Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 104 of 199

2126Sunan At-Tirmidhi

ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ومالك بن أنس، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَيُرْوَى عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، أَذِنَ لِي حَتَّى كُنْتُ أَقُومُ إِلَيْهِ فَأُقَبِّلُ رَأْسَهُ، وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَهْمٌ، وَهِمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَتَفَرَّدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔

Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger disallowed them to sell, or make a gift of, Wala. [Bukhari 2535]

صحيح، ابن ماجة (2747 و 2748)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2126
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے ابن عمر کی روایت سے جانتے ہیں، اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ نے ولاء بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ شعبہ، سفیان ثوری اور مالک بن انس نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن دینار سے روایت ہے۔ شعبہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میری خواہش تھی کہ عبداللہ بن دینار اس حدیث کو بیان کرتے وقت مجھے اجازت دے دیتے اور میں کھڑا ہو کر ان کا سر چوم لیتا، ٣ - یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کی روایت کرتے وقت سند یوں بیان کی ہے «عن عبيد اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» لیکن اس سند میں وہم ہے اور یہ وہم یحییٰ بن سلیم کی جانب سے ہوا ہے، صحیح سند یوں ہے «عن عبيد اللہ بن عمر عن عبد اللہ بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» ١ ؎ عبیداللہ بن عمر سے اسی طرح کئی لوگوں نے روایت کی ہے۔ عبیداللہ بن دینار اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نافع کی جگہ عبداللہ بن دینار کا واسطہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٢٣٦ (صحیح )
2127Sunan At-Tirmidhi

باپ اور آزاد کرنے والے کے علاوہ کسی کو باپ یا آزاد کرنے والا کہنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ، فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، صَحِيفَةٌ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءٌ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، فَقَدْ كَذَبَ، وَقَالَ فِيهَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَهُ.

یزید بن شریک تیمی کہتے ہیں کہ علی ؓ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا اور کہا: جو کہتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ - جس کے اندر اونٹوں کی عمر اور جراحات (زخموں) کے احکام ہیں - کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹ کہتا ہے ١ ؎ علی ؓ نے کہا: اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عیر سے لے کر ثور تک مدینہ حرم ہے ٢ ؎ جو شخص اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے، اس پر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نہ کوئی فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل اور جو شخص دوسرے کے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے یا اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کو اپنا مالک بنائے اس کے اوپر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس کی نہ فرض عبادت قبول ہوگی اور نہ نفل، مسلمانوں کی طرف سے دی جانے والی پناہ ایک ہے ان کا معمولی شخص بھی اس پناہ کا مالک ہے ٣ ؎۔

Ibrahim Tamimi reported on the authority of his father that Sayyidina Ali (RA) delivered to them a sermon, saying: If anyone thinks that we have anything else that we read besides Allah’s Book and this Sahifah (a scripture), a sahifah in which is mentioned blood wit of camels and wounds, then he is a liar. Allah’s Messenger ﷺ said that Madinah is sacred between (the places) Ayr and Thawr. Hence, if anyone innovates here a bid’ah or gives protection to an innovator then on him is the curse of Allah, the angels, and the people, all together. Allah will not accept from him, on the Day of Resurrection, any worship whether obligatory or supererogatory. And if anyone relates himself to other than his father, or cites as his emancipator other than the real one then on him is the curse of Allah, the angels and the people all together and no obligatory or supererogatory worship will be accepted from him. And, the protection given by the Muslims is the same, the lowest of them may offer it (and all will then have to respect it).” [Bukhari 1870, Muslim 1370]

صحيح، الإرواء (1058)، نقد الکتانی (42)، صحيح أبي داود (1773 و 1774)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2127
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن علي» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - یہ حدیث کئی سندوں سے علی کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علی ؓ کی اس تصریح سے روافض اور شیعہ کے اس قول کی واضح طور پر تردید ہو رہی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے علی ؓ کو کچھ ایسی خاص باتوں کی وصیت کی تھی جن کا تعلق دین و شریعت کے اسرار و رموز سے ہے، کیونکہ صحیح حدیث میں یہ صراحت ہے کہ علی ؓ نے فرمایا:«ما عندنا شئ إلا کتاب اللہ وهذه الصحيفة عن النبي»۔ ٢ ؎: عیر اور ثور دو پہاڑ ہیں: ثور جبل احد کے پیچھے ایک چھوٹا پہاڑ ہے۔ جب کہ عیر ذوالحلیفہ (ابیار علی) کے پاس ہے، اور یہ دونوں پہاڑ مدینہ کے شمالاً جنوباً ہیں، اور مدینہ کے شرقاً غرباً کالے پتھروں والے دو میدان ہیں، مملکت سعودیہ نے پوری نشان دہی کر کے مدینہ منورہ کے حرم کی حد بندی محراب نما برجیوں کے ذریعے کردی ہے، «جزاهم اللہ خيراً» ٣ ؎: یعنی اس کی دی ہوئی پناہ بھی قابل احترام ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١١)، وفضائل المدینة ١ (١٨٦٧)، والجہاد ١٧١ (٣٠٤٧)، والجزیة ١٠ (٣١٧٢)، والفرائض ٢١ (٦٧٥٥)، والدیات ٢٤ (٦٩٠٣)، والإعتصام ٥ (٧٣٠٠)، صحیح مسلم/الحج ٨٥ (١٣٧٠)، سنن ابی داود/ المناسک ٩٩ (٢٠٣٤)، سنن النسائی/القسامة ٩، ١٠ (٤٧٤٨)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢١ (٢٦٥٨) (تحفة الأشراف: ١٠٣١٧)، و مسند احمد (١/١٢٢، ١٢٦، ١٥١)، وسنن الدارمی/الدیات ٥ (٢٤٠١)، وانظر أیضا ماتقدم برقم: ١٤١٢ (صحیح )
2128Sunan At-Tirmidhi

باپ کا اولاد سے انکار کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ ، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا أَوْرَقُ ، قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: أَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ ، قَالَ: لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهَا، قَالَ: فَهَذَا لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیوی سے ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے پوچھا: وہ کس رنگ کے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ نے پوچھا: کیا اس میں کوئی مٹمیلے رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، اس میں ایک خاکستری رنگ کا بھی ہے۔ آپ نے پوچھا: وہ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا: شاید وہ کوئی خاندانی رگ کھینچ لایا ہوگا ١ ؎، آپ نے فرمایا: اس لڑکے نے بھی شاید کوئی خاندانی رگ کھینچ لائی ہو اور کالے رنگ کا ہو ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that a man of Banu Fazarah came to the Prophet ﷺ and complained, “O Messenger of Allah, my wife has given birth to a boy with a black complexion.’ The Prophet ﷺ asked him, “Do you have camels? He said, “Yes.” He asked, “What is their colour? “ He said, “Red.” He asked, “Is there a leaf-coloured one among them?” He said, “Yes, there is a leafy one among them.” He asked, “From where has it come?” The man offered, “Perhaps a vein resembled.” (An earlier one may have had this colour). The Prophet ﷺ explained, “Thus, here too, is a resemblance to a vein (of an ancestor).” (A reversion to a strain). [Bukhari 7314, Muslim 1500]

صحيح، ابن ماجة (2102)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2128
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے باپ دادا میں سے کوئی اس رنگ کا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٢٦ (٥٣٠٥)، والحدود ٤١ (٦٨٤٧)، والإعتصام ١٢ (٧٣١٤)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٥٠٠)، سنن ابی داود/ الطلاق ٢٨ (٢٢٦٠)، سنن النسائی/الطلاق ٤٦ (٣٥٠٩٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٨ (٢٢٠٠) (تحفة الأشراف: ١٣١٢٩)، مسند احمد (٢/٢٣٤، ٢٣٩، ٤٠٩) (صحیح )
2129Sunan At-Tirmidhi

قیافہ شناسی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: هَذِهِ الْأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَزَادَ فِيهِ: أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا مَرَّ عَلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ، وَهَكَذَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي إِقَامَةِ أَمْرِ الْقَافَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خوشی خوشی ان کے پاس تشریف لائے، آپ کے چہرے کے خطوط چمک رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے دیکھا نہیں، ابھی ابھی مجزز نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو دیکھ کر کہا ہے کہ یہ قدم (یعنی ان کا رشتہ) ایک دوسرے سے ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Aisha (RA) narrated: The Prophet ﷺ came to me one day with smiling, happy face. He said, “Do you see that Mujazziz observed the feet of Zayd ibn Harithah and Usamah ibn Zayd and said, “These are feet belonging to a common strain.” [Bukhari 3731, Muslim 1459]

صحيح، ابن ماجة (2349)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2129
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن عیینہ نے یہ حدیث «عن الزهري عن عروة عن عائشة» کی سند سے روایت کی ہے۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز، زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید ؓ کے پاس سے گزرا، اس وقت وہ دونوں اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پیر کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا: ان قدموں (کا رشتہ) ایک دوسرے سے ہیں، ٣ - اسی طرح ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن اور کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن سفيان بن عيينة هذا الحديث عن الزهري عن عروة عن عائشة» کی سند سے بیان کی ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٤ - بعض اہل علم نے اس حدیث سے قیافہ کے معتبر ہونے پر استدلال کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل جاہلیت زید اور ان کے بیٹے اسامہ کے نسب میں طعنہ زنی کرتے تھے کیونکہ زید گورے تھے جب کہ اسامہ کالے اور سیاہ رنگ کے تھے، جب مجزز جیسے قیافہ شناس نے دونوں کے پیر دیکھ کر کہہ دیا کہ ان کا آپس میں نسب ثابت ہے تو آپ ﷺ بہت خوش ہوئے، کیونکہ طعنہ زنی کرنے والوں کی جن کے نزدیک قیافہ شناسی معتبر تھی اس قیافہ شناس کی بات سے تکذیب ہوگئی، اور ان دونوں کے نسب کی تصدیق ہوگئی، یہ صرف مشرکین کے عرف سے اس طعنہ کی تردید کی وجہ سے تھا، ورنہ آپ ﷺ بذریعہ وحی اس حقیقت سے واقف تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٥)، وفضائل الصحابة ١٧ (٣٧٣١)، والفرائض ٣١ (٦٧٧٠)، صحیح مسلم/الرضاع ١١ (١٤٥٩)، سنن ابی داود/ الطلاق ٣١ (٢٢٦٧، ٢٢٦٨)، سنن النسائی/الطلاق ٥١ (٣٥٢٣، ٣٥٢٤)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢١ (٢٣٤٩) (تحفة الأشراف: ١٦٥٨١)، مسند احمد (٦/٢٢٦٨٢) (صحیح )
2130Sunan At-Tirmidhi

آنحضرت ﷺ کا ہدیہ دینے پر رغبت دلانا

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ، وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ شِقَّ فِرْسِنِ شَاةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو مَعْشَرٍ اسْمُهُ نَجِيحٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس لیے کہ ہدیہ دل کی کدورت کو دور کرتا ہے، کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کے کھر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, ‘Give presents to each other for, a gift removes ill-will from the heart. And let not a woman look down upon the gift of her neighbour of a piece of a sheep’s trotter. [Bukhari 2566, Muslim 1030, Ahmed 9261]

ضعيف، لکن الشطر الثاني منه صحيح، المشکاة (3028) // ضعيف الجامع الصغير (2489) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2130
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - ابومعشر کا نام نجیح ہے وہ بنی ہاشم کے (آزاد کردہ) غلام ہیں، ان کے حافظے کے تعلق سے بعض اہل علم نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک دوسرے کو ہدیہ بھیجنا چاہیئے کیوں اس سے آپس میں دلی محبت اور قلبی لگاؤ میں اضافہ ہوتا ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ ہدیہ خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے، اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ، بلکہ وہ ہدیہ جو مقدار میں کم ہو زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں ہدیہ بھیجنے والے کو زیادہ تکلف نہیں کرنا پڑتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٠٧٢) (ضعیف) (سند میں ابو معشر سندی ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث کا آخری ٹکڑا، ابوہریرہ ؓ ہی سے صحیحین میں مروی ہے، دیکھیے: صحیح البخاری/الأدب ٣٠ (٦٠١٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٠ (١٠٣٠ )
2131Sunan At-Tirmidhi

ہدیہ یا ہبہ دینے کے عبد واپس لینے کی کراہت کے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُكَتِبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا، كَالْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ، ثُمَّ عَادَ فَرَجَعَ فِي قَيْئِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ہدیہ دے کر پھر واپس لے لے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہے یہاں تک کہ جب وہ آسودہ ہوجائے تو قے کرے، پھر اسے چاٹ لے ۔

Sayyidina ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘The example of one who gives a gift and takes it back afterwards is like the dog that eats voraciously till it vomits and then returns to eat from what it had vomited. [Bukhari 1489, Muslim 1621]

صحيح، الإرواء (6 / 63)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2131
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابن عباس اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٢٩٩ (صحیح )
2132Sunan At-Tirmidhi

ہدیہ یا ہبہ دینے کے عبد واپس لینے کی کراہت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفًعَانِ الْحَدِيثَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ للِرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلا الْوِالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حِدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ الشَّافِعيُّ: لَا يَحِلُّ لِمَنْ وَهَبَ هِبَةً أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيمَا أَعْطَى وَلَدَهُ، وَاحجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی ہدیہ دے، پھر اسے واپس لے لے، سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دیتا ہے (وہ اسے واپس لے سکتا ہے) اور جو شخص کوئی عطیہ دے پھر واپس لے لے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہے یہاں تک کہ جب آسودہ ہوجائے تو قے کرے، پھر اپنا قے کھالے ۔

It is reported marfu by Sayyidina Ibn Umar (RA) and Ibn Abbas (RA) (that the Prophet ﷺ said,) “It is not lawful for a man who presents a gift to take it back, except a father (can take back) after giving to his son. And the example of one who presents a gift and afterwards demands it back is like the dog that eats excessively till it spews out and then returns to it to consume from it.” [Abu Dawud 3539]

صحيح انظر ما قبله (2131)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2132
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شافعی کہتے ہیں: کسی ہدیہ دینے والے کے لیے جائز نہیں کہ ہدیہ واپس لے لے سوائے باپ کے، کیونکہ اس کے لیے جائز ہے کہ جو ہدیہ اپنے بیٹے کو دیا ہے اسے واپس لے لے، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٢٩٩ (صحیح )
2133Sunan At-Tirmidhi

تقدیر میں بحث کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْنَتَيْهِ الرُّمَّانُ، فَقَالَ: أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ، أَمْ بِهَذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَلَّا تَتَنَازَعُوا فِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ، وَصَالِحٌ الْمُرِّيُّ لَهُ غَرَائِبُ يَنْفَرِدُ بِهَا لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلے، اس وقت ہم سب تقدیر کے مسئلہ میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے، آپ غصہ ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور ایسا نظر آنے لگا گویا آپ کے گالوں پر انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا میں اسی واسطے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں؟ بیشک تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوگئیں جب انہوں نے اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ کیا، میں تمہیں قسم دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ نہ کرو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to us while we were debating about Divine decree. He became angry and his face turned so red as if pomegranate seed had been cracked open on his face. He asked us, “Is this what, you are commanded to do? Or, is this with which I was sent to you? Indeed, those before you perished only because they debated on this subject. I call upon you to assure me that you will not debate on it ever.”

حسن، المشکاة (98 و 99)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2133
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے اس سند سے صرف صالح مری کی روایت سے جانتے ہیں اور صالح مری کے بہت سارے غرائب ہیں جن کی روایت میں وہ منفرد ہیں، کوئی ان کی متابعت نہیں کرتا۔ ٣ - اس باب میں عمر، عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے، یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ بندوں کے اچھے اور برے اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان کا ظہور اللہ کے قضاء و قدر اور اس کے ارادے و مشیئت پر ہے، اور اس کا علم اللہ کو پوری طرح ہے، لیکن ان امور کا صدور خود بندے کے اپنے اختیار سے ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اچھے اعمال کو پسند کرتا ہے، اور برے اعمال کو ناپسند کرتا ہے، اور اسی اختیار کی بنیاد پر جزا و سزا دیتا ہے، تقدیر کے مسئلہ میں عقل سے غور و خوض اور بحث و مباحثہ جائز نہیں، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا گمراہی کا خطرہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٥٣٠) (حسن )
2134Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ، أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَقَالَ آدَمُ: وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ عَمِلْتُهُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَجُنْدَبٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدم اور موسیٰ نے باہم مناظرہ کیا، موسیٰ نے کہا: آدم! آپ وہی تو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی ١ ؎ پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا؟ آدم نے اس کے جواب میں کہا: آپ وہی موسیٰ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کرنے کے لیے منتخب کیا، کیا آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے میرے اوپر لازم کردیا تھا؟، آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ narrated: Adam and Musa disputed with one another. Musa said, “O Adam! You are the one whom Allah created with His own hand. He blew into you His spirit, but you misled the people and drove them out of Paradise.” So, Adam said to him, “You are Musa! Allah chose you for direct conversation with Him. You blame me for something that I did which Allah had recorded against me even before He had created the heavens and earth.” So, Adam out-debated Musa. [Ahmed 7638, Bukhari 3409, Muslim 2652]

صحيح، ابن ماجة (80)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2134
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث اس سند سے یعنی سلیمان تیمی کی روایت سے جسے وہ اعمش سے روایت کرتے ہیں، ٣ - اعمش کے بعض شاگردوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ اور بعض نے اس کی سند یوں بیان کی ہے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم»، ٤ - کئی اور سندوں سے یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، ٥ - اس باب میں عمر اور جندب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ روح جو اللہ کی پیدا کردہ ہے، اور جس کا ہر ذی روح حاجت مند ہے۔ ٢ ؎: صحیح مسلم میں اس کی تصریح ہے کہ آدم اور موسیٰ کا یہ مباحثہ اللہ رب العالمین کے سامنے ہوا۔ «واللہ اعلم »
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء ٣١ (٣٤٠٩)، وتفسیر طہ ١ (٤٧٣٦)، و ٢ (٤٧٣٨)، و القدر ١١ (٦٦٤١)، والتوحید ٣٧ (٧٥١٥)، صحیح مسلم/القدر ٢ (٢٦٥٢)، سنن ابی داود/ السنة ١٧ (٤٧٠١)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٨٠) (تحفة الأشراف: ١٢٣٨٩)، و موطا امام مالک/القدر ١ (١)، و مسند احمد (٢/٢٤٨، ٢٦٨، ٣٩٨) (صحیح )
2135Sunan At-Tirmidhi

ختی اور خوش بختی کے بارے میں

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَمْرٌ مُبْتَدَعٌ أَوْ مُبْتَدَأٌ أَوْ فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَقَالَ: فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو عمل ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، وہ نیا شروع ہونے والا امر ہے یا ایسا امر ہے جس سے فراغت ہوچکی ہے؟ ١ ؎ آپ نے فرمایا: ابن خطاب! وہ ایسا امر ہے جس سے فراغت ہوچکی ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہ امر آسان کردیا گیا ہے (جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے) ، چناچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدبختی والا کام کرتا ہے ۔

Sayyidina Umar (RA) asked, “O Messenger of Allah! ﷺ These deeds that we do are they abrupt and instant or pre-determined which we have accomplished?’ He said, ‘They are pre-determined and accomplished already, O Ibn Khattab. To everyone that for which he was created has been made easy. Thus, they who are auspicious are prompted to do auspicious deeds and the unfortunate do deeds of this nature (evil deeds). [Ahmed 5140]

صحيح ظلال الجنة (161 - 167)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2135
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، حذیفہ بن اسید، انس اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو عمل ہم کرتے ہیں کیا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم میں آتا ہے؟ یا وہ پہلے سے لکھا ہوا ہے اور اللہ کے علم میں ہے؟۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٧٦٤) (صحیح )
2136Sunan At-Tirmidhi

ختی اور خوش بختی کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ إِذْ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ عُلِمَ، وَقَالَ وَكِيعٌ: إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ قَالُوا: أَفَلَا نَتَّكِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ زمین کرید رہے تھے کہ اچانک آپ نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کا حال معلوم نہ ہو، (وکیع کی روایت میں ہے: تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کی جنت یا جہنم کی جگہ نہ لکھ دی گئی ہو) ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ (تقدیر کے لکھے ہوئے پر) بھروسہ نہ کرلیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، تم لوگ عمل کرو اس لیے کہ ہر آدمی کے لیے وہ چیز آسان کردی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔

Sayyidina Ali (RA) reported that while they were with Allah’s Messenger ﷺ he was scratching earth (as though in deep thought). Suddenly he raised his head to the heaven and said, “There is none among you about whom it is not determined.” Waki said, “It is recorded that his seat is in the fire or his seat is in Paradise.” They asked, “Shall we not place trust in Allah, O Messenger of Allah? ﷺ “ He said, “Do your deeds. To everyone is made easy that for which he is created.” [Bukhari 6605, Muslim 2647]

صحيح، ابن ماجة (78)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2136
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٢ (١٣٦٢)، وتفسیر سورة واللیل إذا یغشی ٣ (٤٩٤٥)، والأدب ١٢٠ (٦٢١٧)، و القدر ٤ (٦٦٠٥)، والتوحید ٥٤ (٧٥٥٢)، صحیح مسلم/القدر ١ (٢٦٤٧)، سنن ابی داود/ السنة ١٧ (٤٦٩٤)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٧٨)، ویأتي عند المؤلف برقم ٣٣٤٤) (تحفة الأشراف: ١٠١٦٧)، و مسند احمد (١/١٣٢) (صحیح )
2137Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ إِلَيْهِ الْمَلَكَ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ يَكْتُبُ: رِزْقَهُ، وَأَجَلَهُ، وَعَمَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، ثُمَّ يَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، ثُمَّ يَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم سے صادق و مصدوق رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ١ ؎، تم میں سے ہر آدمی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «علقة» (یعنی جمے ہوئے خون) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «مضغة» (یعنی گوشت کے لوتھڑے) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے، پھر اسے چار چیزوں (کے لکھنے) کا حکم کیا جاتا ہے، چناچہ وہ لکھتا ہے: اس کا رزق، اس کی موت، اس کا عمل اور یہ چیز کہ وہ «شقي» (بدبخت) ہے یا «سعيد» (نیک بخت) ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جہنمیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے، اور تم میں سے کوئی آدمی جہنمیوں کا عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جنتیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے، لہٰذا وہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ the truthful who was confirmed as such, said to them, “Each one of you stays in his mother’s womb for forty days as a sperm. Then he turns into a clot for as many days, and then a lump of flesh. Then Allah sends to him an angel who blows into him the soul and is commanded with four words. He records his sustenance, his life term, his deeds and whether he will be miserable or fortunate. By Him besides Whom there is no God, one of you will perform deeds of the people of Paradise till only a cubit separates him from it when what is decreed will overtake him and he will do deeds of the denizens of the fire and he will enter it. And one of you will do deeds deserving of the fire till there is not but a cubit between him and it when he will do a deed of those worthy of Paradise and will enter it.” [Bukhari 6594, Muslim 2643]

صحيح، ابن ماجة (76)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2137
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سچے ہیں اور سچی بات آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٣٢٠٨)، وأحادیث الأنبیاء ١ (٣٣٩٣)، صحیح مسلم/القدر ١ (٢٦٤٣)، سنن ابی داود/ السنة ١٧ (٤٧٠٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٧٦) (تحفة الأشراف: ٩٢٢٨)، و مسند احمد (١/٣٨٢، ٤١٤) (صحیح )
2138Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رَبِيعَةَ الْبُنَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْمِلَّةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُشَرِّكَانِهِ ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ هَلَكَ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ بِهِ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے ١ ؎، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی، یا مشرک بناتے ہیں عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جو اس سے پہلے ہی مرجائے؟ ٢ ؎ آپ نے فرمایا: اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Every child is born on the religion (of Islam). Then his parents make him a Jew, a Christian or a polytheist.” Someone said, “O Messenger of Allah, (what about) those who die before (their parents convert them)?” He said, “Allah knows best what they would have done (if they had survived).” [Bukhari 1358, Muslim 2658]

صحيح، الإرواء (1220)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2138
Notes · وضاحت
١ ؎: فطرت اسلام پر پیدا ہونے کی علماء نے یہ تاویل کی ہے کہ چونکہ «ألست بربکم» کا عہد جس وقت اللہ رب العالمین اپنی مخلوق سے لے رہا تھا تو اس وقت سب نے اس عہد اور اس کی وحدانیت کا اقرار کیا تھا، اس لیے ہر بچہ اپنے اسی اقرار پر پیدا ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ ماں باپ کی تربیت یا لوگوں کے بہکاوے میں آ کر یہودی، نصرانی اور مشرک بن جاتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی بچپن ہی میں جس کا انتقال ہوجائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٩٢ (١٣٨٣)، و القدر ٣ (٦٥٩٢)، صحیح مسلم/القدر ٦ (٢٦٥٨)، سنن ابی داود/ السنة ١٨ (٤٧١٤) (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٦)، و موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥٢)، و مسند احمد (٢/٢٤٤، ٢٥٣، ٢٥٩، ٢٦٨، ٣١٥، ٣٤٧، ٣٩٣، ٤٧١، ٤٨٨، ٥١٨) (صحیح )
2139Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ تقدیر کو صرف دعا ہی لوٹا سکتی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَسِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ سَلْمَانَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الضُّرَيْسِ، وَأَبُو مَوْدُودٍ اثْنَانِ: أَحَدُهُمَا يُقَالُ لَهُ فِضَّةٌ، وَهُوَ الَّذِي رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ اسْمُهُ فِضَّةٌ بَصْرِيٌّ، وَالْآخَرُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَحَدُهُمَا بَصْرِيٌّ، وَالْآخَرُ مَدَنِيٌّ، وَكَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ.

سلمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دعا کے سوا کوئی چیز تقدیر کو نہیں ٹالتی ہے ١ ؎ اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Salman (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Nothing averts the decree except supplication and nothing but piety prolongs life.” [Ahmed 22476]

حسن، الصحيحة (154)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2139
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث سلمان کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابواسید سے بھی روایت ہے، ٣ - ہم اسے صرف یحییٰ بن ضریس کی روایت سے جانتے ہیں، ٤ - ابومودود دو راویوں کی کنیت ہے، ایک کو فضہ کہا جاتا ہے، اور یہ وہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے، ان کا نام فضہ ہے اور دوسرے ابومودود کا نام عبدالعزیز بن ابوسلیمان ہے، ان میں سے ایک بصرہ کے رہنے والے ہیں اور دوسرے مدینہ کے، دونوں ایک ہی دور میں تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «قضاء» سے مراد امر مقدر ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے: مفہوم یہ ہے کہ بلا و مصیبت کے ٹالنے میں دعا بےحد موثر ہے، یہاں تک کہ اگر قضاء کا کسی چیز سے لوٹ جانا ممکن ہوتا تو وہ دعا ہوتی، جب کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے: مراد یہ ہے کہ دعا سے قضاء کا سہل و آسان ہوجانا ہے گویا دعا کرنے والے کو یہ احساس ہوگا کہ قضاء نازل ہی نہیں ہوئی، اس کی تائید ترمذی کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں دعا جو کچھ قضاء نازل ہوچکی ہے اس کے لیے اور جو نازل نہیں ہوئی ہے اس کے لیے بھی نفع بخش ثابت ہوتی ہے۔ ٢ ؎: عمر میں اضافہ اگر حقیقت کے اعتبار سے ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اضافہ اس فرشتہ کے علم کے مطابق ہے جو انسان کے عمر پر مقرر ہے، نہ کہ اللہ کے علم کی طرف نسبت کے اعتبار سے ہے، مثلاً لوح محفوظ میں اگر یہ درج ہے کہ فلاں کی عمر اس کے حج اور عمرہ کرنے کی صورت میں ساٹھ سال کی ہوگی اور حج و عمرہ نہ کرنے کی صورت میں چالیس سال کی ہوگی تو یہ اللہ کے علم میں ہے کہ وہ حج و عمرہ کرے گا یا نہیں، اور علم الٰہی میں رد و بدل اور تغیر نہیں ہوسکتا جب کہ فرشتے کے علم میں جو ہے اس میں تبدیلی کا امکان ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ مؤالف (تحفة الأشراف: ٤٥٠٢) (حسن )
2140Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ أَصَحُّ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا پڑھتے تھے «يا مقلب القلوب ثبت قلبي علی دينك» اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں اندیشہ رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جیسا چاہتا ہے انہیں الٹتا پلٹتا رہتا ہے ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ often said: "O Turner of hearts, keep my heart steadfast on Your religion. So, Anas (RA) asked, “We have believed in you and what you have brought. Are you apprehensive about us?” He said, “Yes hearts are, surely, between two of the fingers of Allah. He may turn them as He will.” [Ahmed 12108]

صحيح، ابن ماجة (3834)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2140
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - کئی لوگوں نے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس» کی سند سے روایت کی ہے۔ بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، لیکن ابوسفیان کی حدیث جو انس سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں نواس بن سمعان، ام سلمہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٣٤) (تحفة الأشراف: ٩٢٤) (صحیح )
2141Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ نے دوزخیوں اور جنتوں کے متعلق کتاب لکھی ہوئی ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ شُفَيِّ بْنِ مَاتِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ، فَقَالَ: أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ ؟ فَقُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا، فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى: هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ، فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي شِمَالِهِ: هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَقَالَ: سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ، وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: فَرَغَ رَبُّكُمْ مِنَ الْعِبَادِ، فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ .

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ایک بار) ہماری طرف نکلے اس وقت آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں۔ آپ نے پوچھا: تم لوگ جانتے ہو یہ دونوں کتابیں کیا ہیں؟ ہم لوگوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ آپ ہمیں بتادیں۔ داہنے ہاتھ والی کتاب کے بارے میں آپ نے فرمایا: یہ رب العالمین کی کتاب ہے، اس کے اندر جنتیوں، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں، پھر آخر میں ان کا میزان ذکر کردیا گیا ہے۔ لہٰذا ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہوگا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہوگا ، پھر آپ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا: یہ رب العالمین کی کتاب ہے، اس کے اندر جہنمیوں، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں اور آخر میں ان کا میزان ذکر کردیا گیا ہے، اب ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہوگا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر عمل کس لیے کریں جب کہ اس معاملہ سے فراغت ہوچکی ہے؟ آپ نے فرمایا: سیدھی راہ پر چلو اور میانہ روی اختیار کرو، اس لیے کہ جنتی کا خاتمہ جنتی کے عمل پہ ہوگا، اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمی کے عمل پہ ہوگا اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا، پھر ان دونوں کتابوں کو پھینک دیا اور فرمایا: تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا ہے، ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک فریق جہنم میں جائے گا ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to us and he had in his hand two books. He asked, “Can you surmise what these two books are? We said, ‘No, O Messenger of Allah ﷺ unless you inform us.’ He said, “About the one that is in my right hand, it is a book from the Lord of the worlds. In it are names of the people of Paradise and the names of their ancestors and of their tribes. Then they are added up in the end. So, there will never be an increase in them, nor a decrease from them ever.” As for the one in his left hand, he said, “This is a book from the Lord of the worlds. In it are names of the people of the fire and the names of their tribes. In the end, they are summed up. There never will be an increase in their numbers and there never will be a decrease in them.” His companions said, “O Messenger of Allah ﷺ then what the point in deeds is if the affair is already over from them?” He said, “Advance at a moderate pace and get closer, for the deeds of the people of Paradise are sealed for them though they may have done whatever deed before that. And for the people of Hell, the deeds of the people of Hell are sealed for them no matter what deed they may have done earlier.” Then Allah’s Messenger ﷺ gestured with both hands and threw both of them the books away, saying, “Your Lord is over with the creatures, a section in Paradise and a section in Hell.” [Ahmed 6574]

حسن، المشکاة (96)، الصحيحة (848)، الظلال (348)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2141
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ٨٨٢٥)، و مسند احمد (٢/١٦٧) (حسن )
2142Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ نے دوزخیوں اور جنتوں کے متعلق کتاب لکھی ہوئی ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ ، فَقِيلَ: كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے عمل کراتا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیسے عمل کراتا ہے؟ آپ نے فرمایا: موت سے پہلے اسے عمل صالح کی توفیق دیتا ہے ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If Allah decides to do good to a slave, he involves him in deeds.” He was asked, “How does he involve them in deeds, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “He makes it easy for him to do righteous (deeds) before death.” [Ahmed 13407]

صحيح، الروض النضير (2 / 87)، المشکاة (5288)، الظلال (397 - 399)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2142
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفردی بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٨٩) (صحیح )
2143Sunan At-Tirmidhi

عدوی صفر اور ہامہ کی نفی کے متعلق

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَعِيرُ الْجَرِبُ الْحَشَفَةُ نُدْبِنُهُ فَيُجْرِبُ الْإِبِلُ كُلُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ، لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ وَكَتَبَ حَيَاتَهَا وَرِزْقَهَا وَمَصَائِبَهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيَّ الْبَصْرِيَّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: لَوْ حَلَفْتُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، لَحَلَفْتُ أَنِّي لَمْ أَرَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ، ایک اعرابی (بدوی) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! خارشتی شرمگاہ والے اونٹ سے (جب اسے باڑہ میں لاتے ہیں) تو تمام اونٹ (کھجلی والے) ہوجاتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر پہلے کو کس نے کھجلی دی؟ کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ہے اور نہ ماہ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی، رزق اور مصیبتوں کو لکھ دیا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ stood up between them and said, “There is no infection.” A villager said, “O Messenger of Allah! ﷺ When a mangy camel mixes with other camels, they all are infected with mange.” He asked, “Then who brought mange to the first camel. (The illness of one does not come on another). Neither is there infection nor Safar. Allah created all souls and wrote down their life and their provision, and their hardships.” [Ahmed 4198]

صحيح، الصحيحة (1152)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2143
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں زمانہ جاہلیت کی تین باتوں کی نفی کی گئی ہے، اور اس حدیث میں متعدی مرض اور صفر کے سلسلے میں موجود بداعتقادی پر نکیر ہے، اہل جاہلیت کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے بغیر بیماری خود سے متعدی ہوتی ہے، یعنی خود سے پھیل جاتی ہے، اسلام نے ان کے اس اعتقاد باطل کو غلط ٹھہرایا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لاعدوی» یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، اور اس کے لیے سب سے پہلے اونٹ کو کھجلی کی بیماری کیسے لگی، کی بات کہہ کر سمجھایا اور بتایا کہ کسی بیماری کا لاحق ہونا اور اس بیماری سے شفاء دینا یہ سب اللہ رب العالمین کے حکم سے ہے وہی مسبب الاسباب ہے۔ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے،«ھامہ» یعنی الو کا ذکر باب میں ہے، اس حدیث میں نہیں ہے، بلکہ دوسری احادیث میں ہے آیا ہے، الو کو دن میں دکھائی نہیں دیتا ہے، تو وہ رات کو نکلتا ہے، اور اکثر ویرانوں میں رہتا ہے، عرب لوگ اس کو منحوس جانتے تھے، اور بعض یہ سمجھتے تھے کہ مقتول کی روح الو بن کر پکارتی پھرتی ہے، جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اڑ جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس خیال کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: «و ولاهامة»، آج بھی الو کی نحوست کا اعتقاد باطل بہت سے لوگوں کے یہاں پایا جاتا ہے، جو جاہلیت کی بداعتقادی ہے، اسی طرح صفر کے مہینے کو جاہلیت کے زمانے میں لوگ منحوس قرار دیتے تھے، اور جاہل عوام اب تک اسے منحوس جانتے ہیں، صفر کے مہینے کے پہلے تیرہ دن جس میں رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تھے ان ایام کو تیرہ تیزی کہتے ہیں، ان میں عورتیں کوئی بڑا کام جیسے شادی بیاہ وغیرہ کرنے نہیں دیتیں، یہ بھی لغو ہے، صفر کا مہینہ اور مہینوں کی طرح ہے، کچھ فرق نہیں ہے۔ یہ بھی آتا ہے کہ عرب ماہ محرم کی جگہ صفر کو حرمت والا مہینہ بنا لیتے تھے، اسلام میں یہ بھی باطل، اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عربوں کے اعتقاد میں پیٹ میں ایک سانپ ہوتا تھا جس کو صفر کہا جاتا ہے، بھوک کے وقت وہ پیدا ہوتا ہے اور آدمی کو ایذا پہنچاتا ہے، اور ان کے اعتقاد میں یہ متعدی مرض تھا، تو اسلام نے اس کو باطل قرار دیا (ملاحظہ ہو: النہایۃ فی غریب الحدیث: مادہ: صفر، نیز ان مسائل پر ہم نے سنن ابن ماجہ (کتاب الطب: باب نمبر ٤٣ ، حدیث نمبر ٣٥٣ ٦-٣٥٤١) میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، اس کا مطالعہ مفید ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٦٤٠)، وانظر مسند احمد (١/٤٤٠) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، سند میں ایک راوی ” صاحب لنا “ مبہم ہے، اور ہوسکتا ہے کہ یہ ابوہریرہ ؓ ہوں، ابو زرعہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں، نیز مسند احمد (٢/٣٢٧) میں یہ حدیث بواسطہ ابو زرعہ ابوہریرہ ؓ سے موجود ہے )
2144Sunan At-Tirmidhi

خیر وشر کے مقدر ہونے پر ایمان لانا

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بندہ مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے، اور یہ یقین کرلے کہ جو کچھ اسے لاحق ہوا ہے چوکنے والا نہ تھا اور جو کچھ چوک گیا ہے اسے لاحق ہونے والا نہ تھا ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A man does not believe unless he believes in fate good and bad and till he knows that what’ confronts him could not have escaped and what escapes him could not have confronted him.”

صحيح، الصحيحة (2439)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2144
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن میمون کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - عبداللہ بن میمون منکر حدیث ہیں، ٣ - اس باب میں عبادہ، جابر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٦١٤) (صحیح )
2145Sunan At-Tirmidhi

خیر وشر کے مقدر ہونے پر ایمان لانا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، وَيُؤْمِنُ بِالْمَوْتِ، وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ .

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بندہ چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہوسکتا: ( ١ ) گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، ( ٢ ) موت پر ایمان لائے، ( ٣ ) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے، ( ٤ ) تقدیر پر ایمان لائے ۔

Sayyidina Ali narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “No one is a Believer unless he believes in four things: (1) He testifies that there is no God but Allah and that I am Allah’s Messenger and He sent me with the truth. (2) He believes in death (being certain and does pious deeds before that). (3) He believes in resurrection after death, and (4) He believes in predestination.” [Ahmed 758, Ibn Majah 81]

صحيح، ابن ماجة (81)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2145
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٨١) (تحفة الأشراف: ١٠٠٨٩) (صحیح )