براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر صلاۃ یعنی رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے ان کے لیے صلاۃ بھیجتے یعنی ان کے حق میں دعا کرتے ہیں، اور مؤذن کو جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے بخش دیا جاتا ہے، اور خشک وتر میں سے جو بھی اسے سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے، اور اسے ان تمام کے برابر ثواب ملے گا جو اس کے ساتھ صلاۃ پڑھیں گے ۔
It was narrated from Al-Bara (RA) bin Azib that the Prophet of Allah said: "Allah and His angels say salah upon the from rows, and the Muadhdhin will be forgiven as far as his voice reaches, and whatever hears him, wet or dry, will confirm what he says, and he will have a reward like that of those who pray with him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 646
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨٨٨)، مسند احمد ٤/٢٨٤، ٢٩٨، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥١ (٩٩٧) (صحیح )
ابو محذورہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اذان دیتا تھا، اور میں فجر کی پہلی اذان ٢ ؎ میں کہتا تھا: حى على الفلاح، الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم، اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ آؤ کامیابی کی طرف، نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
It was narrated that Abu Mahdhurah said: "I used to call the Adhan for the Messenger of Allah ﷺ and in the first Adhan of Fajr I used to Say: Hayya ala al-falah, as-salatu khairun minan-nawm, as-salatu khairun minan-nawm, Allahu Akbar Allahu Akbar, la ilaha illallah (Come to prosperity, prayer is better than sleep, prayer is better than sleep, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 647
Notes · وضاحت
١ ؎: تثویب سے مراد فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کہنا ہے۔ ٢ ؎: پہلی اذان سے مراد اذان ہے، اقامت کو دوسری اذان کہتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ بِلَالٍ، قال: آخِرُ الْأَذَانِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
بلال ؓ کہتے ہیں کہ اذان کا آخری کلمہ اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ ہے۔
It was narrated from Al-Aswad that Bilal (RA) said: "The final words of the Adhan are: Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah)".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 649
اسود کہتے ہیں کہ بلال ؓ کی اذان کے آخری کلمات یہ تھے اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ۔
It was narrated that Al-Aswad said: "The final words of the Adhan of Bilal (RA) were: Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah)".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 650
ابو محذورہ ؓ سے روایت ہے کہ اذان کا آخری کلمہ لا إله إلا اللہ ہے۔
It was narrated that Muharib bin Dithar said: "Al-Aswad bin Yazid narrated to me from Abu Mahdhurah that the final words of the Adhan are: La ilaha illahha (there is none worthy of worship except Allah)".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 652
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ ہمیں قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے خبر دی کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے منادی کو سفر میں بارش کی رات میں حى على الصلاة، حى على الفلاح، صلوا في رحالکم نماز کے لیے آؤ، فلاح (کامیابی) کے لیے آؤ، اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کہتے سنا ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin Aws (RA) said: "A man of Thaqif told us that he heard the caller of the Messenger of Allah ﷺ on a rainy night during a journey saying: Hayya ala as-salah, Hayya ala alfalah, sallu fi rihalikum (Come to prayer, come to prosperity, pray in your dwellings)".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 653
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نماز میں نہ آنے کے اجازت ہے، اور حى على الصلاة میں جو آنا چاہے اس کے لیے آنے کی نداء ہے، دونوں میں کوئی منافات نہیں۔
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی، تو انہوں نے کہا: ألا صلوا في الرحال لوگو سنو! (اپنے) گھروں میں نماز پڑھ لو کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب سرد بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تو وہ کہتا: ألا صلوا في الرحال لوگو سنو! (اپنے) گھروں میں نماز پڑھ لو ۔
It was narrated from Nafi that Ibn Umar (RA) gave a call to prayer on a cold and windy night, and he said: "Pray where you are, for the Prophet ﷺ used to order the Muadhdhin, if it was a cold and rainy night, to say: Pray in your dwellings".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 654
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا (اور آپ سوار ہو کر چلے) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال ؓ نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھائی، پھر بلال ؓ نے اقامت کہی تو آپ ﷺ نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔
Jafar bin Muhammad narrated from his father, that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ traveled until he came to Arafah, where he found that the tent had been pitched for him in Namirah, so he stopped there. Then when the sun had passed its zenith he called for Qaswa[1] and she was saddled for him. Then when he reached the bottom of the valley he addressed the people. Then Bilal called the Adhan, then he said the Iqamah and he prayed Zuhr, then he said the Iqamah and prayed Asr, and he did not offer any prayer in between them." [1] The name of the Prophets ﷺ mount which was a she-camel.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 655
Notes · وضاحت
١ ؎: نمرہ عرفات کی حدود سے پہلے ایک جگہ کا نام ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ (عرفہ سے) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ ﷺ نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ moved until he came to Al-Muzdalifah, where he prayed Maghrib and Isha with one Adhan and two Iqamahs, and he did not offer any prayer in between them".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 656
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر ؓ کے ساتھ مزدلفہ میں تھے، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی، اور ہمیں مغرب پڑھائی، پھر کہا: عشاء بھی پڑھ لی جائے، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی، میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said concerning Ibn Umar (RA): "We were with him (Ibn Umar) in Jam (Muzdalifah), and he called the Adhan, then the Iqamah, then he led us in praying Maghrib. Then he said: The prayer, and he led us in praying Isha, two Rakahs. I said: What is this prayer? He said: This is how I prayed with the Messenger of Allah ﷺ in this place".
صحيح دون قوله ثم قال الصلاة والمحفوظ ثم أقامصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 657
Takhrij · تخریج
انظر حدیث حدیث رقم: ٤٨٢ (صحیح) (لیکن ” ثم قال: الصلاة “ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کی جگہ ” ثم أقام الصلاة “ صحیح ہے، جیسا کہ رقم: ٨٢ میں گزرا) ۔
سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی، پھر ابن عمر ؓ نے (بھی) ایسے ہی کیا تھا، اور ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
It was narrated from Saeed bin Jubair that he prayed Maghrib and Isha in Jam (Muzdalifah) with one Iqamah, then he narrated that Ibn Umar (RA) had done that, and Ibn Umar narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had done that.
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 658
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢ (شاذ) (لیکن ” بإقامة واحدة “ (ایک اقامت سے) کا ٹکڑا شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ ” دو اقامت سے پڑھی “ جیسا کہ رقم: ٤٨٢ میں گزرا )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کیں (اور) ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک اقامت سے پڑھا ١ ؎ اور ان دونوں (نمازوں) سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) joined them (Maghrib and Isha) in Al-Muzdalifah, and he prayed each of them with an Iqamah, and he did not offer any voluntary prayer before or after either of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 660
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہی، اور اس سے پہلے جو روایتیں گزری ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ دونوں کے لیے ایک ہی اقامت کہی، دونوں کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کی تائید جابر ؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسلم میں آئی ہے، اور جس میں بأذان واحد وإقامتین کے الفاظ آئے ہیں، نیز اسامہ ؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے اقیمت الصلو ۃ فصلی المغرب، ثم أناخ کل إنسان بعیرہ فی منزلہ، ثم أقیمت العشاء فصلاہا لہذا مثبت کی روایت کو منفی روایت پر ترجیح دی جائے گی، یا ایک اقامت والی حدیث کی تاویل یہ کی جائے کہ ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین نے غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن ہمیں ظہر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، (یہ (واقعہ) قتال کے سلسلہ میں جو (آیتیں) اتری ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے) چناچہ اللہ عزوجل نے وكفى اللہ المؤمنين القتال اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہوگیا (الاحزاب: ٢٥ ) نازل فرمائی تو رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اسے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے ویسے ہی ادا کیا، جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Saeed that his father said: "On the day of Al-Khandaq the idolators kept us from praying Zuhr until the sun had gone down; that was before the revelation concerning fighting was revealed. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Allah sufficed for the believers in the fighting.[1] The Messenger of Allah ﷺ commanded Bilal to say the Iqamah for Zuhr prayer, and he offered it just as he used to offer it on time. Then he said the Iqamah for Asr and he offered it just as he used to offer it on time. Then he called the Adhan for Maghrib and offered it on time". [1] Al-Ahzab 33:25.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 661
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جنگ خندق (احزاب) کے دن مشرکین نے نبی اکرم ﷺ کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چناچہ آپ نے بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھی، پھر بلال ؓ نے تکبیر کہی تو آپ ﷺ نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔
It was narrated that Abu Ubaidah said: "Abdullah said: The idolators kept the Prophet ﷺ from (offering) four prayers on the day of Al-Khandaq, so he commanded Bilal (RA) to call the Adhan, then he said the Iqamah and prayed Zuhr, then he said the Iqamah and prayed Asr, then he said the Iqamah and prayed the Maghrib, then he said the Iqamah and prayed Isha".
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 662
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٢٣ (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابو عبیدہ “ کا اپنے والد ابن مسعود سے سماع نہیں ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی (پھر) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، (پھر) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی، پھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف گھومے (اور) فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو ۔
Abdullah bin Masud (RA) said: "We were fighting a battle and the idolators kept us from praying Zuhr, Asr, Maghrib and Isha. When the idolators went away, the Messenger of Allah commanded a caller to say Iqamah for Zuhr prayer, and we prayed. Then he said the Iqamah for Asr, and we prayed, and he said the Iqamah for Maghrib and we prayed, and he said the Iqamah for Isha and we prayed. Then we went around among us and said: There is no group on Earth who is remembering Allah, the Mighty and Sublime, except you".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 663
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٢٣ (صحیح) (اس کے راوی ” ابو الزبیر “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، اور ” ابو عبیدہ “ اور ان کے والد ” ابن مسعود “ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہے )
معاویہ بن حدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں (تو پہچان لوں گا) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا: یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ ہیں۔
It was narrated that Muawiyah bin Hudaij that the Meseenger of Allah ﷺ prayed one day and said the Taslim when there was still a Rakah left of the prayer. A man caught up with him and said: You forgot a Rakah of the prayer! So he came back into the Masjid and told Bilal to call the Iqamah for prayer, then he led the people in praying one Rakah. I told the people about that and they said to me: Do you know who that man was? I said: No, not unless I see him. Then he paased by me and I said: This is he. They said: This is Talha bin Ubaidullah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 664
عبداللہ بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا، تو آپ ﷺ نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے ، لوگوں نے دیکھا تو وہ (واقعی) بکریوں کا چرواہا نکلا۔
Translation of this Hadeeth is not correct…..Actual translation is not available….
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 665
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٢٥١)، مسند احمد ٤/٣٣٦، وفي الیوم واللیلة ١٨ (٣٨) (صحیح الإسناد )