Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 61 of 289

1198Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں ادھر ادھر دیکھنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتی ہیں۔

Narrated from Aishah (RA): A similar report was also narrated from Aishah, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1199Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں ادھر ادھر دیکھنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

اس سند سے بھی عائشہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

Narrated from Aishah (RA): A similar report was also narrated from Aishah, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٩٧ (صحیح )
1200Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں ادھر ادھر دیکھنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ وَهُوَ ابْنُ مَعْنٍ، عَنِالْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ، اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الصَّلَاةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا چھینا جھپٹی ہے جسے شیطان نماز میں اس سے کرتا ہے۔

It was narrated that Abu Atiyyah said: "Aishah said: Turning around during prayer is something that the Shaitan snatches from ones prayer".

صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1199
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٩٧، ولکن ہذا الحدیث موقوف علی عائشة (صحیح )
1201Sunan An Nasai

نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: إِنْ كُنْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلَا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا.

جابر ؓ کہتے ہیں (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے، تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر ؓ زور سے تکبیر کہہ کر لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا رہے تھے، (نماز میں) آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے ہمیں دیکھا کہ ہم کھڑے ہیں، آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، اور ہم نے آپ کی امامت میں بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ابھی ابھی تم لوگ فارس اور روم والوں کی طرح کر رہے تھے، وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں، اور وہ بیٹھے رہتے ہیں، تو تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم کھڑے ہو کر پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھیں بھی بیٹھ کر پڑھو ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was ill, and we prayed behind him while he was sitting, and Abu Bakr repeated his takbirs so that the people could hear them. He turned to us and saw us standing, so he gestured to us to sit down. So we prayed behind him sitting. When he said the salam he said: Just now you were doing what the Persians and Romans do for their kings when they are sitting. Do not do that. Follow your Imams: If they pray standing then pray standing, and if they pray sitting then pray sitting".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1200
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ واقعہ مرض الموت والے واقعے سے پہلے کا ہے، مرض الموت والے واقعے میں آپ نے بیٹھ کر امامت کرائی اور لوگوں نے کھڑے ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور آپ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا، اس لیے وہ اب منسوخ ہے، اور نماز میں آپ ﷺ کا التفات کرنا آپ کی خصوصیات میں سے تھا، امت کے لیے آپ کا فرمان حدیث رقم: ١١٩٧ میں گزرا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٦) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٤ (١٢٤٠)، (تحفة الاشراف: ٢٩٠٦)، مسند احمد ٣/٣٣٤ (صحیح )
1202Sunan An Nasai

نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ١ ؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to turn to his right and left when praying, but he did not twist his neck to look behind him".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1201
Notes · وضاحت
١ ؎: اسے نفل نماز پر محمول کرنا اولیٰ ہے، جیسا کہ سنن ترمذی میں انس ؓ کی حدیث میں اس کی صراحت ہے، اور فرض میں بوقت اشد ضرورت ایسا کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٦ (الجمعة ٦٠) (٥٨٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠١٤)، مسند احمد ١/٢٧٥، ٣٠٤ (صحیح )
1203Sunan An Nasai

بحالت نماز سانپ اور بچھو قتل کر ڈالنا درست ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَيَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز (کی حالت) میں دو کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم دیا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded us to kill the two black ones (snakes and scorpions) while praying".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1202
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٦٩ (٩٢١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٩٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٦ (١٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٥١٣)، مسند احمد ٢/٢٣٣، ٢٤٨، ٢٥٥، ٢٧٣، ٢٧٥، ٢٨٤، ٤٩٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٨ (١٥٤٥) (صحیح )
1204Sunan An Nasai

بحالت نماز سانپ اور بچھو قتل کر ڈالنا درست ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ضَمْضَمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں دو کالوں کو مارنے کا حکم دیا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) enjoined killing the two black ones (snakes and scorpions) while praying.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1203
Takhrij · تخریج
أنظر ما قبلہ (صحیح )
1205Sunan An Nasai

بحالت نماز سانپ اور بچھو قتل کر ڈالنا درست ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ رَفَعَهَا.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، اور نماز کی حالت میں (اپنی نواسی) امامہ ؓ کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ سجدہ میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا لیا۔

It was narrated from Abu Qatadah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray carrying Umamah. When he prostrated he put her down and when he stood up he picked her up again.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1204
Takhrij · تخریج
أنظر حدیث رقم: ٧١٢ (صحیح )
1206Sunan An Nasai

بحالت نماز سانپ اور بچھو قتل کر ڈالنا درست ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ، فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ أَعَادَهَا.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کی امامت کر رہے ہیں، اور امامہ بنت ابی العاص ؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں، جب آپ رکوع میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب سجدے سے فارغ ہوئے تو انہیں پھر اٹھا لیا۔

It was narrated that Abu Qatadah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) leading the people in prayer, carrying Umamah bint Abi Al-As on his shoulder. When he bowed he put her down and when he finished prostrating he picked her up again".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1205
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧١٢ (صحیح )
1207Sunan An Nasai

نماز میں چند قدم قبلے کی طرف چلنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَى الْقِبْلَةِ، فَمَشَى عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے دروازہ کھلوانا چاہا، اس وقت رسول اللہ ﷺ نفل نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ قبلہ کی طرف پڑ رہا تھا، آپ اپنے دائیں جانب یا بائیں جانب (چند قدم) چلے، اور آپ نے دروازہ کھولا، پھر آپ اپنی جگہ پر واپس لوٹ آئے۔

It was narrated that Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her, said: "I knocked at the door when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was offering a voluntary prayer. The door was in the direction of the Qiblah so he took a few steps to his right or left and opened the door, then he went back to where he was praying".

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1206
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٦٩ (٩٢٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٤ (الجمعة ٦٨) (٦٠١)، (تحفة الأشراف: ١٦٤١٧)، مسند احمد ٦/٣١، ١٨٣، ٢٣٤) (حسن )
1208Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں دستک دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي الصَّلَاةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔ ابن مثنیٰ نے في الصلاة کا اضافہ کیا ہے (یعنی نماز میں) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Tasbih is for men, and clapping is for women." Ibn Al-Muthanna added: "During the prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1207
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل فی ال صلاة ٥ (١٢٠٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٣ (٤٢٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٣ (٩٣٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٥ (١٠٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤١)، مسند احمد ٢/٢٤١، سنن الدارمی/الصلاة ٩٥ (١٤٠٣) (صحیح )
1209Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں دستک دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔

Saeed bin Al-Musayyab and Abu Salamah bin Abdur-Rahman said that: They heard Abu Hurairah say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The Tasbih is for men and clapping is for women".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1208
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٣ (٤٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٤٩) (صحیح )
1210Sunan An Nasai

بحالت نماز سبحان اللہ کہنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح وَأَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْسُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ (کہنا) مردوں کے لیے ہے، اور دستک دینا عورتوں کے لیے ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The tasbih is for men and clapping is for women".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1209
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٤١٨)، مسند احمد ٢/٢٦١، ٤٤٠، ٤٧٩ (صحیح )
1211Sunan An Nasai

بحالت نماز سبحان اللہ کہنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The tasbih is for men and clapping is for women".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1210
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٤٨٨)، مسند احمد ٢/٢٩٠، ٤٣٢، ٤٧٣، ٤٩٢، ٥٠٧ (صحیح )
1212Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں کھنکارنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةٌ آتِيهِ فِيهَا، فَإِذَا أَتَيْتُهُ اسْتَأْذَنْتُ إِنْ وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَتَنَحْنَحَ دَخَلْتُ، وَإِنْ وَجَدْتُهُ فَارِغًا أَذِنَ لِي.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے، تو میں اندر داخل ہوجاتا، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے۔

It was narrated that Ali said: "I had certain times when I used to come to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). When I came to him I would ask for permission to enter. If I found him praying he would clear his throat and I would enter, and if I found him free he would give me permission (to enter)".

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1211
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ١٧ (٣٧٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٢)، مسند احمد ١/٧٧، ٨٠، ١٠٧، ١٥٠ (ضعیف الإسناد) (عبداللہ بن نجی کا علی ؓ سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے )
1213Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں کھنکارنا

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنِ ابْنِ نُجَيٍّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ: مَدْخَلٌ بِاللَّيْلِ، وَمَدْخَلٌ بِالنَّهَارِ، فَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ بِاللَّيْلِ تَنَحْنَحَ لِي.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس میرے آنے کے دو وقت تھے، ایک رات میں اور ایک دن میں، جب میں رات میں آپ کے پاس آتا (اور آپ نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے) تو آپ میرے لیے کھنکھارتے ١ ؎۔

It was narrated that Ali said: "I had two times when I would enter upon the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), one at night and one during the day. When I entered at night he would clear his throat (to tell me to come in)".

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1212
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھنکھار کر اندر آنے کی اجازت دیتے، اور بعض نسخوں میں تنحنح کے بجائے سبّح ہے، اور یہ زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ کھنکھارنا عدم اجازت کی علامت تھی، یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی دو ہیئت رہی ہو ایک اجازت پر دلالت کرتی رہی ہو، اور دوسری عدم اجازت پر، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢١٢ (ضعیف الإسناد) (سند میں انقطاع ہے )
1214Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں کھنکارنا

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ: كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ، فَكُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ، فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي، وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ.

نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چناچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا السلام عليك يا نبي اللہ اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہوجاتا۔

Abdullah bin Nujayy narrated that his father said: "Ali said to me: I was so close to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), closer than anyone else. I used to come to him at the end of every night, before dawn, and say: "As-salamu alayka ya Nabiyy Allah (Peace be upon you, O Prophet of Allah)." If he cleared his throat I would go back to my family, otherwise I would enter upon him".

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1213
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٢٩٢)، مسند احمد ١/٨٥ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” نجی “ لین الحدیث ہیں )
1215Sunan An Nasai

نماز کے دوران رونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ يَعْنِي: يَبْكِي.

عبداللہ بن الشخیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ کے پیٹ سے ایسی آواز آرہی تھی جیسے ہانڈی ابل رہی ہو یعنی آپ رو رہے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Mutarrif that his father said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was praying, and there was a sound coming from his chest like the sound of water boiling," meaning, he was weeping.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1214
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے نماز میں اللہ کے خوف سے رونے کا جواز ثابت ہوا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٦١ (٩٠٤)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٤ (٣٠٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٧)، مسند احمد ٤/٢٥، ٢٦ (صحیح )
1216Sunan An Nasai

بحالت نماز شیطان پر لعنت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ، يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، ثُمَّ قَالَ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ، وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ، قَالَ: إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ، وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا بِهَا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: أعوذ باللہ منك میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: ألعنک بلعنة اللہ میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار کہا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں، پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح کو اس (کھمبے) سے بندھا ہوا ہوتا، اور اس سے اہل مدینہ کے بچے کھیل کرتے ۔

It was narrated that Abu Ad-Darda said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood praying, and we heard him say: I seek refuge with Allah from you. Then he said: I curse you with the curse of Allah (SWT), three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He said: The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, he would have been tied up this morning for the children of Al-Madinah to play with him".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1215
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٨ (٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٠) (صحیح )
1217Sunan An Nasai

دوران نماز گفتگو کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ کے ساتھ ہم (بھی) کھڑے ہوئے، تو ایک اعرابی نے کہا (اور وہ نماز میں مشغول تھا) : اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا اے اللہ! میرے اوپر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ١ ؎ جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ نے اعرابی سے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کردیا ، آپ اس سے اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔

It was narrated from Abu Salamah that : Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up to pray and we stood up with him. A Bedouin said- while he was praying- O Allah, have mercy on me and Muhammad and do not have mercy on anyone else. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said the Salam, he said to the Bedouin: You have limited something vast," meaning the mercy of Allah (SWT)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1216
Notes · وضاحت
١ ؎: گرچہ یہ جملہ لوگوں کی عام دنیوی باتوں میں سے نہیں ہے، جو نماز میں ممنوع ہیں بلکہ ایک دعا ہے اور نماز میں دعا جائز ہے، لیکن پھر بھی غیر مناسب دعا ہے اس لیے آپ نے اس پر نکیر فرمائی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٢٦٧) (صحیح )