی آواز کو بلند اور پست کیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ وہ کھجوروں کے درمیان ہے۔ آپ نے فرمایا: دجال کے علاوہ دوسری چیزوں سے میں تم پر زیادہ ڈرتا ہوں، اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود ہوں تو میں تمہاری جگہ خود اس سے نمٹ لوں گا، اور اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود نہ رہوں تو ہر آدمی خود اپنے نفس کا دفاع کرے گا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (جانشیں) ہے ٢ ؎، دجال گھونگھریالے بالوں والا جوان ہوگا، اس کی ایک آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہوگی تو ان میں اسے عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں، پس تم میں سے جو شخص اسے پالے اسے چاہیئے کہ وہ سورة الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا، اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! روئے زمین پر ٹھہرنے کی اس کی مدت کیا ہوگی؟ آپ نے فرمایا: چالیس دن، ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینہ کے برابر ہوگا، ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے وہ ایک دن جو ایک سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ایک دن کی نماز کافی ہوگی؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ اس کا اندازہ کر کے پڑھنا ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمین میں وہ کتنی تیزی سے اپنا کام کرے گا؟ آپ نے فرمایا: اس بارش کی طرح کہ جس کے پیچھے ہوا لگی ہوتی ہے (اور وہ بارش کو نہایت تیزی سے پورے علاقے میں پھیلا دیتی ہے) ، وہ کچھ لوگوں کے پاس آئے گا، انہیں دعوت دے گا تو وہ اس کو جھٹلائیں گے اور اس کی بات رد کردیں گے، لہٰذا وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا مگر اس کے پیچھے پیچھے ان (انکار کرنے والوں) کے مال بھی چلے جائیں گے، ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہے، پھر وہ کچھ دوسرے لوگوں کے پاس جائے گا، انہیں دعوت دے گا، اور اس کی دعوت قبول کریں گے اور اس کی تصدیق کریں گے، تب وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا۔ آسمان بارش برسائے گا، وہ زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا، زمین غلہ اگائے گی، ان کے چرنے والے جانور شام کو جب (چراگاہ سے) واپس آئیں گے، تو ان کے کوہان پہلے سے کہیں زیادہ لمبے ہوں گے، ان کی کوکھیں زیادہ کشادہ ہوں گی اور ان کے تھن کامل طور پر (دودھ سے) بھرے ہوں گے، پھر وہ کسی ویران جگہ میں آئے گا اور اس سے کہے گا: اپنا خزانہ نکال، پھر وہاں سے واپس ہوگا تو اس زمین کے خزانے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح اس کے پیچھے لگ جائیں گے، پھر وہ ایک بھرپور اور مکمل جوان کو بلائے گا اور تلوار سے مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا۔ پھر اسے بلائے گا اور وہ روشن چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آ جائے گا، پس دجال اسی حالت میں ہوگا کہ اسی دوران عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار پر زرد کپڑوں میں ملبوس دو فرشتوں کے بازو پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پانی ٹپکے گا اور جب اٹھائیں گے تو اس سے موتی کی طرح چاندی کی بوندیں گریں گی، ان کی سانس کی بھاپ جس کافر کو بھی پہنچے گی وہ مرجائے گا اور ان کی سانس کی بھاپ ان کی حد نگاہ تک محسوس کی جائے گی، وہ دجال کو ڈھونڈیں گے یہاں تک کہ اسے باب لد ٣ ؎ کے پاس پالیں گے اور اسے قتل کردیں گے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ جتنا چاہے گا عیسیٰ (علیہ السلام) ٹھہریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس وحی بھیجے گا کہ میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ، اس لیے کہ میں نے کچھ ایسے بندے اتارے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں تاب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ویسے ہی ہوں گے جیسا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے: «من کل حدب ينسلون» ہر بلندی سے پھیل پڑیں گے (الأنبياء: ٩٦ ) ان کا پہلا گروہ (شام کی) بحیرہ طبریہ (نامی جھیل) سے گزرے گا اور اس کا تمام پانی پی جائے گا، پھر اس سے ان کا دوسرا گروہ گزرے گا تو کہے گا: اس میں کبھی پانی تھا ہی نہیں، پھر وہ لوگ چلتے رہیں گے یہاں تک کہ جبل بیت المقدس تک پہنچیں گے تو کہیں گے: ہم نے زمین والوں کو قتل کردیا اب آؤ آسمان والوں کو قتل کریں، چناچہ وہ لوگ آسمان کی طرف اپنے تیر چلائیں گے چناچہ اللہ تعالیٰ ان کو خون سے سرخ کر کے ان کے پاس واپس کر دے گا، (اس عرصے میں) عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) اور ان کے ساتھی گھرے رہیں گے، یہاں تک کہ (شدید قحط سالی کی وجہ سے) اس وقت بیل کی ایک سری ان کے لیے تمہارے سو دینار سے بہتر معلوم ہوگی (چیزیں اس قدر مہنگی ہوں گی) ، پھر عیسیٰ بن مریم اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا، جس سے وہ سب دفعتاً ایک جان کی طرح مرجائیں گے، عیسیٰ اور ان کے ساتھی (پہاڑ سے) اتریں گے تو ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہ ہوگی جو ان کی لاشوں کی گندگی، سخت بدبو اور خون سے بھری ہوئی نہ ہو، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے بڑے پرندوں کو بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہوں گی، وہ لاشوں کو اٹھا کر گڈھوں میں پھینک دیں گے، مسلمان ان کے کمان، تیر اور ترکش سے سات سال تک ایندھن جلائیں گے ٤ ؎۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر ایسی بارش برسائے گا جسے کوئی کچا اور پکا گھر نہیں روک پائے گا، یہ بارش زمین کو دھو دے گی اور اسے آئینہ کی طرح صاف شفاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنا پھل نکال اور اپنی برکت واپس لا، چناچہ اس وقت ایک انار ایک جماعت کے لیے کافی ہوگا، اس کے چھلکے سے یہ جماعت سایہ حاصل کرے گی، اور دودھ میں ایسی برکت ہوگی کہ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لیے ایک دودھ دینے والی اونٹنی کافی ہوگی، اور دودھ دینے والی ایک گائے لوگوں کے ایک قبیلے کو کافی ہوگی اور دودھ دینے والی ایک بکری لوگوں میں سے ایک گھرانے کو کافی ہوگی، لوگ اسی حال میں (کئی سالوں تک) رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو سارے مومنوں کی روح قبض کرلے گی اور باقی لوگ گدھوں کی طرح کھلے عام زنا کریں گے، پھر انہیں لوگوں پر قیامت ہوگی ٥ ؎۔

Sayyidina Nawwas narrated: "Allahs Messenger ﷺ mentioned Dajjal one day. He exposed his baseness and emphasized his mischief till we thought he was behind the palm trees. We then dispersed from Allahs Messenger ﷺ only to return shortly. He recognized our state of mind and said, How is it with you? We said, O Messenger of Allah! ﷺ You mentioned Dajjal and made it soft as well as emphatic so that we imagined he was behind some palms. (they meant: He is so sure to come). He said: More fearful to me than the Dajjal (are some other things), for if hje emerges while I am among you then I will content with him on your behalf. And if he comes and I am not among you the let everyone of you contend with him on his behalf, and Allah is my Khalifa over every Muslim (i.e. Allah is the One to protect them from the mischief of Dajjal.) Dajjal wil be a youth with curly hair and one eye. He will resemble Abd Uzza bin Qatan-(a king of pre-Islamic era). So those of you who see him, should recite the initial verses of surah al-Kahf. He will come out from what is between Syria and Iraq and corrupt (people on) right and left. O slaves of Allah, be steadfast. We said, O Merssenger of Allah, how long will he tarry on earth? He said, Forty days, (the first) day like a year, a day like a month, a day like a week and the rest of his days like your days. We submitted, O Messenger of Allah, will a days prayer suffice us in the day that wouldf be like a year? He said, No but make an estimate for it. We submitted, O Messenger of Allah, what will be his speed of movement on earth?’ He said, “Like rain which is driven forward by the wind. He will come to a people and invite them but they will reject him and return him hl words. So, he will turn away from them and their properties will follow him and they will become bereft of everyting on their hands. He will then come upon another people whom he will invite and they will respond to him and confirm him, so he will command the sky to pour rain. It will pour rain. He will command the earth to grow and it will produce crops. Their pasturing animals will come to them with their humps high, their udders full of milk. He will come upon the waste land and command it to bring forth its treasures. So, they will come out of it and go after him like swarms of bees. He will then summon a young man his youth showing on him with fulness. He will strike him with the sword and cut him into two pieces, then he will summon him and he will come revived with a shining, laughing face. While he is like that, Eesa ibn Maryam will descend in the east of Damascus at the white minaret, donned in two Saffron coloured garments, his hands on the wings of two angels. If he lowers his head, it will drip and when he raises it, those drops will fall down like shining pearls. “(This is a description of his extreme radiance). “And no one (who disbelieves) will feel his breath but will die. And, the limit of the reach of his breath will be his sight. He will then seek the dajjal and catch up with him at the gate of LuddO, and he will kill him. Then he will stay on earth as long as Allah wills. Allah will reveal to him, ‘Collect my slaves at Tur, for I have sent there such of My slaves whom no one can fight’. Allah will then send Yajuj and Majuj. They will come as Allah has said: "And they sally forth from every mound." (21 : 96) The first of them will pass the lake Tibriyah (Tiberias) and drink all its contents. Then the last of them will pass and remark, ‘Indeed, there was once, in here water!’ They will travel till they end up at the mountain of Bayt al Maqdas (Jerusalem). They will recall, ‘We have killed all who were on earth. So, come let us kill those who are in heaven’. They will shoot their arrows into the sky and Allah will return to them their arrows reddened as with blood. (Meanwhile) Eesa ibn Maryam (AS) and his companions will surround them and the head of an ox will seem better to each of them then a hundred dinars are to one of you today. So, Eesa ibn Maryam will turn to Allah with his companions. So, Allah wil send down upon them insects on their necks, and by morning all of them would have perished as though they were one person. Eesa and his companions would descend but not find space of even a span without being filled with their fat, odour and blood. So, Eesa and his companions would again turn to Allah Who will send birds on them. Their necks will be like camel’s and they will carry the corpses away to mahbul. Thereafter, Muslims will kindle fire with their arrows, bows and quivers for seven years. Allah will send down on them rain which no mudhouse or tent will keep out but the earth will be washed and it will shine like glass. Then the earth will be commanded to grow its fruit and other produce and bring back its blessings. A whole group will eat from the pomegrenate and they will shelter themselves under its peel. There will be tremendous blessing in milk so that a whole group of men will be satiated with the milk of one she-camel, a whole tribe with the milk of a cow and a whole family with the milk of a shegoat. while they are thus living, Allah will send a wind that will take away the soul of every believer, but there will remain the evil people who will have sexual intercourse on the roads just as asses have. The Hour will come upon them.

صحيح، الصحيحة (481)، تخريج فضائل الشام (25)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2240
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبدالرحمٰن یزید بن جابر کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «فخض فيه ورفع» کے معنی و مطلب کے بارے میں دو قول ہیں: ایک «خفض»، «حقر» کے معنی میں یعنی اللہ تعالیٰ کے یہاں وہ ذلیل وحقیر ہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں کانا پیدا کیا، نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ دجال اللہ رب العزت کے یہاں اس سے زیادہ ذلیل ہے یعنی وہ اس ایک آدمی کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے پر قدرت نہیں رکھے گا، بلکہ ایسا کرنے سے عاجز ہوگا، اس کا معاملہ کمزور پڑجائے گا، اور اس کے بعد اس کا اور اس کے اتباع و مویدین کا قتل ہوجائے گا، اور «رفع» کے معنی اس کے شر اور فتنے کی وسعت ہے اور یہ کہ اس کے پاس جو خرق عادت چیزیں ہوں گی وہ لوگوں کے لیے ایک بڑا فتنہ ہوں گی، یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو اس کے فتنے سے ڈرایا، دوسرا معنی اس جملے کا یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کا تذکرہ اتنا زیادہ کیا کہ لمبی گفتگو کے بعد آپ کی آواز کم ہوگئی تاکہ دوران گفتگو آپ آرام فرما لیں پھر سب کو اس فتنے سے آگاہ کرنے کے لیے آپ کی آواز بلند ہوگئی۔ ٢ ؎: یعنی میری زندگی کے بعد فتنہ دجال کے وقت میری امت کا نگراں اللہ رب العالمین ہے۔ ٣ ؎: لُد: بیت المقدس کے قریب ایک شہر ہے، النہایہ فی غریب الحدیث میں ہے کہ لُد ملک شام میں ایک جگہ ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین میں ایک جگہ ہے، (یہ آج کل اسرائیل کا ایک فوجی اڈہ ہے) ٤ ؎: ان کے اسلحہ کی مقدار اس قدر زیادہ ہوگی، یا مسلمانوں کی تعداد اس وقت اس قدر کم ہوگی۔ ٥ ؎: اس حدیث میں علامات قیامت، خروج دجال، نزول عیسیٰ بن مریم، یاجوج و ماجوج کا ظہور اور ان کے مابین ہونے والے اہم واقعات کا تذکرہ ہے، دجال کی فتنہ انگیزیوں، یاجوج و ماجوج کے ذریعہ پیدا ہونے والے مصائب اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں اور ان کی دعاؤں سے ان کے خاتمے کا بیان ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (٢٩٣٧)، سنن ابی داود/ الملاحم ١٤ (٤٣٢١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٥) (تحفة الأشراف: ١١٧١١)، و مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح )
2241Sunan At-Tirmidhi

دجال کی صفات کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الدَّجَّالِ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَسْمَاءَ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے دجال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: سنو! تمہارا رب کانا نہیں ہے جب کہ دجال کانا ہے، اس کی داہنی آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked about the dajjal. He said, Know that your Lord is not one eyed, but know that the dajjal is blind in the right eye as though it were a swollen grape.’ [Muslim 169]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2241
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث عبداللہ بن عمر کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد، حذیفہ، ابوہریرہ، اسماء، جابر بن عبداللہ، ابوبکرہ، عائشہ، انس، ابن عباس اور فلتان بن عاصم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٤٨ (٣٤٣٩)، والفتن ٢٦ (٧١٣٣)، والتوحید ١٧ (٧٤٠٧)، صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (١٦٩/١٠٠) وانظر أیضا ماتقدم برقم ٢٢٣٥ (تحفة الأشراف: ٨١٢١) (صحیح )
2242Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکتا

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا، فَلَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، وَمِحْجَنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجال مدینہ (کے قریب) آئے گا تو فرشتوں کو اس کی نگرانی کرتے ہوئے پائے گا، اللہ نے چاہا تو اس میں دجال اور طاعون نہیں داخل ہوگا ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The dajjal will head for Madinah, but will find that the angels have surrounded it. So, plague and the dajjal will not enter Madinah, Insha Allah.” [Bukhari 7134, Ahmed 12246]

صحيح، الصحيحة (2457)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2242
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، فاطمہ بنت قیس، اسامہ بن زید، سمرہ بن جندب اور محجن ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢٧ (٧١٣٤)، والتوحید ٣١ (٧٤٧٣) (تحفة الأشراف: ١٢٦٩)، و مسند احمد (٣/١٢٣، ٢٠٢، ٢٠٦، ٢٢٩، ٢٧٧، ٣٩٣) (صحیح )
2243Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکتا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْكُفْرُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَالسَّكِينَةُ لِأَهْلِ الْغَنَمِ، وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَأَهْلِ الْوَبَرِ، يَأْتِي الْمَسِيحُ إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ صَرَفَتِ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلَكُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان یمن کی طرف سے نکلا ہے اور کفر مشرق (پورب) کی طرف سے، سکون و اطمینان والی زندگی بکری والوں کی ہے، اور فخر و ریاکاری فدادین یعنی گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہے، جب مسیح دجال احد کے پیچھے آئے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور شام ہی میں وہ ہلاک ہوجائے گا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Faith came from Yaman while disbelief came from the direction of east. The shepherds possesstranquility and humility while the keepers of camels and horses are arrogant and ostentatious. When the dajjal will reach the Uhud mountain, on its other side, the angels will turn him about towards the direction of Syria. And, there he will perish.’ [Bukhari 3499, Muslim 52]

صحيح، الصحيحة (1770)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2243
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٥ (٣٣٠١)، والمناقب ١ (٣٤٩٩)، والمغازي ٧٤ (٤٣٨٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٢١ (٥٢/٨٥، ٨٦) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٨)، و مسند احمد (٢/٢٥٨، ٥٤١) (صحیح )
2244Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ حضرت عیسیٰ دجال کو قتل کریں گے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمِّي مُجَمِّعَ ابْنَ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَنَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأَبِي بَرْزَةَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَيْسَانَ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي، وَجَابِرٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مجمع بن جاریہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ابن مریم (علیہما السلام) دجال کو باب لد کے پاس قتل کریں گے ۔

Sayyidina Mujamma ibn Jariyah Ansari (RA) reported having heard Allah’s Messenger say, “Ibn Maryam will kill dajjal at the gate of Ludd (Lod).” [Ahmed 15466]

صحيح، الصحيحة (2457)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2244
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمران بن حصین، نافع بن عتبہ، ابوبرزہ، حذیفہ بن اسید، ابوہریرہ، کیسان، عثمان، جابر، ابوامامہ، ابن مسعود، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، نواس بن سمعان، عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٢١٥) (صحیح )
2245Sunan At-Tirmidhi

دجال کی صفات کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے (دجال) سے نہ ڈرایا ہو، سنو! وہ کانا ہے، جب کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ «ک»، «ف»، «ر» لکھا ہوا ہے ۔

Qatadah reported having heard Sayyidina Anas (RA) narrate that Allah’s Messenger said, There has not been a Prophet ﷺ who has not warned his people of the one-eyed.Iiar. Know, that he will be one-eyed while your Lord is not one-eyed. It will be inscribed between his eyes Ka fa ra (Kafir). [Bukhari 7131, Muslim 2933]

صحيح تخريج الطحاوية (762)، الصحيحة (2457)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2245
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢٦ (٧١٣١)، والتوحید ١٧ (٧٤٠٧)، صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (٢٩٣٣)، سنن ابی داود/ الملاحم ١٤ (٤٣١٦) (تحفة الأشراف: ١٢٤١) (صحیح )