Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 34 of 289

659Sunan An Nasai

جو شخص دو وقت کی نماز ایک پڑھے پہلی نماز کے وقت ختم ہونے کے بعد تو اس کو اذان دینا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ. ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ.

سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی، پھر ابن عمر ؓ نے (بھی) ایسے ہی کیا تھا، اور ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔

It was narrated from Saeed bin Jubair that he prayed Maghrib and Isha in Jam (Muzdalifah) with one Iqamah, then he narrated that Ibn Umar (RA) had done that, and Ibn Umar narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had done that.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 658
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢ (شاذ) (لیکن ” بإقامة واحدة “ (ایک اقامت سے) کا ٹکڑا شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ ” دو اقامت سے پڑھی “ جیسا کہ رقم: ٤٨٢ میں گزرا )
660Sunan An Nasai

جو شخص دو نمازیں ایک ساتھ پڑھے اسے کتنی مرتبہ تکبیر کہنی چاہئے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت سے نماز پڑھی۔

It was narrated from Ibn Umar that he prayed in Jama with the Messenger of Allah ﷺwith one Iqamah.

شاذ م ولفظ البخاري كل واحدة منهما بإقامة وهو المحفوظصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 659
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢ (شاذ) (ایک اقامت سے دونوں نمازیں پڑھنے کی بات شاذ ہے، صحیح بات یہ ہے کہ ہر ایک الگ الگ اقامت سے پڑھے )
661Sunan An Nasai

جو شخص دو نمازیں ایک ساتھ پڑھے اسے کتنی مرتبہ تکبیر کہنی چاہئے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَجَمَعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ، صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ قَبْلَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَا بَعْدُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کیں (اور) ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک اقامت سے پڑھا ١ ؎ اور ان دونوں (نمازوں) سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) joined them (Maghrib and Isha) in Al-Muzdalifah, and he prayed each of them with an Iqamah, and he did not offer any voluntary prayer before or after either of them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 660
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہی، اور اس سے پہلے جو روایتیں گزری ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ دونوں کے لیے ایک ہی اقامت کہی، دونوں کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کی تائید جابر ؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسلم میں آئی ہے، اور جس میں بأذان واحد وإقامتین کے الفاظ آئے ہیں، نیز اسامہ ؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے اقیمت الصلو ۃ فصلی المغرب، ثم أناخ کل إنسان بعیرہ فی منزلہ، ثم أقیمت العشاء فصلاہا لہذا مثبت کی روایت کو منفی روایت پر ترجیح دی جائے گی، یا ایک اقامت والی حدیث کی تاویل یہ کی جائے کہ ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٦ (١٦٧٣)، سنن ابی داود/المناسک ٦٥ (١٩٢٧، ١٩٢٨)، مسند احمد ٢/٥٦، ١٥٧، سنن الدارمی/المناسک ٥٢ (١٩٢٦)، ویأتي عند المؤلف: ٣٠٣١) (تحفة الأشراف: ٦٩٢٣) (صحیح )
662Sunan An Nasai

قضاء نمازوں کے لئے اذان دینے کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَغَلَنَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ سورة الأحزاب آية 25، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین نے غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن ہمیں ظہر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، (یہ (واقعہ) قتال کے سلسلہ میں جو (آیتیں) اتری ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے) چناچہ اللہ عزوجل نے وكفى اللہ المؤمنين القتال اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہوگیا (الاحزاب: ٢٥ ) نازل فرمائی تو رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اسے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے ویسے ہی ادا کیا، جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Saeed that his father said: "On the day of Al-Khandaq the idolators kept us from praying Zuhr until the sun had gone down; that was before the revelation concerning fighting was revealed. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Allah sufficed for the believers in the fighting.[1] The Messenger of Allah ﷺ commanded Bilal to say the Iqamah for Zuhr prayer, and he offered it just as he used to offer it on time. Then he said the Iqamah for Asr and he offered it just as he used to offer it on time. Then he called the Adhan for Maghrib and offered it on time". [1] Al-Ahzab 33:25.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 661
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤١٢٦)، مسند احمد ٣/٢٥، ٤٩، ٦٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٦ (١٥٦٥) (صحیح )
663Sunan An Nasai

اگر کئی نمازیں قضا ہوجائیں ایک ہی اذان تمام حضرات کے لئے کافی ہے لیکن تکبیر ہر ایک نماز کے لئے الگ الگ ہے

أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قال: قال عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَأَمَرَ بِلَالًافَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جنگ خندق (احزاب) کے دن مشرکین نے نبی اکرم ﷺ کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چناچہ آپ نے بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھی، پھر بلال ؓ نے تکبیر کہی تو آپ ﷺ نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔

It was narrated that Abu Ubaidah said: "Abdullah said: The idolators kept the Prophet ﷺ from (offering) four prayers on the day of Al-Khandaq, so he commanded Bilal (RA) to call the Adhan, then he said the Iqamah and prayed Zuhr, then he said the Iqamah and prayed Asr, then he said the Iqamah and prayed the Maghrib, then he said the Iqamah and prayed Isha".

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 662
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٢٣ (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابو عبیدہ “ کا اپنے والد ابن مسعود سے سماع نہیں ہے )
664Sunan An Nasai

ہر ایک وقت کی نماز کے واسطے صرف تکبیر پڑھنا بھی کافی ہے

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزْوَةٍ فَحَبَسَنَا الْمُشْرِكُونَ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّيْنَا. ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی (پھر) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، (پھر) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی، پھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف گھومے (اور) فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو ۔

Abdullah bin Masud (RA) said: "We were fighting a battle and the idolators kept us from praying Zuhr, Asr, Maghrib and Isha. When the idolators went away, the Messenger of Allah commanded a caller to say Iqamah for Zuhr prayer, and we prayed. Then he said the Iqamah for Asr, and we prayed, and he said the Iqamah for Maghrib and we prayed, and he said the Iqamah for Isha and we prayed. Then we went around among us and said: There is no group on Earth who is remembering Allah, the Mighty and Sublime, except you".

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 663
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٢٣ (صحیح) (اس کے راوی ” ابو الزبیر “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، اور ” ابو عبیدہ “ اور ان کے والد ” ابن مسعود “ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہے )
665Sunan An Nasai

جو شخص ایک رکعت پڑھنا بھول گیا اور سلام پھیر کر چل دیا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ، فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةً. فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ: هَذَا هُوَ، قَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.

معاویہ بن حدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں (تو پہچان لوں گا) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا: یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ ہیں۔

It was narrated that Muawiyah bin Hudaij that the Meseenger of Allah ﷺ prayed one day and said the Taslim when there was still a Rakah left of the prayer. A man caught up with him and said: You forgot a Rakah of the prayer! So he came back into the Masjid and told Bilal to call the Iqamah for prayer, then he led the people in praying one Rakah. I told the people about that and they said to me: Do you know who that man was? I said: No, not unless I see him. Then he paased by me and I said: This is he. They said: This is Talha bin Ubaidullah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 664
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٩٦ (١٠٢٣)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٦)، مسند احمد ٦/٤٠١ (صحیح )
666Sunan An Nasai

چرواہے کا اذان دینا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ يُؤَذِّنُ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا لَرَاعِي غَنَمٍ أَوْ عَازِبٌ عَنْ أَهْلِهِ، فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ رَاعِي غَنَمٍ.

عبداللہ بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا، تو آپ ﷺ نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے ، لوگوں نے دیکھا تو وہ (واقعی) بکریوں کا چرواہا نکلا۔

Translation of this Hadeeth is not correct…..Actual translation is not available….

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 665
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٢٥١)، مسند احمد ٤/٣٣٦، وفي الیوم واللیلة ١٨ (٣٨) (صحیح الإسناد )
667Sunan An Nasai

جو شخص تنہا نماز پڑھے اور وہ شخص اذان دے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةِ الْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے (اس) بندے کو بخش دیا، اور اسے جنت میں داخل کردیا ہے ۔

It was narrated that Uqbah bin Amir (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Your Lord is pleased with a shepherd high in the mountains who calls the Adhan for the prayer and prays. Allah says: Look at this slave of Mine; he calls the Adhan and Iqamah for the prayer and fears Me. I have forgiven My slave and admitted him to Paradise".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 666
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٢ (١٢٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٩)، مسند احمد ٤/١٤٥، ١٥٧، ١٥٨ (صحیح )
668Sunan An Nasai

جو شخص تنہا نماز ادا کرے اور تکبیر پڑھے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي صَفِّ الصَّلَاةِ الْحَدِيثَ.

رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

Translation of this Hadeeth is not correct…..Actual translation is not available….

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 667
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مسئی صلا ۃ جلدی جلدی صلاۃ پڑھنے والے شخص والی حدیث ہے جسے مصنف نے درج ذیل تین ابواب: باب الرخص ۃ فی ترک الذکر فی الرکوع، باب الرخص ۃ فی الذکر فی السجود اور باب أقل ما یجزی بہ الصلا ۃ میں ذکر کیا ہے، لیکن ان تینوں جگہوں پر کسی میں بھی اقامت کا ذکر نہیں ہے، البتہ ابوداؤد اور ترمذی نے اس حدیث کی روایت کی ہے اس میں فتوضأ کما امرک اللہ ثم تشہد فأقم کے الفاظ وارد ہیں جس سے حدیث اور باب میں مناسبت ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٦١)، سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٣٠٢) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٤)، مسند احمد ٤/٣٤٠، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٥٧، ٨٥٨، ٨٥٩، ٨٦٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٥٧ (٤٦٠)، ویأتي عند المؤلف: ١٠٥٤، ١١٣٧، ١٣١٤، ١٣١٥ (صحیح )
669Sunan An Nasai

تکبیر کس طریقہ سے پڑھنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قال: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَذَانِ، فَقَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ إِذَا قُلْتَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا سَمِعْنَا: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ.

جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے اذان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی، البتہ جب آپ قد قامت الصلاة کہتے تو اسے دو بار کہتے، چناچہ جب ہم قد قامت الصلاة سن لیتے، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Al-Muthanna, the Muadhdhin of the Jami Masjid, said: "I asked Ibn Umar (RA) about the Adhan and he said: At the time of the Messenger of Allah ﷺ, the phrases of the Adhan were recited twice and the phrases of Iqamah once, except that you should say (the phrase) Qad qamat is-salah (prayer is about to begin) twice. When we heard prayer is about to begin we would perform Wudu and go out to pray".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 668
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا بعض لوگ اور کبھی کبھی کرتے تھے، پھر بھی آپ کی لمبی قراءت کے سبب جماعت پالیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٢٩ (صحیح )
670Sunan An Nasai

ہر شخص کا اپنے اپنے لئے تکبیر کہنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَاحِبٍ لِي: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَحَدُكُمَا.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھ سے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے تو تم دونوں اذان دو، پھر دونوں اقامت کہو، پھر تم دونوں میں سے کوئی ایک امامت کرے ۔

It was narrated that Malik bin Al-Huwayrith said: "The Messenger of Allah ﷺ said to me and to a companion of mine: When the time for prayer comes, let the two of you call the Adhan then the two of you say Iqamah, then let one of you lead the prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 669
Notes · وضاحت
١ ؎: ترجمہ الباب پر ثم أقیما سے استدلال ہے، اس سے لازم آتا ہے کہ اذان بھی ہر ایک اپنے لیے الگ الگ کہے، لیکن یہ بعید ازفہم ہے، اور اس کی توجیہ حدیث رقم: ٦٣٥ میں گزر چکی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٣٦ (صحیح )
671Sunan An Nasai

فضیلت اذان سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الْمَرْءُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ١ ؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان (کی آواز) نہ سنے، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے، تو (پھر) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو (پھر) آجاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے (کہ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "When the call for the prayer is given, the Shaitan takes to his heels, passing wind loudly so that he will not hear the call to prayer. When the call to prayer is finished, he comes back. And when the Iqamah is said, he again takes to his heels, and after it is completed, he returns again to interfere between the (praying) person and his heart, saying to him: Remember such and such, remember such and such, - things that he had not remembered - until he does not know how many (Rakahs) he has prayed".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 670
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تیزی سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے جس سے اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور پیچھے سے ہوا خارج ہونے لگتی ہے، یا وہ بالقصد شرارتاً گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/، سنن ابی داود/المساجد ٣١ (٥١٦)، موطا امام مالک/الالهة ١ (٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٨)، مسند احمد ٢/٣١٣، ٣٩٨، ٤١١، ٤٦٠، ٥٠٣، ٥٢٢، ٥٣١، سنن الدارمی/الصلاة ١١ (١٢٤٠) (صحیح )
672Sunan An Nasai

اذان کہنے پر قرعہ ڈالنے کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان دینے میں اور پہلی صف میں رہنے میں کیا ثواب ہے، پھر قرعہ اندازی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں گے، نیز اگر وہ جان لیں (کہ) ظہر اول وقت پر پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے، اور اگر وہ اس ثواب کو جان لیں جو عشاء اور فجر میں ہے تو وہ ان دونوں صلاتوں میں ضرور آئیں گے، گو چوتڑ کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the people knew what (virtue) there is in the call to prayer and the first row, and they had no other way but to draw lots concerning them, they would draw lots. If they knew what (virtue) there is in coming early for the prayer, they would compete in doing so. And if they knew what (virtue) there is in Atamah and Subh prayer, they would come even if they had to crawl".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 671
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں حبوا کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہاتھوں کے سہارے چلنے کے ہیں جیسے بچہ ابتداء میں چلتا ہے یا چوتڑوں کے بل گھسٹ کر چلنے کو حبوا کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٤١ (صحیح )
673Sunan An Nasai

موذن ایسے شخص کو بنانا چاہئے کہ جو اذان پر معاوضہ وصول نہ کرے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ: أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا.

عثمان بن ابی العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے امام ہو (لیکن) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ١ ؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے ۔

It was narrated that Uthman bin Abi Al-As said: "I said: O Messenger of Allah, made me the Imam of my people. He said: You are their Imam, so consider the weakest among them and choose a Muadhdhin who does not accept any payment for his Adhan".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 672
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٠ (٥٣١)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٠)، مسند احمد ٤/٢١ (٢١٧، ٢١٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة ٣٧ (٤٦٨) (صحیح )
674Sunan An Nasai

اذان کے کلمات موذن کے ساتھ دہرانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you hear the call, say what the Muadhdhin says".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 673
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٧ (٦١١)، صحیح مسلم/الصلاة ٧(٣٨٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦ (٥٢٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٤٠ (٢٠٨)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٠)، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٢)، مسند احمد ٣/٥، ٥٣، ٧٨، ٩٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٠ (١٢٣٧) (صحیح )
675Sunan An Nasai

اذان دینے کا اجر و ثواب

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الزُّرَقِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بلال ؓ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

An-Nasr bin Sufyan narrated that he heard Abu Hurairah (RA) say: "We were with the Messenger of Allah ﷺ and Bilal stood up and gave the call. When he fell silent the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever says the same as this (what the Muadhdhin) with certainty, he will enter Paradise.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 674
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٦٤١)، مسند احمد ٢/٣٥٢ (حسن )
676Sunan An Nasai

جو کلمات موذن کہے وہی کلمات سننے والے شخص کو بھی کہنا چاہئے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ، قال: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَكَذَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مجمع بن یحییٰ انصاری کہتے ہیں کہ میں ابوامامہ بن سہل بن حنیف ؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، اور اس نے کہا: اللہ أكبر اللہ أكبر، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ اللہ أكبر اللہ أكبر کہا، پھر اس نے أشهد أن لا إله إلا اللہ کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ أشهد أن لا إله إلا اللہ کہا، پھر اس نے أشهد أن محمدا رسول اللہ کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ أشهد أن محمدا رسول اللہ کہا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کہتے تھے۔

It was narrated that Mujammi bin Yahya Al-Ansari said: "I was sitting with Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif when the Muadhdhin called the Adhan. He said: Allahu akbar; Allahu Akbar (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest), and he (also) pronounced the takbir twice. Then he said: Ashhadu an la ialaha ill-Allah (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah), and he also sent the testimony twice. Then he said: Ashhadu anna Muhammadan Rasul-Allah (I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah), and he (also) sent the testimony twice. Then he said: This is what Muawiyah bin Abi Sufyan told me, narrating from statement of the Messenger of Allah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 675
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٢٣ (٩١٤)، (تحفة الأشراف: ١١٤٠٠)، وفي عمل الیوم واللیلة رقم: (٣٥٠، ٣٥١)، مسند احمد ٤/٩٣، ٩٥، ٩٨ (صحیح )
677Sunan An Nasai

جو کلمات موذن کہے وہی کلمات سننے والے شخص کو بھی کہنا چاہئے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُجَمِّعٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعَ الْمُؤَذِّنَ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ.

ابوامامہ بن سہل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا تو جیسے اس نے کہا ویسے ہی آپ نے بھی کہا۔

It was narrated that Abu Umamah bin Sahl said: "I heard Muawiyah say: I heard the Messenger of Allah ﷺ, when he heard the Muadhdhin, repeating what he said".

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 676
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، وقد أخرجہ المؤلف فی الیوم واللیلة برقم: (٣٤٩) (صحیح )
678Sunan An Nasai

جس وقت مؤذن حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہے تو سننے والا شخص کیا کہے؟

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قال: إِنِّي عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، حَتَّى إِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَلَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.

علقمہ بن وقاص کہتے ہیں کہ میں معاویہ ؓ کے پاس تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی، تو آپ ویسے ہی کہتے رہے جیسے مؤذن کہہ رہا تھا یہاں تک کہ جب اس نے حى على الصلاة کہا تو انہوں نے: لا حول ولا قوة إلا باللہ کہا، پھر جب اس نے حى على الفلاح کہا تو انہوں نے: لا حول ولا قوة إلا باللہ کہا، اور اس کے بعد مؤذن جس طرح کہتا رہا وہ بھی ویسے کہتے رہے پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کہتے ہوئے سنا ہے۔

It was narrated that Alqamah bin Waqqas said: "I was with Muawiyah when the Muadhdhin called the Adhan. Muawiyah said what the Muadhdhin said, but when he said: Hayya alas-salah (come to prayer), he said: La hawla wa la quwwata illa Billah (There is no power and no strength except with Allah); and when he said: Hayya alal-falah (come to prosperity), he said: La hawla wa la quwwata illa Billah (There is no power and no strength except with Allah). After that he said what the Muadhdhin said, then he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying exactly like that".

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 677
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٤٣١)، مسند احمد ٤/٩١، ٩٨، سنن الدارمی/الصلاة ١٠ (١٢٣٩) (حسن )