عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: جب مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے، اور مجھ پر صلاۃ وسلام ١ ؎ بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت و برکت بھیجتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ ٢ ؎ طلب کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک درجہ و مرتبہ ہے جو کسی کے لائق نہیں سوائے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کے، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں، تو جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا، اس پر میری شفاعت واجب ہوجائے گی ٣ ؎۔
Abdullah bin Amr (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When you hear the Muadhdhin then say what he says, and do Salah upon me, for whoever does Salah upon me once, Allah will Salah upon him ten (times). Then ask Allah to grant me Al-Wasilah, which is a position in paradise which only one of the slaves of Allah will attain, and I hope that I will be the one. Whoever asks for Al-Wasilah for me, will be entitled to my intercession".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 678
Notes · وضاحت
١ ؎: صلاۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی رحمت و مغفرت کے ہیں، اور فرشتوں کی طرف ہو تو مغفرت طلب کرنے کے ہیں، اور بندوں کی طرف ہو تو دعا کرنے کے ہیں۔ ٢ ؎: وسیلہ کے معنی قرب کے، اور اس طریقہ کے ہیں جس سے انسان اپنے مقصود تک پہنچ جائے، یہاں مراد جنت کا وہ درجہ ہے جو نبی کریم ﷺ کو عطا کیا جائے گا۔ ٣ ؎: بشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان اور توحید پر ہوا ہو۔
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے مؤذن (کی اذان) سن کر یہ کہا: وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اور محمد ﷺ کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
It was narrated from Sad bin Abi Waqqas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever says, when he hears the Muadhdhin: Ashhadu an la ilaha illallah wahdahu la sharika lahu wa anna Muhammadan Abduhu wa Rasuluhu, raditu Billahi Rabbanw, wa bil-Islami dinan wa bi Muhammadin Rasulah (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah alone, with no partner or associate, and that Muhammad is the His slave and Messenger; I am content with Allah as my Lord, Islam as my religion and Muhammad as Messenger), his sins will be forgiven".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 679
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: اللہم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه المقام المحمود الذي وعدته إلا حلت له شفاعتي يوم القيامة اے اللہ! اس کامل پکار اور قائم رہنے والی صلاۃ کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ ١ ؎ اور فضیلت ٢ ؎ عطا فرما، اور مقام محمود ٣ ؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ٤ ؎ تو قیامت کے دن اس پر میری شفاعت نازل ہوگی ۔
It was narrated that Jabir (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever says, when he hears the call to prayer: "Allahumma rabba hadhihid-dawat it-tammah was-salat il-qaimah, ati Muahmmadan al-wasilah wal-fadilah, wabathu maqaman mahmudan alladhi waadtahu (O Allah, Lord of this perfect call and the prayer to be offered, grant Muhammad the privilege (of interceding) and also the eminence, and resurrect him to the praised position that you have promised), will be granted my intercession on the Day of Resurrection".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 680
Notes · وضاحت
١ ؎: وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک اعلی درجہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: فضیلت وہ اعلی مرتبہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوق پر حاصل ہوگا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔ ٣ ؎: مقام محمود یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو عطا کرے گا، اور اسی جگہ آپ ﷺ وہ شفاعت عظمی فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا۔ ٤ ؎: بیہقی کی روایت میں اس دعا کے بعد إنک لا تخلف الميعاد کا اضافہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، اسی طرح اس دعا کے پڑھتے وقت کچھ لوگ یا ا ٔرحم الراحمین کا اضافہ کرتے ہیں، اس اضافہ کا بھی کتب حدیث میں کہیں وجود نہیں۔
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر دو اذان ١ ؎ کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، جو چاہے اس کے لیے ۔
It was narrated that Abdullah bin Mughaffal said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Between each two Adhans [1] there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, for whoever wants to do it". [1]Meaning, between the Adhan and Iqamah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 681
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمۃ الباب میں اشارہ کیا ہے، اس حدیث سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہو رہا ہے، جس کے لیے دوسرے دلائل موجود ہیں واللہ أعلم۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مؤذن جب اذان دیتا تو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ کھڑے ہوتے، اور ستون کے پاس جانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے، اور نماز پڑھتے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نکلتے، اور وہ اسی طرح (نماز کی حالت میں) ہوتے، اور مغرب سے پہلے بھی پڑھتے، اور اذان و اقامت کے بیچ کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Muadhdhin called the Adhan, some of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) would get up and rush to the pillars (in the Masjid) and pray until the Prophet ﷺ came out and they were like that. They would pray before Maghrib and there was nothing between the Adhan and Iqamah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 682
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ ان دونوں رکعتوں کے پڑھنے میں جلدی کرتے کیونکہ اذان اور اقامت میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔
ابوالشعثاء کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ ؓ کو دیکھا کہ ایک شخص اذان کے بعد مسجد سے گزرنے لگا یہاں تک کہ مسجد سے باہر نکل گیا، تو انہوں نے کہا: رہا یہ شخص تو اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
It was narrated from Ashath bin Abi Ash-Shatha that his father said: "I saw Abu Hurairah (RA), when a man passed by in the Masjid until he parted from it - after the call. Abu Hurairah (RA) said: This man has indeed disobeyed Abu Al-Qasim ﷺ".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 683
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کی اذان ہوجانے کے بعد مسجد سے باہر نکلا، تو ابوہریرہ ؓ نے کہا: اس شخص نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
Abu Sakhrah narrated that Abu Ash-Shatha said: "A man left the Masjid after the call to prayer had been given, and Abu Hurairah (RA) said: This man has indeed disobeyed Abu Al-Qasim ﷺ".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 684
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ عشاء سے فارغ ہونے سے لے کر فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے ١ ؎ اور ایک اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ اتنی دیر میں تم میں کا کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے، پھر اپنا سر اٹھاتے، اور جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہوجاتا اور آپ ﷺ پر فجر عیاں اور ظاہر ہوجاتی تو ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آ کر آپ کو خبر کردیتا کہ اب اقامت ہونے والی ہے، تو آپ اس کے ساتھ نکلتے۔ بعض راوی ایک دوسرے پر اس حدیث میں اضافہ کرتے ہیں۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "Between the time when he finished Isha prayer and Fajr, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray eleven Rakahs, saying the Taslim after each two Rakahs, then praying Witr as one Rakah. He would prostrate for as long as it takes one of you to recite fifty verses, then he would raise his head. When the Muadhdhin finished the call to Fajr prayer and he could see the dawn, he would pray two brief Rakahs, then he would go out with him". Some of these narrators (Ibn Abi Dhib, Yunus and Amr bin Al-Harith) added some phrases not mentioned by the others in the Hadith.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 685
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے صراحت کے ساتھ ایک رکعت کے وتر کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٧٣)، مسند احمد ٦/٣٤، ٧٤، ٨٣، ٨٥، ٨٨، ١٤٣، ٢١٥، ٢٤٨، ویأتي عند المؤلف في السھو ٧٤ (برقم: ١٣٢٩) (صحیح )
کریب مولی ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کی تہجد (صلاۃ اللیل) کیسی تھی؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے وتر کے ساتھ گیارہ رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے یہاں تک کہ نیند گہری ہوگئی، پھر میں نے آپ کو خراٹے لیتے ہوئے دیکھا، اتنے میں آپ کے پاس بلال ؓ آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ نے اٹھ کر دو رکعتیں پڑھیں، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور (پھر سے) وضو نہیں کیا۔
It was narrated from Makhramah bin Sulaiman that Kuraib - the freed slave of Ibn Abbas (RA) - told him: "I asked Ibn Abbas (RA): How did the Messenger of Allah ﷺ pray at night? He said: He prayed eleven Rakahs including Witr, then he slept deeply until I could hear him snoring, then Bilal (RA) came to him and said: "The prayer, O Messenger of Allah"! Then he got up and prayed two brief Rakahs then led the people in prayer, and he did not perform Wudu".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 686
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥ (١٣٨)، ٣٦ (١٨٣)، الأذان ٥٨ (٦٩٨)، ٧٧ (٧٢٦)، ١٦١ (٨٥٩)، الوتر ١ (٩٩٢)، العمل في الصلاة ١ (١١٩٨)، تفسیر آل عمران ١٩ (٤٥٧١)، ٢٠ (٤٥٧٢)، الدعوات ١٠ (٦٣١٦)، التوحید ٢٧ (٧٤٥٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٦٤، ١٣٦٧)، سنن الترمذی/الشمائل ٣٨، ٣٩، ٢٤٥، ٢٥٢، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٨١ (١٣٦٣)، (تحفة الأشراف: ٦٣٦٢)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ٢ (١١)، مسند احمد ١/٢٤٢، ٣٥٨، ویأتي عند المؤلف برقم: ١٦٢١ (صحیح )
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو جب تک تم مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہو ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the Iqamah for prayer is said, do not stand up until you see that I have come out".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 687
عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی مسجد بنائی جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
It was narrated from Amr bin Abasah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever builds a Masjid in which Allah is remembered, Allah, (the Mighty and Sublime) will build for him a house in Paradise".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 688
ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ گلی میں راستہ چلتے ہوئے میں اپنے والد (یزید بن شریک) کو قرآن سنا رہا تھا، جب میں نے آیت سجدہ پڑھی تو انہوں نے سجدہ کیا، میں نے کہا: ابا محترم! کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ کہا: میں نے ابوذر ؓ سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد الاقصیٰ ١ ؎ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چالیس سال کا، اور پوری روئے زمین تمہارے لیے سجدہ گاہ ہے، تو تم جہاں کہیں نماز کا وقت پا جاؤ نماز پڑھ لو ۔
It was narrated that Ibrahim said: "I used to recite Quran to my father on the road, and if I recited a verse in which prostration was required, he would prostrate. I said: O my father, do you prostrate on the street? He said: I heard Abu Dharr say: "I asked the Messenger of Allah ﷺ: Which Masjid was built first? He said: Al-Masjid Al-Haram. [1] I said: Then which? He said: Al-Masjid Al-Aqsa. [2] I said: How long was there between them? He said: Forty years. And the earth is a Masjid (or a place of prostration) for you, so wherever you are when the time for prayer comes, pray". [1] In Makkah. [2] "Furthest Masjid" meaning the Masjid in Jerulsalem.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 690
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ابراہیم (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کا مسجد بنانا مراد نہیں ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے، بلکہ مراد آدم (علیہ السلام) کا بنانا ہے، ابن ہشام کی کتاب التیبحان میں ہے کہ آدم (علیہ السلام) جب کعبہ بنا چکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بیت المقدس جانے اور ہاں ایک مسجد بنانے کا حکم دیا، چناچہ وہ گئے اور جا کر وہاں بھی انہوں نے ایک مسجد بنائی، (کذا فی زہرالربی)، حافظ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ ١؍١٦٢ ) میں لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کا کہنا ہے کہ مسجد الاقصیٰ کی تعمیر پہلے یعقوب (علیہ السلام) نے کی ہے، اگر یہ قول صحیح ہے تو ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل (علیہما السلام) کے خانہ کعبہ کی تعمیر اور یعقوب (علیہ السلام) کے مسجد الاقصیٰ کی تعمیر میں چالیس سال کا فاصلہ ہوسکتا ہے۔ تاریخ انسانی میں ایسا دوسری بار ہوا تھا۔
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں نماز پڑھی تو میں نے اس کے متعلق آپ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ: اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے، سوائے خانہ کعبہ کے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that Maimunah the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever prays in the Masjid of the Messenger of Allah ﷺ (that is good), for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: One prayer offered there is better than a thousand prayers offered elsewhere, except the Masjid of the Kabah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 691
Notes · وضاحت
١ ؎: خانہ کعبہ کی ایک رکعت مسجد نبوی کی سو رکعت کے برابر ہے، ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے صلا ۃ فی مسجدي ہذا أفضل من ألف صلا ۃ في غیرہ إلا المسجدالحرام فإنہ أفضل منہ بمائ ۃ صلا ۃ میری مسجد (مسجد نبوی) میں نماز دوسری مسجدوں سے ہزار گنا افضل (بہتر) ہے، ہاں، مسجد الحرام میں نماز اس (مسجد نبوی) سے سو گنا افضل (بہتر) ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٦) (وعندہ ” عن ابن عباس عن میمونة، وھو الصواب کما في التحفة، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٧)، مسند احمد ٦/٣٣٣، ویأتی عند المؤلف في المناسک ١٢٤ (برقم: ٢٩٠١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: رسول اکرم ﷺ ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ ؓ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کرلیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال ؓ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔
It was narrated from Salim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ entered the House (the Kabah), with Usamah bin Zaid, Bilal and Uthman bin Talhah, and they locked the door behind them. When the Messenger of Allah ﷺ opened it, I was the first one to enter. I met Bilal (RA) and asked him: Did the Messenger of Allah ﷺ pray inside? He said: Yes, he prayed between the two Yemeni columns".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 692
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلیمان بن داود (علیہما السلام) نے جب بیت المقدس کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، اللہ عزوجل سے مانگا کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے ایسے فیصلے کریں جو اس کے فیصلے کے موافق ہوں، تو انہیں یہ چیز دے دی گئی، نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی سلطنت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملی ہو، تو انہیں یہ بھی دے دی گئی، اور جس وقت وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے تو اسے اس کے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے کہ وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When Sulaiman bin Dawud علیہم السلام finished building Bait Al-Maqdis, he asked Allah for three things: Judgement that was in harmony with His judgement, and he was given that. And he asked Allah for a dominion that no one after him would have, and he was given that. And when he finished building the Masjid he asked Allah, the Mighty and Sublime, that no one should come to it, intending only to pray there, but he would emerge free of sin as the day his mother bore him"۔
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 693
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ١٩٦ (١٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ٨٨٤٤)، مسند احمد ٢/١٧٦ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے سوائے خانہ کعبہ کے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ١ ؎ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ کہتے ہیں: ہمیں شک نہیں کہ ابوہریرہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہی بیان کرتے تھے، اسی وجہ سے ہم نے ان سے یہ وضاحت طلب نہیں کی کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے یا خود ان کا قول ہے، یہاں تک کہ جب ابوہریرہ ؓ وفات پا گئے تو ہم نے اس کا ذکر کیا تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس سلسلے میں ابوہریرہ ؓ سے کیوں نہیں گفتگو کرلی کہ اگر انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے تو اسے آپ کی طرف منسوب کریں، ہم اسی تردد میں تھے کہ ہم نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجالست اختیار کی، تو ہم نے اس حدیث کا اور ابوہریرہ ؓ سے حدیث پوچھنے میں جو ہم نے کوتاہی کی تھی دونوں کا ذکر کیا، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہم سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ: بلاشبہ میں آخری نبی ہوں، اور یہ (مسجد نبوی) آخری مسجد ہے ۔
It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman and Abu Abdullah Al-Agharr, the freed slave of the Juhanis - better of whom were companions of Abu Hurairah - that they heard Abu Hurairah (RA) say: "One prayer in the Masjid of the Messenger of Allah ﷺ is better than one thousand prayers offered in other mosques, except Al-Masjid Al-Haram, for the Messenger of Allah ﷺ was the last of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s and his Masjid was the last of the Masjids"۔ Abu Salamah and Abu Abdullah said: "We do not doubt that Abu Hurairah (RA) was speaking on the basis of the Hadith of the Messenger of Allah ﷺ, but we could not verify that Hadith with Abu Hurairah before he died. Then we remembered that and we blamed one another for not having spoken to Abu Hurairah about that, so that he could attribute it to the Messenger of Allah ﷺ if he had indeed heard it from him. While we were arguing, we went and sat down with Abdullah bin Ibrahim bin Qariz, and we told him about the Hadith and how we had been negligent in not checking it with Abu Hurairah. Abdullah bin Ibrahim said to us: I bear witness that I heard Abu Hurairah (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: I am the last of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s علیہم السلام and it is the last of the Masjids".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 694
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان تینوں مساجد میں جن کی فضیلت کی گواہی دی گئی ہے مسجد نبوی آخری مسجد ہے، یا انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
Takhrij · تخریج
من طریق عبداللہ بن إبراہیم بن قارظ عن أبي ہریرة أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٥١)، مسند احمد ٢/٢٥١، ٢٧٣، ومن طریق أبي عبداللہ (سلمان الأغر) عن أبي ہریرة قد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ١ (١١٩٠)، صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٦ (٣٢٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٩٥ (١٤٠٤)، موطا امام مالک/القبلة ٥ (٩)، مسند احمد ٢/٢٥٦، ٣٨٦، ٤٦٦، ٤٧٣، ٤٨٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٣١ (١٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٦٤)، وحدیث أبي سلمة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٠) (صحیح )
عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جو حصہ میرے گھر ١ ؎ اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Zaid (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The area between my house and my Minbar is one of the gardens of Paradise".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 695
Notes · وضاحت
١ ؎: گھر سے مراد حجرہ عائشہ ؓ ہے جس میں آپ کی قبر شریف ہے، طبرانی کی روایت میں ما بين المنبر وبيت عائشة ہے، اور بزار کی روایت (کشف الاستار ٢ /٥٦) میں ما بين قبري ومنبري ہے۔ ٢ ؎: اس کی تاویل میں کئی اقوال وارد ہیں ایک قول یہ ہے کہ اتنی جگہ اٹھ کر جنت کی ایک کیا ری بن جائے گی، دوسرا قول یہ ہے جو شخص یہاں عبادت کرے گا جنت میں داخل ہوگا، اور جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری پائے گا، تیسرا قول یہ ہے کہ یہ حصہ جنت ہی سے آیا ہوا ہے، چوتھا قول یہ ہے کہ اس میں حرف تشبیہ محذوف ہے ای کروض ۃ فی نزول الرحم ۃ والسعاد ۃ بما یحصل من ملازم ۃ حلق الذکر لا سیما فی عہدہ ﷺ یعنی رحمت و سعادت کے نازل ہونے میں روضہ کی طرح ہے، ذکر کے حلقات کی پابندی سے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ٥ (١١٩٥)، صحیح مسلم/الحج ٩٢ (١٣٩٠)، موطا امام مالک/القبلة ٥ (١١)، (تحفة الأشراف: ٥٣٠٠)، مسند احمد ٤/٣٩، ٤٠، ٤١ (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس بارے میں لڑ پڑے کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، تو ایک شخص نے کہا: یہ مسجد قباء ہے، اور دوسرے نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ میری یہ مسجد ہے (یعنی مسجد نبوی) ۔
It was narrated from Ibn Abi Saeed Al-Khudri (RA) that his father said: "Two men argued about the Masjid which was founded on piety from the first day. [1] One man said that it was the Masjid of Quba, and the other said that it was the Masjid of the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ said: It is this Masjid of mine". [1] At-Tawbah 9:108.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 697