ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان ؓ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، ان سے کہا گیا کہ یہ شخص حکام کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے، تو حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: چغل خور جنت میں نہیں داخل ہوگا ١ ؎۔ سفیان کہتے ہیں: «قتات»، «نمام» چغل خور کو کہتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Hammam ibn Harith reported that a man passed by Hudhaifa ibn Yaman. Someone said to him, “He carries tales of people to the rulers.” Huzayfah (RA) said, “I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The qattat will not enter Paradise.’ Sufyan said that the qattat is an informer or a tale-bearer.” [Bukhari 6056]
١ ؎: حاکموں اور حکومتی عہدہ داروں کے پاس اہل ایمان اور صالح لوگوں کی چغلی کرنے والوں، ان کی رپورٹیں بنا بنا کر پیش کرنے والوں اور جھوٹ سچ ملا کر اپنے مفادات حاصل کرنے والوں کو اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیئے، دنیاوی مفادات چار دن کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ اخروی حیات کا آخری کوئی سرا نہیں۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حیاء اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، جب کہ فحش کلامی اور کثرت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Modesty and curtness are branches of faith, while indecency and talkative ness are two branches of hypocrisy.”
صحيح إيمان ابن أبى شيبة (118)، المشکاة (4796 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2027
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب، ہم اسے صرف ابوغسان محمد بن مطرف ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - «عي» کا معنی کم گوئی اور «بذاء» کا معنی فحش گوئی ہے، «بيان» کا معنی کثرت کلام ہے، مثلا وہ مقررین جو لمبی تقریریں کرتے ہیں اور لوگوں کی تعریف میں ایسی فصاحت بگھاڑتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: حیاء اور کم گوئی کے سبب انسان بہت سے گناہوں سے بچ جاتا ہے، یہ دونوں خصلتیں انسان کو بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے روک دیتی ہیں، جب کہ بک بک کرتے رہنے سے انسان جھوٹ گوئی کا بھی ارتکاب کر بیٹھتا ہے، اور جو دل میں ہو اس کے خلاف بھی بول پڑتا ہے، یہی نفاق ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (٤٨٥٥)، وانظر: مسند احمد (٥/٢٦٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو آدمی آئے ١ ؎ اور انہوں نے تقریر کی، لوگ ان کی تقریر سن کر تعجب کرنے لگے، رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کچھ باتیں جادو ہوتی ہیں ٢ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: Two men came in the times of Allah’s Messenger ﷺ and delivered sermons which appealed to us. Allah’s Messenger ﷺ then turned towards us and said, “In eloquence there is magic.” or he said, ‘In some eloquent speech is magic.’ [Bukhari 5146]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2028
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمار، ابن مسعود اور عبداللہ بن شخیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ٩ ھ میں بنو تمیم کے وفد میں یہ دونوں شامل تھے، ان میں سے ایک کا نام زبرقان اور دوسرے کا نام عمرو بن اہیم تھا۔ ٢ ؎: اگر حق کی دفاع اور اخروی زندگی کی کامیابی سے متعلق اسی طرح کی خوبی کسی میں ہے تو قابل تعریف ہے، اور اگر باطل کی طرف پھیرنے کے لیے ہے تو لائق مذمت ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ مال کو کم نہیں کرتا، اور عفو و درگزر کرنے سے آدمی کی عزت بڑھتی ہے، اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع و انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ بلند فرما دیتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Sadaqah does not diminish wealth. And Allah increases a man who forgives in honour and no one observes humility for Allah’s sake but Allah raises him.” [Ahmed 7210, Muslim 2588]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابن عباس اور ابوکبشہ انماری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢ - ابوکبشہ انماری کا نام عمر بن سعد ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں تواضع اور خاکساری کا مذکور مرتبہ تو دنیا میں دیکھی حقیقت ہے، اے کاش لوگ نصیحت پکڑتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٩ (٢٥٨٨) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٢)، و مسند احمد (٢/٣٨٦)، و سنن الدارمی/الزکاة ٣٥ (١٧١٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ظلم کرنا قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Oppression will produce darkness on the Day of Resurrection.” (The Arabic words are zuim for oppression and zulamat for darkness). [Bukhari 2447]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2030
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابن عمر کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابوموسیٰ، ابوہریرہ، اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ظلم کرنے والا اپنے ظلم کے سبب قیامت کے دن مختلف قسم کے مصائب سے دوچار ہوگا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، جب آپ کو پسند آتا تو کھالیتے نہیں تو چھوڑ دیتے۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger never found fault with food. If he had an appetite, he ate it otherwise he did not touch it. [Bukhari 3563, Muslim 2064]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2031
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لائے، بلند آواز سے پکارا اور فرمایا: اے اسلام لانے والے زبانی لوگوں کی جماعت ان کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا ہے! مسلمانوں کو تکلیف مت دو، ان کو عار مت دلاؤ اور ان کے عیب نہ تلاش کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا عیب ڈھونڈتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب ڈھونڈتا ہے، اسے رسوا و ذلیل کردیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو ۔ راوی (نافع) کہتے ہیں: ایک دن ابن عمر ؓ نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا: کعبہ! تم کتنی عظمت والے ہو! اور تمہاری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ کی نظر میں مومن (کامل) کی حرمت تجھ سے زیادہ عظیم ہے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ climbed on the pulpit and said in a loud voice, “O gathering of those who have professed Islam by the tongue but faith has not penetrated into their hearts! Do not hurt the Muslims, do not shame them, and do not search for their faults, for, if anyone follows the defects of his brother then Allah follows his faults. He whose faults Allah follows ends up disgraced even if he is inside his home. The sub-narrator said that Ibn Umar (RA) looked one day at the House (of Allah), or he said, at the Ka’bah, and remarked, “How great are you! How great is your sanctity! But, the Believers are greater in sanctity in Allah’s sight than you are.” [Ahmed 19797]
حسن صحيح، المشکاة (5044 / التحقيق الثانی)، التعليق الرغيب (3 / 277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2032
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اسحاق بن ابراہیم سمر قندی نے بھی حسین بن واقد سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - ابوبرزہ اسلمی ؓ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غلطی کرنے والے ہی بردبار ہوتے ہیں اور تجربہ والے ہی دانا ہوتے ہیں ۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger said, “No one is forbearing unless he stumbles. No one is wise unless he gains an experience. [Ahmed 110506]
ضعيف، المشکاة (5056)، الضعيفة (5646) // ضعيف الجامع الصغير (6283) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2033
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٥٥)، وانظر: مسند احمد (٣/٦٩) (ضعیف) (سند میں ” دراج أبوالسمح “ أبوالھیثم سے روایت میں ضعیف ہیں )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے کوئی تحفہ دیا جائے پھر اگر اسے میسر ہو تو اس کا بدلہ دے اور جسے میسر نہ ہو تو وہ (تحفہ دینے والے کی) تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے تعریف کی اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور جس نے نعمت کو چھپالیا اس نے کفران نعمت کیا، اور جس نے اپنے آپ کو اس چیز سے سنوارا جو وہ نہیں دیا گیا ہے، تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone is given a gift and he has ability then he must reciprocate it. If one is unable then he must praise it, for, one who praises it has shown gratitude. But, he who conceals (the blessing) has been ungrateful. And, if anyone adorns himself with what he is not given then he has donned a garment of falsehood.” [Bukhari 215]
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں اسماء بنت ابوبکر اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - «ومن کتم فقد کفر» کا معنی یہ ہے: اس نے اس نعمت کی ناشکری کی۔
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کرنے والے سے «جزاک اللہ خيراً» اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلا دے کہا، اس نے اس کی پوری پوری تعریف کردی ١ ؎۔
Sayyidah Usamah ibn Zayd (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone is shown a favour and he says to the benevolent ‘May Allah return you better, has showered perfect praise for it”
١ - یہ حدیث حسن جید غریب ہے، ہم اسے اسامہ بن زید ؓ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا، ٣ - مکی بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن جریج مکی کے پاس تھے، ایک مانگنے والا آیا اور ان سے کچھ مانگا، ابن جریج نے اپنے خزانچی سے کہا: اسے ایک دینار دے دو، خازن نے کہا: میرے پاس صرف ایک دینار ہے اگر میں اسے دے دوں تو آپ اور آپ کے اہل و عیال بھوکے رہ جائیں گے، یہ سن کر ابن جریج غصہ ہوگئے اور فرمایا: اسے دینار دے دو، ہم ابن جریج کے پاس ہی تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس ایک خط اور تھیلی لے کر آیا جسے ان کے بعض دوستوں نے بھیجا تھا، خط میں لکھا تھا: میں نے پچاس دینار بھیجے ہیں، ابن جریج نے تھیلی کھولی اور شمار کیا تو اس میں اکاون دینار تھے، ابن جریج نے اپنے خازن سے کہا: تم نے ایک دینار دیا تو اللہ تعالیٰ نے تم کو اسے مزید پچاس دینار کے ساتھ لوٹا دیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی پر احسان کیا گیا ہو، اس نے اپنے محسن کے لیے «جزاک اللہ خيرا» کہا تو اس احسان کا اس نے پورا پورا شکر یہ ادا کردیا۔
ام منذر ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ علی ؓ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے، ہمارے گھر کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ اس میں سے کھانے لگے اور آپ کے ساتھ علی ؓ بھی کھانے لگے، رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا: علی! ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہو، ابھی کمزوری باقی ہے، ام منذر کہتی ہیں: علی ؓ بیٹھ گئے اور نبی اکرم ﷺ کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کی، نبی اکرم ﷺ نے کہا: علی! اس میں سے لو (کھاؤ) ، یہ تمہارے مزاج کے موافق ہے ١ ؎۔
Sayyidah Umm e Mundhir narrated Allah’s Messenger ﷺ visited us, Ali with him. We had a bunch of dates hanging. Allah’s Messenger began to eat and Ali with him. Allah’s Messenger ﷺ said to Ali “Enough, O Ali! You have just recovered.” So he sat down while the Prophet ﷺ ate. Then I prepared for them beetroot and barley and he said to Ali “O Ali, Have from this for, this is more suitable for you.” [Abu Dawud 3856]
حسن انظر ما بعده (2038)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2037
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف فلیح کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - یہ حدیث فلیح سے بھی مروی ہے جسے وہ ایوب بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مریض اپنے مزاج و طبیعت کا خیال رکھتے ہوئے کھانے پینے کی چیزوں سے پرہیز کرے، ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ مرض سے شفاء یابی کے بعد بھی بیمار احتیاط برتتے ہوئے نقصان دہ چیزوں کے کھانے پینے سے پرہیز کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ٢ (٣٨٥٦)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣ (٣٤٤٢) (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٢)، و مسند احمد (٦/٣٦٤) (حسن )
قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Qatadah ibn Numan reported that Allah’s Messenger said, “When Allah loves a slave, He protects him from the world just as one of you protects his patient from water.”
صحيح، المشکاة (5250 / التحقيق الثاني)
صحيح، المشکاة (5250 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2036
اس سند سے محمود بن لبید سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں قتادہ بن نعمان ؓ کا تذکرہ نہیں ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2036
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث محمود بن لبید کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں صہیب اور ام منذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
١ - قتادہ بن نعمان ظفری، ابو سعید خدری کے اخیافی (ماں شریک) بھائی ہیں، ٢ - محمود بن لبید نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے اور کم سنی میں آپ کو دیکھا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کی نظر میں جب اس کا کوئی بندہ محبوب ہوجاتا ہے تو اس کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اس کی دنیا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے اس محبوب بندے کو دنیا سے ٹھیک اسی طرح بچاتا اور اسے محفوظ رکھتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بیمار کو کھانے اور پانی سے بچاتا ہے، کیونکہ اسے جو مرض لاحق ہے اس میں کھانا پانی اس کے لیے بےحد مضر اور نقصان دہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٠٧٤) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح )
اسامہ بن شریک ؓ کہتے ہیں کہ اعرابیوں (بدوؤں) نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہم (بیماریوں کا) علاج کریں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ نے فرمایا: بڑھاپا ١ ؎۔
Sayyidina Usamah ibn Shank reported that some villagers asked, “O Messenger of Allah! ﷺ Shall we not take medicine”? He said, “Yes, O slaves of Allah do take medicine, for Allah has not placed a disease but also placed a cure for it.” Or, he said, “A medicine for it”, “except for one disease. “They asked, ‘O Messenger of Allah ﷺ , what is it”? He said, “Old age.” [Bukhari 291]
صحيح، ابن ماجة (3436)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2038
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، «ابو خزامہ عن أبیہ»، اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ مرض کے ساتھ ساتھ رب العالمین نے دوا اور علاج کا بھی بندوبست فرمایا ہے، لیکن بڑھاپا ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ بھی اس سے پناہ مانگتے تھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ علاج و معالجہ کرنا مباح ہے اور مرض کی شفاء کے لیے اسباب تلاش کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ١ (٣٨٥٥)، سنن ابن ماجہ/الطب ١ (٣٤٣٦) (تحفة الأشراف: ١٢٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کو تپ دق آتا تو آپ «حساء» ١ ؎ تیار کرنے کا حکم دیتے، «حساء» تیار کیا جاتا، پھر آپ ان کو تھوڑا تھوڑا پینے کا حکم دیتے، تو وہ اس میں سے پیتے، آپ ﷺ فرماتے تھے: «حساء» غمگین کے دل کو تقویت دیتا ہے، اور مریض کے دل سے اسی طرح تکلیف دور کرتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی پانی کے ذریعہ اپنے چہرے سے میل دور کرتا ہے ۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated. When one of his family members fell ill, Allah’s Messenger ﷺ commanded that Hisa-(name of a dish)- should be prepared. So, it was prepared. Then he commanded that the patient should sip from it. He would say, “It enlivens the heart of the grieved and cleans the heart of the sick as one of you clears dirt from her face.”
ضعيف، ابن ماجة (3445) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (752)، المشکاة (4234) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2039
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو کے آٹے کا شہد یا دودھ کے ساتھ (حریرہ)۔ آج کل جو سے بنی بارلی بہت مشہور غذا ہے، جس کو میٹھا اور نمکین دونوں طرح استعمال کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/في الکبری: الطب (٧٥٧٣) سنن ابن ماجہ/الطب ٥ (٣٤٤٥) (تحفة الأشراف: ١٧٩٩٠) مسند احمد (٦/٧٩) (حسن) (سند میں أم محمد مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کے وقت، اور مؤلف نے عروہ کی متابعت ذکر کی ہے، جو صحیحین میں ہے، لیکن کما تسرو ... الخ شاہد اور متابع نہ ہونے کی بنا پر ضعیف ہے، حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس آخری فقرے کو بھی نسائی کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور احمد اور ترمذی کی اس حدیث کو بھی ذکر کیا ہے، اور سکوت اختیار کیا ہے، یہ بھی اس حدیث کی ان کے نزدیک تقویت کی دلیل ہے)
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے ۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir Juhanni reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Do not compel your sick persons to eat food, for Allah, the Blessed and the Exalted feeds them and gives to drink.’ [Ibn Majah 3444]
صحيح، ابن ماجة (3444)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2040
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٤ (٣٤٤٤) (تحفة الأشراف: ٩٩٤٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اس کالے دانہ (کلونجی) کو لازمی استعمال کرو اس لیے کہ اس میں «سام» کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء موجود ہے، «سام» موت کو کہتے ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is upon you (to know) about this black seed (black cumin) for, in it is cure for every disease except saam, and saam is death.” [Bukhari 5688]
صحيح، ابن ماجة (3447)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2041
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - «الحبة السوداء»،«شونيز» (کلونجی) کو کہتے ہیں۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ (چراگاہ کی طرف) روانہ کیا اور فرمایا: تم لوگ اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب پیو ١ ؎۔
Sayyidina Anas reported that some people of Uraynah came to Madinah but the climate did not suit them. So, Allah’s Messenger sent them to the camels of zakah, saying, ‘Drink their milk and their urine.’ [Ahmed 14063]
صحيح وقد مضی أتم منه (62)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2042
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے اونٹ اور اونٹنی کا پیشاب علاج کی غرض سے انہیں پینے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوا کہ حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے، اگر ناپاک ہوتا تو اس کے پینے کی اجازت نہ ہوتی، کیونکہ حرام اور نجس چیز سے علاج درست نہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے لوہے کے ہتھیار سے اپنی جان لی، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہوگا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں وہ زہر ہوگا، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported, perhaps in a marfu form, that he (Allah’s Messenger ﷺ said, “He who kills himself with iron will come on the day of resurrection with the iron in his hand, striking his stomach with it in the fire of Hell forever and ever and, he who kills himself with poison, will have poison in his hand, sipping it every now and then in the fire of Hell forever and ever. [Bukhari 5778]
صحيح، ابن ماجة (3460)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2043
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل توحید کے سلسلہ میں متعدد روایات سے ثابت ہے کہ وہ جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر اس سے باہر آ جائیں گے، یہی وجہ ہے کہ علماء نے «خالدا مخلدا» کی مختلف توجیہیں کی ہیں: ( ١ ) اس سے زجر و توبیخ مراد ہے، ( ٢ ) یہ اس شخص کی سزا ہے جس نے ایسا حلال و جائز سمجھ کر کیا ہو، ( ٣ ) اس عمل کی سزا یہی ہے لیکن اہل توحید پر اللہ کی نظر کرم ہے کہ یہ سزا دینے کے بعد پھر انہیں جہنم سے نکال لے گا، ( ٤ ) ہمیشہ ہمیش رہنے مراد لمبی مدت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٥٦ (٥٧٧٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١٧٥)، سنن ابی داود/ الطب ١١ (٣٨٧٢)، سنن النسائی/الجنائز ٦٨ (١٩٦٧)، سنن ابن ماجہ/الطب ١١ (٣٤٦٠) (تحفة الأشراف: ١٢٤٤٠)، و مسند احمد (٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٤٨٨)، و سنن الدارمی/الدیات ١٠ (٢٤٠٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے لوہے سے اپنی جان لی، اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہوگا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں زہر ہوگا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا، اور جس نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone kills himself with an iron(weapon) then the iron(weapon) will be in his hand and he will be striking his belly with it in the fire of Hell ever and ever, always. And, if anyone kills himself with poison then the poison will be in his hand and he will sip it in the fire of Hell ever and ever, always. And, if anyone drops himself thus then he will keep dropping himself in the fire of Hell ever and ever always.” [Muslim 109]
صحيح انظر ما قبله (2043)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2044