Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 36 of 289

699Sunan An Nasai

مسجد قبا میں نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد قباء (کبھی) سوار ہو کر اور (کبھی) پیدل جاتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to come to Quba riding and walking". [1] Quba is about three miles to the south of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s Masjid. This area is named after in that district.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 698
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیحین کی روایت میں ہے کہ آپ ہر ہفتہ مسجد قباء آتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٩٧ (١٣٩٩)، موطا امام مالک/السفر ٢٣ (٧١)، (تحفة الأشراف: ٧٢٣٩)، مسند احمد ٢/٥، ٣٠، ٥٧، ٥٨، ٦٥ (صحیح )
700Sunan An Nasai

مسجد قبا میں نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيِّ، قال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قال: قال أَبِي: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى فِيهِ كَانَ لَهُ عَدْلَ عُمْرَةٍ.

سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (اپنے گھر سے) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے ۔

Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said: "My father said: The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever goes out to his Masjid - the Masjid of Quba and prays therein, that will be equivalent to Umrah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 699
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ١٩٧ (١٤١٢)، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٧)، مسند احمد ٣/٤٨٧ (صحیح )
701Sunan An Nasai

کون کونسی مساجد کی جانب سفر درست ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ثواب کی نیت سے) صرف تین مسجدوں کے لیے سفر کیا جائے: ایک مسجد الحرام، دوسری میری یہ مسجد (مسجد نبوی) ، اور تیسری مسجد اقصی (بیت المقدس) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Mounts are not saddled for except to (travel to) three Masjids: Al-Masjid Al-Haram, this Masjid of mine, and Al-Masjid Al-Aqsa".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 700
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضل الصلاة في مسجد مکة ١ (١١٨٩)، صحیح مسلم/الحج ٩٥ (١٣٩٧)، سنن ابی داود/الحج ٩٨ (٢٠٣٣)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ١٣١٣٠)، مسند احمد ٢/٢٣٤، ٢٣٨، ٢٧٨، ٥٠١، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٢ (صحیح )
702Sunan An Nasai

عیسائیوں کے گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کرنا

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلَازِمٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قال: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ فِي إِدَاوَةٍ، وَأَمَرَنَا، فَقَالَ: اخْرُجُوا، فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا. قُلْنَا: إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يَنْشُفُ، فَقَالَ: مُدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا، فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَكَسَرْنَا بِيعَتَنَا ثُمَّ نَضَحْنَا مَكَانَهَا وَاتَّخَذْنَاهَا مَسْجِدًا فَنَادَيْنَا فِيهِ بِالْأَذَانِ، قَالَ: وَالرَّاهِبُ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ، قَالَ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ تَلْعَةً مِنْ تِلَاعِنَا فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ.

طلق بن علی ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی طرف وفد کی شکل میں نکلے، ہم نے آ کر آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور آپ کو بتایا کہ ہماری سر زمین میں ہمارا ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کی درخواست کی، تو آپ نے پانی منگوایا وضو کیا، اور کلی کی پھر اسے ایک برتن میں انڈیل دیا، اور ہمیں (جانے) کا حکم دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اور جب تم لوگ اپنے علاقے میں پہنچنا تو گرجا (کلیسا) کو توڑ ڈالنا، اور اس جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اسے مسجد بنا لینا ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا ملک دور ہے، اور گرمی سخت ہے، پانی سوکھ جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں اور پانی ملا لیا کرنا کیونکہ تم جس قدر ملاؤ گے اس کی خوشبو بڑھتی جائے گی ؛ چناچہ ہم نکلے یہاں تک کہ اپنے ملک میں آگئے، تو ہم نے گرجا کو توڑ ڈالا، پھر ہم نے اس جگہ پر یہ پانی چھڑکا اور اسے مسجد بنا لیا، پھر ہم نے اس میں اذان دی، اس گرجا کا راہب قبیلہ طے کا ایک آدمی تھا، جب اس نے اذان سنی تو کہا: یہ حق کی پکار ہے، پھر اس نے ہمارے ٹیلوں میں ایک ٹیلے کی طرف چلا گیا، اس کے بعد ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔

It was narrated that Talq bin Ali (RA) said: "We went out as a delegation to the Prophet ﷺ; we gave him our oath of allegiance and prayed with him. We told him that in our land there was a church that belonged to us. We asked him to give us the leftovers of his purification (Wudu water). So he called for water, performed Wudu and rinsed out his mouth, then he poured it into a vessel and said to us: Leave, and when you return to your land, demolish your church, and sprinkle this water on that place, and take it as a Masjid. We said: Our land is far away and it is very hot; the water is far away and it is very hot; the water will dry up. He said: Add more water to it, for that will only make it better. So we left and when we came to our land we demolished our church, then we sprinkled the water on that place and took it as a Masjid, and we called the Adhan in it. The monk was a man from Tayy, and when he heard the Adhan, he said: It is a true call. Then he headed toward one of the hills and we never saw him again".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 701
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٨) (صحیح )
703Sunan An Nasai

قبروں کو کھود کر اس جگہ مساجد تعمیر کرنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي عُرْضِ الْمَدِيِنَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي سُيُوفِهِمْ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَدِيفَهُ وَمَلَأٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا، قَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَتْ فِيهِ خَرِبٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَتْ وَبِالْخَرِبِ فَسُوِّيَتْ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ الْحِجَارَةَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو اس کے ایک کنارے بنی عمرو بن عوف نامی ایک قبیلہ میں اترے، آپ نے ان میں چودہ دن تک قیام کیا، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلا بھیجا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، آپ ان کے ساتھ چلے گویا میں آپ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر ہیں، اور ابوبکر ؓ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنی نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ ابوایوب ؓ کے دروازے پر اترے، جہاں نماز کا وقت ہوتا وہاں آپ نماز پڑھ لیتے، یہاں تک کہ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم ہوا، تو آپ ﷺ نے بنی نجار کے لوگوں کو بلوایا، وہ آئے تو آپ نے فرمایا: بنو نجار! تم مجھ سے اپنی اس زمین کی قیمت لے لو ، ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں، انس ؓ کہتے ہیں: اس میں مشرکین کی قبریں، کھنڈر اور کھجور کے درخت تھے، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو مشرکین کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھجور کے درخت کاٹ دیئے گئے، اور کھنڈرات ہموار کردیئے گئے، صحابہ کرام ؓ کھجور کے درختوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب لائن میں رکھ دیا، اور چوکھٹ کے دونوں پٹ پتھر کے بنائے، صحابہ کرام ؓ پتھر ڈھوتے، اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ تھے، وہ لوگ کہہ رہے تھے: اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے، انصار و مہاجرین کی تو مدد فرما۔

It was narrated th(RA) at Anas bin Malik (RA) (RA) : "When the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah, he alighted in the upper part of Al-Madinah among the tribe called Banu Amr bin Awf and he stayed with them for fourteen nights. Then he sent for the chiefs of Banu An-Najjar, and they came with their swords by their sides. It is as if I can see the Messenger of Allah ﷺ on his she-camel with Abu Bakr (RA) riding behind him (on the same camel) and the chiefs of Banu An-Najjar around him, until he dismounted in the courtyard of Abu Ayyub (RA). The Prophet ﷺ used to offer the prayer wherever he was when the time for prayer came, and he would pray even in sheepfolds. Then he ordered that the Masjid be built. He sent for the chiefs of Banu An-Najjar, and when they came, he said: O Banu An-Najjar, name me a price for this grove of yours. They said: By Allah, we will not ask for its price except from Allah". Anas (RA) said: "In (that grove) there were graves of idolators, ruins and date-palm trees. The Messenger of Allah ﷺ ordered that the graves of the idolators be dug up, the ruins be leveled and the date-palm trees be cut down. The trunks of the trees were arranged so as to form the walls facing the Qiblah. The stone pillars were built at the sides of its gate. They started to move the stones, reciting some lines of verse, and the Messenger of Allah ﷺ was with them when they were saying: O Allah! There is no good except the good of the Hereafter. So bestow victory on the Ansar and the Muhajirin".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 702
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٨ (٤٢٨)، فضائل المدینة ١ (١٨٦٨)، فضائل الأنصار ٤٦ (٣٩٣٢)، صحیح مسلم/المساجد ١ (٥٢٤)، سنن ابی داود/الصلاة ١٢ (٤٥٣، ٤٥٤)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٣ (٧٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٩١)، مسند احمد ٣/١١٨، ١٢٣، ١٨٠، ٢١١، ٢١٢، ٢٤٤ (صحیح )
704Sunan An Nasai

قبور کا مساجد بنانا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَيُونُسَ، قَالَا: قال الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، قال وَهُوَ كَذَلِكَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ.

ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت آیا تو آپ اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈالتے، اور جب دم گھٹنے لگتا تو چادر اپنے چہرہ سے ہٹا دیتے، اور اس حالت میں آپ ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔

Ubaidullah bin Abdullah reported that Aishah and Ibn Abbas (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ was on his deathbed, he had a Khamisah over his face. When his temperature rose, he would uncover his face. When his temperature rose, he would uncover his face. While he was like that he said: May Allah curse the Jews and Christians, for they took the graves of their Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s as places of worship".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 703
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٥٥ (٤٣٥)، أحادیث الأنبیاء ٥٠ (٣٤٥٣)، المغازي ٨٣ (٤٤٤٢، ٤٤٤٣)، اللباس ١٩ (٥٨١٦)، والحدیث عند صحیح البخاری/الجنائز ٦١ (١٣٣٠)، ٩٥ (١٣٩٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣ (٥٣١)، مسند احمد ١/٢١٨ و ٦/٣٤، ٢٢٨، ٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٥٨٤٢، ١٦٣١٠)، ویأتی عند المؤلف سنن الدارمی/الصلاة ١٢٠ (١٤٤٣) (صحیح )
705Sunan An Nasai

قبور کا مساجد بنانا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَتَاهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا تِيكِ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ ؓ دونوں نے ایک کنیسہ (گرجا گھر) کا ذکر کیا جسے ان دونوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کا کوئی صالح آدمی مرتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے، اور اس کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے ۔

It was narrated from Aishah (RA) that Umm Habibah and Umm Salamah (RA) mentioned a church that they had seen in Ethiopia, in which there were images. The Messenger of Allah ﷺ said: "Those people, if there was a righteous man among them, when he died they built a place of worship over his grave and made those images. They will be the most evil of creation before Allah on the Day of Resurrection".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 704
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٨ (٤٢٧)، ٥٤ (٤٣٤)، الجنائز ٧٠ (١٣٤١)، مناقب الأنصار ٣٧ (٣٨٧٣)، صحیح مسلم/المساجد ٣ (٥٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٠٦)، مسند احمد ٦/٥١ (صحیح )
706Sunan An Nasai

مسجد میں حاضری کا اجر و ثواب

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حِينَ يَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تُكْتَبُ حَسَنَةً وَرِجْلٌ تَمْحُو سَيِّئَةً.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس وقت بندہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When a man goes out of his house to his Masjid, one foot records a good deed and the other erases a bad deed".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 705
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٧)، مسند احمد ٢/٣١٩، ٤٣١، ٤٧٨ (صحیح )
707Sunan An Nasai

خواتین کو مسجد میں داخلہ سے منع نہیں کرنا چاہئے

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت چاہے تو وہ اسے نہ روکے ۔

It was narrated from Salim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the wife of any one of you asks for permission to go to the Masjid, do not stop her".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 706
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦٦ (٨٧٣)، النکاح ١١٦ (٥٢٣٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٠ (٤٤٢)، (تحفة الأشراف: ٦٨٢٣)، مسند احمد ٢/٧، ٩ (صحیح )
708Sunan An Nasai

مسجد میں داخلہ کس حالت میں ممنوع ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، قَالَ أَوَّلَ يَوْمٍ: الثُّومِ، ثُمَّ قَالَ: الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ، فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسَاجِدِنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اس درخت میں سے کھائے، پہلے دن آپ نے فرمایا لہسن میں سے، پھر فرمایا: لہسن، پیاز اور گندنا میں سے، تو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے بھی ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے انسان اذیت و تکلیف محسوس کرتا ہے ۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever eats of this plant - the first time he said garlic then he said, garlic, onions and leeks [1] - let him not approach us in our Masjids, for the angels are offended by that which offends mankinds." [1] In Fath, Al-Bari, Ibn Hajar is of the opinion that it was Ibn Juraij who was talking, explaining that Ata - who reported it from Jabir - narrated it both ways.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 707
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦٠ (٨٥٤)، الأطعمة ٤٩ (٥٤٥٢)، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٩)، صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ١٣ (١٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٧)، مسند احمد ٣/٣٨٠ (صحیح )
709Sunan An Nasai

مسجد سے کونسا شخص باہر نکال دیا جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قال: إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ مَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلُ وَالثُّومُ، وَلَقَدْرَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ، أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.

عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں: لوگو! تم ان دونوں پودوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں خبیث ہی سمجھتا ہوں ١ ؎ یعنی اس پیاز اور لہسن سے، میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان میں سے کسی کی بدبو پاتے تو اسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیتے، تو اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان دونوں کو کھائے تو پکا کر ان کی بو کو مار دے۔

It was narrated from Madam bin Abi Talhah that Umar bin Al-Khattab (RA) said: "O people, you eat of two plants which I do not think are anything but bad, this onion and garlic. I have seen the Prophet of Allah ﷺ, if he noticed their smell coming from a man, ordering that he be taken out to Al-Baqi. Whoever eats them, let him cook them to death".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 708
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جن کی بو ناگوار اور مکروہ ہے جب تک یہ کچے ہوں، یہ اس اعتبار سے خبیث ہیں کہ انہیں کھا کر مسجد میں جانا ممنوع ہے، البتہ پکنے کے بعد اس کا حکم بدل جائے گا، اور ان کا کھانا جائز ہوگا، اسی طرح مسجد میں جانے کا وقت نہ ہو تو اس وقت بھی ان کا کھانا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٧) مطولاً، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥٨ (١٠١٤)، الأطعمة ٥٩ (٣٣٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٤٦)، مسند احمد ١/١٥، ٢٦، ٢٧، ٤٨ (صحیح )
710Sunan An Nasai

مسجد کے اندر خیمہ لگانے اور نصب کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ، وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهَا أَمَرَتْ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: آلْبِرَّ تُرِدْنَ ؟فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر پڑھتے، پھر آپ اس جگہ میں داخل ہوجاتے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے، چناچہ آپ نے ایک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، تو آپ نے (خیمہ لگانے کا) حکم دیا تو آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ ؓ نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، پھر جب ام المؤمنین زینب ؓ نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ ١ ؎، چناچہ آپ ﷺ نے (اس سال) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا (اور اس کے بدلے) شوال میں دس دنوں کا اعتکاف کیا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ wanted to observe Itikaf, [2] he would pray Fajr then enter the place where he wanted to observe Itikaf. He wanted to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan, so he commanded that a Khiba (tent) be pitched for him. Then Hafsah (RA) ordered that a Khiba be pitched for her, and when Zainab saw her tent she ordered that a Khiba be pitched for her too. When the Messenger of Allah ﷺ saw that he said: Is it righteousness that you seek? And he did not observe Itikaf in Ramadan, and observed Itikaf for ten days in Shawwal (instead)". [1] Al-Khiba: "One of the house of the Bedouins made of Wabir (camel or goat fur) or wool, not of hair (from other pelts). And it would have two or three posts". (An-Nihayah) [2] Seclusion in the Masjid for the sake of devotion to Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 709
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ تم لوگوں نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی یہ خیمے لگائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ٦ (٢٠٣٣)، ٧ (٢٠٣٤)، ١٤ (٢٠٤١)، ١٨ (٢٠٤٥)، صحیح مسلم/الاعتکاف ٢ (١١٧٢)، سنن ابی داود/الصوم ٧٧ (٢٤٦٤)، سنن الترمذی/الصوم ٧١ (٧٩١) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الصوم ٥٩ (١٧٧١)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣٠)، مسند احمد ٦/٨٤، ٢٢٦ (صحیح )
711Sunan An Nasai

مسجد کے اندر خیمہ لگانے اور نصب کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ رَمْيَةً فِي الْأَكْحَلِفَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن سعد بن معاذ ؓ زخمی ہوگئے، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ ١ ؎ میں تیر مارا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کرسکیں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "Sad was wounded on the day of Al-Khandaq [1] when a man of Quraish shot him in the medial arm vein. The Messenger of Allah ﷺ pitched a tent (Khaimah) for him in the Masjid so that he could visit him close at hand". [1] Al-Khandaq means the trench. This indicates the battle of the trench which took place during the fifth year after Hijrah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 710
Notes · وضاحت
١ ؎: اکحل ہاتھ میں ایک رگ ہوتی ہے جسے عرق الحیا ۃ کہتے ہیں اگر وہ کٹ جائے تو خون رکتا نہیں سارا خون بہہ جاتا ہے، اور آدمی مرجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٧ (٤٦٣) مطولاً، المغازي ٣٠ (٤١٢٢) مطولاً، صحیح مسلم/الجھاد ٢٢ (١٧٦٩)، سنن ابی داود/الجنائز ٨ (٣١٠١)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٧٨)، مسند احمد ٦/٥٦، ١٣١، ٢٨٠ (صحیح )
712Sunan An Nasai

بچوں کو مسجد میں لانے کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ صَبِيَّةٌ يَحْمِلُهَافَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ وَيُعِيدُهَا إِذَا قَامَ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ امامہ بنت ابی العاص بن ربیع ؓ کو (گود میں) اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، (ان کی ماں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب ؓ ہیں) امامہ ایک (کمسن) بچی تھیں، آپ انہیں اٹھائے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے انہیں اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے نماز پڑھائی، جب رکوع میں جاتے تو انہیں اتار دیتے، اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں پھر گود میں اٹھا لیتے، ١ ؎ یہاں تک کہ اسی طرح کرتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنی نماز پوری کی۔

It was narrated from Amr bin Sulaim Az-Zuraqi that he heard Abu Qatadah (RA) say: "While we were sitting in the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ came out to us carrying Umamah bint Abi Al-As bin Ar-Rabi, whose mother was Zainab, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ. She was a little girl and he was carrying her. The Messenger of Allah ﷺ prayed with her on his shoulder, putting her down when he bowed and picking her up again when he stood up, until he completed his prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 711
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باجماعت نماز تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرض نماز رہی ہوگی کیونکہ جماعت سے عموماً فرض نماز ہی پڑھی جاتی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ فرض نماز میں بھی بوقت ضرورت ایسا کرنا جائز ہے، نبی اکرم ﷺ کا ایسا کرنا یا تو ضرورت کے تحت رہا ہوگا، یا بیان جواز کے لیے، کچھ لوگوں نے اسے منسوخ کہا ہے، اور کچھ نے اسے آپ کے خصائص میں سے شمار کیا ہے لیکن یہ دعوے ایسے ہیں جن پر کوئی دلیل نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠٦ (٥١٦)، الأدب ١٨ (٥٩٩٦) مختصراً، صحیح مسلم/المساجد ٩ (٥٤٣)، سنن ابی داود/الصلاة ١٦٩ (٩١٧، ٩١٨، ٩١٩، ٩٢٠)، موطا امام مالک/السفر ٢٤ (٨١)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٤)، مسند احمد ٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٤، ٣١٠، ٣١١، سنن الدارمی/الصلاة ٩٣ (١٣٩٩، ١٤٠٠)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ٨٢٨، ١٢٠٥، ١٢٠٦ (صحیح )
713Sunan An Nasai

قیدی شخص کو مسجد کے اندر باندھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرُبِطَ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِمُخْتَصَرٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے کچھ سواروں کو قبیلہ نجد کی جانب بھیجا، تو وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو (گرفتار کر کے) لائے، جو اہل یمامہ کا سردار تھا، اسے مسجد کے کھمبے سے باندھ دیا گیا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔

It was narrated from Saeed bin Abi Saeed that he heard Abu Hurairah (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ sent some horsemen toward Najd, and they brought back a man from Banu Hanifah who was called Thumamah bin Uthal, the chief of the people of Al-Yamamah. Then he was tied to one of the pillars of the Masjid".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 712
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨٩ (صحیح )
714Sunan An Nasai

اونٹ کو مسجد میں لے جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَطَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا، آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔

It was narrated from Abdullah bin Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf during the Farewell Pilgrimage atop a camel, touching the Rukn [1] with a stick that was bent at the top. [1] The corner of the Kabah in which the Black Stone is situated.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 713
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٥٨ (١٦٠٧)، ٦١ (١٦١٢)، ٦٢ (١٦١٣)، ٧٤ (١٦٣٢)، الطلاق ٢٤ (٥٢٩٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٢)، سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٧٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج ٢٨ (٢٩٤٨)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٧)، مسند احمد ١/٢١٤، ٢٣٧، ٢٤٨، ٣٠٤، سنن الدارمی/المناسک ٣٠ (١٨٨٧)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٩٥٧ (صحیح )
715Sunan An Nasai

مسجد کے اندر خرید و فروخت کے ممنوع ہونے اور نماز جمعہ سے قبل حلقہ باندھ کر بیٹھنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے، اور مسجد میں خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade sitting in circles on Friday before Jumuah prayer, and buying and selling in the Masjid.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 714
Notes · وضاحت
١ ؎: جمعہ کے دن مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ جمعہ کے دن مسجد میں خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے، اور اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ سے پہلے کسی وقت بھی حلقہ باندھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٠ (١٠٧٩) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٤ (٣٢٢) مطولاً، سنن ابن ماجہ/المساجد ٥ (٧٤٩) مختصراً، وإقامة ٩٦ (١١٣٣) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٦)، مسند احمد ٢/١٧٩، ٢١٢ (صحیح )
716Sunan An Nasai

مسجد کے اندر اشعار پڑھنے کے ممنوع ہونے کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade reciting poetry in the Masjid.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 715
Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد میں فحش اور مخرب اخلاق اشعار پڑھنا ممنوع ہے، رہے ایسے اشعار جو توحید اور اتباع سنت ﷺ وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٠ (١٠٧٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٤ (٣٢٢)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٥ (٧٤٩)، مسند احمد ٢/١٧٩، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة ٦٦ (برقم: ١٧٣)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٦) (حسن )
717Sunan An Nasai

مسجد کے اندر عمدہ شعر پڑھنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قال: مَرَّ عُمَرُ، بِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ أَنْشَدْتُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر ؓ حسان بن ثابت ؓ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، تو عمران ؓ کی طرف گھورنے لگے، تو انہوں نے کہا: میں نے (مسجد میں) شعر پڑھا ہے، اور اس میں ایسی ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی، پھر وہ ابوہریرہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو (مجھ سے) یہ کہتے نہیں سنا کہ تم میری طرف سے (کافروں کو) جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرما!، تو ابوہریرہ ؓ نے کہا! ہاں (سنا ہے) ۔

It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab (RA) said: "Umar passed by Hassan bin Thabit while he was reciting poetry in the Masjid, and glared at him. He said: I recited poetry when there was someone better than you in the Masjid. Then he turned to Abu Hurairah (RA) and said: Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ when he said: "Answer back on my behalf. O Allah, help him with the Holy Spirit"! He said: Yes, by Allah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 716
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦٨ (٤٥٣)، بدء الخلق ٦ (٣٢١٢)، الأدب ٩١ (٦١٥٢)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٤ (٢٤٨٥)، سنن ابی داود/الأدب ٩٥ (٥٠١٣، ٥٠١٤) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٣٤٠٢)، مسند احمد ٥/٢٢٢، وفی الیوم واللیلة (١٧١) (صحیح )
718Sunan An Nasai

گم شدہ شے مسجد میں تلاش کرنے کی ممانعت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: جَاءَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا وَجَدْتَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آ کر مسجد میں ایک گمشدہ چیز ڈھونڈنے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کرے تو نہ پائے ۔

It was narrated that Jabir (RA) said: "A man came making announcement of a lost camel in the Masjid, and the Messenger of Allah ﷺ said: May you never find it"!

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 717
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٧٤٢) (صحیح )