Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 97 of 199

1987Sunan At-Tirmidhi

لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد (جو تم سے ہوجائے) بھلائی کرو جو برائی کو مٹا دے ١ ؎ اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Fear Allah wherever you are. Follow your evil deed with a pious deed that it may erase it. And meet people in a cheerful manner.” [Ahmed 21412]

حسن، المشکاة (5083)، الروض النضير (855)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1987
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً نماز پڑھو، صدقہ و خیرات کرو اور کثرت سے توبہ و استغفار کرو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٩٨٩)، وانظر مسند احمد (٥/١٥٣، ١٥٨، ١٧٧، ٢٢٨، ٢٣٦)، وسنن الدارمی/الرقاق ٧٤ (حسن )
1988Sunan At-Tirmidhi

بدگمانی کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: و سَمِعْت عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ يَذْكُرُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: الظَّنُّ ظَنَّانِ: فَظَنٌّ إِثْمٌ، وَظَنٌّ لَيْسَ بِإِثْمٍ، فَأَمَّا الظَّنُّ الَّذِي هُوَ إِثْمٌ فَالَّذِي يَظُنُّ ظَنًّا وَيَتَكَلَّمُ بِهِ، وَأَمَّا الظَّنُّ الَّذِي لَيْسَ بِإِثْمٍ فَالَّذِي يَظُنُّ وَلاَيَتَكَلَّمُ بِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Shun misgivings. Indeed, misgiving is the most false kind of conversation.” [Bukhari 6066]

صحيح غاية المرام (417)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1988
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان کہتے ہیں کہ ظن دو طرح کا ہوتا ہے، ایک طرح کا ظن گناہ کا سبب ہے اور ایک طرح کا ظن گناہ کا سبب نہیں ہے، جو ظن گناہ کا سبب ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں گمان کرے اور اسے زبان پر لائے، اور جو ظن گناہ کا سبب نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں گمان کرے اور اسے زبان پر نہ لائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی حدیث میں بدگمانی سے بچنے کی سخت تاکید ہے، کیونکہ یہ جھوٹ کی بدترین قسم ہے اس لیے عام حالات میں ہر مسلمان کی بابت اچھا خیال رکھنا ضروری ہے سوائے اس کے کہ کوئی واضح ثبوت اس کے برعکس موجود ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٥ (٥١٤٣)، والأدب ٥٧ (٦٠٦٤)، و ٥٨ (٦٠٦٦)، والفرائض ٢ (٦٧٢٤)، صحیح مسلم/البر والصلة ٩ (٢٥٦٣)، سنن ابی داود/ الأدب ٥٦ (٤٩١٧) (تحفة الأشراف: ١٣٧٢٠)، و مسند احمد (٢/٢٤٥، ٣١٢، ٣٤٢، ٤٦٥، ٤٧٠، ٤٨٢) (صحیح )
1989Sunan At-Tirmidhi

مزاح کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَضَّاحِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَنْ كَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ .

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر والوں کے ساتھ اس قدر مل جل کر رہتے تھے کہ ہمارے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ابوعمیر! نغیر کا کیا ہوا؟ ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) narrated: Allah’s Messenger used to mix with us with familiarity. He would say to my younger brother, “O Abu Umayr! What does Nughayr do?’ [Bukhari 6129]

صحيح وقد مضی (333)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1989
Notes · وضاحت
١ ؎: نغیر گوریا کی مانند ایک چڑیا ہے جس کی چونچ لال ہوتی ہے، ابوعمیر نے اس چڑیا کو پال رکھا تھا اور اس سے بہت پیار کرتے تھے، جب وہ مرگئی تو نبی اکرم ﷺ تسلی مزاح کے طور پر ان سے پوچھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٣٣ (صحیح )
1990Sunan At-Tirmidhi

مزاح کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا، قَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَعْنَى قَوْلِهِ: إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا: إِنَّمَا يَعْنُونَ إِنَّكَ تُمَازِحُنَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہم سے ہنسی مذاق کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں (خوش طبعی اور مزاح میں بھی) حق کے سوا کچھ نہیں کہتا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated we said, “O Messenger of Allah, you joke with us.” He said, “I do not speak but the truth.” [Ahmed 7831]

صحيح، الصحيحة (1726)، مختصر الشمائل (202)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1990
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لوگوں کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے ہمیں مزاح (ہنسی مذاق) اور خوش طبعی کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ خود خوش طبعی کرتے ہیں، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ مزاح اور خوش طبعی کے وقت بھی میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا، جب کہ ایسے موقع پر دوسرے لوگ غیر مناسب اور ناحق باتیں بھی کہہ جاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٩٤٩)، وانظر: مسند احمد (٢/٣٤٠، ٣٦٠) (صحیح )
1992Sunan At-Tirmidhi

مزاح کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ ، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي مَازَحَهُ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے دو کان والے! محمود بن غیلان کہتے ہیں: ابواسامہ نے کہا، یعنی آپ ﷺ نے اس سے مزاح کیا۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that the Prophet ﷺ said to him, “O one with two ears!” Mahmud said on the authority of Usamah that Anas (RA) meant to say that he was joking. [Abu Dawud 5002]

صحيح مختصر الشمائل (200)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1992
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٩٢ (٥٠٠٢)، ویأتي في المناقب ٥٦ (برقم: ٣٨٢٨) (تحفة الأشراف: ٩٣٤)، و مسند احمد (٣/١١٧، ١٢٧، ٢٤٢، ٢٦٠) (صحیح )
1991Sunan At-Tirmidhi

مزاح کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ النَّاقَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا: میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا ، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے؟ ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that a man requested Allah’s Messenger ﷺ for a riding beast. He said, “I will give you the young of a she-camel to ride.” He said, “O Messenger of Allah, what shall I do with the young of a she-camel. Allah’s Messenger ﷺ said, “Does any other than a she-camel give birth to a camel?” [Abu Dawud 4998]

صحيح، المشکاة (4886)، مختصر الشمائل (203)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1991
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے، ایسے ہی آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا تھا: «لا تدخل الجنة عجوز» یعنی بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی، جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہوگی، اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان: «إني حاملک علی ولد الناقة» کا بھی حال ہے، مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کرلیا جائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٩٢ (٤٩٩٨) (تحفة الأشراف: ٦٥٥) (صحیح )
1993Sunan At-Tirmidhi

جھگڑے کے بارے میں

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكَرِّمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (جھگڑے کے وقت) جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ وہ ناحق پر ہے، اس کے لیے اطراف جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا، جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے بیچ میں ایک مکان بنایا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے بنائے اس کے لیے اعلیٰ جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا ۔

Sayyidina Anas ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “For him who abandons lying and it is vain, a house will be built at the edge of paradise. And for him who abandons dispute though he is rightful, a house is built in the centre of paradise. And, for him who makes his manners excellent, a house is built in the heights of paradise.” [Ibn Majah 51]

ضعيف بهذا اللفظ، ابن ماجة (51) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (6)، الصحيحة (273)، ضعيف الجامع برقم (5522) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1993
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٥١) (تحفة الأشراف: ٨٦٨) (ضعیف) سند میں سلمہ بن وردان لیثی مدنی ضعیف راوی ہیں، صحیح الفاظ ابو امامہ ؓ کی حدیث سے اس طرح ہیں: ” أنا زعیم ببیت في ربض الجنة لمن ترک المزاح و إن کان محقا، و بیت في وسط الجنة لمن ترک الکذب و إن کان مازحا، و بیت في اعلی الجنة لمن حسن خلقہ “ (أبو داود رقم ٤٨٠٠) تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة ٢٧٣ )
1994Sunan At-Tirmidhi

جھگڑے کے بارے میں

حَدَّثَنَا فَضَالَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُخَاصِمًا ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Suffices you the sin for never ceasing to wrangle with one another.”

ضعيف، الضعيفة (4096) // ضعيف الجامع الصغير (4186 ) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1994
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٥٤٠) (ضعیف) (سند میں ” ادریس بن بنت وہب بن منبہ “ مجہول راوی ہے )
1995Sunan At-Tirmidhi

جھگڑے کے بارے میں

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ اللَّيْثِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُمَارِ أَخَاكَ وَلَا تُمَازِحْهُ وَلَا تَعِدْهُ مَوْعِدَةً فَتُخْلِفَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ عِنْدِي هُوَ ابْنُ أَبِي بَشِيرٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی سے مت جھگڑو، نہ اس سے ہنسی مذاق کرو، اور نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی تم خلاف ورزی کرو ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Do not quarrel with your brother, do not tease him and do not make a promise to him that you will break.”

ضعيف، المشکاة (4892 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6274) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1995
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦١٥١) (ضعیف) (سند میں ” لیث بن أبی سلیم “ ضعیف راوی ہیں )
1996Sunan At-Tirmidhi

حسن سلوک

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ أَخُو الْعَشِيرَةِ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَأَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت میں آپ کے پاس تھی، آپ نے فرمایا: یہ قوم کا برا بیٹا ہے، یا قوم کا بھائی برا ہے ، پھر آپ نے اس کو اندر آنے کی اجازت دے دی اور اس سے نرم گفتگو کی، جب وہ نکل گیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو اس کو برا کہا تھا، پھر آپ نے اس سے نرم گفتگو کی ١ ؎، آپ نے فرمایا: عائشہ! لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کی بد زبانی سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں ۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated: A man sought permission to visit Allah’s Messenger while I was also there. He said, “How evil is the son of the clan, or the brother of the clan.” He allowed him in, and conversed with him with tenderness. When he went away, I said, ‘O Messenger of Allah, you spoke of him as you did but afterwards relented towards him with soft speech.” He said, “O Aisha (RA) , the worst of men is he whom people avoid because of his indecent speech.” [Bukhari 3132]

صحيح، الصحيحة (1049)، مختصر الشمائل (301)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1996
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے برا ہوتے ہوئے بھی اس کے مہمان ہونے پر اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٣٨ (٦٠٣٢)، و ٤٨ (٦٠٥٤)، و ٨٢ (٦١٣١)، صحیح مسلم/البر والصلة ٢٢ (٢٥٩١)، سنن ابی داود/ الأدب ٦ (٤٧٩١) (تحفة الأشراف: ١٦٧٥٤) (صحیح )
1997Sunan At-Tirmidhi

محبت اور بغض میں میانہ روی اختیار کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أُرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيث عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا، رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ أَيْضًا، بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے دوست سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دوستی رکھو شاید وہ کسی دن تمہارا دشمن ہوجائے اور اپنے دشمن سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دشمنی کرو شاید وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported in a marfu’ from that the Prophet ﷺ said, “Love your friend with moderation; perhaps he might become contemptuous some day. And let your dislike (for anyone) be within limits, perhaps he might turn your friend one day.

صحيح غاية المرام (472)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1997
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - یہ حدیث ایوب کے واسطہ سے دوسری سند سے بھی آئی ہے، حسن بن ابی جعفر نے اپنی سند سے اس کی روایت کی ہے، جو علی کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ تک پہنچتی ہے، یہ روایت بھی ضعیف ہے، اس روایت کے سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ علی سے موقوفا مروی ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٤٣٢) (صحیح) (انظر غایة المرام رقم: ٤٧٢ )
1998Sunan At-Tirmidhi

تکبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر (گھمنڈ) ہوگا ١ ؎ اور جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوگا ٢ ؎۔

Sayyidina Abdullah reported that Allah’s Messenger said, “He in whose heart is pride even so much as a grain of mustard seed will not enter paradise. And he who has faith in his heart even as much as a grain of mustard seed will not enter Hell.” [Muslim 2853]

صحيح تخريج إصلاح المساجد (115)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1998
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، سلمہ بن الاکوع اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد جنت میں پہلے پہل جانے کا ہے، ورنہ ہر موحد سزا بھگتنے بعد «إن شاء اللہ» جنت میں جائے گا۔ ٢ ؎: مراد کفار کی طرح جہنم میں داخل ہونے کا ہے، یعنی ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں نہیں داخل ہوگا، بلکہ اخیر میں سزا کاٹ کر جنت میں چلا جائے گا، «إن شاء اللہ»۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٩ (١٤٨)، سنن ابی داود/ اللباس ٢٩ (٤٠٩١)، سنن ابن ماجہ/المقدمة (٥٩) (تحفة الأشراف: ٩٤٢١)، و مسند احمد (١/٣٨٧) (صحیح )
1999Sunan At-Tirmidhi

تکبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ يَعْنِي مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي حَسَنًا وَنَعْلِي حَسَنًا، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ: لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِنَّمَا مَعْنَاهُ: لَا يُخَلَّدُ فِي النَّارِ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَقَدْ فَسَّرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ هَذِهِ الْآيَةَ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192 فَقَالَ: مَنْ تُخَلِّدُ فِي النَّارِ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر (گھمنڈ) ہو، اور جہنم میں داخل نہیں ہوگا یعنی وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو ١ ؎۔ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں؟ آپ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جمال (خوبصورتی) کو پسند کرتا ہے، لیکن تکبر اس شخص کے اندر ہے جو حق کونہ مانے اور لوگوں کو حقیر اور کم تر سمجھے ۔ بعض اہل علم اس حدیث: «ولا يدخل النار يعني من کان في قلبه مثقال ذرة من إيمان» کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ جہنم سے بالآخر ضرور نکلے گا ، کئی تابعین نے اس آیت «ربنا إنک من تدخل النار فقد أخزيته» (سورۃ آل عمران: ١٩٢ ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے: اے میرے رب! تو نے جس کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈال دیا اس کو ذلیل و رسوا کردیا۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who has in his heart as much as a grain of pride will not enter paradise and he who has in his heart as much as a grain of faith will not enter Hell.” A man said, “I like my garment to be beautiful and my sandals to be beautiful.’ He explained, “Allah loves beauty while pride is to disregard truth and look down upon people.

صحيح، الصحيحة (1626)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1999
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کبر و غرور اللہ کو قطعا پسند نہیں ہے، اس کا انجام بےحد خطرناک اور نہایت برا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ٩٤٤٤) (صحیح )
2000Sunan At-Tirmidhi

تکبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَذْهَبُ بِنَفْسِهِ حَتَّى يُكْتَبَ فِي الْجَبَّارِينَ فَيُصِيبُهُ مَا أَصَابَهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تکبر (گھمنڈ) کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ ظالموں کی فہرست میں اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اور اس لیے اسے وہی عذاب لاحق ہوتا ہے جو ظالموں کو لاحق ہوا ۔

Sayyidina Salamah ibn Akwa’ (RA) reported that Allah’s Messenger said, “A man does not cease to magnify himself till he is recorded among the tyrants and is belaboured with what belabours them.”

ضعيف، الضعيفة (1914) // ضعيف الجامع الصغير (6344) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2000
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٥٢٨) (ضعیف) (سند میں عمر بن راشد ضعیف راوی ہیں )
2001Sunan At-Tirmidhi

تکبر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَقُولُونَ فِيَّ التِّيهُ وَقَدْ رَكِبْتُ الْحِمَارَ وَلَبِسْتُ الشَّمْلَةَ وَقَدْ حَلَبْتُ الشَّاةَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَعَلَ هَذَا فَلَيْسَ فِيهِ مِنَ الْكِبْرِ شَيْءٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ میرے اندر تکبر ہے، حالانکہ میں نے گدھے کی سواری کی ہے، موٹی چادر پہنی ہے اور بکری کا دودھ دوہا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے یہ کام کیے اس کے اندر بالکل تکبر نہیں ہے ۔

Sayyidina Jubayr ibn Mut’im narrated: People allege that I am arrogant. But, I ride a donkey; wear thick, coarse garment and milk sheep. Allah’s Messenger ﷺ had said, “One who does these things has nothing of arrogance in him.”

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2001
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٢٠٠) (صحیح الإسناد )
2002Sunan At-Tirmidhi

اچھے اخلاق

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاق حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ بےحیاء، بدزبان سے نفرت کرتا ہے ۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There is nothing heavier in the scale of the Believer on the Day of Resurrection than good manners. Indeed, Allah, the Exalted hates the indecent and the obscene.” [Ahmed 27587]

صحيح، الصحيحة (876)، الروض النضير (941)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2002
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، انس اور اسامہ بن شریک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٨ (٤٧٩٩) (تحفة الأشراف: ١١٠٠٢)، و مسند احمد (٦/٤٤٢، ٤٤٦، ٤٤٨، ٤٥١) (صحیح )
2003Sunan At-Tirmidhi

اچھے اخلاق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ اللَّيْثِ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِهِ دَرَجَةَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میزان میں رکھی جانے والی چیزوں میں سے اخلاق حسنہ (اچھے اخلاق) سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہے، اور اخلاق حسنہ کا حامل اس کی بدولت روزہ دار اور نمازی کے درجہ تک پہنچ جائے گا ۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “Nothing of what is put in the scale is heavier than good manners. And, the good mannered person will attain the rank of the person who keeps fast and offers salah.” [Ahmed 28587]

صحيح، الصحيحة (876)، الإرواء (941)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2003
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٠٩٩٢) (صحیح )
2004Sunan At-Tirmidhi

اچھے اخلاق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ: تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ ، وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، فَقَالَ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَوْدِيُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: منہ اور شرمگاہ ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that some one asked Allah’s Messenger ﷺ about what most will cause people to enter Paradise. He said, “Fear of Allah and good manners.” And, he was asked about what will predominantly cause people to enter the Fire. He said, ‘The mouth and the sexual organ.” [Ahmed 9107] Abdullah ibn Mubarak described good manners as a cheerful face, generous spending on good causes and removing harmful things.

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2004
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کا خوف اور اچھے اخلاق جس کے اندر پائے جائیں اس سے بہتر شخص کوئی نہیں ہے، اسی طرح جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت نہ کرسکے اس سے زیادہ بدنصیب کوئی نہیں ہے، کیونکہ دین کا سارا دارومدار اسی پر ہے، ہر طرح کی برائی کا صدور انہیں سے ہوتا ہے، اس لیے جس نے ان دونوں کی حفاظت کی وہ خوش نصیب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٩ (٤٢٤٦) (تحفة الأشراف: ١٤٨٤٧)، و مسند احمد (٢/٢٩١، ٣٩٢، ٤٤٢) (حسن الإسناد )
2005Sunan At-Tirmidhi

اچھے اخلاق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ وَصَفَ حُسْنَ الْخُلُقِ، فَقَالَ: هُوَ بَسْطُ الْوَجْهِ، وَبَذْلُ الْمَعْرُوفِ، وَكَفُّ الْأَذَى .

عبداللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ انہوں نے اخلاق حسنہ کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا: اخلاق حسنہ لوگوں سے مسکرا کر ملنا ہے، بھلائی کرنا ہے اور دوسروں کو تکلیف نہ دینا ہے۔

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2005
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٩٣٦) (صحیح الإسناد )
2006Sunan At-Tirmidhi

احسان اور معاف کرنا

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ أَمُرُّ بِهِ فَلَا يَقْرِينِي وَلَا يُضَيِّفُنِي، فَيَمُرُّ بِي أَفَأُجْزِيهِ، قَالَ: لَا، اقْرِهِ ، قَالَ: وَرَآَّنِي رَثَّ الثِّيَابِ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ؟ قُلْتُ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِيَ اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: فَلْيُرَ عَلَيْكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ اسْمُهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: اقْرِهِ: أَضِفْهُ، وَالْقِرَى هُوَ الضِّيَافَةُ.

مالک بن نضلہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس سے میں گزرتا ہوں تو میری ضیافت نہیں کرتا اور وہ بھی کبھی کبھی میرے پاس سے گزرتا ہے، کیا میں اس سے بدلہ لوں؟ ١ ؎ آپ نے فرمایا: نہیں، (بلکہ) اس کی ضیافت کرو ، آپ ﷺ نے میرے بدن پر پرانے کپڑے دیکھے تو پوچھا، تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال اونٹ اور بکری عطاء کی ہے، آپ نے فرمایا: تمہارے اوپر اس مال کا اثر نظر آنا چاہیئے ۔

Abu Al Ahwas reported on the authority of his father that he submitted, ‘O Messenger of Allah, if I go to a man and he does not give me a reception or hospitality and he comes to me (later), shall I repay him in the same coin?” He said, “No, give him a reception.” Abu Ahwas also reported his father as saying that the Prophet ﷺ saw him shabbily dressed and asked,” Do you have any wealth.” He said that he had all kind of wealth, and Allah had bestowed on him camels and sheep. He said, “So, let it be seen on you.”

صحيح غاية المرام (75)، الصحيحة (1320)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2006
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - «اقْرِهِ» کا معنی ہے تم اس کی ضیافت کرو «قری» ضیافت کو کہتے ہیں، ٣ - اس باب میں عائشہ، جابر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک نضلہ جشمی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بدلہ کے طور پر میں بھی اس کی میزبانی اور ضیافت نہ کروں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابی داود/ اللباس ١٧ (٤٠٦٣)، سنن النسائی/الزینة ٥٤ (٥٢٣٩)، و ٨٢ (٥٣٠٩) (تحفة الأشراف: ١١٢٠٦)، و مسند احمد (٣/٤٧٣-٤٧٤) و (٤/١٣٧) (صحیح )