اذان کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 7 · 62 hadiths · Page 3 of 4

667Sunan An Nasai

جو شخص تنہا نماز پڑھے اور وہ شخص اذان دے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةِ الْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے (اس) بندے کو بخش دیا، اور اسے جنت میں داخل کردیا ہے ۔

It was narrated that Uqbah bin Amir (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Your Lord is pleased with a shepherd high in the mountains who calls the Adhan for the prayer and prays. Allah says: Look at this slave of Mine; he calls the Adhan and Iqamah for the prayer and fears Me. I have forgiven My slave and admitted him to Paradise".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 666
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٢ (١٢٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٩)، مسند احمد ٤/١٤٥، ١٥٧، ١٥٨ (صحیح )
668Sunan An Nasai

جو شخص تنہا نماز ادا کرے اور تکبیر پڑھے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي صَفِّ الصَّلَاةِ الْحَدِيثَ.

رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

Translation of this Hadeeth is not correct…..Actual translation is not available….

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 667
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مسئی صلا ۃ جلدی جلدی صلاۃ پڑھنے والے شخص والی حدیث ہے جسے مصنف نے درج ذیل تین ابواب: باب الرخص ۃ فی ترک الذکر فی الرکوع، باب الرخص ۃ فی الذکر فی السجود اور باب أقل ما یجزی بہ الصلا ۃ میں ذکر کیا ہے، لیکن ان تینوں جگہوں پر کسی میں بھی اقامت کا ذکر نہیں ہے، البتہ ابوداؤد اور ترمذی نے اس حدیث کی روایت کی ہے اس میں فتوضأ کما امرک اللہ ثم تشہد فأقم کے الفاظ وارد ہیں جس سے حدیث اور باب میں مناسبت ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٦١)، سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٣٠٢) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٤)، مسند احمد ٤/٣٤٠، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٥٧، ٨٥٨، ٨٥٩، ٨٦٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٥٧ (٤٦٠)، ویأتي عند المؤلف: ١٠٥٤، ١١٣٧، ١٣١٤، ١٣١٥ (صحیح )
669Sunan An Nasai

تکبیر کس طریقہ سے پڑھنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قال: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَذَانِ، فَقَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ إِذَا قُلْتَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا سَمِعْنَا: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ.

جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے اذان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی، البتہ جب آپ قد قامت الصلاة کہتے تو اسے دو بار کہتے، چناچہ جب ہم قد قامت الصلاة سن لیتے، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Al-Muthanna, the Muadhdhin of the Jami Masjid, said: "I asked Ibn Umar (RA) about the Adhan and he said: At the time of the Messenger of Allah ﷺ, the phrases of the Adhan were recited twice and the phrases of Iqamah once, except that you should say (the phrase) Qad qamat is-salah (prayer is about to begin) twice. When we heard prayer is about to begin we would perform Wudu and go out to pray".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 668
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا بعض لوگ اور کبھی کبھی کرتے تھے، پھر بھی آپ کی لمبی قراءت کے سبب جماعت پالیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٢٩ (صحیح )
670Sunan An Nasai

ہر شخص کا اپنے اپنے لئے تکبیر کہنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَاحِبٍ لِي: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَحَدُكُمَا.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھ سے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے تو تم دونوں اذان دو، پھر دونوں اقامت کہو، پھر تم دونوں میں سے کوئی ایک امامت کرے ۔

It was narrated that Malik bin Al-Huwayrith said: "The Messenger of Allah ﷺ said to me and to a companion of mine: When the time for prayer comes, let the two of you call the Adhan then the two of you say Iqamah, then let one of you lead the prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 669
Notes · وضاحت
١ ؎: ترجمہ الباب پر ثم أقیما سے استدلال ہے، اس سے لازم آتا ہے کہ اذان بھی ہر ایک اپنے لیے الگ الگ کہے، لیکن یہ بعید ازفہم ہے، اور اس کی توجیہ حدیث رقم: ٦٣٥ میں گزر چکی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٣٦ (صحیح )
671Sunan An Nasai

فضیلت اذان سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الْمَرْءُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ١ ؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان (کی آواز) نہ سنے، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے، تو (پھر) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو (پھر) آجاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے (کہ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "When the call for the prayer is given, the Shaitan takes to his heels, passing wind loudly so that he will not hear the call to prayer. When the call to prayer is finished, he comes back. And when the Iqamah is said, he again takes to his heels, and after it is completed, he returns again to interfere between the (praying) person and his heart, saying to him: Remember such and such, remember such and such, - things that he had not remembered - until he does not know how many (Rakahs) he has prayed".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 670
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تیزی سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے جس سے اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور پیچھے سے ہوا خارج ہونے لگتی ہے، یا وہ بالقصد شرارتاً گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/، سنن ابی داود/المساجد ٣١ (٥١٦)، موطا امام مالک/الالهة ١ (٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٨)، مسند احمد ٢/٣١٣، ٣٩٨، ٤١١، ٤٦٠، ٥٠٣، ٥٢٢، ٥٣١، سنن الدارمی/الصلاة ١١ (١٢٤٠) (صحیح )
672Sunan An Nasai

اذان کہنے پر قرعہ ڈالنے کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان دینے میں اور پہلی صف میں رہنے میں کیا ثواب ہے، پھر قرعہ اندازی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں گے، نیز اگر وہ جان لیں (کہ) ظہر اول وقت پر پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے، اور اگر وہ اس ثواب کو جان لیں جو عشاء اور فجر میں ہے تو وہ ان دونوں صلاتوں میں ضرور آئیں گے، گو چوتڑ کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the people knew what (virtue) there is in the call to prayer and the first row, and they had no other way but to draw lots concerning them, they would draw lots. If they knew what (virtue) there is in coming early for the prayer, they would compete in doing so. And if they knew what (virtue) there is in Atamah and Subh prayer, they would come even if they had to crawl".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 671
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں حبوا کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہاتھوں کے سہارے چلنے کے ہیں جیسے بچہ ابتداء میں چلتا ہے یا چوتڑوں کے بل گھسٹ کر چلنے کو حبوا کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٤١ (صحیح )
673Sunan An Nasai

موذن ایسے شخص کو بنانا چاہئے کہ جو اذان پر معاوضہ وصول نہ کرے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ: أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا.

عثمان بن ابی العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے امام ہو (لیکن) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ١ ؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے ۔

It was narrated that Uthman bin Abi Al-As said: "I said: O Messenger of Allah, made me the Imam of my people. He said: You are their Imam, so consider the weakest among them and choose a Muadhdhin who does not accept any payment for his Adhan".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 672
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٠ (٥٣١)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٠)، مسند احمد ٤/٢١ (٢١٧، ٢١٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة ٣٧ (٤٦٨) (صحیح )
674Sunan An Nasai

اذان کے کلمات موذن کے ساتھ دہرانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you hear the call, say what the Muadhdhin says".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 673
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٧ (٦١١)، صحیح مسلم/الصلاة ٧(٣٨٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦ (٥٢٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٤٠ (٢٠٨)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٠)، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٢)، مسند احمد ٣/٥، ٥٣، ٧٨، ٩٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٠ (١٢٣٧) (صحیح )
675Sunan An Nasai

اذان دینے کا اجر و ثواب

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الزُّرَقِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بلال ؓ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

An-Nasr bin Sufyan narrated that he heard Abu Hurairah (RA) say: "We were with the Messenger of Allah ﷺ and Bilal stood up and gave the call. When he fell silent the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever says the same as this (what the Muadhdhin) with certainty, he will enter Paradise.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 674
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٦٤١)، مسند احمد ٢/٣٥٢ (حسن )
676Sunan An Nasai

جو کلمات موذن کہے وہی کلمات سننے والے شخص کو بھی کہنا چاہئے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ، قال: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَكَذَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مجمع بن یحییٰ انصاری کہتے ہیں کہ میں ابوامامہ بن سہل بن حنیف ؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، اور اس نے کہا: اللہ أكبر اللہ أكبر، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ اللہ أكبر اللہ أكبر کہا، پھر اس نے أشهد أن لا إله إلا اللہ کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ أشهد أن لا إله إلا اللہ کہا، پھر اس نے أشهد أن محمدا رسول اللہ کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ أشهد أن محمدا رسول اللہ کہا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کہتے تھے۔

It was narrated that Mujammi bin Yahya Al-Ansari said: "I was sitting with Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif when the Muadhdhin called the Adhan. He said: Allahu akbar; Allahu Akbar (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest), and he (also) pronounced the takbir twice. Then he said: Ashhadu an la ialaha ill-Allah (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah), and he also sent the testimony twice. Then he said: Ashhadu anna Muhammadan Rasul-Allah (I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah), and he (also) sent the testimony twice. Then he said: This is what Muawiyah bin Abi Sufyan told me, narrating from statement of the Messenger of Allah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 675
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٢٣ (٩١٤)، (تحفة الأشراف: ١١٤٠٠)، وفي عمل الیوم واللیلة رقم: (٣٥٠، ٣٥١)، مسند احمد ٤/٩٣، ٩٥، ٩٨ (صحیح )
677Sunan An Nasai

جو کلمات موذن کہے وہی کلمات سننے والے شخص کو بھی کہنا چاہئے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُجَمِّعٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعَ الْمُؤَذِّنَ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ.

ابوامامہ بن سہل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا تو جیسے اس نے کہا ویسے ہی آپ نے بھی کہا۔

It was narrated that Abu Umamah bin Sahl said: "I heard Muawiyah say: I heard the Messenger of Allah ﷺ, when he heard the Muadhdhin, repeating what he said".

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 676
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، وقد أخرجہ المؤلف فی الیوم واللیلة برقم: (٣٤٩) (صحیح )
678Sunan An Nasai

جس وقت مؤذن حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہے تو سننے والا شخص کیا کہے؟

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قال: إِنِّي عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، حَتَّى إِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَلَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.

علقمہ بن وقاص کہتے ہیں کہ میں معاویہ ؓ کے پاس تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی، تو آپ ویسے ہی کہتے رہے جیسے مؤذن کہہ رہا تھا یہاں تک کہ جب اس نے حى على الصلاة کہا تو انہوں نے: لا حول ولا قوة إلا باللہ کہا، پھر جب اس نے حى على الفلاح کہا تو انہوں نے: لا حول ولا قوة إلا باللہ کہا، اور اس کے بعد مؤذن جس طرح کہتا رہا وہ بھی ویسے کہتے رہے پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کہتے ہوئے سنا ہے۔

It was narrated that Alqamah bin Waqqas said: "I was with Muawiyah when the Muadhdhin called the Adhan. Muawiyah said what the Muadhdhin said, but when he said: Hayya alas-salah (come to prayer), he said: La hawla wa la quwwata illa Billah (There is no power and no strength except with Allah); and when he said: Hayya alal-falah (come to prosperity), he said: La hawla wa la quwwata illa Billah (There is no power and no strength except with Allah). After that he said what the Muadhdhin said, then he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying exactly like that".

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 677
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٤٣١)، مسند احمد ٤/٩١، ٩٨، سنن الدارمی/الصلاة ١٠ (١٢٣٩) (حسن )
679Sunan An Nasai

اذان کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ وَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: جب مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے، اور مجھ پر صلاۃ وسلام ١ ؎ بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت و برکت بھیجتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ ٢ ؎ طلب کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک درجہ و مرتبہ ہے جو کسی کے لائق نہیں سوائے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کے، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں، تو جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا، اس پر میری شفاعت واجب ہوجائے گی ٣ ؎۔

Abdullah bin Amr (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When you hear the Muadhdhin then say what he says, and do Salah upon me, for whoever does Salah upon me once, Allah will Salah upon him ten (times). Then ask Allah to grant me Al-Wasilah, which is a position in paradise which only one of the slaves of Allah will attain, and I hope that I will be the one. Whoever asks for Al-Wasilah for me, will be entitled to my intercession".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 678
Notes · وضاحت
١ ؎: صلاۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی رحمت و مغفرت کے ہیں، اور فرشتوں کی طرف ہو تو مغفرت طلب کرنے کے ہیں، اور بندوں کی طرف ہو تو دعا کرنے کے ہیں۔ ٢ ؎: وسیلہ کے معنی قرب کے، اور اس طریقہ کے ہیں جس سے انسان اپنے مقصود تک پہنچ جائے، یہاں مراد جنت کا وہ درجہ ہے جو نبی کریم ﷺ کو عطا کیا جائے گا۔ ٣ ؎: بشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان اور توحید پر ہوا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦ (٥٢٣)، سنن الترمذی/المناقب ١ (٣٦١٤)، (تحفة الأشراف: ٨٨٧١)، مسند احمد ٢/١٦٨، وفی الیوم واللیلة (٤٥) (صحیح )
680Sunan An Nasai

اذان کے وقت کی دعا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے مؤذن (کی اذان) سن کر یہ کہا: وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اور محمد ﷺ کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

It was narrated from Sad bin Abi Waqqas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever says, when he hears the Muadhdhin: Ashhadu an la ilaha illallah wahdahu la sharika lahu wa anna Muhammadan Abduhu wa Rasuluhu, raditu Billahi Rabbanw, wa bil-Islami dinan wa bi Muhammadin Rasulah (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah alone, with no partner or associate, and that Muhammad is the His slave and Messenger; I am content with Allah as my Lord, Islam as my religion and Muhammad as Messenger), his sins will be forgiven".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 679
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦ (٥٢٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٤٢ (٢١٠)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢١)، (تحفة الأشراف: ٣٨٧٧)، مسند احمد ١/١٨١، فی الیوم واللیلة (٧٣) (صحیح )
681Sunan An Nasai

اذان کے وقت کی دعا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: اللہم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه المقام المحمود الذي وعدته إلا حلت له شفاعتي يوم القيامة اے اللہ! اس کامل پکار اور قائم رہنے والی صلاۃ کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ ١ ؎ اور فضیلت ٢ ؎ عطا فرما، اور مقام محمود ٣ ؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ٤ ؎ تو قیامت کے دن اس پر میری شفاعت نازل ہوگی ۔

It was narrated that Jabir (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever says, when he hears the call to prayer: "Allahumma rabba hadhihid-dawat it-tammah was-salat il-qaimah, ati Muahmmadan al-wasilah wal-fadilah, wabathu maqaman mahmudan alladhi waadtahu (O Allah, Lord of this perfect call and the prayer to be offered, grant Muhammad the privilege (of interceding) and also the eminence, and resurrect him to the praised position that you have promised), will be granted my intercession on the Day of Resurrection".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 680
Notes · وضاحت
١ ؎: وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک اعلی درجہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: فضیلت وہ اعلی مرتبہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوق پر حاصل ہوگا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔ ٣ ؎: مقام محمود یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو عطا کرے گا، اور اسی جگہ آپ ﷺ وہ شفاعت عظمی فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا۔ ٤ ؎: بیہقی کی روایت میں اس دعا کے بعد إنک لا تخلف الميعاد کا اضافہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، اسی طرح اس دعا کے پڑھتے وقت کچھ لوگ یا ا ٔرحم الراحمین کا اضافہ کرتے ہیں، اس اضافہ کا بھی کتب حدیث میں کہیں وجود نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨ (٦١٤)، تفسیر الإسراء ١١ (٤٧١٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٨ (٥٢٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٤٣ (٢١١)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٣)، (تحفة الأشراف: ٣٠٤٦)، وفی الیوم واللیلة (٤٦) (صحیح )
682Sunan An Nasai

اذان اور اقامت کے درمیان نماز ادا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ كَهْمَسٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر دو اذان ١ ؎ کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، جو چاہے اس کے لیے ۔

It was narrated that Abdullah bin Mughaffal said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Between each two Adhans [1] there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, for whoever wants to do it". [1]Meaning, between the Adhan and Iqamah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 681
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمۃ الباب میں اشارہ کیا ہے، اس حدیث سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہو رہا ہے، جس کے لیے دوسرے دلائل موجود ہیں واللہ أعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤ (٦٢٤)، ١٦ (٦٢٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٦ (٨٣٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٠ (١٢٨٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢ (١٨٥) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة ١١٠ (١١٦٢)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٨)، مسند احمد ٤/٨٦ و ٥/٥٤، ٥٥، ٥٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٥ (١٤٨٠) (صحیح )
683Sunan An Nasai

اذان اور اقامت کے درمیان نماز ادا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ، وَيُصَلُّونَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ شَيْءٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مؤذن جب اذان دیتا تو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ کھڑے ہوتے، اور ستون کے پاس جانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے، اور نماز پڑھتے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نکلتے، اور وہ اسی طرح (نماز کی حالت میں) ہوتے، اور مغرب سے پہلے بھی پڑھتے، اور اذان و اقامت کے بیچ کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Muadhdhin called the Adhan, some of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) would get up and rush to the pillars (in the Masjid) and pray until the Prophet ﷺ came out and they were like that. They would pray before Maghrib and there was nothing between the Adhan and Iqamah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 682
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ ان دونوں رکعتوں کے پڑھنے میں جلدی کرتے کیونکہ اذان اور اقامت میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٩٥ (٥٠٣)، الأذان ١٤ (٦٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٣/٢٨٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٥ (١٤٨١) (صحیح )
684Sunan An Nasai

مسجد میں اذان ہونے کے بعدبغیر نماز ادا کئے نکل جانا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ حَتَّى قَطَعَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوالشعثاء کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ ؓ کو دیکھا کہ ایک شخص اذان کے بعد مسجد سے گزرنے لگا یہاں تک کہ مسجد سے باہر نکل گیا، تو انہوں نے کہا: رہا یہ شخص تو اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔

It was narrated from Ashath bin Abi Ash-Shatha that his father said: "I saw Abu Hurairah (RA), when a man passed by in the Masjid until he parted from it - after the call. Abu Hurairah (RA) said: This man has indeed disobeyed Abu Al-Qasim ﷺ".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 683
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٥ (٦٥٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٤٣ (٥٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٦ (٢٠٤)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٧ (٧٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٧)، مسند احمد ٢/٤١٠، ٤١٦، ٤٧١، ٥٠٦، ٥٣٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٢ (١٢٤١) (صحیح )
685Sunan An Nasai

مسجد میں اذان ہونے کے بعدبغیر نماز ادا کئے نکل جانا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، قال: أَخْبَرَنَا أَبُو صَخْرَةَ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قال: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کی اذان ہوجانے کے بعد مسجد سے باہر نکلا، تو ابوہریرہ ؓ نے کہا: اس شخص نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔

Abu Sakhrah narrated that Abu Ash-Shatha said: "A man left the Masjid after the call to prayer had been given, and Abu Hurairah (RA) said: This man has indeed disobeyed Abu Al-Qasim ﷺ".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 684
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٨٤ (صحیح )
686Sunan An Nasai

اذان دینے والا شخص امام کو اطلاع دے کہ جس وقت نماز شروع ہونے لگے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ بِالْإِقَامَةِ، فَيَخْرُجُ مَعَهُ. وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ عشاء سے فارغ ہونے سے لے کر فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے ١ ؎ اور ایک اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ اتنی دیر میں تم میں کا کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے، پھر اپنا سر اٹھاتے، اور جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہوجاتا اور آپ ﷺ پر فجر عیاں اور ظاہر ہوجاتی تو ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آ کر آپ کو خبر کردیتا کہ اب اقامت ہونے والی ہے، تو آپ اس کے ساتھ نکلتے۔ بعض راوی ایک دوسرے پر اس حدیث میں اضافہ کرتے ہیں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "Between the time when he finished Isha prayer and Fajr, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray eleven Rakahs, saying the Taslim after each two Rakahs, then praying Witr as one Rakah. He would prostrate for as long as it takes one of you to recite fifty verses, then he would raise his head. When the Muadhdhin finished the call to Fajr prayer and he could see the dawn, he would pray two brief Rakahs, then he would go out with him". Some of these narrators (Ibn Abi Dhib, Yunus and Amr bin Al-Harith) added some phrases not mentioned by the others in the Hadith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 685
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے صراحت کے ساتھ ایک رکعت کے وتر کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٧٣)، مسند احمد ٦/٣٤، ٧٤، ٨٣، ٨٥، ٨٨، ١٤٣، ٢١٥، ٢٤٨، ویأتي عند المؤلف في السھو ٧٤ (برقم: ١٣٢٩) (صحیح )