سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا آپ نے جابر ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں کچھ تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ان کی پیکان پکڑ کر رکھو ، تو عمرو نے کہا: جی ہاں (سنا ہے) ۔
Sufyan said: "I said to Amr: Did you hear Jabir say: "A man passed through the Masjid carrying arrows, and the Messenger of Allah ﷺ said to him: Hold then by the blades? He said: Yes".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 718
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦٦ (٤٥١)، الفتن ٧ (٧٠٧٣)، صحیح مسلم/البر والصلة والآداب ٣٤ (٢٦١٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأدب ٥١ (٣٧٧٧، ٣٧٧٨)، (تحفة الأشراف: ٢٥٢٧)، مسند احمد ٣/٣٠٨، ٣٥٠، سنن الدارمی/المقدمة ٥٣ (٦٥٧)، الصلاة ١١٩ (١٤٤٢) (صحیح )
اسود کہتے ہیں کہ میں اور علقمہ دونوں عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے، تو آپ نے ہم سے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، تو آپ نے کہا: اٹھو نماز پڑھو، ہم چلے تاکہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوں، تو آپ نے ہم میں سے ایک کو اپنی داہنی طرف، اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف کرلیا، پھر بغیر کسی اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرلیتے، اور دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے بیچ کرلیتے ١ ؎، اور (نماز کے بعد) کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
It was narrated that Al-Aswad said: "Alqamah and I entered upon Abdullah bin Masud (RA) and he said to us: Have these people prayed? We said: No. He said: Get up and pray. So we went to stand behind him, and he put one of us on his right and the other on his left, and he prayed with no Adhan and no Iqamah. When he bowed he interlaced his fingers and placed his hands between his knees, and he said: I saw the Messenger of Allah ﷺ doing that".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 719
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنے کو تطبیق کہتے ہیں، اور یہ بالاتفاق منسوخ ہے، ابن مسعود ؓ کو اس کی منسوخی کا علم نہیں ہوسکا تھا، یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ جب یہ منسوخ ہے تو مصنف کا اس کے جواز پر استدلال کرنا کیسے درست ہے؟ کیونکہ رکوع کی حالت میں ایسا کرنا منسوخ ہے، واضح رہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ مسجد میں ایسا کرنا بھی جائز نہیں، نیز حدیث میں ممانعت ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی نہیں ہے، بلکہ رکوع کی حالت میں اس کیفیت میں ہاتھ لٹکانے کی ممانعت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ٩١٦٤)، مسند احمد ١/٤١٤، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٠٣٠ (صحیح) (یہ حدیث منسوخ ہے )
عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں اپنے ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے دیکھا ١ ؎۔
It was narrated from Abbad bin Tamim, from his paternal uncle, that he saw the Messenger of Allah ﷺ lying on his back in the Masjid, placing one leg on top of the other.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 721
Notes · وضاحت
١ ؎: زمین پر پیٹھ رکھ کر گُدّی کے بل لیٹنے کو استلقاء کہتے ہیں، اس روایت سے استلقاء کا جواز ثابت ہوتا ہے، ایک روایت میں اس کی ممانعت آئی ہے، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جواز والی روایت دونوں پیر پھیلا کر اس طرح سونے پر محمول ہوگی کہ شرمگاہ کے کھلنے کا اندیشہ نہ ہو، اور نہی (ممانعت) والی روایت کو انہیں کھڑا کر کے سونے پر محمول ہوگی جس میں شرمگاہ کے کھل جانے کا خدشہ رہتا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جب وہ نوجوان اور غیر شادی شدہ تھے تو مسجد نبوی میں سوتے تھے۔
It was narrated from Ibn Umar (RA), that when he was young and single, with no family, at the time of the Messenger of Allah ﷺ, he used to sleep in the Masjid of the Prophet ﷺ.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 722
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٥٨ (٤٤٠)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٨١٧٣)، مسند احمد ٢/١٢٠، سنن الدارمی/الصلاة ١١٧ (١٤٤٠) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ اسے مٹی ڈال کر دبا دینا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Spitting in the Masjid is a sin, and its expiation is to bury it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 723
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب مسجد کچی ہو، اس میں مٹی یا ریت وغیرہ موجود ہو تو تھوک کر مٹی کے نیچے چھپا دے، اور بعض نے کہا ہے کہ دفن کرنے سے مراد اسے صاف کر کے مسجد سے باہر پھینک دینا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ والی دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے رگڑ دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرہ کی جانب ہرگز نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ saw some sputum on the Qiblah wall. He scrapped it off then he turned to the people and said: "When any one of you is praying, let him not spit in front of him, for Allah is in front of him when he prays".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 724
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٣ (٤٠٦)، الأذان ٩٤ (٧٥٣)، العمل في الصلاة ١٢ (١٢١٣)، الأدب ٧٥ (٦١١١)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٧)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٨٣٦٦)، موطا امام مالک/القبلة ٣ (٤)، مسند احمد ٢/٣٢، ٦٦، سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٧) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد کی قبلہ (والی دیوار پر) بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ دیا، اور لوگوں کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے روکا، اور فرمایا: (جنہیں ضرورت ہو) وہ اپنے بائیں تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw some spittle in the Qiblah of the Masjid. He scratched it off with a pebble and forbade a man to spit to his front or to his right. He said: "Let him spit to his left or beneath his left foot".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 725
طارق بن عبداللہ محاربی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے اور اپنے داہنے ہرگز نہ تھوکو، بلکہ اپنے پیچھے تھوکو، یا اپنے بائیں تھوکو، بشرطیکہ بائیں طرف کوئی نہ ہو، ورنہ اس طرح کرو ، آپ ﷺ نے اپنے پیر کے نیچے تھوک کر اسے مل دیا۔
It was narrated that Tariq bin Abdullah Al-Muharibi said: When you are praying, do not spit to the front or to your right. Spit behind you or to your left if there is no one there, otherwise do this. And he spat beneath his foot and rubbed it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 726
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢ (٤٧٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٤، الجمعة ٤٩ (٥٧١) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة ٦١ (١٠٢١) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٤٩٨٧)، مسند احمد ٦/٣٩٦ (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کردیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ saw some sputum in the Qiblah of the Masjid, and he became so angry that his face turned red. Then a woman from the Ansar went and scratched off, and put some perfume in its place. The Messenger of Allah ﷺ said: How good this is".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 728
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد ١٠ (٧٦٢)، (تحفة الأشراف: ٦٩٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٩ (٤١٧)، مسند احمد ٣/١٨٨، ١٩٩، ٢٠٠ (صحیح )
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: اللہم افتح لي أبواب رحمتک اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے پڑھے، اور جب نکلے تو: اللہم إني أسألک من فضلک اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں پڑھے ۔
It was narrated that Abdul-Malik bin Saeed said: "I heard Abu Humaid and Abu Usaid say: The Messenger of Allah ﷺ said: "When any one of you enters the Masjid, let him say: Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of your mercy). And when he leaves let him say: Allahumma inni asaluka min fadlik (O Allah, I ask You of Your bounty)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 729
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے ۔
It was narrated from Abu Qatadah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When any one of you enters the Masjid, let him pray two Rakahs before he sits down".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 730
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک ؓ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ ﷺ سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ ﷺ نے ایسا کرلیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کرلیا، اور ان سے بیعت کرلی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کردیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ ﷺ مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: آ جاؤ! چناچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ١ ؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتور اور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے ، چناچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔
Abdullah bin Kab (RA) said: "I heard Kab bin Malik telling the story of when he stayed behind from going out on the campaign of Tabuk with the Messenger of Allah ﷺ. He said: The Messenger of Allah ﷺ came back in the morning, and when he came back from a journey he would go to the Masjid first and pray two Rakahs there, then he would sit to (meet with) the people. When he did that, those who had stayed behind came to him and started giving their excuses, swearing by Allah. There were eighty-odd men, and the Messenger of Allah ﷺ accepted what they declared and accepted their oaths of allegiance; he prayed for forgiveness for them and left whatever was in their hearts to Allah. Then when I came and greeted him, he smiled as one who is angry, then he said: Come here. So I came and sat in front of him, [1] and he said: What kept you behind? Did you not buy a mount? I said: O Messenger of Allah, if I were to sit before anyone other than you of those who hold high positions in this world, I would find a way to avoid his anger. I am an eloquent man but, by Allah, I know that if I were to tell you a lie today to make you pleased with me, Allah would soon make you angry with me, but if I tell you the truth, it will make you angry with me, but I will still have the hope that Allah may forgive me. I have never been in a better position, physically or financially, than the time when I stayed behind and did not join you. The Messenger of Allah ﷺ said: This man has spoken the truth. Go away until Allah decides concerning you. So I got up and went away." This is an abridged version of narration. [1] It is this which the author cited the narration for. While the absence of the mention of a thing - in this case prayer - is not a proof that it does not exist.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 731
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف نے اسی سے باب پر استدلال کیا ہے، یعنی: کعب ؓ بغیر تحیۃ المسجد پڑھے بیٹھ گئے، پھر اٹھ کر چلے گئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم نہیں دیا، لیکن یہ بعض حالات کے لیے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٩٨ (٣٠٨٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٢ (٧١٦)، سنن ابی داود/الجہاد ١٧٣ (٢٧٧٣)، ١٧٨ (٢٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١١١٣٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر ١٠ (٣١٠٢)، مسند احمد ٣/٤٥٥، ٤٥٧، ٤٥٩ و ٦/٣٨٨ (کعب بن مالک ؓ کی حدیث کی مفصل تخریج کے لیے حدیث رقم: (٣٤٥١) کی تخریج دیکھئے، یہاں باب کی مناسبت سے متن اور تخریج میں اختصار سے کام لیا گیا ہے) (صحیح )
ابوسعید بن معلی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں بازار جاتے تو مسجد سے گزرتے، تو اس میں نماز پڑھتے تھے۔
It was narrated that Abu Saeed bin Al-Mualla said: "We used to go to the marketplace in the morning at the time of the Messenger of Allah ﷺ, and we would pass through the Masjid and pray there".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 732
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٨) (ضعیف) (سند میں ” مروان “ ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The angels send Salah upon any one of you so long as he is in the place where he prays, and so long as he does not invalidate his ablution, (saying): O Allah, forgive him, O Allah, have mercy on him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 733
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٤ (١٧٦)، الصلاة ٦١ (٤٤٥)، ٨٧ (٤٧٧)، الأذان ٣٠ (٦٤٧)، ٣٦ (٦٥٩)، البیوع ٤٩ (٢١١٩)، بدء الخلق ٧ (٣٢٢٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٠ (٤٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٦)، موطا امام مالک/السفر ١٨ (٥٤)، مسند احمد ٢/٢٦٦، ٢٨٩، ٣١٢، ٣٩٤، ٤١٥، ٤٢١، ٤٨٦، ٥٠٢ (صحیح )
عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے روکا ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ forbade praying in the camel pens. [1] Atan: Kneeling places, or, where they kneel to drink water.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 735
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد ١٢ (٧٦٩) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٩٦٥١)، مسند احمد ٤/٨٥، ٨٦، و ٥/٥٤، ٥٥، ٥٦ (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پوری روئے زمین ١ ؎ میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کا ذریعہ بنادی گئی ہے، میری امت کا کوئی بھی آدمی جہاں نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The earth has been made for me a place of prostration and a means of purification, so wherever a man of my Ummah is when the time for prayer comes, let him pray".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 736
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس عموم میں اونٹوں کے باڑے بھی شامل ہیں، مگر پھر بھی اس عموم سے دیگر دلائل کی بنیاد پر زمین کے بعض حصے مستثنیٰ ہیں مثلاً گندی اور ناپاک جگہیں۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ان کے پاس تشریف لا کر ان کے گھر میں نماز پڑھ دیں تاکہ وہ اسی کو اپنی نماز گاہ بنالیں ١ ؎، چناچہ آپ ان کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے چٹائی لی اور اس پر پانی چھڑکا، پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی، اور آپ کے ساتھ گھر والوں نے بھی نماز پڑھی۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Umm Sulaim (RA) asked the Messenger of Allah ﷺ to come to her and pray in her house so that she could take (the place where he prayed) as a Musalla (prayer place). So he came to her and she went and got a reed mat and sprinkled it with water, and he prayed on it, and they prayed with him.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 737
Notes · وضاحت
١ ؎: ام سلیم ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی کھانے کی دعوت کی تھی اس موقع پر آپ سے گھر میں مصلیٰ بنانے کی جگہ پر نماز ادا کرنے کی فرمائش کی تو آپ نے اسے قبول فرما لیا، یہ ایک اتفاقیہ بات تھی، مصلیٰ بنانے کی کوئی تقریب نہ تھی، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:( ٨٠٢ کے حوالہ جات)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٢٠) (صحیح) (یہ حدیث آگے (٨٠٢) پر آرہی ہے )