جو شخص تنہا نماز ادا کرے اور تکبیر پڑھے
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي صَفِّ الصَّلَاةِ الْحَدِيثَ.
رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
Translation of this Hadeeth is not correct…..Actual translation is not available….
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 667
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مسئی صلا ۃ جلدی جلدی صلاۃ پڑھنے والے شخص والی حدیث ہے جسے مصنف نے درج ذیل تین ابواب: باب الرخص ۃ فی ترک الذکر فی الرکوع، باب الرخص ۃ فی الذکر فی السجود اور باب أقل ما یجزی بہ الصلا ۃ میں ذکر کیا ہے، لیکن ان تینوں جگہوں پر کسی میں بھی اقامت کا ذکر نہیں ہے، البتہ ابوداؤد اور ترمذی نے اس حدیث کی روایت کی ہے اس میں فتوضأ کما امرک اللہ ثم تشہد فأقم کے الفاظ وارد ہیں جس سے حدیث اور باب میں مناسبت ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٦١)، سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٣٠٢) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٤)، مسند احمد ٤/٣٤٠، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٥٧، ٨٥٨، ٨٥٩، ٨٦٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٥٧ (٤٦٠)، ویأتي عند المؤلف: ١٠٥٤، ١١٣٧، ١٣١٤، ١٣١٥ (صحیح )