Sunan At-Tirmidhi 2174

فتنوں کا بیان

2174Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُصْعَبٍ أَبُو يَزِيدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِهَادِ كَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہنا سب سے بہتر جہاد ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, ‘Indeed, the mightiest of jihad is a just word before a tyrant king.” [Abu Dawud 4344, Ibn Majah 4011]

صحيح، ابن ماجة (4010)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2174
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سب سے بہتر جہاد اس وجہ سے ہے کہ دشمن سے مقابلہ کے وقت جو ڈر سوار رہتا ہے، وہ اپنے اندر جیتنے اور ہارنے سے متعلق دونوں صفتوں کو سمیٹے ہوئے ہے، جب کہ کسی جابر بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے میں صرف مغلوبیت کا خوف طاری رہتا ہے، اسی لیے اسے سب سے بہتر جہاد کہا گیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الملاحم ١٧ (٤٣٤٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠١١)، و مسند احمد ٣٠/١٩، ٦١) (تحفة الأشراف: ٤٢٣٤) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” عطیہ عوفي “ ضعیف ہیں ۔ دیکھیے: الصحیحة: ٤٩١ )