ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عجوہ (کھجور) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ١ ؎ ایک طرح کا «من» (سلوی والا «من» ) ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ajwah is from Paradise and it is a cure for poison. And, Kam’ah (truffles) is a kind of Mann and its extract is a cure for the eyes.” [Ahmed 8008]
حسن صحيح، المشکاة (4235 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2066
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ محمد بن عمرو کی روایت سے ہے، ہم اسے صرف محمد بن عمر ہی سعید بن عامر کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ محمد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں، ٣ - اس باب میں سعید بن زید، ابوسعید اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں حدیث میں وارد لفظ «الکمأ ۃ » کا ترجمہ کھمبی قطعاً درست نہیں ہے «الکمأ ۃ » کو عربوں کی عامی زبان میں «فقعہ» کہا جاتا ہے، یہ «فقعہ» موسم سرما کی بارشوں کے بعد صحرائے نجد و نفود کبریٰ، مملکت سعودیہ کے شمال اور ملک عراق کے جنوب میں پھیلے ہوئے بہت بڑے صحراء میں زیر زمین پھیلتا ہے، اس کی رنگت اور شکل و صورت آلو جیسی ہوتی ہے، جب کہ کھمبی زمین سے باہر اور ہندوستان کے ریتلے علاقوں میں ہوتی ہے، ابن القیم، ابن حجر اور دیگر علماء امت نے «الکمأ ۃ » کی جو تعریف لکھی ہے اس کے مطابق بھی «الکمأ ۃ » درحقیقت «فقعہ» ہے کھمبی نہیں، (تفصیل کے لیے فتح الباری اور تحفۃ الأحوذی کا مطالعہ کرلیں، نیز اس پر تفصیلی کلام ابن ماجہ کے حدیث نمبر ( ٣٤٥٥ ) کے حاشیہ میں ملاحظہ کریں، اور جہاں بھی «کمأ ۃ » کا ترجمہ کھمبی لکھا ہے، اس کی جگہ «فقعہ» لکھ لیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٨ (٣٤٥٥) (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٧) و مسند احمد (٢/٣٠١، ٣٠٥، ٣٢٥، ٣٥٦، ٤٢١، ٤٨٨، ٤٩٠، ٥١١) (حسن صحیح )
سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صحرائے عرب کا فقعہ ایک طرح کا «من» (سلوی والا «من» ) ہے اور اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے ۔
Sayyidina Sa’eed ibn Zayd (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “Kam’ah is a kind of Mann. Its extract is a cure for the eyes.” [Bukhari 4639]
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: کھنبی زمین کی چیچک ہے، (یہ سن کر) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صحرائے عرب کا «فقعہ» ایک طرح کا «من» ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے، اور عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے، وہ زہر کے لیے شفاء ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: Some of the sahaba (RA) of the Prophet ﷺ said, “Kam’ah is small-pox of earth.” Allah’s Messenger said, ‘Kam’ah is a kind of Mann. Its extract is a cure for the eyes. And ajwah is from Paradise and it is a cure of poison.” [Ahmed 8008]
صحيح بما قبله (2067)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2068
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٠٦٦ (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٦) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے تین، پانچ یا سات کھنبی لی، ان کو نچوڑا، پھر اس کا عرق ایک شیشی میں رکھا اور اسے ایک لڑکی کی آنکھ میں ڈالا تو وہ صحت یاب ہوگئی۔
Qatadah said that he reported that Abu Hurairah (RA) said, “I took three Kam’ah (truffles), or five, or seven and extracted. Their juice and poured it into a phial. Then I applied it to (the eyes of) my female slave and she recovered.”
ضعيف الإسناد مع وقفهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2069
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (سند میں قتادہ اور ابوہریرہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ موقوف ہے، یعنی ابوہریرہ کا کلام ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ کلونجی موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔ قتادہ ہر روز کلونجی کے اکیس دانے لیتے، ان کو ایک پوٹلی میں رکھ کر پانی میں بھگوتے پھر ہر روز داہنے نتھنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے، دوسرے دن بائیں میں دو بوندیں اور داہنی میں ایک بوند ڈالتے اور تیسرے روز داہنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے۔
Qatadah reported that Sayyidina Abu Hurairah (RA) said, “Shuniz is a remedy for every disease except death.” Qatadah said that, every day, he took twenty-one seeds of it and soaked them in a piece of cloth. He would put two drops in his right nostril and one in his left one day. The second day he would put two drops in his left nostril and one in his right nostril. On the third day, he would put two drops in the right nostril and one in the left.
ضعيف الإسناد مع وقفه، لكن، الصحيحة مرفوعا دون قول قتادة: يأخذ ...، الصحيحة (1905)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2070
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (اس سند میں بھی قتادہ اور ابوہریرہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ موقوف ہے، یعنی ابوہریرہ کا کلام ہے، لیکن ابوہریرہ کا یہ قول مرفوع حدیث سے ثابت ہے، الصحیحة ١٩٠٥ )
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے لینے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade sale price of the dog, dower of adultery and wages of the soothsayers.” [Bukhari 2237]
صحيح، ابن ماجة (2159)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2071
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غیب کا علم صرف رب العالمین کے لیے خاص ہے، اس کا دعویٰ کرنا بہت بڑا گناہ ہے، اسی لیے اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی باطل اور غلط طریقے سے جو مال لوگوں سے حاصل کرتے ہیں، وہ حرام ہے، زنا معصیت اور فحش کے اعمال میں سے سب سے بدترین عمل ہے، اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت ناپاک اور حرام ہے، کتا ایک نجس جانور ہے اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ جس برتن میں یہ منہ ڈال دے شریعت نے اسے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے، اسی لیے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، سوائے اس کے کہ گھر، جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔
عیسیٰ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عکیم ابومعبد جہنی کے ہاں ان کی عیادت کرنے گیا، ان کو «حمرة» کا مرض تھا ١ ؎ ہم نے کہا: کوئی تعویذ وغیرہ کیوں نہیں لٹکا لیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: موت اس سے زیادہ قریب ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی چیز لٹکائی وہ اسی کے سپرد کردیا گیا ٢ ؎۔
Eesa ibn Abdul Rahman ibn Abu Layla narrated, I paid a sick-visit to Abdullah ibn Abu Ma’bad Juhanni. He had redness on his body. I asked him, “Why do you not suspend something (like a talisman)?” He said, “Death is nearer than that. And the Prophet ﷺ had said that if anyone wears something on his neck then he would be entrusted to that (and has no Divine support).’ [Ahmed 18804]
حسن غاية المرام (297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2072
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبداللہ بن عکیم کی حدیث کو ہم صرف محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، عبداللہ بن عکیم نے نبی اکرم ﷺ سے حدیث نہیں سنی ہے لیکن وہ آپ ﷺ کے زمانہ میں تھے، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کے پاس لکھ کر بھیجا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حمرہ» ایک قسم کا وبائی مرض ہے جس کی وجہ سے بخار آتا ہے، اور بدن پر سرخ دانے پڑجاتے ہیں۔ ٢ ؎: جو چیزیں کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہیں وہ حرام ہیں، چناچہ تعویذ گنڈا اور جادو منتر وغیرہ اسی طرح حرام کے قبیل سے ہیں، تعویذ میں آیات قرآنی کا ہونا اس کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی، کیونکہ حدیث میں مطلق لٹکانے کو ناپسند کیا گیا ہے، یہ حکم عام ہے اس کے لیے کوئی دوسری چیز مخص نہیں ہے۔ بلکہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی تعویذ، گنڈا یا کوئی منکا وغیرہ لٹکایا اس نے شرک کیا۔
رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۔
Sayyidina Rafi ibn Khadij (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Fever is intense because of the fire (of Hell), so cool it down with water.” [Bukhari 3262]
صحيح، ابن ماجة (3473)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2073
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں اسماء بنت ابوبکر، ابن عمر، زبیر کی بیوی، ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں (عائشہ ؓ کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٠ (٣٢٦٢)، والطب ٢٨ (٥٧٢٦)، صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢١٢)، سنن ابن ماجہ/الطب ١٩ (٣٤٧٣) (تحفة الأشراف: ٣٥٦٢)، و مسند احمد (٣/٤٦٤)، و (٤/١٤١)، وسنن الدارمی/الرقاق ٥٥ (٢٨١١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely fever is from the vastness of (the fire of) Hell. So, cool it down with water.” [Muslim 2210]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2074
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے، «بسم اللہ الکبير أعوذ بالله العظيم من شر کل عرق نعار ومن شر حر النار» میں بڑے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور عظمت والے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ taught (the sahabah) when afflicted with fever or pain to make this supplication.” In the Name of Allah the Great (I begin to blow). I seek refuge in Allah the Mighty from the evil of every bursting vein and from the evil of the heat of the fire." [Ibn Majah 3526]
ضعيف، المشکاة (1554) // ضعيف الجامع الصغير (4587) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2075
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ کی روایت سے جانتے ہیں اور ابراہیم بن اسماعیل ضعیف الحدیث سمجھے جاتے ہیں، ٣ - بعض احادیث میں «عرق نعار» کے بجائے «عرق يعار» بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٣٧ (٣٥٢٦) (تحفة الأشراف: ٦٠٧٦) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں )
جدامہ بنت وہب ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: میں نے ارادہ کیا کہ ایام رضاعت میں صحبت کرنے سے لوگوں کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کرتے ہیں، اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔
Sayyidah Aisha (RA) Bint Wahb who was Judamah (RA) reported that she heard Allah’s Messenger ﷺ say, “I had intended to disallow men to have sexual intercourse with their wives, who suckle their infants, but the people of Rome and Persia do it and their children have not suffered in any way.” [Muslim 1442]
صحيح، ابن ماجة (2011)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2076
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - مالک نے یہ حدیث «عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة عن جدامة بنت وهب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں اسماء بنت یزید سے بھی روایت ہے، ٤ - مالک کہتے ہیں: «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٣٤ (١٤٤٢)، سنن ابی داود/ الطب ١٦ (٣٨٨٢)، سنن النسائی/النکاح ٥٤ (٣٣٢٦)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦ (٢٠١١) (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٦)، وط/الرضاع ٣ (١٦)، و مسند احمد (٦/٣٦١، ٤٣٤)، وسنن الدارمی/النکاح ٣٣ (٢٢٦٣) (صحیح )
جدامہ بنت وہب اسدیہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے ارادہ کیا تھا کہ ایام رضاعت میں جماع کرنے سے لوگوں کو منع کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے ۔ مالک کہتے ہیں:«غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔ عیسیٰ بن احمد کہتے ہیں: ہم سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے مالک نے ابوالاسود کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔
Sayyidah Aisha (RA) reported from Judamah bint Wahab Asadiya from the Prophet ﷺ he said; "Verily I had intended to disallow men to the inter course with their wives suckling the infants until I was told that the people of Rome and Persia do this and their children are not harmed."
صحيح انظر ما قبله (2076)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2077
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ذات الجنب ١ ؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ٢ ؎ تشخیص کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں: اس کو منہ میں ڈالا جائے گا، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو۔
Sayyidina Zayd ibn Arqam reported that the Prophet ﷺ suggested olive oil and wurs for pleurisy. Qatadah said that the medicine was administered from the side (of the mouth) where the complaint was. [Ibn Majah 3467]
ضعيف، ابن ماجة (3467) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (761)، وفيه زيادة: القسط //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2078
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوعبداللہ کا نام میمون ہے، وہ ایک بصریٰ شیخ ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پسلی کا ورم جو اکثر مہلک ہوتا ہے۔ ٢ ؎: ایک زرد رنگ کی خوشبودار گھاس ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ١٧ (٣٤٦٧) (تحفة الأشراف: ٣٦٨٤) (سند میں میمون ابوعبد اللہ ضعیف راوی ہیں )
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ذات الجنب کا علاج قسط بحری (عود ہندی) اور زیتون کے تیل سے کریں۔
Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ commanded them to treat pleurisy with sea costus and olive oil.
ضعيف انظر ما قبله (2078)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2079
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف میمون کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں، ٣ - میمون سے کئی لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے۔
عثمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، اس وقت مجھے ایسا درد تھا کہ لگتا تھا وہ مار ڈالے گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے داہنے ہاتھ سے سات مرتبہ درد کی جگہ چھوؤ اور یہ دعا پڑھو «أعوذ بعزة اللہ وقدرته وسلطانه من شر ما أجد» میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت اور طاقت کے وسیلے سے اس تکلیف کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے لاحق ہے ۔ میں نے ویسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف دور کردی، چناچہ میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو یہ دعا پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔
Sayyidina Uthman ibn Abu Aas reported that Allah’s Messenger ﷺ visited him while he had severe pain which nearly killed him. So, Allah’s Messenger said to him, “Touch (the painful spot) with your right hand seven times, saying: "I seek refuge in the might of Allah and His power and His authority from the evil of that which I am going through." He said that he did so and Allah removed what he had (faced) and he thenceforth did not cease to command his family and others to observe this (prayer).
صحيح، ابن ماجة (3522)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2080
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٠٢)، سنن ابی داود/ الطب ١٩ (٣٨٩١)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٢) (تحفة الأشراف: ٩٧٧٤)، وط/العین ٤ (٩)، و مسند احمد (٤/٢١، ٢١٧) (صحیح )
اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اسہال کے لیے تم کیا لیتی ہو؟ میں نے کہا: «شبرم» ١ ؎، آپ نے فرمایا: وہ گرم اور بہانے والا ہے ۔ اسماء کہتی ہیں: پھر میں نے «سنا» ٢ ؎ کا مسہل لیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو «سنا» میں ہوتی ۔
Sayyidah Asma bint Umays narrated: Allah’s Messenger asked me, “What purgative do you take?” I said, “I take shubrum.” He said, “That is very hot and terrible.” Then I used Sana as a purgative. So, the Prophet ﷺ said, “Were there a remedy for death that would be Sana.” [Ibn Majah 3461]
ضعيف، ابن ماجة (4537) // هذا وهم في أصل الشيخ ناصر . وإنما هو رقم مشکاة المصابيح والشيخ ناصر لم يحل علی المشکاة . وأما رقم ضعيف سنن ابن ماجة فهو (760 - 3461) ومن منا لا يسهو - وانظر ضعيف الجامع الصغير (4807) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2081
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس سے (یعنی «سنا» سے) مراد دست آور دواء ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گرم اور سخت قسم کا چنے کے برابر ایک طرح کا دانہ ہوتا ہے۔ ٢ ؎: ایک دست لانے والی دوا کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ١٢ (٣٤٦١) (تحفة الأشراف: ١٥٧٥٩) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے ” زرعة بن عبداللہ، زرعة بن عبدالرحمن “، ” عتبة بن عبداللہ، عبید اللہ “ بہر حال یہ آدمی مجہول ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرے بھائی کو دست آ رہا ہے، آپ نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ، چناچہ اس نے اسے پلایا، پھر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہوگیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ، اس نے اسے شہد پلایا، پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہوگیا ہے، ابو سعید خدری کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ (اپنے قول میں) سچا ہے، اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ، چناچہ اس نے شہد پلایا تو (اس بار) اچھا ہوگیا۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that a man came to the Prophet ﷺ and said, “My brother has loose bowels.” He said, “Give him honey to drink.” So he gave it to him. He came again and said, “O Messenger %L of Allah, I made him drink honey, and it has not but made his bowels more loose.” He said, “Give him honey to drink.” So, he gave him honey to drink and came back and said that he had given him drink of honey but only his bowels were more loose. Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah has spoken the truth and your brother’s stomach has lied. Give him to drink honey.” He gave it to him and he recovered. [Bukhari 5683]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2082
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٤ (٥٦٨٤)، و ٢٤ (٥٧١٦)، صحیح مسلم/السلام ٣١ (٢٢١٧)، (تحفة الأشراف: ٤٢٥١)، و مسند احمد (٣/١٩) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعا پڑھے «أسأل اللہ العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك» میں عظمت والے اللہ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے تو ضرور اس کی شفاء ہوجاتی ہے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “There is not a Muslim slave who visits a sick person whose time has not come (as yet) and says seven times: ask Allah, the Mighty, Lord of the Mighty throne, that He cure you. But he is cured.”
ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو بخار آئے اور بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے تو وہ اسے پانی سے بجھا دے، ایک بہتی نہر میں اترے اور پانی کے بہاؤ کی طرف اپنا رخ کرے پھر یہ دعا پڑھے: «بسم اللہ اللهم اشف عبدک وصدق رسولک» اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے اور اپنے رسول کی اس بات کو سچا بنا وہ اس عمل کو فجر کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے کرے، وہ اس نہر میں تین دن تک تین غوطے لگائے، اگر تین دن میں اچھا نہ ہو تو پانچ دن تک، اگر پانچ دن میں اچھا نہ ہو تو سات دن تک اور اگر سات دن میں اچھا نہ ہو تو نو دن تک، اللہ کے حکم سے اس کا مرض نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا۔
Sayyidina Thawban (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If one of you is afflicted with fever and fever is a piece of the Fire, then extinguish it with water. Let him get down into a river and face the flow of it and say: In the name of Allah, O Allah, cure Your slave and confirm the truth of your Messenger. After the salah of fajr, and before sunrise. Let him plunge into it three times, for three days. If he is not cured in three days then (do it) for five days. And, if he is not cured in five days then let him do it for seven days. And if he is not cured in seven days then nine days, for it will not exceed nine days, with Allah’s permission.” [Ahmed 22488]
ضعيف، الضعيفة (2339) // ضعيف الجامع الصغير (375) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2084
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٠٨٧) (ضعیف) (سند میں ” سعید بن زرعہ حمصی “ مجہول الحال ہیں )
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ؓ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زخم کا کس چیز سے علاج کیا گیا؟ انہوں نے کہا: اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا اب کوئی باقی نہیں ہے، علی ؓ اپنی ڈھال میں پانی لا رہے تھے، جب کہ فاطمہ ؓ آپ کے زخم سے خون دھو رہی تھیں اور میں آپ کے لیے ٹاٹ جلا رہا تھا، پھر اسی کی راکھ سے آپ کا زخم بھرا گیا۔
Abu Hazim reported that Sayyidina Sahl ibn Sad (RA) was asked, “With what was the wound of Allah’s Messenger treated?” He said, “No one remains who knows better than I. Ali used to bring water in his helmet and Fatima washed the wound with it. And I burned straw mat and its ashes were sprinkled on the wound.” [Bukhari 243]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2085