ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ میں ابن صائد (ابن صیاد) میرے ساتھ تھا، لوگ آگے چلے گئے اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے، جب میں اس کے ساتھ اکیلے رہ گیا تو لوگ اس کے بارے میں جو کہتے تھے اس کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے اور اس سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا، چناچہ جب میں سواری سے اترا تو اس سے کہا: اس درخت کے پاس اپنا سامان رکھ دو، پھر اس نے کچھ بکریوں کو دیکھا تو پیالہ لیا اور جا کر دودھ نکال لایا، پھر میرے پاس دودھ لے آیا اور مجھ سے کہا: ابوسعید! پیو، لیکن میں نے اس کے ہاتھ کا کچھ بھی پینا پسند نہیں کیا، اس وجہ سے جو لوگ اس کے بارے میں کچھ کہتے تھے (یعنی دجال ہے) چناچہ میں نے اس سے کہا: آج کا دن سخت گرمی کا ہے اس لیے میں آج دودھ پینا بہتر نہیں سمجھتا، اس نے کہا: ابوسعید! میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی سے اپنے آپ کو اس درخت سے باندھ لوں اور گلا گھونٹ کر مرجاؤں یہ اس وجہ سے کہ لوگ جو میرے بارے میں کہتے ہیں، بدگمانی کرتے ہیں، آپ بتائیے لوگوں سے میری باتیں بھلے ہی چھپی ہوں مگر آپ سے تو نہیں چھپی ہیں؟ انصار کی جماعت! کیا آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے سب سے بڑے جانکار نہیں ہیں؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے (دجال کے بارے میں) یہ نہیں فرمایا ہے کہ وہ کافر ہے؟ جب کہ میں مسلمان ہوں، کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ بانجھ ہے؟ اس کی اولاد نہیں ہوگی، جب کہ میں نے مدینہ میں اپنی اولاد چھوڑی ہے، کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہوگا؟ کیا میں مدینہ کا نہیں ہوں؟ اور اب آپ کے ساتھ چل کر مکہ جا رہا ہوں، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! وہ ایسی ہی دلیلیں پیش کرتا رہا یہاں تک کہ میں کہنے لگا: شاید لوگ اس کے متعلق جھوٹ بولتے ہیں، پھر اس نے کہا: ابوسعید! اللہ کی قسم! اس کے بارے میں آپ کو سچی بات بتاؤں؟ اللہ کی قسم! میں دجال کو جانتا ہوں، اس کے باپ کو جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اس وقت زمین کے کس خطہٰ میں ہے تب میں نے کہا: تمہارے لیے تمام دن تباہی ہو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) narrated lbn Sayyad performed Hajj or Umrah with me. (During the journey), people overtook us and the two of us were left behind (to ourselves). When I was alone with him, I sensed a fear. I was terrified because people used to say things about him. When I stopped (at a place), I said to him, ‘Put down your provision by this tree,” He spied some sheep,.so took a bowl to them and brought their milk, saying to me, “Drink O Abu Sa’eed.’ I disliked to drink anything from his hands because of what people said about him. So, I said to him, “This is a hot day and I do not like milk in the heat.” He said, “O Abu Sa’eed, I have resolved to take a rope and tie it to the tree and strangulate my neck because of what people say about me. Do you see that if my condition is concealed from others, it is not concealed from you. You know better than other people the hadith of Allah’s Messenger ‘O company of the Ansar, has not Allah’s Messenger ﷺ said, He (dajjal) is a disbeliever, but I Messenger ﷺ say that he is childless, but I have left behind my son in Madinah. Did he not say that the (dajjal) cannot enter Makkah, but am I not one of the people of Madinah? And I am going to Makkah with you.” He did not cease to speak in this fashion till I thought that people might be lying about him. He then said, ‘O Abu Sa’eed ! Indeed, I will inform you Of a news a true news. By Allah, I know him° and I know his father and where he is on earth now.” So, I said, “May evil befall you, all day!” [Muslim 2927]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2246
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو دلائل تم نے پیش کئے ان کی بنیاد پر تمہارے متعلق میں نے جو حسن ظن قائم کیا تھا تمہاری اس آخری بات کو سن کر میرا حسن ظن جاتا رہا اور مجھے تجھ سے بدگمانی ہوگئی (شاید یہ اس کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے تھا، یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کو اس کی اول فول باتوں کی وجہ سے دجال تک سمجھنے لگے)۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس کھیل رہا تھا، وہ ایک چھوٹا بچہ تھا اس لیے اسے آپ کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہوسکا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا، پھر فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تمہارے پاس (غیب کی) کون سی چیز آتی ہے؟ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے اوپر تیرا معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے (دل میں) ایک بات چھپاتا ہوں اور آپ نے آیت: «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ١ ؎ چھپالی، ابن صیاد نے کہا: وہ (چھپی ہوئی چیز) «دخ» ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھٹکار ہو تجھ پر تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا ، عمر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن اڑا دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ حقیقی دجال ہے تو تم اس پر غالب نہیں آسکتے اور اگر وہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: «حقا» سے آپ کی مراد دجال ہے ٢ ؎۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger and some of his sahabah, Umar (RA) among them, passed by Ibn Sayyad. He was playing with some children near the fort of Banu Maghalah. He was a child and did not perceive that the Prophet ﷺ come until he touched him on his back with his hand and said, Do you bear witness that I am Allah’s Messenger ?“ Ibn Sayyad looked at him and said, ‘I bear witness that you are the Messenger for the unlettered.” Then he said to the Prophet ﷺ , “Do you bear witness that I am Allah’s Messenger ?“ The Prophet ﷺ said, “I believe in Allah and His Messenger He then asked, “What do you get (of news)?” Ibn Sayyad said, “I get true and false (information).” So the Prophet ﷺ ‘ said, “It is confused over you.” He then said, “I think of something about you” and he thought for him the verse: When the heaven shall bring a manifest smoke. (44: 10). So, Ibn Sayyad said, “It is smoke.” Allah’s Messenger said, “Off you go! You cannot go beyond that.” Umar (RA) said, “O Messenger of Allah, ﷺ ‘ allow me to strike off his neck!” But, Allah’s Messenger said, “If he is true, you will have no power over him. But if he is not then there is no good in killing him.” Abdur Razzaq said, “that meant the dajjal.” [Ahmed 6368]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2249
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔ ٢ ؎: بعض صحابہ کرام یہ سمجھتے تھے کہ یہی وہ مسیح دجال ہے جس کے متعلق قرب قیامت میں ظہور کی خبر دی گئی ہے، لیکن فاطمہ بنت قیس کی روایت سے جس میں تمیم داری نے اپنے سمندری سفر کا حال بیان کیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ قطعیت اس بات میں ہے کہ ابن صیاد دجال اکبر نہیں بلکہ کوئی اور ہے، ابن صیاد تو ان دجاجلہ، کذابین میں سے ایک ہے جن کے ظہور کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی، اور ان میں سے اکثر کا ظہور ہوچکا ہے، رہے وہ صحابہ جنہوں نے وثوق کے ساتھ قسم کھا کر ابن صیاد کو دجال کہا حتیٰ کہ آپ ﷺ کے سامنے بھی اسے دجال کہا گیا اور آپ خاموش رہے تو یہ سب تمیم داری والے واقعہ سے پہلے کی باتیں ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابن صائد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملے، آپ نے اسے پکڑ لیا، وہ ایک یہودی لڑکا تھا، اس کے سر پر ایک چوٹی تھی، اس وقت آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر ؓ بھی تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ، اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: تم کیا دیکھتے ہو؟ ١ ؎ اس نے کہا: پانی کے اوپر ایک عرش دیکھتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سمندر کے اوپر ابلیس کا عرش دیکھتے ہو ، آپ نے فرمایا: اور بھی کچھ دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: ایک سچا اور دو جھوٹے یا دو جھوٹے اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے ، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) narrated : Allah Messenger met Ibn Sayyad on some roads of Madinah. He stopped him. Ibn Sayyad was a Jew child who had long hair plaited on the head. Sayyidina Abu Bakr (RA) and Umar (RA) were with the Prophet ﷺ , who said to him, “Testify that I am Allah’s Messenger.” He said, “Do you testify that I am Allahs Messenger?” So, he said, ‘1 believe in Allah, His Books His Messenger ﷺ and the Last Day.’ Then the Prophet ﷺ asked him, “What do you.see?” He said, “I see a throne above water.’ The Prophet ﷺ said to him, “You see the throne of Iblis above the ocean.” He again asked him what he saw and Ibn Sayyad said, “I see one true and two false, or two true and one false.” The Prophet ﷺ said, “This has become confused for him.” And he left him alone. [Bukhari 3055, Muslim 2925]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2247
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں عمر، حسین بن علی، ابن عمر، ابوذر، ابن مسعود، جابر اور حفصہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے، اور جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے، اس میں سے کیا دیکھتے ہو؟۔
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجال کے باپ اور ماں تیس سال تک اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوگا، پھر ایک کانا لڑکا پیدا ہوگا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوگا، اس کی آنکھیں سوئیں گی مگر دل نہیں سوئے گا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس کا باپ دراز قد اور دبلا ہوگا اور اس کی ناک چونچ کی طرح ہوگی، اس کی ماں بھاری بھر کم اور لمبے ہاتھ والی ہوگی ، ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں: ہم نے مدینہ کے اندر یہود میں ایک ایسے ہی لڑکے کے بارے میں سنا، چناچہ میں اور زبیر بن عوام چلے یہاں تک کہ اس کے والدین کے پاس گئے تو وہ ویسے ہی تھے، جیسا رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا، ہم نے پوچھا: کیا تمہارا کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے ہاں تیس سال تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا، پھر ہم سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں مگر اس کا دل نہیں سوتا، ہم ان کے پاس سے نکلے تو وہ لڑکا دھوپ میں ایک موٹی چادر پر لیٹا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا، پھر اس نے اپنے سر سے کپڑے ہٹایا اور پوچھا: تم دونوں نے کیا کہا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے جو کہا ہے کیا تم نے اسے سن لیا؟ اس نے کہا: ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں، مگر دل نہیں سوتا ہے ۔
Sayyidina Abu Bakrah reported that for thirty years the dajjal’s parents will have no children. Then a child will be born to them with one eye. He will be more harmful than beneficial. His eyes will sleep, but his heart will not sleep. Allah’s Messenger then described to them the dajjals parents, saying, “His father would be tall and lean with a nose pointed like a hen’s beak. His mother will be a large woman with long arms.” Abu Bakrah said that he heard of the birth of a Jew child, so he and Zubayr ibn Awwam (RA) went to see him. They found his parents as described by Allah’s Messenger ﷺ . They said, “We waited for a child for thirty years. Then, a child blind in one eye was born to us, more harmful than of benefit. His eyes sleep, but not his heart.” Then they went out from them. Their sight fell on the child lying in a thick sheet of cloth in the sun. He was murmuring something. He asked them, “What did you say?” We asked, “Did you hear us?” He said, “Yes, My eyes sleep but my heart keeps awake.” [Ahmed 20440]
ضعيف، المشکاة (5503 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6445) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2248
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٦٨٨) (ضعیف) (سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is not on earth a soul living today and having gone through a hundred years.” [Muslim 2538j
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2250
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری اور بریدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اور دوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، جب آپ سلام پھیر چکے تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے اپنی اس رات کو دیکھا اس وقت جتنے بھی آدمی اس روئے زمین پر ہیں سو سال گزر جانے کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ۔ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: یہ سن کر لوگ مغالطے میں پڑگئے کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ سے ایسی حدیث بیان کرتے ہیں کہ سو سال کے بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ جو آج باقی ہیں ان میں سے کوئی روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا، یعنی اس نسل اور قرن کے لوگ ختم ہوجائیں گے۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) narrated : Allah’s Messenger led us in the salah of isha towards the end of his life. When he had finished, he stood up and said, “Do you see this night of yours ? After a hundred years from it, there will not remain anyone of those on the face of the earth today.” Ibn Umar (RA) said that the people misinterpreted Allah’s Messenger ﷺ saying as not remaining for a hundred years though he only said, “There will not remain anyone of those today on the face of the earth after a qarn” (which is a hundred years or a generation). [Bukhari 116, Muslim 2537, Abu Dawud 4348]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2251
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہوا کو گالی مت دو، اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو «اللهم إنا نسألک من خير هذه الريح وخير ما فيها وخير ما أمرت به ونعوذ بک من شر هذه الريح وشر ما فيها وشر ما أمرت به» یعنی اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری مانگتے ہیں اور وہ بہتری جو اس میں ہے اور وہ بہتری جس کی یہ مامور ہے، اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کی شر سے اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جس کی یہ مامور ہے ۔
Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Do not revile the wind. When you experience that which you dislike then say: O Allah, we ask you for the good of this wind and the good of what is in it and the good with which it is commanded. And we seek refuge in You from the evil of this wind and the evil of what it is commanded. [Muslim 942]
فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے، ہنسے پھر فرمایا: تمیم داری نے مجھ سے ایک بات بیان کی ہے جس سے میں بےحد خوش ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم سے بھی بیان کروں، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوئے، وہ کشتی (طوفان میں پڑنے کی وجہ سے) کسی اور طرف چلی گئی حتیٰ کہ انہیں سمندر کے کسی جزیرہ میں ڈال دیا، اچانک ان لوگوں نے بہت کپڑے پہنے ایک رینگنے والی چیز کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، ان لوگوں نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ (جاسوسی کرنے والی) ہوں، ان لوگوں نے کہا: ہمیں (اپنے بارے میں) بتاؤ، اس نے کہا: نہ میں تم لوگوں کو کچھ بتاؤں گی اور نہ ہی تم لوگوں سے کچھ پوچھوں گی، البتہ تم لوگ بستی کے آخر میں جاؤ وہاں ایک آدمی ہے، جو تم کو بتائے گا اور تم سے پوچھے گا، چناچہ ہم لوگ بستی کے آخر میں آئے تو وہاں ایک آدمی زنجیر میں بندھا ہوا تھا اس نے کہا: مجھے زغر (ملک شام کی ایک بستی کا نام ہے) کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا: بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے، اس نے کہا: مجھے بیسان کی کھجوروں کے بارے میں بتاؤ جو اردن اور فلسطین کے درمیان ہے، کیا اس میں پھل آیا؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: مجھے نبی (آخرالزماں ﷺ ) کے بارے میں بتاؤ کیا وہ مبعوث ہوئے؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: بتاؤ لوگ ان کی طرف کیسے جاتے ہیں؟ ہم نے کہا: تیزی سے، اس نے زور سے چھلانگ لگائی حتیٰ کہ آزاد ہونے کے قریب ہوگیا، ہم نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ وہ دجال ہے اور طیبہ کے علاوہ تمام شہروں میں داخل ہوگا، طیبہ سے مراد مدینہ ہے۔
Sayyidah Fatimah bint Qays (RA) narrated : Once, the Prophet ﷺ went up the pulpit and he laughed and said : “Tamim Dan related to me an account which pleased me and I loved to recount it to you. Some people of Palestine boarded a ship and sailed in the ocean. The waves menaced it till it took them to an island of the several in the ocean. There they encountered a beast with so much hair on it (that it covered all its body). They said, “What are you ?“ It said, “I am jassasah. They said, “Tell us something.” It said, “I will neither tell you anything nor ask you about anything. But, approach the farthest village. There, someone will inform you and ask you.” So, they went to the edge of the village and found a man fettered by a chain. He asked them, “Tell me about the spring Zughar.” They told him that it was full with water bubbling out. He asked them about the palm trees of Baisan between Jordan and Palestine. “Is it fruit-bearing?” They said, “Yes.” He asked whether the Prophet ﷺ was sent and they affirmed that he was. Heasked, “How do the people respond to him?” They said, “With speed.” He jerked himself with great force till he almost freed himself. They asked, “Who are you?” He said, “I am the dajjal.” And he will go to all cities except Taybah. And Taybah is Madinah. [Muslim 2942]
صحيح قصة نزول عيسى عليه السلامصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2253
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث شعبہ کے واسطہ سے قتادہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اسے کئی لوگوں نے شعبی کے واسطہ سے فاطمہ بنت قیس سے روایت کیا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث جساسہ کی تفصیل کے لیے صحیح مسلم میں کتاب الفتن کا مطالعہ کریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٤ (٢٩٤٢)، سنن ابی داود/ الملاحم ١٥ (٤٣٢٦)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٤) (تحفة الأشراف: ١٨٠٢٤)، و مسند احمد (٦/٣٧٤، ٤١٨) (صحیح )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے نفس کو ذلیل کرے ، صحابہ نے عرض کیا: اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا؟ آپ نے فرمایا: اپنے آپ کو ایسی مصیبت سے دو چار کرے جسے جھیلنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔
Sayyidina Hudhayfah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It does not behove a Muslim to humiliate himself.” Someone asked, “How can one humiliate himself?” He said, “He involves himself in a difficulty out of which he cannot extract himself. [Ibn Majah 4016]
صحيح، ابن ماجة (4016)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2254
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢١ (٤٠١٦) (تحفة الأشراف: ٣٣٠٥)، و مسند احمد (٥/٤٠٥) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے ظلم سے باز رکھو، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Help your brother whether he is an oppressor or an oppressed.” Someone asked, “O Messenger of Allah, ﷺ I did help the oppressed. But how do I help the oppressor?” He said, “Prevent him from being oppressive. That is your help to him.” [Bukhari 2443]
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے بادیہ (صحراء و بیابان) کی سکونت اختیار کی وہ سخت طبیعت والا ہوگیا، جس نے شکار کا پیچھا کیا وہ غافل ہوگیا اور جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنوں کا شکار ہوگیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “He who stays in the desert is harsh and unfriendly. He who pursues game is careless and neglectful. And, hewho frequents the gates of the monarchs faces trials and corruption.” [Abu Dawud 2859, Nisai 4320]
صحيح، المشکاة (3701 / التحقيق الثانی)، صحيح أبي داود (2547)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2256
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابن عباس ؓ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ صحراء و بیابان کی سکونت اختیار کرنے والا اگر جمعہ و جماعت میں حاضر نہیں ہوتا ہے اور علماء کی مجالس سے دور رہتا ہے تو ایسا شخص تمدن و تہذیب سے دور، سخت طبیعت والا ہوگا، اسی طرح جو لہو و لعب کی غرض سے شکار کا عادی ہوا وہ غفلت میں مبتلا ہوجائے گا، البتہ جو رزق کی خاطر شکار کا ارادہ رکھتا ہو تو یہ عمل اس کے لیے جائز ہے۔ کیونکہ بعض صحابہ کرام نے بھی یہ عمل اپنا یا ہے، بادشاہوں کے دربار میں حاضری دینے والا اگر مداہنت سے کام لیتا ہے تو فتنہ میں پڑجائے گا، البتہ جو بادشاہوں کے پاس رہ کر انہیں نصیحت کرے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے تو یہ اس کے لیے افضل جہاد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصید ٤ (٢٨٥٩)، سنن النسائی/الصید ٢٤ (٤٣١٤) (تحفة الأشراف: ٦٥٣٩)، و مسند احمد (١/٣٥٧) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: (دشمنوں پر) تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں مال و دولت ملے گی اور تمہارے لیے قلعے کے دروازے کھولے جائیں گے، پس تم میں سے جو شخص ایسا وقت پائے اسے چاہیئے کہ وہ اللہ سے ڈرے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “You are those who will be helped, who will bestowed wealth, and who will be granted victories. So, those of you who are among them must fear Allah, and enjoin piety and forbid evil. And he who ascribes lies to me must take his place in the fire.” [Ahmed 380]
صحيح، الصحيحة (1383)، وانظر الحديث (2809)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2257
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ٩٣٥٩) (ویأتي الجزء الأخیر منہ برقم: ٢٦٥٩) (صحیح )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے فتنہ کے بارے میں جو فرمایا ہے اسے کس نے یاد رکھا ہے؟ حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے یاد رکھا ہے، حذیفہ ؓ نے بیان کیا: آدمی کے لیے جو فتنہ اس کے اہل، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلے میں ہوگا اسے نماز، روزہ، زکاۃ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں ١ ؎، عمر ؓ نے کہا: میں تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہوں، بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح موجیں مارے گا، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: توڑ دیا جائے گا، عمر ؓ نے کہا: تب تو قیامت تک بند نہیں ہوگا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ابو وائل شقیق بن سلمہ نے کہا: میں نے مسروق سے کہا کہ حذیفہ سے اس دروازہ کے بارے میں پوچھو انہوں نے پوچھا تو کہا: وہ دروازہ عمر ہیں ٢ ؎۔
Sayyidina Hudhayfah (RA) reported that Sayyidina Umar (RA) . asked, “Which of you remembers the sayings of Allah’s Messenger ﷺ about fitnah?” So he Hudhayfah said, “I.” He then narrated, “The trial of a man lies in his family, wealth, children and neighbours (concerning rights attached to them which he violates). They are atoned by salah, fasting, sadaqab, enjoining righteousness and forbidding evil.” Umar (RA) said, “This is not what I asked. I asked about the trial and commotion that will rise like waves of the ocean.” He said, O Amir-ul-Mumineen (Commander of the faithful), there is between you and it a closed door.” Umar asked, “Will it he opened or broken?” He said, “It will be broken.” So, hesaid, “in that case, it will not be closed till the Last Hour.’ Abu Wail said in the hadith of Hammad that he said to Masruq, “Ask Hudhayfah, what is the door ?“ He said, “That is Umar (RA) himself [Bukhari 525,Muslim 144]
صحيح، ابن ماجة (3555)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2258
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ گھر کی ذمہ داری سنبھالنے والے سے اس کے اہل، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلہ میں ادائے حقوق کے ناحیہ سے جو کوتاہیاں ہوجاتی ہیں تو نماز، روزہ، صدقہ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر وغیرہ یہ سب کے سب ان کے لیے کفارہ بنتے ہیں۔ ٢ ؎: حذیفہ ؓ نے جو کچھ بیان کیا عمر ؓ کی شہادت کے بعد حقیقت میں اسی طرح پیش آیا، یعنی فتنوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑا، اور امن وامان نام کی کوئی چیز دنیا میں باقی نہیں رہی، چناچہ ہر کوئی سکون و اطمینان کا متلاشی ہے۔
کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ١ ؎ آپ نے فرمایا: سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا ۔
Sayyidina Ka’b ibn Ujrah narrated Allah’s Messenger ﷺ came to us and we were nine people made up of five and four either of the two numbers representing Arabs and non-Arabs. He said, “Listen ! Have you heard that there will be after me, rulers? if anyone goes to them and, despite their falsehood, vouches for their truth and, despite their tyranny, helps them over their oppression, then he does not belong to me and I am not his and he will not make it to my pond. And as for him who does not go to them and does not aid them in their oppression and does not vouch their lies to be true, he is of me and I belong to him and he will come to me at the pond.’ [Nisai 4219]
صحيح مضی بزيادة فی متنه (617)
صحيح مضی بزيادة فی متنه (617)
صحيح مضی بزيادة فی متنه (617)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2259
ہارون کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے «عن سفيان عن أبي حصين عن الشعبي عن عاصم العدوي عن کعب بن عجرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2259
ہارون کہتے ہیں کہ ہم ہم سے محمد نے «عن سفيان عن زبيد عن إبراهيم وليس بالنخعي عن کعب بن عجرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مسعر کی حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے، اور ابراہیم سے مراد ابراہیم نخعی نہیں ہیں۔ اس باب میں حذیفہ اور ابن عمر ؓ سے بھی حدیث مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2259
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے مسعر کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی راوی کو شک ہے کہ عربوں کی تعداد پانچ تھی، اور عجمیوں کی چار یا اس کے برعکس تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیعة ٣٥ (٤٢١٢)، و ٣٦ (٤٢١٣) (تحفة الأشراف: ١١١١٠)، و مسند احمد (٤/٢٤٣) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح)
انطر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١١١٠٦) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہوگا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A time will come on the people when the patient among them on his religion will be like one who holds live coal (in his hand).”
صحيح، الصحيحة (957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2260
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - عمر بن شاکر ایک بصریٰ شیخ ہیں، ان سے کئی اہل علم نے حدیث روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہاتھ پر آگ کا انگارہ رکھنے والا بےانتہا مشقت و تکلیف برداشت کرتا ہے اسی طرح اس زمانے میں اپنے دین کی حفاظت اسی وقت ممکن ہوگی جب ثبات قدمی اور صبر عظیم سے کام لیا جائے گا، کیونکہ دین پر قائم رہنے والا ایسی مصیبت میں گرفتار ہوگا جیسے چنگاری کو ہاتھ پر رکھنے والا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا: کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتادوں؟ لوگ خاموش رہے، آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون (بےخوف) رہا جائے اور تم میں سے برا وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون (بےخوف) نہ رہا جائے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ stood by certain people who were seated. He said, “Shall I inform you of the best of you and the worst of you ?“ They observed silence. So he repeated his words three times, and a .man said, “Of course, O Messenger of Allah, ﷺ Inform us of the best of us and the worst of us.” He said, “The best of you is he from whom his good is expected and his evil is not apprehended. And the worst of you is he from whom his good is not anticipated but his evil is feared.” [Ahmed 3808]
صحيح، المشکاة (4993)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2263
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میری امت اکڑ اکڑ کر چلنے لگے اور بادشاہوں کی اولاد یعنی فارس و روم کے بادشاہوں کی اولاد ان کی خدمت کرنے لگے تو اس وقت ان کے برے لوگ ان کے اچھے لوگوں پر مسلط کردیئے جائیں گے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “When men of my ummah walk with conceit and children of kings serve them, the kings of Persia and Rome, then worse of them will rule over the best of them.”
صحيح، الصحيحة (957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2261
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ابومعاویہ نے بھی اسے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٢٥٢) (صحیح) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ، ضعیف ہیں اگلی سند کی متابعت سے یہ حدیث بھی صحیح ہے )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز سے بچا لیا جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن رکھا تھا، جب کسریٰ ہلاک ہوگیا تو آپ نے پوچھا: ان لوگوں نے کسے خلیفہ بنایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اس کی لڑکی کو، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا ، جب عائشہ ؓ آئیں یعنی بصرہ کی طرف تو اس وقت میں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث یاد کی ١ ؎، چناچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔
Sayyidina Abu Bakrah (RA) narrated: Allah protected me with something that I heard from Allah’s Messenger ﷺ when Chosroes was ruined. He asked, ‘Who has succeeded him?” They said, ‘His daughter .” So, the Prophet ﷺ said, ‘People will not prosper when their affairs are dictated by a woman.” Sayyidina Abu Bakrah said, “When Aisha (RA) came, meaning to Busrah, I remembered the saying of Allah’s Messenger ﷺ and thus Allah saved me with this.” [Bukhari 4425]
صحيح، الإرواء (2456)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2262
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اشارہ جنگ جمل کی طرف ہے جو قاتلین عثمان سے بدلہ لینے کی خاطر پیش آئی تھی، عثمان ؓ جب شہید کردیے گئے اور علی ؓ کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کرلی، پھر طلحہ اور زبیر ؓ مکہ کی طرف روانہ ہوئے وہاں ان کی ملاقات عائشہ ؓ سے ہوئی جو حج کے ارادے سے گئی تھیں، پھر ان سب کی رائے متفق ہوگئی کہ عثمان ؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے کی غرض سے بصرہ چلیں، علی ؓ کو جب یہ خبر پہنچی تو وہ بھی پوری تیاری کے ساتھ پہنچے، پھر حادثہ جمل پیش آیا۔
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے اچھے حکمرانوں اور برے حکمرانوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ اچھے حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو گے اور وہ تم سے محبت کریں گے، تم ان کے لیے دعائیں کرو گے اور وہ تمہارے لیے دعائیں کریں گے، تمہارے برے حکمراں وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو گے اور وہ تم سے نفرت کریں گے تم ان پر لعنت بھیجو گے اور وہ تم پر لعنت بھیجیں گے ١ ؎۔
Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab reported that the Prophet ﷺ said, “Shall I not inform you of the best of your rulers and the worst of them? The best of them are they whom you love and they love you and you pray for them and they pray for you. And the worst of them are they whom you despise and they despise you and you curse them and they curse you.”
صحيح، الصحيحة (907)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2264
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف محمد بن ابوحمید کی روایت سے جانتے ہیں، اور محمد بن ابوحمید حافظے کے تعلق سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کچھ ایسے حکمراں ہوں گے جو عدل و انصاف سے کام لیں گے، ان کے اور تمہارے درمیان محبت قائم ہوگی وہ تمہارے خیرخواہ اور تم ان کے خیرخواہ ہو گے، اور کچھ ایسے حکمراں ہوں گے جو ظلم و زیادتی میں بےمثال ہوں گے، ان میں شر کا پہلو زیادہ غالب ہوگا، اسی لیے تم ان سے اور وہ تم سے بغض رکھیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٣٩٩) (صحیح) (سند میں محمد بن ابی حمید ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے الصحیحة رقم: ٩٠٧ )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمراں ہوں گے جن کے بعض کاموں کو تم اچھا جانو گے اور بعض کاموں کو برا جانو گے، پس جو شخص ان کے برے اعمال پر نکیر کرے وہ مداہنت اور نفاق سے بری رہا اور جس نے دل سے برا جانا تو وہ محفوظ رہا، لیکن جو ان سے راضی ہو اور ان کی اتباع کرے (وہ ہلاک ہوگیا) ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں ١ ؎۔
Umm e Salamah (or Abu Salamah) reported from the Prophet ﷺ that he said, There will come over you rulers whom you like and whom you dislike. So, he who dislikes their evil will be absolved, and he who hates them will be safe, but he who is pleased and obeys (will be destroyed). So, it was said, O Messenger of Allah, ﷺ Shall we not light them ?‘ He said, No, as long as they offer salah. [Muslim 1854]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2265
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: منکر کا انکار اگر زبان سے ہے تو ایسا شخص نفاق سے بری ہے، اور دل سے ناپسند کرنے والا اس منکر کے شر اور وبال سے محفوظ رہے گا، لیکن جو پسند کرے اور اس سے راضی ہو تو وہ منکر کرنے والوں کے ساتھ ہے، یعنی جس سزا کے وہ مستحق ہوں گے اس سزا کا یہ بھی مستحق ہوگا، منکر انجام دینے والے بادشاہوں سے اگر وہ نماز کے پابند ہوں قتال کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تاکہ فتنہ سے محفوظ رہ سکیں، اور امت اختلاف و انتشار کا شکار نہ ہو، جب کہ نماز کی پابندی نہ کرنے والا تو کافر ہے، اس لیے اس سے قتال جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة (١٨٥٤)، سنن ابی داود/ السنة ٣٠ (٤٧٦٠) (تحفة الأشراف: ١٨١٦٦)، و مسند احمد (٦/٢٩٥) (صحیح )