Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 98 of 199

2007Sunan At-Tirmidhi

احسان اور معاف کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ہر ایک کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنو یعنی اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر ہمارے اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کرو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو، اور اگر بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو ۔

Sayyidina Hudhaifa reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not be imma’ah, saying, ‘If people favour us, we will favour them and if they, wrong us, we will wrong them. Rather, condition yourselves so that if people show favour, you too show favour and if they hurt you, you do not wrong them.”

ضعيف نقد الکتاني (26)، المشکاة (5129) // ضعيف الجامع الصغير (6271) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2007
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٣٦١) (ضعیف) (سند میں ” ولید بن عبد اللہ بن جمیع زہری “ حافظہ کے کمزور ہیں )
2008Sunan At-Tirmidhi

بھائیوں کی ملاقات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ هُوَ الشَّامِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَادَ مَرِيضًا، أَوْ زَارَ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ، نَادَاهُ مُنَادٍ أَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو سِنَانٍ اسْمُهُ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ، وَقَدْ رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کرلیا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone visits a sick person or visits his brother for Allah’s sake, an announcer calls, ‘You have done well, may your walk be blessed. You have made a station for yourself in Paradise.’” [Ibn Majah 1443]

حسن، المشکاة (5015)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2008
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - حماد بن سلمہ نے «عن ثابت عن أبي رافع عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حصول ثواب کی خاطر اپنے کسی دینی بھائی کی جو مریض ہو عیادت کرے یا کسی بھی دینی بھائی سے ملاقات کرے تو ایسا شخص اس ثواب کا مستحق ہوگا جو اس حدیث میں مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢ (١٤٤٣) (تحفة الأشراف: ١٤١٣٣) (حسن )
2009Sunan At-Tirmidhi

حیاء کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حیاء ایمان کا ایک جزء ہے اور ایمان والے جنت میں جائیں گے اور بےحیائی کا تعلق ظلم سے ہے اور ظالم جہنم میں جائیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Modesty is part of faith and faith leads to paradise, but obscenity is rudeness and rudeness leads to the Fire.”

صحيح، الصحيحة (495)، الروض النضير (746)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2009
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابوبکرہ، ابوامامہ اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جس طرح ایمان صاحب ایمان کو گناہوں سے روکنے کا سبب ہے، اسی طرح حیاء انسان کو معصیت اور گناہوں سے بچاتا ہے، بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی ڈھال ہے، اسی وجہ سے حیاء کو ایمان کا جزء کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٠٤٠، و ١٥٠٥٣، و ١٥٠٨٨) (صحیح )
2010Sunan At-Tirmidhi

آہستگی اور عجلت

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ الْمُزَنِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: السَّمْتُ الْحَسَنُ وَالتُّؤَدَةُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن سرجس مزنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اچھی خصلت، غور و خوص کرنا اور میانہ روی نبوت کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Sarjis Muzani (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘Good habits, being gentle and steady, and moderation in affairs are part of the twenty four parts of prophet hood.”

حسن، الروض النضير (384)، التعليق الرغيب (3 / 6)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2010
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٣٢٣) (حسن )
2010Sunan At-Tirmidhi

آہستگی اور عجلت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَاصِمٍ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن سرجس ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، لیکن اس میں عاصم کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، نصر بن علی کی روایت ہی صحیح ہے (جو اوپر مذکور ہے) ۔

حسن، الروض النضير (384)، التعليق الرغيب (3 / 6)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2010
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (حسن )
2011Sunan At-Tirmidhi

آہستگی اور عجلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے منذر بن عائذ اشج عبدالقیس سے فرمایا: تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور غور و فکر کی عادت ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Ashaj of Abd Qays, “You have two characteristics that Allah loves: caution and deliberation in affairs.” [Ibn Majah 4188]

صحيح، ابن ماجة (4188)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2011
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں اشج عصری سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ انسان کو کوئی بھی کام سوچ سمجھ کرنا چاہیئے، جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیئے اور آدمی کو بردباری اور حلیم و صابر ہونا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٨ (٤١٨٨) (تحفة الأشراف: ٦٥٣١) (صحیح )
2012Sunan At-Tirmidhi

آہستگی اور عجلت

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَنَاةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَالْأَشَجُّ بْنُ عَبْدِ الْقَيْسِ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَائِذٍ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوچ سمجھ کر کام کرنا اور جلد بازی نہ کرنا اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔

Sayyidina Sahl ibn Sa’d Sa’idi reported that Allah’s Messenger said, “Deliberation is from Allah, but haste is from the devil.”

ضعيف، المشکاة (5055 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2300) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2012
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - بعض محدثین نے عبدالمہیمن بن عباس بن سہل کے بارے میں کلام کیا ہے، اور حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ٣ - اشج بن عبدالقیس کا نام منذر بن عائذ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٧٩٧) (ضعیف) (سند میں ” عبد المھیمن بن عباس “ ضعیف ہیں )
2013Sunan At-Tirmidhi

نرمی کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْأُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو نرم برتاؤ کا حصہ مل گیا، اسے اس کی بھلائی کا حصہ بھی مل گیا اور جو شخص نرم برتاؤ کے حصہ سے محروم رہا وہ بھلائی سے بھی محروم رہا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, “He who is given his share of mildness is indeed given his share of good and he who is denied his share of mildness is indeed denied his share of good.” [Ahmed 27623]

صحيح، الصحيحة (515 و 874)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2013
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، جریر بن عبداللہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ نرم برتاؤ، مہربانی اور رفق دنیا اور آخرت کی ہر اچھائی کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے، چناچہ انسان میں خیر کا پہلو اتنا ہی غالب ہوگا جتنا اس میں رفق اور نرم روی کا پہلو غالب ہوگا، اور جو اس صفت سے محروم ہوگا وہ خیر سے خالی ہوگا
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٠٠٣)، وانظر: مسند احمد (٦/٤٥١) (صحیح )
2014Sunan At-Tirmidhi

مظلوم کی دعا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَعْبَدٍ اسْمُهُ نَافِذٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل کو (حاکم بنا کر) یمن روانہ کرتے وقت فرمایا: مظلوم کی دعا سے ڈرو، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ آڑے نہیں آتا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger sent Mu’az to Yemen and instructed him, “Fear the supplication of the oppressed, for, there is not between it and Allah an obstacle.” [Bukhari 3561, Muslim 2330]

صحيح، صحيح أبي داود (1412)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2014
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ مظلوم کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے، اس لیے ظلم و تعدی سے ہمیشہ دور رہو، ورنہ مظلوم کی آہ کا شکار ہوجاؤ گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦٣ (١٤٩٦)، والمظالم ٩ (٢٤٤٨)، والمغازي ٦٠ (٤٣٤٧)، سنن ابی داود/ الزکاة ٥ (١٥٨٤)، سنن النسائی/الزکاة ٤٦ (٢٥٢٣)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١ (١٧٨٣) (تحفة الأشراف: ٦٥١١)، و مسند احمد (١/٢٣٣)، وسنن الدارمی/الزکاة ١ (١٦٥٥) (وانظر أیضا ماتقدم عند المؤلف برقم ٦٢٥) (صحیح )
2015Sunan At-Tirmidhi

اخلاق نبوی ﷺ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ، وَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ لِمَ تَرَكْتَهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْأَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا، وَلَا مَسَسْتُ خَزًّا قَطُّ وَلَا حَرِيرًا وَلَا شَيْئًا كَانَ أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمَمْتُ مِسْكًا قَطُّ وَلَا عِطْرًا كَانَ أَطْيَبَ مِنْ عَرَقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَالْبَرَاءِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال تک نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے اف تک نہ کہا، اور نہ ہی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو تم نے ایسا کیوں نہیں کیا، رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق کے آدمی تھے، میں نے کبھی کوئی ریشم، حریر یا کوئی چیز آپ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم اور ملائم نہیں دیکھی اور نہ کبھی میں نے کوئی مشک یا عطر آپ ﷺ کے پسینے سے زیادہ خوشبودار دیکھی۔

Sayyidina Anas (RA) narrated: I served Allah’s Messenger for ten years. He never said, “Oof” to me. And did not say about anything that I did, ‘Why did you do it?” and about that which I neglected, “Why did you neglect it?” He possessed the best of manners among people. And, I never touched any cloth, silk or anything, more soft than his hands and I never smelt musk or perfume more fragrant than his sweat.

صحيح مختصر الشمائل المحمدية (296)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2015
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ اور براء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٢٥ (٢٧٢٨)، والمناقب ٢٣ (٣٥٦١)، والأدب ٣٩ (٦٠٣٨)، والدیات ٢٧ (٦٩١١) (في جمیع المواضع بالشطر الأول فحسب)، صحیح مسلم/الفضائل ١٣ (٢٣١٠) (بالشطر الأول فحسب) و ٢١ (٢٣٣٠) (بالشطر الأخیر)، سنن ابی داود/ الأدب ١ (٤٧٧٧٣) (في سیاق طویل بالشطر الأول فحسب) (تحفة الأشراف: ٢٦٤)، و مسند احمد (٣/١٠١، ١٢٤، ١٧٤، ٢٠٠، ٢٢٧، ٢٢١، ٢٥٥) (صحیح )
2016Sunan At-Tirmidhi

اخلاق نبوی ﷺ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ.

ابوعبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ فحش گو، بدکلامی کرنے والے اور بازار میں چیخنے والے نہیں تھے، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر فرما دیتے تھے ١ ؎۔

Abu Abdullah Jadali reported that he asked Sayyidah Aisha (RA) about the manners of Allah’s Messenger She said, He was never indecent of speech or of manners. He never spoke loudly in the markets. And, he never returned evil with evil, but he forgave and overlooked.’ [Ahmed 26049]

صحيح مختصر الشمائل (298)، المشکاة (5820)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2016
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوعبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے، اور عبدالرحمٰن بن عبد بھی بیان کیا گیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں نبی اکرم ﷺ کے حسن اخلاق اور کمال شرافت کا بیان ہے، اور اس بات کی صراحت ہے کہ آپ ﷺ برائی اور تکلیف پہنچانے والے سے عفو و درگذر سے کام لیتے تھے نہ کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٧٩٤)، وانظر: مسند احمد (٦/١٧٤، ٢٣٦، ٢٤٦) (صحیح )
2017Sunan At-Tirmidhi

حسن وفا

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا بِي أَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهَا، وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيَتَتَبَّعُ بِهَا صَدَائِقَ خَدِيجَةَ فَيُهْدِيهَا لَهُنَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویوں میں سے کسی پر میں اس طرح غیرت نہیں کھاتی تھی جس طرح خدیجہ پر غیرت کھاتی تھی جب کہ میں نے ان کا زمانہ بھی نہیں پایا تھا، اس غیرت کی کوئی وجہ نہیں تھی سوائے اس کے کہ آپ ان کو بہت یاد کرتے تھے، اور اگر آپ بکری ذبح کرتے تو ان کی سہیلیوں کو ڈھونڈتے اور گوشت ہدیہ بھیجتے تھے ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated: I never envied any of the wives of the Prophet ﷺ as I envied Khadijah (RA). What would have happened to me if I had found her times! This, because of the much mention of her by Allah’s Messenger. If he ever slaughtered a sheep, he would find out a friend of Khadijah and present (some of) it to her. [Bukhari 3816, Muslim 2435]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2017
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جب سہیلیوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ اتنا اچھا تھا تو خود خدیجہ ؓ کے ساتھ کیسا ہوگا؟ نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیوی کی سہیلیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنا چاہیئے، جیسے کہ باپ کے بارے میں حکم آیا ہے کہ باپ کے دوستوں کے ساتھ آدمی اچھا برتاؤ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٢٠ (٣٨١٦، ٣٨١٧)، والنکاح ١٠٨ (٥٢٢٩)، والأدب ٢٣ (٦٠٠٤)، والتوحید ٣٢ (٧٤٨٤)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٢ (٢٤٣٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٦ (١٩٩٧) (تحفة الأشراف: ١٦٨٧)، و مسند احمد (٦/٥٨، ٢٠٢، ٢٧٩) (صحیح )
2018Sunan At-Tirmidhi

بلند اخلاق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُونَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُونَ، وَالْمُتَشَدِّقُونَ، فَمَا الْمُتَفَيْهِقُونَ ؟ قَالَ: الْمُتَكَبِّرُونَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الْمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، وَهَذَا أَصَحُّ وَالثَّرْثَارُ، هُوَ الْكَثِيرُ الْكَلَامِ، وَالْمُتَشَدِّقُ الَّذِي يَتَطَاوَلُ عَلَى النَّاسِ فِي الْكَلَامِ وَيَبْذُو عَلَيْهِمْ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تم میں سے (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں، اور میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلااحتیاط بولنے والے، زبان دراز اور تکبر کرنے والے «متفيهقون» ہیں ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے «ثرثارون» (باتونی) اور «متشدقون» (بلااحتیاط بولنے والے) کو تو جان لیا لیکن کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: تکبر کرنے والے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The dearest of you to me and the nearest of you to me in station on the Day of Resurrection are the best of you in manners. And the most hated of you to me and the farthest from me on the Day of Resurrection are chatter-boxes, bigmouthed (who speak much without deliberation and caution) and the mutafayhiqun.” They asked, “O Messenger of Allah, we know those who speak much, but who the mutafayhiqun?” He said, “Those who speak with arrogance.” [Ahmed 17758]

صحيح، الصحيحة (791)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2018
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٣ - بعض لوگوں نے یہ حدیث «عن المبارک بن فضالة عن محمد بن المنکدر عن جابر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم ولم» کی سند سے روایت کی ہے اور اس میں «عن عبد ربه بن سعيد» کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، اور یہ زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - «ثرثار» باتونی کو کہتے ہیں: اور «متشدق» اس آدمی کو کہتے ہیں: جو لوگوں کے ساتھ گفتگو میں بڑائی جتاتے اور فحش کلامی کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں کم بولنے اور سادگی سے گفتگو کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور تصنع و بناوٹ اور تکبر سے منع کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٠٥٤) (صحیح )
2019Sunan At-Tirmidhi

لعن وطعن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا وَهَذَا الْحَدِيثُ مُفَسِّرٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن لعن و طعن کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔

Sayyidina ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “A believer is not one who curses others.

صحيح، المشکاة (4848 / التحقيق الثانی)، ظلال الجنة (1014)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2019
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض لوگوں نے اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعن وطعن کرنے والا ہو ، یہ حدیث پہلی حدیث کی وضاحت کر رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٧٩٤) (صحیح )
2020Sunan At-Tirmidhi

غصہ کی زیادتی

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلِّمْنِي شَيْئًا وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ لَعَلِّي أَعِيهِ، قَالَ: لَا تَغْضَبْ فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: لَا تَغْضَبْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: مجھے کچھ سکھائیے لیکن زیادہ نہ بتائیے تاکہ میں اسے یاد رکھ سکوں، آپ نے فرمایا: غصہ مت کرو ، وہ کئی بار یہی سوال دہراتا رہا اور آپ ہر بار کہتے رہے غصہ مت کرو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that a man came to the Prophet ﷺ and said, “Teach me something but do not make it much on me perchance I might remember it.” He said, “Do not lose your temper.” He repeated that often and every time he said, “Do not lose your temper.” [Bukhari 6116, Muslim 2608]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2020
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوسعید اور سلیمان بن صرد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غصہ کی صفت سے کوئی انسان خالی نہیں ہے، لیکن غصہ پر قابو پالینا سب سے بڑی نیکی اور انسان کی سب سے کامل عادت ہے، نصیحت مخاطب کے مزاج و طبیعت کا خیال کرتے ہوئے اس کے حالات کے مطابق ہونی چاہیئے، چناچہ اس حدیث میں آپ ﷺ نے اس آدمی کے متعدد بار سوال کرنے کے باوجود اس کے حالات کے مطابق ایک ہی جواب دیا یعنی غصہ مت کرو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٧٦ (٦١١٦) (تحفة الأشراف: ١٢٨٤٦)، و مسند احمد (٢/٣٦٢، ٤٦٦) (صحیح )
2021Sunan At-Tirmidhi

غصہ کی زیادتی

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ الدُّورِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِيأَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنَفِّذَهُ دَعَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي أَيِّ الْحُورِ شَاءَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

معاذ بن انس جہنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص غصہ ضبط کرلے حالانکہ وہ اسے کر گزرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے منتخب کرلے ۔

Mu’adh ibn Anas Juhanni reported that the Prophet ﷺ said, “As for him who suppresses his anger while he is able to express (and impose) it, Allah will call him on the Day of Resurrection ahead of all the creatures and give h choice of any of the maidens of paradise he likes.” [Ahmed 15637, Abu Dawud 4777, Ibn Majah 4186]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2021
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٣ (٤٧٧٧)، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٨ (٤١٨٦)، یأتي في القیامة ٢٤٩٣ (تحفة الأشراف: ١١٢٩٨)، و مسند احمد (٣/٤٣٨، ٤٤٠) (حسن )
2022Sunan At-Tirmidhi

بڑوں کی تعظیم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ بَيَانٍ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّحَّالِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ يَزِيدَ بْنِ بَيَانٍ، وَأَبُو الرِّجَالِ الْأَنْصَارِيُّ آخَرُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جوان کسی بوڑھے کا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے احترام کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر فرما دے گا جو اس عمر میں (یعنی بڑھاپے میں) اس کا احترام کریں ۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger said, “No young man will respect an elderly person because of his old age but Allah will appoint for him one who will respect him during his old age.”

ضعيف، الضعيفة (304)، المشکاة (4971) // ضعيف الجامع الصغير (5012) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2022
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی شیخ یعنی یزید بن بیان کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ابوالرجال انصاری ایک دوسرے راوی ہیں (اور جو راوی اس حدیث میں ہیں وہ ابوالرحال ہیں) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧١٦) (ضعیف) (سند میں یزید بن بیان، اور أبوالرحال دونوں ضعیف راوی ہیں )
2023Sunan At-Tirmidhi

ملاقات ترک کرنے والوں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُفَتَّحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ فِيهِمَا لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ، يُقَالُ: رُدُّوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: ذَرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ الْمُهْتَجِرَيْنِ: يَعْنِي الْمُتَصَارِمَيْنِ، وَهَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ .

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے والوں کی اس دن مغفرت کی جاتی ہے، سوائے ان کے جنہوں نے باہم قطع تعلق کیا ہے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے، ان دونوں کو لوٹا دو یہاں تک کہ آپس میں صلح کرلیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, The gates of Paradise are opened on Monday and Thursday and, on these days, those are forgiven who do not associate anything with Allah except those who cease to meet each other. Allah says: Send them back till they reconcile.” [Muslim 2565]

صحيح، الإرواء (3 / 105)، غاية المرام (412)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2023
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض روایتوں میں «ردوا هذين حتی يصطلحا» ان دونوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو جب تک صلح نہ کرلیں کے الفاظ مروی ہیں، ٣ - «مهتجرين» کے معنی «متصارمين» قطع تعلق کرنے والے ہیں، ٤ - یہ حدیث اسی روایت کے مثل ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پیر اور جمعرات یہ ایسے دو دن ہیں جن کے بارے میں بعض روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دو دنوں میں (اللہ کے یہاں) بندوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، آپ ﷺ ان دو دنوں میں اہتمام سے روزہ رکھتے تھے، اور مسلم کی روایت ہے کہ پیر کے دن آپ کی پیدائش ہوئی اور اسی دن آپ کی بعثت بھی ہوئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١١ (٢٥٦٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٢ (١٧٣٩) (تحفة الأشراف: ١٢٧٠٢)، و مسند احمد (٢/٣٢٩) (صحیح )
2024Sunan At-Tirmidhi

صبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ، فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ قَالَ: مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ شَيْئًا هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ أَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ هَذَا الْحَدِيثُ، فَلَنْ أَذْخَرَهُ عَنْكُمْ وَالْمَعْنَى فِيهِ وَاحِدٌ، يَقُولُ: لَنْ أَحْبِسَهُ عَنْكُمْ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ چند انصاریوں نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگا، آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا، پھر فرمایا: جو مال بھی میرے پاس ہوگا میں اس کو تم سے چھپا کر ہرگز جمع نہیں رکھوں گا، لیکن جو استغناء ظاہر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو غنی کر دے گا ١ ؎، جو سوال سے بچے گا اللہ تعالیٰ اس کو سوال سے محفوظ رکھے گا، اور جو صبر کی توفیق مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق عطا کرے گا، کسی شخص کو بھی صبر سے بہتر اور کشادہ کوئی چیز نہیں ملی ۔

Sayyidina Abu Sa’eed narrated: Some people of the Ansar requested the Prophet ﷺ for something which he gave them. They asked again, and he gave it to them. He said thereafter, ‘If I had anything of value, I would not conceal it from you. He who is independent, Allah makes him free of want and him who refrains from begging, Allah saves him from having to beg, and he who is accustomed to patience, Allah enables him to show patience. And no one is given anything better and more encompassing than patience.’ [Bukhari 1469, Muslim 1053]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 11)، صحيح أبي داود (1451)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2024
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث امام مالک سے (دوسری سند سے) «فلن أذخره عنكم» کے الفاظ کے ساتھ بھی آئی ہے، ان دونوں عبارتوں کا ایک ہی معنی ہے، یعنی تم لوگوں سے میں اسے ہرگز نہیں روک رکھوں گا، ٣ - اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو قناعت سے کام لے گا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ بڑھانے اور سوال کرنے سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اطمینان قلب بخشے گا اور دوسروں سے بےنیاز کر دے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (١٣٦٩)، والرقاق ٢٠ (٦٤٧٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٢ (١٠٥٣)، سنن النسائی/الزکاة ٨٥ (٢٥٨٩) (تحفة الأشراف: ٤١٥٢)، وط/الصدقہ ٢ (٧)، و مسند احمد (٣/١٢، ١٤، ٤٧، ٩٣)، و سنن الدارمی/الزکاة ١٨ (١٦٨٦) (صحیح )
2025Sunan At-Tirmidhi

ہر ایک کے منہ پر اس کی طرف داری کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَعَمَّارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کی نظر میں دو رخے شخص سے بدتر کوئی نہیں ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely, the worst of men in the sight of Allah on the Day of Resurrection is the two-faced.” [Bukhari 6058, Muslim 2526]

صحيح صحيح الجامع (2226)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2025
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس اور عمار ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دو رخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ یقین دلائے کہ تمہارا خیرخواہ اور ساتھی ہوں اور دوسرے کا مخالف ہوں، لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو اسے بھی اسی طرح کا تاثر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ١ (٣٤٩٤)، والأدب ٥٢ (٦٠٥٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٨ (٢٥٢٦)، سنن ابی داود/ الأدب ٣٩ (٤٨٧٢) (تحفة الأشراف: ١٢٥٣٨)، و مسند احمد (٢/٤٥٥) (صحیح )