مطلب بن ابی وداعۃ سہمی ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے خانہ کعبہ کا سات چکر لگایا، پھر مقام ابراہیم کے حاشیہ میں اپنے جوتوں کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی (سترہ) نہ تھا ١ ؎۔
Narrated Kathir bin Kathir: It was narrated from Kathir bin Kathir, from his father, that his grandfather said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ circumambulate the House seven times, then he prayed two Rakahs at the edge of the Maqam, and there was nothing between him and the people who were performing Tawaf".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 758
Notes · وضاحت
١ ؎: اولاً: تو یہ حدیث ہی ضعیف ہے، اس سے استدلال درست نہیں، ثانیاً: مقام ابراہیم ہی بطور سترہ کافی تھا، اس اعتبار سے یہ روایت ان لوگوں کی دلیل نہیں بن سکتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مکہ میں سترہ کی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٨٩ (٢٠١٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣٣ (٢٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ١١٢٨٥)، مسند احمد ٦/٣٩٩، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٩٦٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” کثیر بن المطلب “ لین الحدیث ہیں، اسی لیے ان کے بیٹے کثیر بن کثیر ان کا نام حذف کر کے کبھی ” عن بعض أھلہ “ اور کبھی ” عمن سمع جدہ “ کہا کرتے تھے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے اور قبلہ کے بیچ آپ کے بستر پر چوڑان میں سوئی رہتی تھی، تو جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے جگاتے، تو میں (بھی) وتر پڑھتی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺused to pray at night while I was lying down sleeping between him and the Qiblah on his bed. When he wanted to pray witr he would wake me up and I would pray witr".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 759
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣ ١٠ (٥١٢)، الوتر ٣ (٩٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٣١٢)، مسند احمد ٦/٥٠، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٢٢ (٣٨٣)، ١٠٤ (٥١٣)، ١٠٧ (٥١٨)، العمل في الصلاة ١٠ (١٢٠٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٢ (٧١٢)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ١ (٢)، مسند احمد ٦/٥٠، ١٩٢، ٢٠٥، ٢٣١، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٧ (١٤٥٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے گھر ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، میں نے اسے گھر کے ایک روشندان پر لٹکا دیا تھا، رسول اللہ ﷺ اس کی طرح (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! اسے میرے پاس سے ہٹا دو ، تو میں نے اسے اتار لیا، اور اس کے تکیے بنا ڈالے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "In my house there was a cloth on which there were images, which I covered a closet which is in the house, and the Messenger of Allah ﷺ used to pray toward it. Then he said: 0 Aishah, take it away from me. So I removed it and made pillows out of it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 761
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٤)، مسند احمد ٦/١٧٢، سنن الدارمی/الاستئذان ٣٣ (٢٧٠٤)، ویأتی عند المؤلف في الزینة فی المجتبی ١١١ (برقم: ٥٣٥٦) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چٹائی تھی جسے آپ دن میں بچھایا کرتے تھے، اور رات میں اس کو حجرہ نما بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے، لوگوں کو اس کا علم ہوا تو آپ کے ساتھ وہ بھی نماز پڑھنے لگے، آپ کے اور ان کے درمیان وہی چٹائی حائل ہوتی، آپ ﷺ نے فرمایا: (اتنا ہی) عمل کرو جتنا کہ تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں تھکے گا البتہ تم (عمل سے) تھک جاؤ گے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر مداومت ہو گرچہ وہ کم ہو ، پھر آپ ﷺ نے وہ جگہ چھوڑ دی، اور وہاں دوبارہ نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ جب کوئی کام کرتے تو اسے جاری رکھتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ had a mat which he would spread in the day and make into a small booth at night to pray in it. The people found out about that and they prayed when he prayed, with the mat in between him and them. He said: Do as much of good deeds as you can, for Allah does not get tired (of giving reward) until you get tired. And the most beloved of deeds to Allah are those that are continuous, even if they are few. Then he stopped that prayer and did not return to it until Allah took him (in death), and if he started to do something he would persist in it".
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 762
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨١ (٧٣٠) مختصراً، اللباس ٤٣ (٥٨٦١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٠ (٧٨٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٧ (١٣٦٨) (من قولہ: اکلفوا من العمل الخ)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٦ (٩٤٢) مختصراً، (تحفة الأشراف: ١٧٧٢٠)، مسند احمد ٦/٤٠، ٦١، ٢٤١، (ولیس قولہ: ” ثم ترک م صلاة ۔۔۔ حتی قبضہ اللہ “ عند أحد سوی المؤلف (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that someone asked the Messenger of Allah ﷺ about praying in a single garment, and he said: "Does everyone of you have two garments"?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 763
عمر بن ابوسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے گھر میں ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔
Narrated Umar bin Abi Salamah (RA): It was narrated from Umar bin Abi Salamah that he saw Messenger of Allah ﷺ praying in a single garment in the house of Umm Salamah, putting the ends of it on his shoulders".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 764
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (ہاں پڑھ لو) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو ۔
It was narrated that Salamah bin Al-Akwa said: " I said: O Messenger of Allah, I go hunting wearing nothing but a single shirt. Can I pray in it? He said: Fasten it to yourself even with a thorn".
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بچوں کی طرح اپنا تہبند باندھے نماز پڑھ رہے تھے، تو عورتوں سے (جو مردوں کے پیچھے پڑھ رہی تھیں) کہا گیا کہ جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو نہ اٹھاؤ۔
It was narrated that Sahl bin Sad (RA) said: "Some men used to pray with Messenger of Allah ﷺ tying their lower garments tight like children, it was said to the women: Do not raise your heads until the men have sat up completely".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 766
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦ (٣٦٢)، الأذان ١٣٦ (٨١٤)، العمل في الصلاة ١٤ (١٢١٥)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٩ (٤٤١)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٩ (٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ٤٦٨١)، مسند احمد ٣/٤٣٣، ٥/٣٣١ (صحیح )
عمرو بن سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ جب میرے قبیلہ کے لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے لوٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے: تم میں جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے ، تو ان لوگوں نے مجھے بلا بھیجا، اور مجھے رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا تو میں ان لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، میرے جسم پر ایک پھٹی چادر ہوتی، تو وہ لوگ میرے والد سے کہتے تھے کہ تم ہم سے اپنے بیٹے کی سرین کیوں نہیں ڈھانپ دیتے؟۔
It was narrated that Amr bin Salamah (RA) said: "When my people came back from the Prophet ﷺ they said that he had said: Let the one who recites the Quran most lead you in prayer. So they called me and taught me how to bow and prostrate, and I used to lead them in prayer, wearing a torn cloak, and they used to say to my father: Will you not conceal your sons backside from us"?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 767
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے پہلو میں ہوتی، اور میں حائضہ ہوتی، اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ رسول اللہ ﷺ پر (بھی) ہوتا۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺused to pray at night when I was beside him and I was menstruating, and there was a garment over me, part of which was over Messenger of Allah ﷺ".
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 768
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one of you should pray in a single garment with no part of it on his shoulder".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 769
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک ریشمی قباء ہدیے میں دی گئی، تو آپ نے اسے پہنا، پھر اس میں نماز پڑھی، پھر جب آپ نماز پڑھ چکے تو اسے زور سے اتار پھینکا جیسے آپ اسے ناپسند کر رہے ہوں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اہل تقویٰ کے لیے یہ مناسب نہیں ۔
It was narrated that Uqbah bin Amir said: "A silken Farruj was presented to the Messenger of Allah ﷺ and he put it on and offered the prayer in it, then when he had finished the prayer he tore it off as if he disliked it and said: This is not befitting for those who have Taqwa".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 770
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ان بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کردیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اور اس کے عوض کوئی سادی چادر لے آؤ۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ prayed in a khamisah that had markings, then he said: "These markings distracted me. Take it to Abu Jahm and bring me his Anbijani (a woolen garment with no markings)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 771
ابوحجیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سرخ جوڑے میں نکلے، اور آپ نے اپنے سامنے ایک برچھی گاڑی، پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، اور اس کے پیچھے سے کتے، عورتیں اور گدھے گزرتے رہے۔
It was narrated from Awn bin Abi Juhaifah, from his father that, the Messenger of Allah ﷺ went out in a red Hullah, and he set up a short spear (Anazah) and prayed facing toward it, while dogs, women and donkeys were passing beyond it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 772
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم ابوالقاسم ﷺ دونوں جسم سے لگے ایک ہی کپڑے میں سوتے اور میں حائضہ ہوتی، اگر مجھ سے آپ کو کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ جتنی جگہ میں لگتا اسی کو دھو لیتے اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر میرے ساتھ لیٹتے، اگر پھر مجھ سے کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ پھر ویسے ہی کرتے، اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے۔
Khilas bin Amr said: "I heard Aishah (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ, Abu Al-Qasim, and I were beneath a single blanket, and I was menstruating. If something got on him from me, he would wash whatever had got on him and he did not wash anywhere else, and he prayed in it then came back to me.And if anything got on him from me,he would do exactly the same and he did not wash anywhere else".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 773
Notes · وضاحت
١ ؎: شعار: اس کپڑے کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم سے ملا ہوا ہوتا ہے، جیسے کرتے کے نیچے بنیان، یا بغیر بنیان کے کرتا اور چادر وغیرہ، یہاں چادر ہی مراد ہے۔
ہمام کہتے ہیں کہ میں نے جریر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا پھر پانی منگایا، اور وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Hammam said: "I saw Jarir urinate, then he called for water and performed wudu, and wiped over his Khuffs, then he stood up and prayed. He was asked about that and he said: I saw the Prophet ﷺ do exactly like this".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 774
ابوسلمہ (ان کا نام سعید بن یزید بصریٰ ہے اور وہ ثقہ ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں (پڑھتے تھے) ۔
Abu Maslamah - whose name is Saeed bin Yazid, a trustworthy Basri - told us: "I asked Anas bin Malik (RA) : Did the Prophet ﷺ pray in sandals? He said: Yes".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 775
عبداللہ بن سائب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح (مکہ) کے دن نماز پڑھی، تو آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin As Saib (RA) that the Messenger of Allah ﷺ prayed on the day of Conquest (of Makkah), and he put his sandals to his left.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 776
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ نبی اکرم ﷺ امام تھے، آپ کے بائیں جانب کوئی نہیں تھا اس لیے آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں رکھا، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی بائیں جانب ہو تو بائیں بھی جوتا نہیں رکھنا چاہیئے کیونکہ تمہارا بایاں دوسرے شخص کا دایاں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٨٩ (٦٤٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٢٠٥ (١٤٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٤)، مسند احمد ٣/٤١٠ (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو انصار کہنے لگے: ایک امیر ہم (انصار) میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے، تو عمر ؓ ان کے پاس آئے، اور کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ١ ؎، تو اب بتاؤ ابوبکر ؓ سے آگے بڑھنے پر تم میں سے کس کا جی خوش ہوگا؟ ٢ ؎ تو لوگوں نے کہا: ہم ابوبکر ؓ سے آگے بڑھنے پر اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ٣ ؎۔
It was narrated that Abdullah (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ passed away, the Ansar said: Let there be an Amir from among us and an Amir from among you. Then Umar (RA) came to them and said: Do you not know that the Messenger of Allah ﷺ commanded Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer? Who among you could accept to put himself ahead of Abu Bakr? They said: We seek refuge with Allah from putting ourselves ahead of Abu Bakr".
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 777
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ امامت کے لیے صاحب علم وفضل کو آگے بڑھانا چاہیئے۔ ٢ ؎: اس سے صحابہ کرام ؓ نے سمجھا کہ امامت صغریٰ کے لیے رسول اللہ ﷺ کا ابوبکر ؓ کو آگے بڑھانا اس بات کا اشارہ تھا کہ وہی امامت کبریٰ کے بھی اہل ہیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زیادہ علم والا، زیادہ قرآن پڑھنے والے پر مقدم ہوگا، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابی بن کعب ؓ کے متعلق اقرأکم أبی فرمایا ہے، اس کے باوجود آپ نے ابوبکر ؓ کو امامت کے لیے مقدم کیا۔ ٣ ؎: اس کے بعد ابوبکر ؓ کی خلافت پر انصار ؓ بھی راضی ہوگئے۔