Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 38 of 289

739Sunan An Nasai

جائے نماز پر نماز ادا کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھجور کی چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔

It was narrated from Maimunah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to pray on a mat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 738
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٣٠ (٣٣٣)، الصلاة ١٩ (٣٧٩)، ٢١ (٣٨١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة ٦٣ (١٠٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٢)، مسند احمد ٦/٣٣٠، ٣٣٥، ٣٣٦، سنن الدارمی/الصلاة ١٠١ (١٤١٣) (صحیح )
740Sunan An Nasai

منبر پر نماز ادا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّ هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأُرْسِلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيَ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي.

ابوحازم بن دینار کہتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی ؓ کے پاس آئے وہ لوگ منبر کی لکڑی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کی تھی؟ ان لوگوں نے سہیل ؓ اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ یہ منبر کس لکڑی کا تھا، میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا تھا جس دن وہ رکھا گیا، اور جس دن رسول ﷺ پہلے پہل اس پر بیٹھے (ہوا یوں تھا) کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت (سہل ؓ نے اس کا نام لیا تھا) کو کہلوا بھیجا کہ آپ اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے کہیں کہ وہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو اس طرح بنا دے کہ جب میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کروں تو اس پر بیٹھ سکوں، تو اس عورت نے غلام سے منبر بنانے کے لیے کہہ دیا، چناچہ غلام نے جنگل کے جھاؤ سے اسے تیار کیا، پھر اسے اس عورت کے پاس لے کر آیا تو اس نے اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیج دیا گیا، آپ ﷺ کے حکم پر اسے یہاں رکھا گیا، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اس پر چڑھے، اور اس پر نماز پڑھی، آپ نے اللہ اکبر کہا، آپ اسی پر تھے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور آپ اسی پر تھے، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کے پایوں کے پاس سجدہ کیا، پھر آپ نے دوبارہ اسی طرح کیا، تو جب آپ فارغ ہوگئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کرسکو، اور (مجھ سے) میری نماز سیکھ سکو ۔

Abu Hazim bin Dinar narrated that some men came to Sahl (RA) bin Sad As-Saidi. They were wondering what kind of wood the Minbar was made of, so they asked him about that. He said: "By Allah, I know what it is made of. I saw it the first day it was set up and the first day the Messenger of Allah ﷺ sat on it. The Messenger of Allah ﷺ sent word to so-and-so" - a woman whose name Sahl mentioned - "telling her: Tell your carpenter slave to make me something of wood that I can sit on when I speak to the people. So she told him, and he made it from tamarisk wood from Al-Ghabah (a place near Al-Madinah). Then he brought it and it was sent to the Messenger of Allah ﷺ, who commanded that it be set up here. Then I saw the Messenger of Allah ﷺ ascend it and praying on it, and saying the Takbir while he was on top of it, then he bowed when he was on top of it, then he came down backward and prostrated at the base of the Minbar, then he went back. When he had finished he turned to face the people and said: O people, I only did this so that you can follow me in prayer and learn how I pray".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 739
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٧)، ٦٤ (٤٤٨)، الجمعة ٢٦ (٩١٧)، البیوع ٣٢ (٢٠٩٤)، صحیح مسلم/المساجد ١٠ (٥٤٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢١ (١٠٨٠)، (تحفة الأشراف: ٤٧٧٥)، مسند احمد ٥/٣٣٩، سنن الدارمی/الصلاة ٤٥ (١٢٩٣) (صحیح )
741Sunan An Nasai

گدھے پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور آپ کا رخ خیبر کی طرف تھا۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ praying on a donkey, when he was heading toward Khaibar".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 740
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٧ (١٢٢٦)، موطا امام مالک/السفر ٧ (٢٥)، (تحفة الأشراف: ٧٠٨٦)، مسند احمد ٢/٧، ٤٩، ٥٢، ٥٧، ٧٥، ٨٣، ١٢٨ (صحیح )
742Sunan An Nasai

گدھے پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ رَاكِبٌ إِلَى خَيْبَرَ وَالْقِبْلَةُ خَلْفَهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى عَلَى قَوْلِهِ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ الصَّوَابُ، مَوْقُوفٌ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ سوار ہو کر خیبر کی طرف جا رہے تھے، اور قبلہ آپ کے پیچھے تھا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے کہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن یحییٰ کی ان کے قول يصلي على حمار میں متابعت کی ہو ١ ؎ اور یحییٰ بن سعید کی حدیث جو انس ؓ سے مروی ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ موقوف ہے ٢ ؎ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that he saw the Messenger of Allah ﷺ praying on a donkey while he was riding, praying toward Khaibar with the Qiblah behind him. Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: We do not know of anyone who reported anything to support what Amr bin Yahya said about praying on a donkey. As for the Hadith of Yahya bin Saeed from Anas, what is correct is that it is Mawquf. [1] And Allah knows best. [1] That is a saying or action of a Companion of the Prophet ﷺ.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 741
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کا یہ قول ابن عمر ؓ کی پچھلی حدیث سے متعلق ہے، اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عمرو بن یحییٰ کے سوا دیگر رواۃ نے حمار کی جگہ مطلق سواری (راحلتہ ) کا ذکر کیا ہے، اور بعض روایات میں اونٹ کی صراحت ہے، یعنی آپ ﷺ اس وقت اونٹ پر سوار تھے نہ کہ گدھے پر، لیکن نووی نے دونوں روایتوں کو صحیح قرار دیا ہے کہ کبھی آپ اونٹ پر سوار ہوئے اور کبھی گدھے پر، اور اس سے اصل مسئلے میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سواری کی حالت میں آپ ﷺ نے وتر یا نفل پڑھی ہے۔ ٢ ؎: صحیح مسلم میں تو اس کی صراحت موجود ہے کہ لوگوں نے انس ؓ کو گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھتے دیکھا تو سوال کیا، اس پر انہوں نے صراحتاً کہا: اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا تو ایسا نہیں کرتا اس لیے ان کی روایت کو محض ان کا فعل قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ١٠ (١١٠٠)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٧ (٢٦) (حسن صحیح )
743Sunan An Nasai

بیت اللہ شریف کی طرف چہرہ کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَمَرَّ رَجُلٌ قَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَانْحَرَفُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سولہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب نماز پڑھی، پھر آپ خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیئے گئے، ایک شخص جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کا رخ کعبہ کی طرف کردیا گیا ہے، وہ لوگ (یہ سنتے ہی نماز کی حالت میں) کعبہ کی طرف پھرگئے۔

Narrated Al Bara (RA) bin Azib: The Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah and prayed toward Bait-al-Maqdis for sixteen months, then he was commanded to pray toward the Kabah. A man who had prayed with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by some of the Ansar and said: "I bear witness that the Messenger of Allah ﷺ has been commanded to face toward the Kabah. So they turned to face the Kabah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 742
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٩٠ (صحیح )
744Sunan An Nasai

کون سے وقت بیت اللہ شریف کی جانب چہرہ کرنا لازم نہیں ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ. قَالَ مَالِكٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے خواہ وہ کسی بھی طرف متوجہ ہوجاتی۔ مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار کا کہنا ہے کہ ابن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to pray atop his mount while travelling, facing whatever direction it was facing". (One of the narrators) Malik said: "Abdullah bin Dinar said: and Ibn Umar (RA) used to do likewise".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 743
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٩٣ (صحیح )
745Sunan An Nasai

کون سے وقت بیت اللہ شریف کی جانب چہرہ کرنا لازم نہیں ہے

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهُ بِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر نماز پڑھتے خواہ وہ کسی بھی طرف آپ کو لے کر متوجہ ہوتی، وتر بھی اسی پر پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔

It was narrated that Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to pray atop his mount while traveling, facing whatever direction it was facing, and he would pray witr atop it, but he did not pray the prescribed prayers atop it ".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 744
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٩١ (صحیح )
746Sunan An Nasai

اگر ایک آدمی نے غور کر کے بیت اللہ شریف کی جانب نماز ادا کی پھر علم ہوا قبلہ اس جانب نہیں تھا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْأُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگ مسجد قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آج رات رسول اللہ ﷺ پر کچھ قرآن نازل ہوا ہے، اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ قبلہ (کعبہ) کی طرف رخ کریں، تو ان لوگوں نے کعبہ کی طرف رخ کرلیا، اور حال یہ تھا کہ ان کے چہرے شام کی طرف تھے تو وہ کعبہ کی طرف (جنوب کی طرف) گھوم گئے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "While the people were in Quba praying Subh prayer, someone came to them and said that revelation had come to Messenger of Allah ﷺ the night before, and he had been commanded to face Kabah. So face toward it. They had been facing toward Ash-Sham, so they turned to face toward Kabah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 745
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ تحری اور اجتہاد کے بعد آدمی نماز شروع کرے پھر نماز کے دوران ہی اسے غلط سمت میں نماز پڑھنے کا علم ہوجائے تو اپنا رخ پھیر کر صحیح سمت کی طرف کرلے، اور لاعلمی میں جو حصہ پڑھ چکا ہے اسے دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٩٤ (صحیح )
747Sunan An Nasai

نمازی شخص کے سترہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي، فَقَالَ: مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے غزوہ تبوک میں نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کی بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked during the campaign of Tabuk about the Sutra of one who is praying. He said: "Something as high as the back of a camel saddle".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 746
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٩٥) (صحیح )
748Sunan An Nasai

نمازی شخص کے سترہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَيَرْكُزُ الْحَرْبَةَ ثُمَّ يُصَلِّي إِلَيْهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (اپنے سامنے) نیزہ گاڑتے تھے، پھر اس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے۔

Narrated Ibn Umar (RA): It was narrated from Ibn Umar concerning the Messenger of Allah ﷺ he said: "He used to set up a short spear then pray facing toward it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 747
Notes · وضاحت
١ ؎: کھلا میدان ہو یا بند مکان، حتیٰ کہ مسجد میں بھی امام اور منفرد سب کے لیے سترہ فرض ہے، مساجد میں دیوار، کھمبا یا کسی آدمی ہی کو سہی سترہ بنا لے، تو وہ آدمی اس کی نماز ختم ہونے تک اس کے سامنے بیٹھا رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٩٢ (٤٩٨)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٨١٧٢)، مسند احمد ٢/١٣، ١٨، ١٤٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٤ (١٤٥٠) (صحیح )
749Sunan An Nasai

نمازی کو سترہ کے قریب کھڑے ہو کر نماز پڑھنا چاہئے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ، فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعَ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ.

سہل بن ابو حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھے، تو اس سے قریب رہے کہ شیطان اس کی نماز باطل نہ کرسکے ۔

It was narrated that Sahl bin Abi Hathmah said: "When anyone of you prays toward a Sutra, let him get close to it and not allow the Shaitan to sever his prayer for him".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 748
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٠٧ (٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ٤٦٤٨)، مسند احمد ٤/٢ (صحیح )
750Sunan An Nasai

نمازی شخص کو سترہ سے کس قدر فاصلہ پر کھڑا ہونا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً، عَلَيْهُ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ: مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَجَعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی ؓ چاروں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم ﷺ نے دروازہ بند کرلیا، عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ نکلے تو میں نے بلال ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے (کعبہ کے اندر) کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے ایک کھمبا (ستون) اپنے بائیں طرف کیا، دو کھمبے اپنے دائیں طرف، اور تین کھمبے اپنے پیچھے، (ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر تھا) پھر آپ نے نماز پڑھی، اور اپنے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رکھا ١ ؎۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA): It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ entered the Kabah with Usamah bin Zaid, Bilal and Uthman bin Talha al Hajabi (RA), and locked the door behind him. Abdullah bin Umar said: "I asked Bilal (RA) when he came out: " What did the Messenger of Allah ﷺ do"? He said: "He stood with one pillar to his left, two pillars to his right and three pillars behind him - at that time the House stood on six pillars - and he prayed with approximately three forearms length between him and the wall".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 749
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نمازی اپنے اور سترہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ رکھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٩٣ (صحیح )
751Sunan An Nasai

بحالت نماز کونسی شے کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور کونسی شے سے نہیں

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْأَبِي ذَرٍّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ قَائِمًا يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ. قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَحْمَرِ ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو جب اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز ہو تو وہ اس کے لیے سترہ ہوجائے گی، اور اگر کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا اس کی نماز باطل کر دے گا ۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر ؓ سے پوچھا: پیلے اور لال رنگ کے مقابلہ میں کالے (کتے) کی کیا خصوصیت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جس طرح آپ نے مجھ سے پوچھا ہے میں نے بھی یہی بات رسول اللہ ﷺ سے پوچھی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you stands to pray, then he is screened if he has in front of him something as high as the back of a camel saddle. If he does not have something as high as the back of a camel saddle in front of him, then his prayer is nullified by a woman, a donkey or a black dog". I (one of the narrators)said: "What is the difference between a black dog, a yellow one and a red one"? He said: I asked the Messenger of Allah ﷺ just like you and he said:"The black dog is a shaitan".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 750
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے اسے ظاہر پر محمول کیا ہے، اور کہا ہے کہ ان چیزوں کے گزرنے سے واقعی نماز باطل ہوجائے گی، لیکن جمہور نے اس کی تاویل کی ہے اور کہا ہے کہ باطل ہونے سے مراد نماز میں نقص ہے کیونکہ ان چیزوں کی وجہ سے دل نماز کی طرف پوری طرح سے متوجہ نہیں ہو سکے گا اور نماز کے خشوع و خضوع میں فرق آجائے گا، اور کچھ لوگوں نے اس روایت ہی کو منسوخ مانا ہے۔ ٢ ؎: بعض لوگوں نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ شیطان کالے کتے کی شکل اختیار کرلیتا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ وہ دوسرے کتوں کے بالمقابل زیادہ ضرر رساں ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کہا گیا ہے (واللہ اعلم)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥٠ (٥٠١)، سنن ابی داود/فیہ ١١٠ (٧٠٢)، سنن الترمذی/فیہ ١٣٧ (٣٣٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٨ (٩٥٢) مختصراً، (تحفة الأشراف: ١١٩٣٩)، مسند احمد ٥/١٤٩، ١٥١، ١٥٥، ١٥٨، ١٦٠، ١٦١، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٨ (١٤٥٤) (صحیح )
752Sunan An Nasai

بحالت نماز کونسی شے کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور کونسی شے سے نہیں

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ. قَالَ يَحْيَى: رَفَعَهُ شُعْبَةُ.

قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن زید سے پوچھا: کون سی چیز نماز کو باطل کردیتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس ؓ کہتے تھے: حائضہ عورت اور کتا۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔

It was narrated that Qatadah (RA) said: "I said to Jabir bin Zaid: "What invalidates prayer"? He said: "Ibn Abbas (RA) used to say: A menstruating woman and a dog". (One of the narrators)Yahya said: "Shubah said it was a marfu report".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 751
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١١٠ (٧٠٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٨ (٩٤٩)، مسند احمد ١/٤٣٧، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٩)، (من طریق شعبة مرفوعاً ) (صحیح )
753Sunan An Nasai

بحالت نماز کونسی شے کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور کونسی شے سے نہیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ لَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ، فَلَمْ يَقُلْ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: میں اور فضل دونوں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، اور رسول اللہ ﷺ عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے (پھر انہوں نے ایک بات کہی جس کا مفہوم تھا:) تو ہم صف کے کچھ حصہ سے گزرے، پھر ہم اترے اور ہم نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ نہیں کہا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "Al-Fadl and I came riding a female donkey of ours, and the Messenger of Allah ﷺ was leading the people at Arafat". Then he said something to that effect. "We passed by part of the row, and then we dismounted and left the donkey grazing, and the Messenger of Allah ﷺ did not say anything to us".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 752
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس پر رسول اللہ ﷺ نے ہماری کوئی سرزنش نہیں کی، کیونکہ امام مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے، اور وہ دونوں صف کے کچھ ہی حصہ سے گزرے تھے، امام کو عبور نہیں کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ١٨ (٧٦)، الصلاة ٩٠ (٤٩٣)، الأذان ١٦١ (٨٦١)، جزاء الصید ٢٥ (١٨٥٧)، المغازي ٧٧ (٤٤١٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٤)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٣ (٧١٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٦ (٣٣٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٨ (٩٤٧)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٤)، موطا امام مالک/السفر ١١ (٣٨)، مسند احمد ١/٢١٩، ٢٦٤، ٢٦٥، ٣٣٧، ٣٤٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٩ (١٤٥٥) (صحیح )
754Sunan An Nasai

بحالت نماز کونسی شے کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور کونسی شے سے نہیں

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، قال: زَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَلَنَا كُلَيْبَةٌ وَحِمَارَةٌ تَرْعَى، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمْ يُزْجَرَا وَلَمْ يُؤَخَّرَا.

فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ایک بادیہ میں عباس ؓ سے ملنے آئے، وہاں ہماری ایک کتیا موجود تھی، اور ہماری ایک گدھی چر رہی تھی، نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی، اور وہ دونوں آپ کے آگے موجود تھیں، تو انہیں نہ ہانکا گیا اور نہ ہٹا کر پیچھے کیا گیا۔

It was narrated that Al-Fadl bin Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ visited Al Abbas in some land of ours outside the city, and we had a small dog and a donkey which was grazing. The Messenger of Allah ﷺ prayed Asr and they were in front of him, and they were not shooed away or pushed away".

منکر ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 753
Takhrij · تخریج
(اس کے راوی ” محمد بن عمر “ لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت ثقات کی روایات کے خلاف ہے) (منکر) سنن ابی داود/الصلاة ١١٤ (٧١٨)، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٥)، مسند احمد ١/٢١١، ٢١٢
755Sunan An Nasai

بحالت نماز کونسی شے کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور کونسی شے سے نہیں

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ الْحَكَمَ أَخْبَرَهُ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ يُحَدِّثُ، عَنْ صُهَيْبٍ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُمَرَّ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَنَزَلُوا وَدَخَلُوا مَعَهُ فَصَلَّوْا وَلَمْ يَنْصَرِفْ، فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ تَسْعَيَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ فَفَرَعَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَنْصَرِفْ.

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور بنی ہاشم کا ایک لڑکا دونوں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے ایک گدھے پر سوار ہو کر گزرے، آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ دونوں اترے اور آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، پھر ان لوگوں نے نماز پڑھی اور آپ نے نماز نہیں توڑی، اور ابھی آپ نماز ہی میں تھے کہ اتنے میں بنی عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں، اور آپ کے گھٹنوں سے لپٹ گئیں، آپ نے ان دونوں کو جدا کیا، اور نماز نہیں توڑی ١ ؎۔

It was narrated that Suhaib said: "I heard Ibn Abbas(RA) narrate that he passed in front of the Messenger of Allah ﷺ, he and a young boy of Banu Hashim, riding a donkey in front of the Messenger of Allahﷺ when he was praying. Then they dismounted and joined the prayer, and he did not stop praying. Then two young girls of Banu Abdul-Muttalib started running around and grabbing him by the knees. He separated them but he did not stop praying".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 754
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ گدھے کے گزرنے سے لوگوں نے نماز میں کوئی حرج نہیں سمجھا، اسی لیے بعض علماء نے گدھے کو نماز باطل کرنے والی چیزوں میں سے مستثنیٰ کردیا ہے، لیکن ابوذر ؓ کی حدیث (رقم: ٧٥١ ) اس باب میں واضح اور قاطع ہے، نیز یہ قطعی نہیں ہے کہ ابن عباس ؓ کا گدھا چھوڑ دینے کے بعد امام کے آگے سے گزرا بھی ہو، بلکہ حدیث (رقم: ٧٥٣ ) سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ صف کے کچھ ہی حصہ تک گدھا بھی محدود رہا، اور دونوں بچیاں چونکہ ابھی بالغ نہیں ہوئی تھیں اس لیے ان کے گزرنے سے کوئی حرج نہیں سمجھا گیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١١٣ (٧١٦، ٧١٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦٨٧)، مسند احمد ١/٢٣٥، ٣٤١ (صحیح )
756Sunan An Nasai

بحالت نماز کونسی شے کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور کونسی شے سے نہیں

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ كَرِهْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ انْسَلَلْتُ انْسِلَالًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے تھی، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو جب میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے یہ بات ناگوار لگی کہ میں اٹھ کر آپ کے سامنے سے گزروں تو میں دھیرے سے سرک گئی ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "I was in front of the Messenger of Allah ﷺ when he was praying, and when I wanted to leave I did not want to get up and pass in front of him, so I just slipped away slowly and quietly".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 755
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تو عائشہ ؓ چارپائی پر سوئی ہوئی تھیں (جس کو آپ نے سترہ بنایا ہوا تھا) دوسرے وہ آپ کے آگے گزری نہیں بلکہ سرک گئی تھیں، مرور کہتے ہیں ایک جانب سے دوسری جانب تک یعنی ادھر سے ادھر تک گزرنا، اور السلال کہتے ہیں کہ ایک ہی جانب سے سرک جانا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٩٩ (٥٠٨)، ١٠٢ (٥١١)، ١٠٥ (٥١٤)، الاستئذان ٣٧ (٦٢٧٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٨٧)، مسند احمد ٦/١٧٤، ٢٦٦ (صحیح )
757Sunan An Nasai

سترہ کے اور نماز کے درمیان سے نکل جانے کی وعید

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ.

بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم ؓ کے پاس بھیجا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ انہوں نے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو کیا کہتے سنا ہے؟ تو ابوجہیم ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو وہ چالیس (دن، مہینہ یا سال) تک کھڑا رہنے کو بہتر اس بات سے جانتا کہ وہ اس کے سامنے سے گزرے ۔

Narrated Busr bin Saeed: It was narrated from Busr bin Saeed said that Zaid bin Khalid sent him to Abu Juhaim to ask him what he had heard the Messenger of Allah ﷺ say about one who passes in front of a person who is praying? Abu Juhaim said: "The Messenger of Allah ﷺsaid: "If the one who passes in front of a person who is praying knew what (burden of sin) there is on him, standing for forty would be better for him than passing in front of him".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 756
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠١ (٥١٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٧)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٩ (٧٠١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٥ (٣٣٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٧ (٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٤)، موطا امام مالک/السفر ١٠ (٣٤)، مسند احمد ٤/١٦٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٠ (١٤٥٧) (صحیح )
758Sunan An Nasai

سترہ کے اور نماز کے درمیان سے نکل جانے کی وعید

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے نہ دے، اگر وہ نہ مانے تو اسے سختی سے دفع کرے ۔

Narrated Abu Saeed (RA): It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ said: "If anyone of you is praying, he should not let anyone pass in front of him, and if he insists (on passing) then let him fight him".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 757
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٥)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٨ (٦٩٧، ٦٩٨) مطولاً، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣٩ (٩٥٤) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٤١١٧)، موطا امام مالک/السفر ١٠ (٣٣)، مسند احمد ٣/٣٤، ٤٣، ٤٩، ٥٧، ٩٣، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٥ (١٤٥١) (صحیح )