Sunan At-Tirmidhi 2177

فتنوں کا بیان

2177Sunan At-Tirmidhi

جو شخص فتنے کے وقت ہو وہ کیا عمل کرے

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْطَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا، قَالَ: رَجُلٌ فِي مَاشِيَتِهِ يُؤَدِّي حَقَّهَا، وَيَعْبُدُ رَبَّهُ، وَرَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُخِيفُ الْعَدُوَّ، وَيُخِيفُونَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدَرِيِّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام مالک بہزیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنے کا ذکر کیا اور فرمایا: وہ بہت جلد ظاہر ہوگا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس وقت سب سے بہتر کون شخص ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ایک وہ آدمی جو اپنے جانوروں کے درمیان ہو اور ان کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہو، اور دوسرا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو، وہ دشمن کو ڈراتا ہو اور دشمن اسے ڈراتے ہوں ١ ؎۔

Sayyidah Umm Malik Bahziyah is reported that Allah’s Messenger ﷺ mentioned fitnah (trial) and said it was approaching (them). She said, “O Messenger of Allah, ﷺ who would be the best of men during it ?“ He said, “A man who is among his animals and gives their rights (zakah) and worships his Lord. And, a man who holds his horse stirring fear in the enemy and they frighten him (too).”

صحيح، الصحيحة (698)، التعليق الرغيب (2 / 153)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2177
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - لیث بن ابی سلیم نے بھی یہ حدیث «عن طاؤس عن أم مالک البهزية عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں ام مبشر، ابو سعید خدری اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فتنہ کے ظہور کے وقت ایسا آدمی سب سے بہتر ہوگا جو فتنہ کی جگہوں سے دور رہ کر اپنے جانوروں کے پالنے پوسنے میں مشغول ہو، اور ان کی وجہ سے اس پر جو شرعی واجبات و حقوق ہیں مثلاً زکاۃ و صدقات کی ادائیگی میں ان کا خاص خیال رکھتا ہو، ساتھ ہی رب العالمین کی اس کے حکم کے مطابق عبادت بھی کرتا ہو، اسی طرح وہ آدمی بھی بہتر ہے جو اپنے گھوڑے کے ساتھ کسی دور دراز جگہ میں رہ کر وہاں موجود دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہو، انہیں خوف و ہراس میں مبتلا رکھتا ہو اور خود بھی ان سے خوف کھاتا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٣٥٥) (صحیح) (سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن شواہد کی بنا پر حدیث صحیح لغیرہ ہے )