Sunan An Nasai 659

اذان کا بیان

659Sunan An Nasai

جو شخص دو وقت کی نماز ایک پڑھے پہلی نماز کے وقت ختم ہونے کے بعد تو اس کو اذان دینا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ. ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ.

سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی، پھر ابن عمر ؓ نے (بھی) ایسے ہی کیا تھا، اور ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔

It was narrated from Saeed bin Jubair that he prayed Maghrib and Isha in Jam (Muzdalifah) with one Iqamah, then he narrated that Ibn Umar (RA) had done that, and Ibn Umar narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had done that.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 658
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢ (شاذ) (لیکن ” بإقامة واحدة “ (ایک اقامت سے) کا ٹکڑا شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ ” دو اقامت سے پڑھی “ جیسا کہ رقم: ٤٨٢ میں گزرا )