عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کو یا یہ فرمایا: محمد ﷺ کی امت کو گمراہی پر اکٹھا نہیں کرے گا، اللہ کا ہاتھ (اس کی مدد و نصرت) جماعت کے ساتھ ہے، جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں گرا ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, Allah will not gather my Ummah” or he said, “The Ummah of Muhammad” on the misled path. And the hand of Allah is on the jama’ah and he who breaks from it is plunged into the Fire.”
صحيح دونصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2167
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - سلیمان مدنی میرے نزدیک سلیمان بن سفیان ہی ہیں، ان سے ابوداؤد طیالسی، ابوعامر عقدی اور کئی اہل علم نے روایت کی ہے، ٣ - اہل علم کے نزدیک جماعت سے مراد اصحاب فقہ اور اصحاب علم اور اصحاب حدیث ہیں، ٤ - علی بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا: جماعت سے کون لوگ مراد ہیں؟ انہوں نے کہا: ابوبکر و عمر، ان سے کہا گیا: ابوبکر و عمر تو وفات پا گئے، انہوں نے کہا: فلاں اور فلاں، ان سے کہا گیا: فلاں اور فلاں بھی تو وفات پاچکے ہیں تو عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوحمزہ سکری جماعت ہیں ١ ؎، ٥ - ابوحمزہ کا نام محمد بن میمون ہے، وہ صالح اور نیک شیخ تھے، عبداللہ بن مبارک نے یہ بات ہم سے اس وقت کہی تھی جب ابوحمزہ باحیات تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر ایک آدمی بھی صحیح عقیدہ و منہج پر ہو تو وہ اکیلے بھی جماعت ہے، اصل معیار صحیح عقیدہ و منہج پر ہونا ہے، نہ کہ بڑی تعداد میں ہونا، اس لیے تقلید کے شیدائیوں کا یہ کہنا کہ تقلید پر امت کی اکثریت متفق ہے، اس لیے مقلدین ہی سواد اعظم ہیں، سراسر مغالطہٰ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧١٨٨) (صحیح) (سند میں ” سلیمان مدنی “ ضعیف ہیں، لیکن ” من شذ شذ إلى النار “ کے سوا دیگر ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے ظلال الجنة رقم: ٨٠ )
ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسکم لا يضرکم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو! اپنی فکر کرو گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا جب تم نے ہدایت پالی (المائدہ: ١٠٥ ) اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں (یعنی ظلم نہ روک دیں) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا عذاب لوگوں پر عام کر دے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Bakr Siddiq (RA) said, “O people Recite the verse: O you who believer! Guard your own souls. He who has gone astray cannot harm you, if you are rightly guided. (5:105). and I heard Allah’s Messenger ﷺ say: Indeed, when people see the oppressor, but do not stop him commit oppression, then Allah will punish them through him.”
صحيح، ابن ماجة (4005)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2168
Notes · وضاحت
٢ ؎: ابوبکر ؓ کے ذہن میں جب یہ بات آئی کہ بعض لوگوں کے ذہن میں آیت «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسکم لا يضرکم من ضل إذا اهتديتم» (المائدة: ١٠٥ ) سے متعلق یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ اپنی اصلاح اگر کرلی جائے تو یہی کافی ہے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر ضروری نہیں ہے، تو اسی شبہ کے ازالہ کے لیے آپ نے فرمایا: لوگو! تم آیت کو غلط جگہ استعمال کر رہے ہو، میں نے تو نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، پھر آپ نے یہ حدیث بیان کی، گویا آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریں اور برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لیے یہ نقصان دہ نہیں ہے جب کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے بچتے رہو، کیونکہ امر بالمعروف کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے، اگر کوئی مسلمان یہ فریضہ ترک کر دے تو وہ ہدایت پر قائم رہنے والا کب رہے گا جب کہ قرآن «إذا اھتدیتم» کی شرط لگا رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السلام ١٧ (٤٣٣٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠٠٥)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر المائدة (٣٠٥٧) (تحفة الأشراف: ٦٦١٥)، و مسند احمد (١/٢، ٥، ٧، ٩) (صحیح )
حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف (بھلائی) کا حکم دو اور منکر (برائی) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے ١ ؎۔
Sayyidina Hudhaifa ibn Yaman (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “By Him Who has my soul in His hand, you will keep enjoining that which is right, and forbidding that which is evil or, it will be very quick that Allah will send on you a punishment. You will pray, but you will not be heard.” [Abu Dawud 4338, Ibn Majah 4005]
حسن، المشکاة (5140)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2169
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ جب تک لوگ انجام دیتے رہیں گے اس وقت تک ان پر عمومی عذاب نہیں آئے گا، اور جب لوگ اس فریضہ کو چھوڑ بیٹھیں گے اس وقت رب العالمین کا ان پر ایسا عذاب آئے گا کہ اس کے بعد پھر ان کی دعائیں نہیں سنی جائیں گی، اگر ایک محدود علاقہ کے لوگ اس امربالمعروف اور نہی عن المنکر والے کام سے کلی طور پر رک جائیں تو وہاں اکیلے صرف ان پر بھی عام عذاب آسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٣٦٦) (صحیح) (سند میں عبد اللہ بن عبدالرحمن اشہلی انصاری لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اپنے امام کو قتل نہ کر دو، اپنی تلواروں سے ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور برے لوگ تمہاری دنیا کے وارث نہ بن جائیں ۔
Sayyidina Hudhaifa ibn Yaman reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “By Him Who has my soul in His hand, the Last Hour will not come before you kill your imam, kill each other with your swords and the worst of you inherit your world (becoming your leaders).” [Ibn Majah 4043]
ضعيف، ابن ماجة (4043) // ضعيف سنن ابن ماجة (876)، ضعيف الجامع الصغير (6111) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2170
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ہم اسے صرف عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٣) (تحفة الأشراف: ٣٣٦٥)، و مسند احمد (٥/٣٨٩) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عبدالرحمن اشہلی ضعیف راوی ہیں )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس لشکر کا ذکر کیا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، تو ام سلمہ نے عرض کیا: ہوسکتا ہے اس میں کچھ مجبور لوگ بھی ہوں، آپ نے فرمایا: وہ اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے ١ ؎۔
Sayyidina Umm e Salamah (RA) reported that the Prophet ﷺ mentioned the army that would be swallowed up. Sayyidah Umm Salamah (RA) said, “Perhaps some of them would-be helpless.’ He said, “they will be taken up against their intentions. [Ahmed 26549, Muslim 2882]
صحيح، ابن ماجة (4065)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2171
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، یہ حدیث «عن نافع بن جبير عن عائشة أيضا عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے بھی آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دنیاوی عذاب میں تو مجبور اور بےبس لوگ بھی مبتلا ہوجائیں گے مگر آخرت میں وہ اپنے اعمال کے موافق اٹھائے جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٠ (٤٠٦٥) (تحفة الأشراف: ١٨٢١٦) (صحیح )
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے (عید کے دن) خطبہ کو صلاۃ پر مقدم کرنے والے مروان تھے، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر مروان سے کہا: آپ نے سنت کی مخالفت کی ہے، مروان نے کہا: اے فلاں! چھوڑ دی گئی وہ سنت جسے تم ڈھونڈتے ہو (یہ سن کر) ابو سعید خدری ؓ نے کہا: اس شخص نے اپنا فرض پورا کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص کوئی برائی دیکھے تو چاہیئے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے، جسے اتنی طاقت نہ ہو وہ اپنی زبان سے اسے بدل دے اور جسے اس کی طاقت بھی نہ ہو وہ اپنے دل میں اسے برا جانے ١ ؎ اور یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے ۔
Tariq ibn Shihab reported that the first man to deliver the sermon before the salah was Marwan. A man stood up and said to Marwan, “You have contravened the Sunnah.” He replied, ‘O so-and-so, what you search for is abandoned.” Abu Sa’eed (RA) said, “As for him, indeed, he did what was due of him. I had heard Allah’s Messenger say: If anyone sees a wrong, he must prevent it with his hand. But, if he is not able then with his tongue, and if he is unable then with his heart and that is the weakest (degree of) faith.” [Muslim 49]
صحيح، ابن ماجة (1275)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2172
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: خود اس برائی سے الگ ہوجائے، اس کے ارتکاب کرنے والوں کی جماعت سے نکل جائے (اگر ممکن ہو)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٢٠ (١٧٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٨ (١١٤٠)، والملاحم ١٧ (٤٣٤٠)، سنن النسائی/الإیمان ١٧ (٥٠١٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٥ (١٢٧٥) (تحفة الأشراف: ٤٠٨٥)، و مسند احمد (٣/١٠، ٢٠، ٤٠، ٥٢، ٥٣، ٥٤، ٩٢) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے حدود پر قائم رہنے والے (یعنی اس کے احکام کی پابندی کرنے والے) اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی مثال اس قوم کی طرح ہے، جو قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک کشتی میں سوار ہوئی، بعض لوگوں کو کشتی کے بالائی طبقہ میں جگہ ملی اور بعض لوگوں کو نچلے حصہ میں، نچلے طبقہ والے اوپر چڑھ کر پانی لیتے تھے تو بالائی طبقہ والوں پر پانی گر جاتا تھا، لہٰذا بالائی حصہ والوں نے کہا: ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تاکہ ہمیں تکلیف پہنچاؤ (یہ سن کر) نچلے حصہ والوں نے کہا: ہم کشتی کے نیچے سوراخ کر کے پانی لیں گے، اب اگر بالائی طبقہ والے ان کے ہاتھ پکڑ کر روکیں گے تو تمام نجات پاجائیں گے اور اگر انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کریں گے تو تمام کے تمام ڈوب جائیں گے ۔
Sayyidina Numan ibn Bashir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The example of those who abide by the limits of Allah and those who do not observe them is like that of a people who cast lots to sail on a ship. Some of them take the upper deck and some the lower deck. Those in the sea in the lower deck would ascend (to the upper) to get water and (in the process) would drop water on those in the upper deck. So these people who were in the upper deck said, ‘We will not allow you to climb up for you hurt us.” So, those in the lower deck responded, “Well we shall bore a hole in the lower portion and fetch water from here.” Thus, if they hold their hands and prevent them then all of them will be saved, but if they leave them to themselves then all of them would drown.” [Bukhari 2493, Muslim 1599]
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہنا سب سے بہتر جہاد ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, ‘Indeed, the mightiest of jihad is a just word before a tyrant king.” [Abu Dawud 4344, Ibn Majah 4011]
صحيح، ابن ماجة (4010)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2174
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سب سے بہتر جہاد اس وجہ سے ہے کہ دشمن سے مقابلہ کے وقت جو ڈر سوار رہتا ہے، وہ اپنے اندر جیتنے اور ہارنے سے متعلق دونوں صفتوں کو سمیٹے ہوئے ہے، جب کہ کسی جابر بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے میں صرف مغلوبیت کا خوف طاری رہتا ہے، اسی لیے اسے سب سے بہتر جہاد کہا گیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الملاحم ١٧ (٤٣٤٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠١١)، و مسند احمد ٣٠/١٩، ٦١) (تحفة الأشراف: ٤٢٣٤) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” عطیہ عوفي “ ضعیف ہیں ۔ دیکھیے: الصحیحة: ٤٩١ )
خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بار کافی لمبی نماز پڑھی، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ اس سے پہلے ایسی نماز نہیں پڑھی تھی، آپ نے فرمایا: ہاں، یہ امید و خوف کی نماز تھی، میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں مانگی ہیں، جن میں سے اللہ تعالیٰ نے دو کو قبول کرلیا اور ایک کو نہیں قبول کیا، میں نے پہلی دعا یہ مانگی کہ میری امت کو عام قحط میں ہلاک نہ کرے، اللہ نے میری یہ دعا قبول کرلی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ ان پر غیروں میں سے کسی دشمن کو نہ مسلط کرے، اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول کرلی، میں نے تیسری دعا یہ مانگی کہ ان میں آپس میں ایک کو دوسرے کی لڑائی کا مزہ نہ چکھا تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں فرمائی ١ ؎۔
Abdullah ibn Khubab ibn Aratt reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ offered a salah and made it lengthy. They said, “O Messenger of Allah, you prayed a prayer such as you had never prayed before.” He said, ‘Certainly, this was a salah of desire and aspiration and of fear and veneration. I asked Allah for three things and He granted me two and denied me one (of them). I asked Him not to let (all) my Ummah perish through famine, and He granted me this (prayer). And, I asked Him not to set up over them an enemy alien to them, and He granted me this (prayer). And, I asked Him not to let some of them taste war with some others of them, but He denied it to me.” [Ahmed 21109, Nisai 1637]
صحيح صفة الصلاةصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2175
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میری دو دعائیں میری امت کے حق میں مقبول ہوئیں، اور تیسری دعا مقبول نہیں ہوئی، گویا یہ امت ہمیشہ اپنے لوگوں کے پھیلائے ہوئے فتنہ و فساد سے دوچار رہے گی، اور اس امت کے لوگ خود آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک، اور قتل کریں گے، اور حدیث کا مقصد یہ ہے کہ امت کے لوگ اپنے آپ کو اس کا مستحق نہ بنالیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٣٩) (تحفة الأشراف: ٣٥١٦)، و مسند احمد (٥/١٠٨) (صحیح )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے مشرق (پورب) و مغرب (پچھم) کو دیکھا یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹی گئی، اور مجھے سرخ و سفید دو خزانے دے گئے، میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے دعا کی کہ ان کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے اور نہ ان پر غیروں میں سے کوئی ایسا دشمن مسلط کر جو انہیں جڑ سے مٹا دے، میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کرلیتا ہوں تو اسے بدلتا نہیں، تیری امت کے حق میں تیری یہ دعا میں نے قبول کی کہ میں اسے عام قحط سے ہلاک و برباد نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو اور جو انہیں جڑ سے مٹا دے، گو ان کے خلاف تمام روئے زمین کے لوگ جمع ہوجائیں، البتہ ایسا ہوگا کہ انہیں میں سے بعض لوگ بعض کو ہلاک کریں گے، اور بعض کو قیدی بنائیں گے ۔
Sayyidina Thawban it reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, Allah drew together the earth for me and I could see its east and its west. And, indeed the countries of my Ummah will spread out to wherever it was drawn together for me. And I was given two treasures red and white (gold and silver). And I asked my Lord for my Ummah that they should not perish through common famine and that no one enemy outside their own numbers must overpower them and destroy all of them. And my Lord said, ‘ O Muhammad ﷺ when I decree something then it is not revoked and I have given you for your Ummah that a general famine would not destroy them and I will not empower over them an enemy outside their own selves lest he annihilate them even though people unite against them from every region of earth or He said, from its regions nevertheless, it will be that some of them will destroy some others, and some of them will take some others of them as captives.’ [Ahmed 22458, Muslim 2889, Abu Dawud 4252]
صحيح، ابن ماجة (3952)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2176
ام مالک بہزیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنے کا ذکر کیا اور فرمایا: وہ بہت جلد ظاہر ہوگا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس وقت سب سے بہتر کون شخص ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ایک وہ آدمی جو اپنے جانوروں کے درمیان ہو اور ان کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہو، اور دوسرا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو، وہ دشمن کو ڈراتا ہو اور دشمن اسے ڈراتے ہوں ١ ؎۔
Sayyidah Umm Malik Bahziyah is reported that Allah’s Messenger ﷺ mentioned fitnah (trial) and said it was approaching (them). She said, “O Messenger of Allah, ﷺ who would be the best of men during it ?“ He said, “A man who is among his animals and gives their rights (zakah) and worships his Lord. And, a man who holds his horse stirring fear in the enemy and they frighten him (too).”
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - لیث بن ابی سلیم نے بھی یہ حدیث «عن طاؤس عن أم مالک البهزية عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں ام مبشر، ابو سعید خدری اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فتنہ کے ظہور کے وقت ایسا آدمی سب سے بہتر ہوگا جو فتنہ کی جگہوں سے دور رہ کر اپنے جانوروں کے پالنے پوسنے میں مشغول ہو، اور ان کی وجہ سے اس پر جو شرعی واجبات و حقوق ہیں مثلاً زکاۃ و صدقات کی ادائیگی میں ان کا خاص خیال رکھتا ہو، ساتھ ہی رب العالمین کی اس کے حکم کے مطابق عبادت بھی کرتا ہو، اسی طرح وہ آدمی بھی بہتر ہے جو اپنے گھوڑے کے ساتھ کسی دور دراز جگہ میں رہ کر وہاں موجود دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہو، انہیں خوف و ہراس میں مبتلا رکھتا ہو اور خود بھی ان سے خوف کھاتا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٣٥٥) (صحیح) (سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن شواہد کی بنا پر حدیث صحیح لغیرہ ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک فتنہ ایسا ہوگا جو تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس کے مقتول جہنمی ہوں گے، اس وقت زبان کھولنا تلوار مارنے سے زیادہ سخت ہوگا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘There will be a fitnah (commotion) that will exhaust the Arabs. Those killed during this commotion will go to the fire. During this, the tongue will be more severe than the sword. [Abu Dawud 426, Ibn Majah 3967]
ضعيف، ابن ماجة (3967) // ضعيف سنن ابن ماجة (859)، ضعيف أبي داود (918 / 4265)، ضعيف الجامع الصغير (2475) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2178
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: زیاد بن سیمین کوش کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں معلوم ہے، ٣ - حماد بن سلمہ نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور حماد بن زید نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے موقوفاً بیان کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفتن ٣ (٤٢٦٥)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٦٧) (تحفة الأشراف: ٨٦٣١)، و مسند احمد (٢/٢١٢) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، اور زیاد بن سیمین گوش لین الحدیث )
حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک کی حقیقت تو میں نے دیکھ لی ١ ؎، اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: امانت لوگوں کے دلوں کے جڑ میں اتری پھر قرآن کریم اترا اور لوگوں نے قرآن سے اس کی اہمیت قرآن سے جانی اور سنت رسول سے اس کی اہمیت جانی ٢ ؎، پھر آپ نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: آدمی (رات کو) سوئے گا اور اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی (اور جب وہ صبح کو اٹھے گا) تو اس کا تھوڑا سا اثر ایک نقطہٰ کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر جب دوسری بار سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی اور اس کا اثر کھال موٹا ہونے کی طرح رہ جائے گا ٣ ؎، جیسے تم اپنے پاؤں پر چنگاری پھیرو تو آبلہ (پھپھولا) پڑجاتا ہے، تم اسے پھولا ہوا پاتے ہو حالانکہ اس میں کچھ نہیں ہوتا ، پھر حذیفہ ؓ ایک کنکری لے کر اپنے پاؤں پر پھیرنے لگے اور فرمایا: لوگ اس طرح ہوجائیں گے کہ خرید و فروخت کریں گے لیکن ان میں کوئی امانت دار نہ ہوگا، یہاں تک کہ کہا جائے گا: فلاں قبیلہ میں ایک امانت دار آدمی ہے، اور کسی آدمی کی تعریف میں یہ کہا جائے گا: کتنا مضبوط شخص ہے! کتنا ہوشیار اور عقلمند ہے! حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان نہ ہوگا ، حذیفہ ؓ کہتے ہیں: میرے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ خرید و فروخت میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا، اگر میرا فریق مسلمان ہوتا تو اس کی دینداری میرا حق لوٹا دیتی اور اگر یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا سردار میرا حق لوٹا دیتا، جہاں تک آج کی بات ہے تو میں تم میں سے صرف فلاں اور فلاں سے خرید و فروخت کرتا ہوں۔
Sayyidina Hudhayfah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ related to us two ahadith one of which I have seen take place and I await the other to happen. He said to us, “Faith came down deep into the roots of men’s hearts. Then the Qur’an descended, so they learnt from the Qur’an and they learnt from the Sunnah (the right of faith).” After that he told us about withdrawal of trust (faith). He said, “A man will sleep and faith will be withdrawn from his heart leaving its mark like a speckle. He will sleep again and faith will be withdrawn leaving a mark like if a live coal dropped on your foot causing a water blister with nothing in it.” Then, he picked up a pebble and dropped it on his foot. He said, “People will transact business with each other but there would hardly be one who honours his commitment, so that it would be said that among such-and-such tribe there is a man worth trusting, and a man will be praised as wise, very good and firm, though he will not have in his heart even so much faith as a grain of mustard seed.” Indeed I had gone through the times when I bought and sold without hesitation. If a Muslim had to pay me my right then he came there himself to hand it over to me. If right he was a Jew or Christian, their chiefs got for me my rights. But, now-a-days, I do not deal with anyone though so-and-so and so-and-so do make transactions. [Bukhari 6497, Muslim 143]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2179
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا ظہور ہوچکا ہے اور قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس امانت سے متعلق لوگوں کے دلوں میں مزید پختگی پیدا ہوئی، اور اس سے متعلق ایمانداری اور بڑھ گئی ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تشریح و تفسیر خود قرآن سے اور پھر سنت و حدیث نبوی سے سمجھنی چاہیئے، اسی طرح قرآن کے سمجھنے میں تیسرا درجہ فہم صحابہ ہے ؓ اجمعین چوتھے درجہ میں تابعین و تبع تابعین ہیں جیسا کہ پیچھے حدیث ( ٢١٥٦ ) سے بھی اس کا معنی واضح ہوتا ہے۔ ٣ ؎: یعنی جس طرح جسم پر نکلے ہوئے پھوڑے کی کھال اس کے اچھا ہونے کے وقت موٹی ہوجاتی ہے اسی طرح امانت کا حال ہوگا، گویا اس امانت کا درجہ اس امانت سے کہیں کم تر ہے جو ایک نقطہٰ کے برابر رہ گئی تھی، کیونکہ یہاں صرف نشان باقی رہ گیا ہے۔
ابو واقد لیثی ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ١ ؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Waqid Laythi reported that when the Prophet ﷺ went out for the Battle of Hunayn, he passed by a tree belonging to the polytheists. It was known as dhaat anwat. They used to hang down their weapons over it. The sahabah said, “O Messenger of Allah, ﷺ make for us a dhaat anwat as there is for them a dhaat anwat.” He said, “Glory be to Allah! This is as what the people of Musa (AS) said, “Make for us a god as there is for them a god. By Him who has my soul in His hand, you will perpetrate the practices of the people gone before you.” [Ahmed 21956]
صحيح ظلال الجنة (76)، المشکاة (5369)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2180
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابو واقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے، ٣ - اس باب میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ذات انواط نامی درخت جھاؤ کی قسم سے تھا، مشرکین بطور حاجت برآری اس پر اپنا ہتھیار لٹکاتے اور اس درخت کے اردگرد اعتکاف کرتے تھے۔ ٢ ؎: مفہوم یہ ہے کہ تم خلاف شرع نافرمانی کے کاموں میں اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے، نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے مطابق آج مسلمانوں کا حال حقیقت میں ایسا ہی ہے، چناچہ یہود و نصاری اور مشرکین کی کون سی عادات و اطوار ہیں جنہیں مسلمانوں نے نہ اپنایا ہو۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ درندے انسانوں سے گفتگو نہ کرنے لگیں، آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارہ گفتگو کرنے لگے، اس کے جوتے کا تسمہ گفتگو کرنے لگے اور اس کی ران اس کام کی خبر دینے لگے جو اس کی بیوی نے اس کی غیر حاضری میں انجام دیا ہے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘By Him Who has my life in His grasp, the Last Hour will not come before the beasts speak to men and before the tip of his whip and the thong of his sandal speak toman and his thigh informs him what his family members have been doing since he had left them.” [Ahmed 11792]
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - قاسم بن فضل محدثین کے نزدیک ثقہ اور مامون ہیں، یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کی توثیق کی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٣٧١)، و مسند احمد (٣/٨٣-٨٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند (دو ٹکڑوں میں) ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہو ١ ؎۔
Sayyidina lbn Umar (RA) said that in the era of Allah’s Messenger ﷺ the moon was split, and he said, “Be you witnesses!.” [Muslim 2800]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2182
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، انس اور جبیر بن مطعم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چاند کا دو ٹکڑوں میں بٹ جانا نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا، اس معجزہ کا ظہور اہل مکہ کے مطالبے پر ہوا تھا صحیحین میں ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے، یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا، اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس سے نیچے تھا، یہ آپ ﷺ کے واضح معجزات میں سے ہے، ایسی متواتر احادیث سے اس کا ثبوت ہے جو صحیح سندوں سے ثابت ہیں، جمہور علماء اس معجزہ کے قائل ہیں۔
حذیفہ بن اسید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب (پچھم) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ (جانور) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
Sayyidina Hudhayfah ibn Usayd (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ observed us from his room while we were discussing the Hour. He said, “The hour will not come till you witness ten signs. (They are:) (1) Rising of the sun from the west, (2) Yajuj and Majuj, (3) The beast,Three times sinking down of the earth. (4) Sinking in the east, (5) Sinking in the west and, (6) Sinking in the Arabian peninsula, and (7) The fire that will emanate from the depths of Aden and drive men or assemble them and spend the night with them wherever they do and wait over them where they have a nap (in the afternoon). [Muslim 2901]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2183
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٣ (٢٩٠١)، سنن ابی داود/ الملاحم ١٢ (٤٣١١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٨ (٤٠٤١) (تحفة الأشراف: ٧٣٩٧)، و مسند احمد (٤/٧) (صحیح )
ام المؤمنین صفیہ بنت حی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ (اللہ کے) اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ ایک ایسا لشکر لڑائی کرنے کے لیے آئے گا کہ جب اس لشکر کے لوگ مقام بیدا میں ہوں گے، تو ان کے آگے والے اور پیچھے والے دھنسا دے جائیں گے اور ان کے بیچ والے بھی نجات نہیں پائیں گے (یعنی تمام لوگ دھنسا دے جائیں گے) ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں سے جو ناپسند کرتے رہے ہوں ان کے افعال کو وہ بھی؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کے مطابق انہیں اٹھائے گا ۔
Sayyidah Safiyah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “People will not cease to attack this House till an army, when it is at the land of Bayda, is swallowed up with the first of it and the last of it, neither will the middle of it be spared.” She asked, “And (what about those) who disapprove of this attack?” He said, “Allah will resurrect them according to what is in their minds.” (That is, their fate depends on their ion. But, in the world they will all perish.) [Ibn Majah 4064]
صحيح، ابن ماجة (4064)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2184
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٠ (٤٠٦٤) (تحفة الأشراف: ١٥٩٠٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس امت کے آخری عہد میں یہ واقعات ظاہر ہوں گے زمین کا دھنسنا، صورت تبدیل ہونا اور آسمان سے پتھر برسنا ، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، جب فسق و فجور عام ہوجائے گا ۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, “Towards the concluding period of this ummah, there will be (punishment through) sinking of the earth, metamorphosis and rain of stones from the sky. She asked, O Messenger of Allah, ﷺ will we perish while among us are the righteous?” He said, ‘Yes when evil is rampant (and overpowering).’