وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر تھے جب سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں شراب سے منع فرمایا، سوید نے کہا: ہم لوگ تو اس سے علاج کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ دوا نہیں بلکہ وہ تو خود بیماری ہے ۔
Sayyidina Wail (RA) reported that Suwayd ibn Tariq or Tariq ibn Suwayd (RA) asked the Prophet ﷺ his presence about wine and he prohibited it. He said, “We give medical treatment by it.” The Prophet ﷺ said, “It is not medicine but a sickness.” [Muslim 1984]
صحيح، ابن ماجة (3500)
صحيح، ابن ماجة (3500)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2046
اس سند سے بھی وائل ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ (اس سند کے ایک راوی) نضر نے طارق بن سوید کہا اور (دوسرے راوی) شبابہ نے سوید بن طارق کہا۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2046
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٣ (١٩٨٤)، سنن ابی داود/ الطب ١١ (٣٨٧٣)، (تحفة الأشراف: ١١٧٧١)، و مسند احمد (٣/٣١٧)، (وھو مروي أیضا من مسند طارق بن سوید عند: سنن ابن ماجہ/الطب ٢٧ (٣٥٠٠)، و مسند احمد (٤/٣١١)، و (٥/٢٩٢- ٢٩٣، ٢٩٩) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چیز سے علاج کرتے ہو اس میں سب سے بہتر «سعوط» (ناک میں ڈالنے والی دوا) ، «لدود» (منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا) ، «حجامة» (پچھنا لگانا حجامہ) اور دست آور دوا ہے، جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو صحابہ نے آپ کے منہ کے ایک کنارہ میں دوا ڈالی، جب وہ دوا ڈال چکے تو آپ نے فرمایا: موجود لوگوں کے بھی منہ میں دوا ڈالو ، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: عباس ؓ کے علاوہ تمام لوگوں کے منہ میں دوا ڈالی گئی۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best medicine with which you treat yourself are: sa’ut°, Ladud, cupping and purgatives.” When Allah’s Messenger ﷺ fell ill, his sahabah put medicine in his mouth. When they had finished, he said, “Insert medicine in the mouth of all of them.” So, medicine was poured in the mouth of all of them except Abbas ‘.
تفرد بہ المؤلف وانظر حدیث رقم ١٧٥٧ (لم یذکرہ المزي بھذا اللفظ، وإنما ذکرہ بلفظ ما مضی برقم ١٧٥٧ (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا، ناک میں ڈالنے کی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، اس لیے کہ وہ بینائی (نظر) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best medicine with which you treat yourself are ladud, saut, cupping and purgatives. And the best of antimonies you may apply is ithmid, for, it sharpens eye-sight and grows hair.” The Prophet ﷺ had a collyrium-box from which he applied three times to each eye before going to sleep.
ضعيف إلا فقرة الاکتحال بالإثمد فصحيحة، ابن ماجة (3495 - 3497 - 3499)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2048
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدن داغنے سے منع فرمایا ١ ؎، پھر بھی ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے بدن داغ لیا، لیکن ہم کامیاب و کامران نہیں ہوئے۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ forbade that one should resort to branding. He said, “When we were afflicted, we had ourselves branded but we were neither relieved (of disease) nor succeeded.” [Ahmed 19852]
صحيح، ابن ماجة (3490)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2049
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: داغ کر علاج کرنے کی ممانعت نہی تنزیہی پر محمول ہے یعنی نہ داغنا بہتر ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت عمران بن حصین کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا رہے ہوں جس میں بدن داغنے سے انہیں فائدہ کے بجائے نقصان پہنچنے والا ہو، دیکھئیے اگلی حدیث۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے، اور آپ مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے۔
Sayyidina Anas said (RA) that the Prophet ﷺ would have himself cupped in the two veins at the sides of the neck and between the shoulders. He did that on the 17th, 19th or 21st (of a month).
صحيح، ابن ماجة (3483)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2051
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ٤ (٣٨٦٠)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨٢) (تحفة الأشراف: ١١٤٧)، و مسند احمد (٣/١١٩) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کی رات کا حال بیان کیا کہ آپ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے آپ کو یہ حکم ضرور دیا کہ اپنی امت کو پچھنا لگوانے کا حکم دیں۔
Sayyidina Ibn Masud (RA) reported that Allah’s Messenger narrated the account of the night of ascension to heaven and disclosed, “I did not pass by any section of the angels but they instructed me to command my ummah to have themselves cupped.’ [Ibn Majah 3479]
صحيح، ابن ماجة (3477)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2052
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابن مسعود کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٣٦٤)، وانظر: مسند احمد (١/٢٥٤) (صحیح) (سند میں عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ (فاسد) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے ۔ آپ ﷺ معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے بہتر دن مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ ہے ، آپ ﷺ نے مزید فرمایا: سب سے بہتر علاج جسے تم اپناؤ وہ ناک میں ڈالنے کی دوا، منہ کے ایک طرف سے ڈالی جانے والی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے ، رسول اللہ ﷺ کے منہ میں عباس اور صحابہ کرام نے دوا ڈالی، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: میرے منہ میں کس نے دوا ڈالی ہے؟ تمام لوگ خاموش رہے تو آپ نے فرمایا: گھر میں جو بھی ہو اس کے منہ میں دوا ڈالی جائے، سوائے آپ کے چچا عباس کے ۔ راوی عبد کہتے ہیں: نضر نے کہا: «لدود» سے مراد «وجور» ہے (حلق میں ڈالنے کی ایک دوا) ہے۔
Sayyidina Ikrimah reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) had three slaves who were cuppers, two of them on remuneration and one attended to him and his family. He also reported that Ibn Abbas (RA) cited the Prophet ﷺ as saying, “How excellent a cupper is! He removes blood and lightens the back and sharpens vision.” He also reported that when Allah’s Messenger ﷺ was on Mi’raj, he did not go by any group of angels without their advising him to resort to cupping. He said, “The best cupping you can have is on the 17th, 19th and 21st.” He said also, “The best medicine you treat yourself with is Sa’ut, Ladud, cupping and purgative.” Indeed, Allah’s Messenger was given medicine by Abbas (RA) and his sahabah, who poured medicine in his mouth. So he asked, ‘Who has treated with ladud? Let them all pour it in their mouth.” So no one in the house was spared but medicine was poured in his mouth, except his uncle Abbas. Nadr explained that ladud is Wajur. [Ibn Majah 3478]
(کان لابن عباس ..) ضعيف الإسناد، (نعم العبد ..) ضعيف، (إن خير ما تحتجمون ..) **، (إن خير ما تداويتم ..) ضعيف، (لا يبقی ممن ... ) صحيح - دون قوله لده العباس بل هو منکر لمخالفته لقوله صلی اللہ عليه وسلم في حديث عائشة نحوه بلفظ غير (نعم العبد ....)، ابن ماجة (3478) // ضعيف سنن ابن ماجة (762)، ضعيف الجامع الصغير (5966) //، (إن خير ما تداويتم .....) مضی (2048)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2053
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد منصور ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ٢ - اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٢٠ (٣٤٧٨) (تحفة الأشراف: ٦١٣٨) (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں )
سلمی ؓ سے (جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتی تھیں) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو تلوار اور چاقو یا پتھر اور کانٹے سے جو زخم بھی لگتا تھا آپ ﷺ مجھے اس پر مہندی رکھنے کا ضرور حکم دیتے۔
Ali ibn Ubaydullah reported on the authority of his grandmother who was the Prophet’s ﷺ woman servant. She said, “Allah’s Messenger ﷺ never had a wound or bleeding (through a stone or thorn) but he ordered me to apply henna on it.” [Ibn Majah 3502]
صحيح، ابن ماجة (3502)
صحيح، ابن ماجة (3502 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2054
ہم سے محمد بن علی نے «زيد ابن حباب عن فائد مولی عبيد اللہ بن علي عن مولاه عبيد اللہ بن علي عن جدته عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی اسی معنی کی حدیث بیان کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2054
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے فائد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - بعض لوگوں نے اس حدیث کی فائد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «عن علي بن عبيد الله، عن جدته سلمی» کی بجائے «عن عبيد اللہ ابن علي عن جدته سلمی» بیان کیا ہے، «عبيد اللہ بن علي» ہی زیادہ صحیح ہے، «سلمیٰ» کو «سُلمیٰ» بھی کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بھذا اللفظ، وأخرجہ نحوہ بھذا السند: سنن ابی داود/ الطب ٣ (٣٨٥٨)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٩ (٣٥٠٢) (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٣)، و مسند احمد (٦/٤٦٢) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بدن داغا یا جھاڑ پھونک کرائی وہ توکل کرنے والوں میں سے نہ رہا ١ ؎۔
Sayyidina Mughirah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who has himself cauterized (branded or seared) or uses a spell then he is absolved of trust in Allah.” [Ibn Majah 3489]
صحيح، ابن ماجة (3489)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2055
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابن عباس اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ جن کے معنی و مفہوم واضح نہ ہوں ان کے ذریعہ جھاڑ پھونک ممنوع ہے، ماثور الفاظ کے ساتھ جھاڑ پھونک جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٢٣ (٣٤٨٩) (تحفة الأشراف: ١١٥١٨) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بچھو کے ڈنک، نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کے سلسلے میں، جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
Sayyidina Anas (RA) confirmed that Allah’s Messenger permitted ruqyah (to recite supplication and blow) for snake-bite, evil eye and small pustules. [Muslim 2196]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2056
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کی وجہ سے ہی جائز ہے ١ ؎۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ruqyah is not allowed except for an evil eye or scorpion-sting.” [Ahmed 19929]
صحيح، المشکاة (4557)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2057
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
شعبہ نے یہ حدیث «عن حصين عن الشعبي عن بريدة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کسی اور بیماری میں جھاڑ پھونک جائز نہیں ہے، کیونکہ ان کے علاوہ میں جھاڑ پھونک احادیث سے ثابت ہے، اس لیے اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں میں جھاڑ بھونک زیادہ مفید اور کار آمد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ١٧ (٣٨٨٤)، وأخرجہ البخاري في الطب ١٧ (٥٧٠٥) موقوفا علی عمران بن حصین رضي اللہ عنہ (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٠)، وانظر مسند احمد (٤/٤٣٦، ٤٣٨، ٤٤٦) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورة الناس) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Saeed reported that Allah’s Messenger ﷺ used to seek refuge from the jinn and the (evil) eye of human being till the mu’awidhatayn were revealed. When they were revealed, he adopted them and gave up everything else. [Ibn Majah 3511]
صحيح، ابن ماجة (3511)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2058
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں سورتوں یعنی «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» کے بہت سارے فائدے ہیں، انہیں صبح و شام تین تین بار پڑھنے والا إن شاء اللہ مختلف قسم کی بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ رہے گا، ان سورتوں کے نازل ہونے کے بعد نبی اکرم ﷺ انہیں دونوں کے ذریعہ پناہ مانگا کرتے تھے۔
عبید بن رفاعہ زرقی ؓ سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جعفر طیار ؓ کے لڑکوں کو بہت جلد نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے جھاڑ پھونک کراؤں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرسکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت کرتی ١ ؎۔
Ubayd ibn Rifa’ah Zuraqi reported that Sayyidah Asma bint Umays (RA) said, “O Messeger of Allah ﷺ ! Indeed, the children of Ja’far get afflicted with the evil eye easily and quickly. So, may I use ruqyah over them”? He said, “Yes! Were there anything that overtakes destiny, the (evil) eye surely overtakes it.” [Ibn Majah 3510]
صحيح، ابن ماجة (3510)
صحيح، ابن ماجة (3510)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2059
اس سند سے بھی اسماء بنت عمیس ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
فائدہ ١ ؎: معلوم ہوا کہ نظر بد کا اثر بےانتہائی نقصان دہ اور تکلیف دہ ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی چیز خلاف تقدیر پیش آسکتی اور ضرر پہنچا سکتی تو وہ نظر بد ہوتی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2059
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث «عن أيوب عن عمرو بن دينار عن عروة بن عامر عن عبيد بن رفاعة عن أسماء بنت عميس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے، ٣ - اس باب میں عمران بن حصین اور بریدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٣٣ (٣٥١٠)، (والنسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١٥٧٥٨) (صحیح )
انظر ماقبلہ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول حسن اور حسین ؓ پر یہ کلمات پڑھ کر جھاڑ پھونک کرتے تھے: «أعيذكما بکلمات اللہ التامة من کل شيطان وهامة ومن کل عين لامة» میں تمہارے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان اور ہلاک کرنے والے زہریلے کیڑے اور نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں ، اور آپ فرماتے تھے: اسماعیل اور اسحاق کے لیے اسی طرح ابراہیم (علیہم السلام) پناہ مانگتے تھے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sought refuge for Hasan and Husayn, saying. I seek refuge for both of you in the perfect words of Allah from every devil and that which causes worry and grief and every evil eye. The Prophet ﷺ said, “This is how Ibrahim sought refuge for Ishaq and Ismail, on them be peace. [Bukhari 3371]
صحيح، ابن ماجة (3525)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2060
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء ١٠ (٣٦٦٩)، سنن ابی داود/ السنة ٢٢ (٤٧٣٧)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٥) (صحیح )
حابس تمیمی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: الو (کے سلسلے میں لوگوں کے اعتقاد) کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نظر بد کا اثر حقیقی چیز ہے (یعنی سچ ہے) ۔
Sayyidina Habis Tamim (RA) reported having heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There is nothing in ham (as the Arabs wrongly attach to it), but the (evil) eye is a fact.”
ضعيف، لکن قوله: العين حق صحيح .، الضعيفة (4804)، الصحيحة (1248) // ضعيف الجامع الصغير (6295)، صحيح الجامع الصغير (7503) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2061
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٢٧٢)، وانظر مسند احمد (٤/٦٧) (صحیح) (سند میں حیہ بن حابس متابعت کے باب میں مقبول راوی ہیں، اس لیے حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، تراجع الالبانی/٥، السراج المنیر ٥٥٩٠ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت (پہل) کرسکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت (پہل) کرتی، اور جب لوگ تم سے غسل کرائیں تو تم غسل کرلو ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If there is anything that overtakes decree then the (evil) eye surely overtakes it. And when you are asked to have a bath, do have a bath.” [Muslim 2188]
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - حیہ بن حابس کی روایت (جو اوپر مذکور ہے) غریب ہے، ٣ - شیبان نے اسے «عن يحيى بن أبي كثير عن حية بن حابس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے جب کہ علی بن مبارک اور حرب بن شداد نے اس سند میں ابوہریرہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ٤ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: زمانہ جاہلیت میں نظر بد کا ایک علاج یہ تھا کہ جس آدمی کی نظر لگنے کا اندیشہ ہوتا اس سے غسل کرواتے، اور اس پانی سے نظر لگنے والے کو غسل دیتے، نبی اکرم ﷺ نے اس عمل کو سند جواز عطا فرمایا، اور فرمایا کہ اگر کسی سے ایسے غسل کی طلب کی جائے تو وہ برا نہ مانے اور غسل کر کے غسل کیا ہوا پانی نظر بد لگنے والے کو دیدے۔ مگر اس غسل کا طریقہ عام غسل سے سے قدرے مختلف ہے، تفصیل کے لیے ہماری کتاب مسنون وظائف واذکار اور شافی طریقہ علاج کا مطالعہ کریں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، ہم نے ایک قوم کے پاس پڑاؤ ڈالا اور ان سے ضیافت کی درخواست کی، لیکن ان لوگوں نے ہماری ضیافت نہیں کی، اسی دوران ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، چناچہ انہوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: کیا آپ میں سے کوئی بچھو کے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں کرتا ہوں، لیکن اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک کہ تم مجھے کچھ بکریاں نہ دے دو، انہوں نے کہا: ہم تم کو تیس بکریاں دیں گے، چناچہ ہم نے قبول کرلیا اور میں نے سات بار سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ صحت یاب ہوگیا اور ہم نے بکریاں لے لیں ١ ؎، ہمارے دل میں بکریوں کے متعلق کچھ خیال آیا ٢ ؎، لہٰذا ہم نے کہا: جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ جائیں، جب ہم آپ ﷺ کے پاس پہنچے تو میں نے جو کچھ کیا تھا آپ سے بیان کردیا، آپ نے فرمایا: تم نے کیسے جانا کہ سورة فاتحہ رقیہ (جھاڑ پھونک کی دعا) ہے؟ تم لوگ بکریاں لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔
Sayyidina Abu Saeed (RA) narrated Allah’s Messenger sent us on an expedition. We halted at a place and requested its people for their hospitality, but they declined to host us. Meanwhile, a scorpion stung their chief, so they came to us and asked if we had anyone who would cure him through ruqyah. I said, “Yes, I will. But, I will not blow on him until you give us sheep.” They said, “We will give you thirty sheep.” We agreed, I recited al-Fatihah over him seven times and he was relieved (of poison), and we took the sheep. Then we had doubt about it and we said, “Do not make haste till we come to Allah’s Messenger ﷺ . When we came to him, I mentioned to him what I had done. He asked, “How did you know that it (al-Fatihah) is a ruqyah. Take the sheep and count me with you for my share.” [Bukhari 5749]
صحيح، ابن ماجة (2156)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2063
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - شعبہ، ابو عوانہ ہشام اور کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي المتوکل عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ٣ - تعلیم قرآن پر معلم کے لیے اجرت لینے کو امام شافعی نے جائز کہا ہے اور وہ معلم کے لیے اجرت کی شرط لگانے کو درست سمجھتے ہیں، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ خیال آیا کہ یہ ہمارے لیے حلال ہیں یا نہیں۔ ٢ ؎: جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اذان، قضاء، امامت، اور تعلیم قرآن کی اجرت لی جاسکتی ہے، کیونکہ صحیح بخاری میں کتاب اللہ کی تعلیم کی بابت اجرت لینے سے متعلق ابن عباس کی روایت اور سورة فاتحہ پڑھ کر دم کر کے اس کی اجرت لینے سے متعلق ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے، اسی طرح صحیحین میں سہل بن سعد ؓ کی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے ایک شخص کے نکاح میں قرآن کی چند آیات کو مہر قرار دیا یہ ساری کی ساری روایات اس کے جواز پر دلیل ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإجارة ١٦ (٢٢٧٦)، وفضائل القرآن ٩ (٥٠٠٧)، والطب ٣٣ (٥٧٣٦)، و ٣٩ (٥٧٤٩)، صحیح مسلم/السلام ٢٣ (٢٢٠١)، سنن ابی داود/ الطب ١٩ (٣٩٠٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٧ (٢١٥٦) (تحفة الأشراف: ٤٣٠٧)، و مسند احمد (٣/٤٤) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ (جن میں شامل میں بھی تھا) عرب کے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے، انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہیں کی، اسی دوران ان کا سردار بیمار ہوگیا، چناچہ ان لوگوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: آپ لوگوں کے پاس کوئی علاج ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، لیکن تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی ہے اس لیے ہم اس وقت تک علاج نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اجرت نہ متعین کر دو، انہوں نے اس کی اجرت میں بکری کا ایک گلہ مقرر کیا، ہم میں سے ایک آدمی (یعنی میں خود) اس کے اوپر سورة فاتحہ پڑھ کر دم کرنے لگا تو وہ صحت یاب ہوگیا، پھر جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ جھاڑ پھونک (کی دعا) ہے؟ ابو سعید خدری ؓ نے آپ سے اس پر کوئی نکیر ذکر نہیں کی، آپ نے فرمایا: کھاؤ اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that a group of the sahabah (RA) passed by a village of Arabs. They did not entertain and host them. Their chief fell ill and they came to the sahabah asking them if they had medicine. They affirmed, “Yes, we have, but you neither entertained us nor hosted us, so will not treat him unless you determine our wages.” So they fixed their wages at a herd of sheep. So, one of them recited over him al-Fatihah and he was cured. When they came to the Prophet ﷺ they mentioned that to him. He said, “And what told you that it is ruqyah.” He did not disallow them that but said, “Eat and determine for me a share with you.” [Bukhari 2276, Muslim 2201]
صحيح انظر ما قبله (2063)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2064
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث اعمش کی اس روایت سے جو جعفر بن ایاس کے واسطہ سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ٣ - کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية عن أبي المتوکل عن أبي سعيد» کی سند سے روایت کی ہے۔
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! جس دم سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن بچاؤ کی چیزوں سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں (ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ) کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ سب بھی اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی کا حصہ ہیں ١ ؎۔
Abu Khizamah reported from his father who said that he asked Allah’s Messenger “O Messenger of Allah’ This ruqyah that we practice (and we blow) and these medicines that we use and the preventive measures we adopt do they alter Allah’s decree in any way?” He said, they are a part of Allah’s decree.” [Ahmed 15472]
ضعيف، ابن ماجة (3437) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (749)، وسيأتي برقم (379 / 2252) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2065
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی توفیق حسب تقدیر الٰہی ہوتی ہے، اس لیے اسباب کو اپنانا چاہیئے، لیکن یہ اعتقاد نہ ہو کہ ان سے تقدیر بدل جاتی ہے، کیونکہ اللہ اپنے فیصلہ کو نہیں بدلتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ١ (٣٤٣٧) (تحفة الأشراف: ١١٨٩٨) (ضعیف) (اس کی سند میں اضطراب ہے ۔ یعنی ” أبوخزامة، عن أبيه “ یا ” ابن أبي خزامة، عن أبيه “ نیز ابو خزامہ تابعی ہیں یا صحابی؟، اگر ” ابو خزامہ “ تابعی ہیں تو ان کا حال معلوم نہیں، اگر یہ صحابی ہیں تو ان کے بیٹے ” ابن أبی خزمہ “ ہیں، تراجع الالبانی ٣٤٤ )