مطر بن عکامس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کردیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت و ضرورت پیدا کردیتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Matar ibn Ukamis reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If Allah has decreed that one should die in a (particular) land then He creates for him a need there. [Ahmed 22043]
صحيح، المشکاة (110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2146
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - مطر بن عکامس کی نبی اکرم ﷺ سے اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث نہیں معلوم ہے، ٣ - اس باب میں ابوعزہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چناچہ بندہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے زمین کے اس حصہ کی جانب سفر کرتا ہے جہاں اللہ نے اس کی موت اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے، پھر وہاں پہنچ کر اس کی موت ہوتی ہے، «وما تدري نفس بأي أرض تموت» اور کسی جان کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اس کی موت کسی سر زمین میں آئے گی (لقمان: ٣٤ )، اسی طرف اشارہ ہے کہ زمین کے کس حصہ میں موت آئے گی کسی کو کچھ خبر نہیں۔
ابوعزہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کردیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کردیتا ہے ۔
Ahmad ibn Mani and Ali ibn Hujr also reported a hadith with the same meaning. They said, Ismail ibn Ibrahim reported from Ayyub, from Abu Malih, from Abu Azzah, he said that Allahs Messenger said; ““If Allah has decreed that one should die in a (particular) land then He creates for him a need there." Or reported with the words a need with it.
صحيح انظر ما قبله (2146)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2147
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - ابوعزہ کو شرف صحبت حاصل ہے اور ان کا نام یسار بن عبد ہے، ٣ - راوی ابوملیح کا نام عامر بن اسامہ بن عمیر ہذلی ہے۔ انہیں زید بن اسامہ بھی کہا جاتا ہے۔
ابوخزامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دم جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، دوائیں جن سے علاج کرتے ہیں اور بچاؤ کی چیزیں جن سے بچاؤ کرتے ہیں، آپ بتائیے کیا یہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ لوٹا سکتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ سب بھی تو اللہ کی تقدیر سے ہیں ۔
Abu Khizamah reported on the authority of his father that a man came to the Prophet ﷺ and submitted, “About the ruqyah that we blow (over the patient), the medicine that we take and the preventive measures that we adopt do they avert destiny in any way whatsoever?” He said, “They are part of Allah’s decree.” [Ahmed 3437]
ہم اس حدیث کو صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن سفيان عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے، یہ زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح کئی لوگوں نے «عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے دو قسم کے لوگوں کے لیے اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے: ( ١ ) مرجئہ ( ٢ ) قدریہ ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Two groups of my Ummah have no share in Islam the Murjiyah and the Qadariyah. “ [Ibn Majah 62]
ضعيف، المشکاة (105)، الظلال (334 و 335) // يعني کتاب السنة لابن أبي عاصم طبع المکتب الإسلامي، وضعيف الجامع الصغير (3498) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2149
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابن عمر اور رافع بن خدیج ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مرجئہ: باطل اور گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے جو یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ بندہ کو اپنے افعال کے سلسلہ میں کچھ بھی اختیار حاصل نہیں، جمادات کی طرح وہ مجبور محض ہے ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس طرح کفر کے ساتھ اطاعت و فرمانبرداری کچھ بھی مفید نہیں اسی طرح ایمان کے ساتھ معصیت ذرہ برابر نقصان دہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المدقدمة ٩ (٧٣) (تحفة الأشراف: ٦٢٢٢) (ضعیف) (سند میں ” نزار بن حیان اسدی “ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن شخیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کی مثال ایسی ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے آفتیں ہیں اگر وہ ان آفتوں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں گرفتار ہوجائے گا یہاں تک کہ اسے موت آ جائے گی ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Shikhkhir reported from the Prophet ﷺ that he said, the children of Adam are created in this picture that by both his sides are ninety-nine deaths. If these miss him then he gets entangled in old age till he dies of it.”
حسن، المشکاة (1569)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2150
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ انسان پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک مختلف قسم کے آفات و مصائب سے گھرا ہوا ہے، اگر وہ ان آفات سے کسی طرح بچ نکلا تو بڑھاپے جیسی آفت سے وہ نہیں بچ سکے گا، اور بالآخر موت اسے آ دبوچے گی گویا یہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے سبز و سنہرا باغ ہے، اسی لیے مومن کو اللہ کے ہر فیصلہ پر صبر کرنا چاہیئے، اور اللہ نے اس کے لیے جو کچھ مقدر کر رکھا ہے اس پر راضی رہنا چاہیئے۔
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ابن آدم کی سعادت (نیک بختی) ہے، اللہ سے خیر طلب نہ کرنا ابن آدم کی شقاوت (بدبختی) ہے اور اللہ کے فیصلے پر ناراض ہونا ابن آدم کی شقاوت (بدبختی) ہے ۔
Sayyidina Saad reported that Allah’s Messenger ﷺ said, the well-being of the son of Adam lies in his being pleased with what Allah has decreed for him. And the wretchedness of the son of Adam lies in his neglect of istikharah (seeking guidance) from, Allah and of his wretchedness is his displeasure with what Allah has decreed for him.” [Ahmed 1444]
ضعيف، الضعيفة (1800)، التعليق الرغيب (1 / 244) // ضعيف الجامع الصغير (5300) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2151
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف محمد بن ابی حمید کی روایت سے جانتے ہیں، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، ان کی کنیت ابوابراہیم ہے، اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٩٣٤) (ضعیف) (سند میں ” محمد بن أبی حمید “ ضعیف ہیں )
نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر ؓ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے، اس سے ابن عمر ؓ نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے، اگر اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے تو اسے میرا سلام نہ پہنچانا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اس امت میں یا میری امت میں، (یہ شک راوی کی طرف سے ہوا ہے) تقدیر کا انکار کرنے والوں پر «خسف»، «مسخ» یا «قذف» کا عذاب ہوگا ١ ؎۔
Nafi reported that a man came to Sayyidina Ibn Umar (RA) and conveyed salaam (greeting) of a certain person. He said, “I have learnt that he has introduced a form of religion. If he has done that then do not convey my salaam to him, for I had heard Allah’s Messenger ﷺ say: In this Ummah or, he said, in my Ummah there will be swallowing up (by earth), metamorphosing or raining of stones of the adherents of qadr.” [Ibn Majah 4061, Abu Dawud 4613]
حسن، ابن ماجة (4061)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2152
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ابوصخر کا نام حمید بن زیاد ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «خسف»: زمین میں دھنسانے، «مسخ»: صورتیں تبدیل کرنے اور «قذف»: پتھروں کے عذاب کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٩ (٤٠٦١) (تحفة الأشراف: ٧٦٥١) (حسن )
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا تو عطاء بن ابی رباح سے ملاقات کی اور ان سے کہا: ابو محمد! بصرہ والے تقدیر کے سلسلے میں (برسبیل انکار) کچھ گفتگو کرتے ہیں، انہوں نے کہا: بیٹے! کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: سورة الزخرف پڑھو، میں نے پڑھا: «حم والکتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلکم تعقلون وإنه في أم الکتاب لدينا لعلي حكيم» حم، قسم ہے اس واضح کتاب کی، ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو، یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے، اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے (الزخرف: ١ - ٤ ) پڑھی، انہوں نے کہا: جانتے ہو ام الکتاب کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ ایک کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے لکھا ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ فرعون جہنمی ہے اور اس میں «تبت يدا أبي لهب وتب» ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے، اور وہ (خود) ہلاک ہوگیا (تبت: ١ ) بھی لکھا ہوا ہے۔ عطاء کہتے ہیں: پھر میں ولید بن عبادہ بن صامت ؓ سے ملا (ولید کے والد عبادہ بن صامت صحابی رسول تھے) اور ان سے سوال کیا: مرتے وقت آپ کے والد کی کیا وصیت تھی؟ کہا: میرے والد نے مجھے بلایا اور کہا: بیٹے! اللہ سے ڈرو اور یہ جان لو کہ تم اللہ سے ہرگز نہیں ڈر سکتے جب تک تم اللہ پر اور تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان نہ لاؤ۔ اگر اس کے سوا دوسرے عقیدہ پر تمہاری موت آئے گی تو جہنم میں جاؤ گے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور فرمایا: لکھو ، قلم نے عرض کیا: کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تقدیر لکھو جو کچھ ہوچکا ہے اور جو ہمیشہ تک ہونے والا ہے ۔
Abdul Wahid ibn Sulaym narrated: I came to Makkah and met Ata ibn Abu Rabah. I said to him, “ O Muhammad ﷺ , the people of Busrah give (adverse) comments on predestination.” He said, “O son, do you recite the Qur’an’? I said, “Yes!” He said, “Recite (the Surah az-Zukhruf.” So I recited: Ha Mim, By the Book (that) is manifest. Surely We have made it an Arabic Qur’an that you may understand. And surely this is in the source Book with Us, it is sublime, full of wisdom. (43:1-4) He asked, “Do you realize what the Umm ul Kitab (source Book) is?” I said, “Allah and His Messenger know best.” He explained, “It is a Book that Allah wrote down even before He created the heaven and before He created the earth. (We read) in it: that Pharaoh is surely among the denizens of the fire) and also: Perished are the hands of Abu Lahab, and perished is he. (111: 1) Ata went on to say, “I had met Walid ibn Ubadahh ibn Samit, a Companion of Allah’s Messenger ﷺ and I asked him, “What was your father’s will at the time of death?” He said, “He summoned me and said: O son! Fear Allah and know that you cannot fear Allah till you believe in Allah and believe in predestination both good and evil, but if you die on anything other than this then you will enter Hell. I heard Allah’s Messenger say that the first thing Allah created was the pen and He commanded it: Write. It asked: What shall I write. He said: Write down the decree what was and what will be till eternity.”
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا تو عطاء بن ابی رباح سے ملاقات کی اور ان سے کہا: ابو محمد! بصرہ والے تقدیر کے سلسلے میں (برسبیل انکار) کچھ گفتگو کرتے ہیں، انہوں نے کہا: بیٹے! کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: سورة الزخرف پڑھو، میں نے پڑھا: «حم والکتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلکم تعقلون وإنه في أم الکتاب لدينا لعلي حكيم» حم، قسم ہے اس واضح کتاب کی، ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو، یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے، اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے (الزخرف: ١ - ٤ ) پڑھی، انہوں نے کہا: جانتے ہو ام الکتاب کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ ایک کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے لکھا ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ فرعون جہنمی ہے اور اس میں «تبت يدا أبي لهب وتب» ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے، اور وہ (خود) ہلاک ہوگیا (تبت: ١ ) بھی لکھا ہوا ہے۔ عطاء کہتے ہیں: پھر میں ولید بن عبادہ بن صامت ؓ سے ملا (ولید کے والد عبادہ بن صامت صحابی رسول تھے) اور ان سے سوال کیا: مرتے وقت آپ کے والد کی کیا وصیت تھی؟ کہا: میرے والد نے مجھے بلایا اور کہا: بیٹے! اللہ سے ڈرو اور یہ جان لو کہ تم اللہ سے ہرگز نہیں ڈر سکتے جب تک تم اللہ پر اور تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان نہ لاؤ۔ اگر اس کے سوا دوسرے عقیدہ پر تمہاری موت آئے گی تو جہنم میں جاؤ گے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور فرمایا: لکھو ، قلم نے عرض کیا: کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تقدیر لکھو جو کچھ ہوچکا ہے اور جو ہمیشہ تک ہونے والا ہے ۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے تقدیر کو زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے لکھا تھا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported having heard from Allah’s Messenger ﷺ who said, “Allah decreed the destinies before He created the heavens and earth by fifty thousand years.” [Ahmed 6590, Muslim 2653]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2156
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں جھگڑتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو یہ آیت نازل ہوئی «يوم يسحبون في النار علی وجوههم ذوقوا مس سقر إنا کل شيء خلقناه بقدر» یعنی جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا) تم لوگ جہنم کا مزہ چکھو، ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے (القمر: ٤ ٨ - ٤٩ ) ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Quraysh polytheists came to Allah’s Messenger disputing about destiny. So, this verse was revealed: on the day when they shall be dragged on their faces into the fire, Taste now the touch of Hell.’ Surely We have created everything in a measure. (54: 48-49) [Muslim 2656, Ibn Majah 83, Ahmed 10168]
صحيح، ابن ماجة (83)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2157
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - مذکورہ حدیث مجھ سے قبیصہ نے بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/القدر ٤ (٢٦٥٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٨٣)، ویأتي برقم (٣٢٩٠) (تحفة الأشراف: ١٤٥٨٩)، و مسند احمد (٢/٤٤٤، ٤٧٦) (صحیح )
ابوامامہ بن سہل بن حنیف ؓ جب باغیوں نے عثمان بن عفان ؓ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت پر آ کر کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین صورتوں کے سوا کسی مسلمان کا خون حلال نہیں: شادی کے بعد زنا کرنا، یا اسلام لانے کے بعد مرتد ہوجانا، یا کسی کو ناحق قتل کرنا جس کے بدلے میں قاتل کو قتل کیا جائے، اللہ کی قسم! میں نے نہ جاہلیت میں زنا کیا ہے نہ اسلام میں، نہ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے کے بعد میں مرتد ہوا ہوں اور نہ ہی اللہ کے حرام کردہ کسی نفس کا قاتل ہوں، پھر (آخر) تم لوگ کس وجہ سے مجھے قتل کر رہے ہو؟۔
Abu Umamah ibn Sahl ibn Hunayf reported that Sayyidina Uthman ibn Affan (who was locked up in his home for fear of those who wrought mischief) climbed up the roof top one day. He asked the besiegers, “I adjure you by Allah, do you know that Allah’s Messenger ﷺ said: The blood of a Muslim is forbidden except for one of three crimes. (They are :) adultery committed by a married person, apostatizing after joining Islam, slaying someone without just cause. He is killed for these things. By Allah, I have not committed adultery either in jahilyah or after Islam. I have not apostatized since having sworn allegiance to Allah’s Messenger ﷺ . And, I have not slain any soul who Allah has made sacred. Then why do you slay me? [Muslim 1672]
صحيح، ابن ماجة (2533 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2158
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسے حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید کے واسطہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن سعید قطان اور دوسرے کئی لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے یہ حدیث روایت کی ہے، لیکن یہ موقوف ہے نہ کہ مرفوع، ٣ - اس باب میں ابن مسعود، عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - اور یہ حدیث عثمان کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے کئی دیگر سندوں بھی سے مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ٣ (٤٥٠٢)، سنن النسائی/المحاربة ٥ (٤٠٢٤)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١ (٢٥٣٣) (تحفة الأشراف: ٩٧٨٢)، و مسند احمد (١/٦١، ٦٢، ٦٥، ٧٠) (صحیح )
عمرو بن احوص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کو لوگوں سے خطاب کرتے سنا: یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن ہے ١ ؎، آپ نے فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو تمہارے درمیان اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں تمہارے اس دن کی حرمت و تقدس ہے، خبردار! جرم کرنے والے کا وبال خود اسی پر ہے، خبردار! باپ کے قصور کا مواخذہ بیٹے سے اور بیٹے کے قصور کا مواخذہ باپ سے نہ ہوگا، سن لو! شیطان ہمیشہ کے لیے اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ تمہارے اس شہر میں اس کی پوجا ہوگی، البتہ ان چیزوں میں اس کی کچھ اطاعت ہوگی جن کو تم حقیر عمل سمجھتے ہو، وہ اسی سے خوش رہے گا ۔
Sayyidina Amr ibn Ahwas reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say to the people on the day of the Farewell Pilgrimage, “What day is it today?” They said, “The day of the great pilgrimage.” He said, “So, indeed your blood your properties and your honour are sacred to each other of you as the sanctity of this your day in this your city. Know! A soul does not wrong but himself (for, he will bear responsibility for it himself). Know! A wrongdoer must not wrong his child, nor does a child wrong his parent. And, indeed the devil has despaired of ever being worshipped in this, your town, but there will be obedience to him in what you consider little deeds that you (should) perform, and he will be pleased over that.” [Ibn Majah 3055]
صحيح، ابن ماجة (3055)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2159
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - زائدہ نے بھی شبیب بن غرقدہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ہم اس حدیث کو صرف شبیب بن غرقدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابوبکرہ، ابن عباس، جابر، حذیم بن عمرو السعدی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ یوم حج اکبر سے مراد یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) ہے، کیونکہ اسی دن منی میں کفار و مشرکین سے برأت کا اعلان سنایا گیا، یا حج اکبر کہنے کی یہ وجہ ہے کہ اس دن حج کے سب سے زیادہ اور اہم اعمال ادا کئے جاتے ہیں یا عوام عمرہ کو حج اصغر کہتے تھے، اس اعتبار سے حج کو حج اکبر کہا گیا، عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ اگر یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو وہ حج حج اکبر ہے، اس کی کچھ بھی اصل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٥ (٣٣٣٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٦ (٣٠٥٥)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر التوبة (٣٠٨٧) (تحفة الأشراف: ١٠٦٩١) (صحیح )
یزید بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کھیل کود میں ہو یا سنجیدگی میں اپنے بھائی کی لاٹھی نہ لے اور جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے، تو وہ اسے واپس کر دے ۔
Abdullah ibn Sa’ib ibn Yazid reported on the authority of his father, from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “Let not one of you take the staff of his brother in jest to alarm him. So, if anyone has taken his brother’s staff, he must return it to him.” [Abu Dawud 5003]Sa’ib ibn Yazid (RA) narrated, “Yazid performed Hajj with the Prophet ﷺ the farewell Hajj, and I was seven years old.”
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - سائب بن یزید کو شرف صحبت حاصل ہے بچپن میں انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کئی حدیثیں سنی ہیں، نبی اکرم ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر سات سال تھی، ان کے والد یزید بن سائب ١ ؎ کی بہت ساری حدیثیں ہیں، وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں، اور نبی اکرم ﷺ سے حدیثیں روایت کی ہیں، سائب بن یزید نمر کے بہن کے بیٹے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عمر، سلیمان بن صرد، جعدہ، اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کا نام یزید بن سعید ہے، انہیں یزید بن سائب ؓ بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٩٣ (٥٠٠٣) (تحفة الأشراف: ١١٨٢٧)، و مسند احمد (٤/٢٢١) (صحیح لغیرہ )
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ (میرے والد) یزید ؓ نے حجۃ الوداع کیا، اس وقت میں سات سال کا تھا۔ یحییٰ بن سعید قطان کہتے ہیں: محمد بن یوسف ثبت اور صاحب حدیث ہیں، سائب بن یزید ان کے نانا تھے، محمد بن یوسف کہتے تھے: مجھ سے سائب بن یزید نے حدیث بیان کی ہے، اور وہ میرے نانا ہیں۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone points out to his brother with his weapon then the angels curse him. [Ahmed 26354]
صحيح غاية المرام (446)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2162
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ خالد حذاء کی روایت سے غریب سمجھی جاتی ہے، ٣ - ایوب نے محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ ؓ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، لیکن اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے «وإن کان أخاه لأبيه وأمه» اگرچہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو ، ٤ - اس باب میں ابوبکرہ، ام المؤمنین عائشہ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
١ - یہ حدیث حماد بن سلمہ کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - ابن لہیعہ نے یہ حدیث «عن أبي الزبير عن جابر عن بنة الجهني عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ٣ - میرے نزدیک حماد بن سلمہ کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٤ - اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ننگی تلوار سے بسا اوقات خود صاحب تلوار بھی زخمی ہوسکتا ہے، اور دوسروں کو اس سے تکلیف پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجھاد ٧٣ (٢٥٨٨) (تحفة الأشراف: ٢٦٩٠)، و مسند احمد (٣/٣٠٠، ٣٦١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے فجر پڑھ لی وہ اللہ کی پناہ میں ہے، پھر (اس بات کا خیال رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تمہارے درپے نہ ہوجائے اس کی پناہ توڑنے کی وجہ سے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “He who offered the salah of fajr (dawn prayer) is under Allah’s protection. So, let it not be that Allah should take you to task concerning this responsibility (if you violate it).” [Ahmed 114]
صحيح انظر الحديث (222)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2164
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں جندب اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فجر کی نماز کا خاص خیال رکھو اور اسے پابندی کے ساتھ ادا کرو، نہ ادا کرنے کی صورت میں رب العالمین کا وہ عہد جو تمہارے اور اس کے درمیان امان سے متعلق ہے ٹوٹ جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤١٣٨) (صحیح) (سند میں معدی بن سلیمان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مقام جابیہ میں (میرے والد) عمر ؓ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا: لوگو! میں تمہارے درمیان اسی طرح (خطبہ دینے کے لیے) کھڑا ہوا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ کی پیروی کی وصیت کرتا ہوں، پھر ان کے بعد آنے والوں (یعنی تابعین) کی پھر ان کے بعد آنے والوں (یعنی تبع تابعین) کی، پھر جھوٹ عام ہوجائے گا، یہاں تک کہ قسم کھلائے بغیر آدمی قسم کھائے گا اور گواہ گواہی طلب کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے گا، خبردار! جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے، تم لوگ جماعت کو لازم پکڑو اور پارٹی بندی سے بچو، کیونکہ شیطان اکیلے آدمی کے ساتھ رہتا ہے، دو کے ساتھ اس کا رہنا نسبۃً زیادہ دور کی بات ہے، جو شخص جنت کے درمیانی حصہ میں جانا چاہتا ہو وہ جماعت سے لازمی طور پر جڑا رہے اور جسے اپنی نیکی سے خوشی ملے اور گناہ سے غم لاحق ہو حقیقت میں وہی مومن ہے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated Sayyidina Umar (RA) delivered a sermon to us at Jabiyah. He said, “O people, I stand among you in place of Allah’s Messenger (as his deputy). He had said, ‘I enjoin on you obedience to my companions, then those who succeed them and then those who succeed them (that is, the tabi’in and tab’a tabi’in). After that falsehood would expose itself till a man would take an oath without being asked to (swear) and a witness will offer testimony without anyone asking him to. Beware! No man stays in solitude with a woman but the devil is the third of them. And, you are bound to the community. He to whom his piety is pleasing and his impiety displeasing is a Believer’.”
صحيح، ابن ماجة (2363)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2165
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اسے ابن مبارک نے بھی محمد بن سوقہ سے روایت کیا ہے، ٣ - یہ حدیث کئی سندوں سے عمر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٧ (٢٣٦٣) (والنسائي في الکبری) و مسند احمد (١/١٨، ٢٦) (تحفة الأشراف: ١٠٥٣٠) (صحیح) (ویأتي الإشارة إلیہ برقم: ٢٣٠٣ )