عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلال رات رہتی ہے تبھی اذان دے دیتے ہیں، تو تم لوگ کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم ابن ام مکتوم کے اذان دینے کی آواز سنو ۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Bilal (RA) calls the Adhan during the night, so eat and drink until you hear Ibn Umm Maktoom (RA) calling the Adhan".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 638
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بلال اذان دیں تو کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں ، ان دونوں کے درمیان صرف اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ یہ اتر رہے ہوتے اور وہ چڑھ رہے ہوتے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Bilal (RA) calls the Adhan during the night, so eat and drink until Ibn Umm Maktum (RA) calls the Adhan". She said: "And there was no more between then than the time it takes for one to come down and the other to go up".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 639
Notes · وضاحت
١ ؎: مبالغہ کے طور پر ایسا کہا ہے، ورنہ صحیح بخاری میں ابن مسعود ؓ کی روایت میں صراحت ہے کہ بلال ؓ تہجد پڑھنے والوں کو اور سونے والوں کی متنبہ کرنے کے لیے اذان دیتے تھے کہ جا کر سحری کھالو، یا غسل وغیرہ کی ضرورت ہو تو فارغ ہو لو، (دیکھئیے حدیث نمبر ٦٤٢ )۔
انیسہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب (عبداللہ) ابن ام مکتوم اذان دیں تو کھاؤ پیو، اور جب بلال اذان دیں تو کھانا پینا بند کر دو ١ ؎۔
It was narrtaed from Khubaib bin Abdur-Rahman that his paternal aunt Unaisah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When Ibn Umm Maktum calls the Adhan, eat and drink, and when Bilal calls the Adhan, do not eat nor drink".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 640
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ان بیشتر روایتوں کے خلاف ہے جن میں ہے کہ بلال کی اذان پہلے ہوتی تھی، چناچہ ابن عبدالبر وغیرہ نے کہا ہے کہ اس روایت میں قلب ہوا ہے، اور صحیح وہی ہے جو بیشتر روایتوں میں ہے، امام بیہقی نے ابن خزیمہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: اگر یہ روایت صحیح ہے تو ممکن ہے ان دونوں کے درمیان باری رہی ہو، تو جب بلال ؓ کی باری رات میں اذان کہنے کی ہوتی تو وہ رات میں اذان کہتے، اور جب ابن ام مکتوم ؓ کی ہوتی تو وہ رات میں کہتے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلال رات رہتی ہے تبھی اذان دے دیتے ہیں تاکہ سونے والوں کو جگا دیں، اور تہجد پڑھنے والوں کو (سحری کھانے کے لیے) گھر لوٹا دیں، اور وہ اس طرح نہیں کرتے یعنی صبح ہونے پر اذان نہیں دیتے ہیں بلکہ پہلے ہی دیتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Masud that the Prophet ﷺ said: "Bilal (RA) calls the Adhan during the night to wake those who are sleeping and so that those who are praying Qiyam can return. Not to say it is like this". The break of dawn is not like this. [2] [1] Meaning to finish. Ash-Shawkani said: "To return to sleeping or return to sitting from praying" Nail Al-Awtar. [2] Indicating with an up and down motion. The true dawn is from right to left.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 641
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ ﷺ سے فجر کی اذان کا وقت پوچھا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہونے کے بعد اذان دی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو انہوں نے فجر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ خوب اجالا ہوگیا، پھر آپ نے انہیں (اقامت کا) حکم دیا، تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ نے نماز پڑھائی پھر فرمایا: یہ ہے فجر کا وقت ۔
It was narrated from Anas (RA) that someone asked the Messenger of Allah ﷺ about the time of Subh. The Messenger of Allah ﷺ commanded Bilal (RA) to call the Adhan when dawn broke. Then the next day he delayed Fajr until it was very light, then he told him to call the Adhan and he prayed. Then he said: "This is the time for the prayer".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 642
ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو بلال ؓ نے نکل کر اذان دی، تو وہ اپنی اذان میں اس طرح کرنے لگے یعنی (حى على … کے وقت) دائیں اور بائیں مڑ رہے تھے۔
It was narrated from Awn bin Abi Juhaifah that his father said: "I came to the Prophet ﷺ and Bilal came out and called the Adhan and he started doing like this in his Adhan, turning to his right and left".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 643
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٩ (٦٣٤)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ١١٨٠٧)، مسند احمد ٤/٣٠٨، سنن الدارمی/الصلاة ٨ (١٢٣٤) (صحیح )
عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن صعصعہ انصاری مازنی روایت کرتے ہیں کہ ابو سعید خدری ؓ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور صحراء کو محبوب رکھتے ہو، تو جب تم اپنی بکریوں میں یا اپنے جنگل میں رہو اور نماز کے لیے اذان دو تو اپنی آواز بلند کرو کیونکہ مؤذن کی آواز جو بھی جن و انس یا کوئی اور چیز ١ ؎ سنے گی تو وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گی، میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سنا ہے۔
Abdur-Rahman bin Abdullah bin Abdur-Rahman bin Abi Sasaah Al-Ansari Al-Mazini narrated that his father told him that Abu Saeed Al-Khudri (RA) said to him: "I see that you love sheep and the desert. When you are with your sheep or in the desert and you call the Adhan for prayer, then raise your voice, for no human, Jinn or anything else hears the voice of the Muadhdhin as far as it reaches, but it will bear witness for him on the Day of Resurrection". Abu Saeed said: "I heard it from the Messenger of Allah ﷺ".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 644
Notes · وضاحت
١ ؎: کوئی اور چیز عام ہے اس میں حیوانات نباتات اور جمادات سبھی داخل ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں بھی قوت گویائی عطا فرمائے گا اور یہ چیزیں بھی مؤذن کی اذان کی گواہی دیں گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥ (٦٠٩)، بدء الخلق ١٢ (٣٢٩٦)، التوحید ٥٢ (٧٥٤٨)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٥ (٧٢٣)، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٥)، مسند احمد ٣/٦، ٣٥، ٤٣، (تحفة الأشراف: ٤١٠٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک کو یہ کہتے سنا ہے: مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کردی جائے گی، اور تمام خشک وتر اس کی گواہی دیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA), who heard it from the mouth of the Messenger of Allah ﷺ: "The Muadhdhin will be forgiven as far as his voice reaches, and every wet and dry thing will bear witness for him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 645
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جتنی بلند اس کی آواز ہوگی اسی قدر اس کی بخشش ہوگی، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قدر مسافت میں اس کے جتنے گناہوں کی سمائی ہوگی وہ سب بخش دیئے جائیں گے۔
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر صلاۃ یعنی رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے ان کے لیے صلاۃ بھیجتے یعنی ان کے حق میں دعا کرتے ہیں، اور مؤذن کو جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے بخش دیا جاتا ہے، اور خشک وتر میں سے جو بھی اسے سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے، اور اسے ان تمام کے برابر ثواب ملے گا جو اس کے ساتھ صلاۃ پڑھیں گے ۔
It was narrated from Al-Bara (RA) bin Azib that the Prophet of Allah said: "Allah and His angels say salah upon the from rows, and the Muadhdhin will be forgiven as far as his voice reaches, and whatever hears him, wet or dry, will confirm what he says, and he will have a reward like that of those who pray with him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 646
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨٨٨)، مسند احمد ٤/٢٨٤، ٢٩٨، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥١ (٩٩٧) (صحیح )
ابو محذورہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اذان دیتا تھا، اور میں فجر کی پہلی اذان ٢ ؎ میں کہتا تھا: حى على الفلاح، الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم، اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ آؤ کامیابی کی طرف، نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
It was narrated that Abu Mahdhurah said: "I used to call the Adhan for the Messenger of Allah ﷺ and in the first Adhan of Fajr I used to Say: Hayya ala al-falah, as-salatu khairun minan-nawm, as-salatu khairun minan-nawm, Allahu Akbar Allahu Akbar, la ilaha illallah (Come to prosperity, prayer is better than sleep, prayer is better than sleep, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 647
Notes · وضاحت
١ ؎: تثویب سے مراد فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کہنا ہے۔ ٢ ؎: پہلی اذان سے مراد اذان ہے، اقامت کو دوسری اذان کہتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ بِلَالٍ، قال: آخِرُ الْأَذَانِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
بلال ؓ کہتے ہیں کہ اذان کا آخری کلمہ اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ ہے۔
It was narrated from Al-Aswad that Bilal (RA) said: "The final words of the Adhan are: Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah)".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 649
اسود کہتے ہیں کہ بلال ؓ کی اذان کے آخری کلمات یہ تھے اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ۔
It was narrated that Al-Aswad said: "The final words of the Adhan of Bilal (RA) were: Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah)".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 650
ابو محذورہ ؓ سے روایت ہے کہ اذان کا آخری کلمہ لا إله إلا اللہ ہے۔
It was narrated that Muharib bin Dithar said: "Al-Aswad bin Yazid narrated to me from Abu Mahdhurah that the final words of the Adhan are: La ilaha illahha (there is none worthy of worship except Allah)".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 652
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ ہمیں قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے خبر دی کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے منادی کو سفر میں بارش کی رات میں حى على الصلاة، حى على الفلاح، صلوا في رحالکم نماز کے لیے آؤ، فلاح (کامیابی) کے لیے آؤ، اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کہتے سنا ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin Aws (RA) said: "A man of Thaqif told us that he heard the caller of the Messenger of Allah ﷺ on a rainy night during a journey saying: Hayya ala as-salah, Hayya ala alfalah, sallu fi rihalikum (Come to prayer, come to prosperity, pray in your dwellings)".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 653
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نماز میں نہ آنے کے اجازت ہے، اور حى على الصلاة میں جو آنا چاہے اس کے لیے آنے کی نداء ہے، دونوں میں کوئی منافات نہیں۔
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی، تو انہوں نے کہا: ألا صلوا في الرحال لوگو سنو! (اپنے) گھروں میں نماز پڑھ لو کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب سرد بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تو وہ کہتا: ألا صلوا في الرحال لوگو سنو! (اپنے) گھروں میں نماز پڑھ لو ۔
It was narrated from Nafi that Ibn Umar (RA) gave a call to prayer on a cold and windy night, and he said: "Pray where you are, for the Prophet ﷺ used to order the Muadhdhin, if it was a cold and rainy night, to say: Pray in your dwellings".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 654
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا (اور آپ سوار ہو کر چلے) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال ؓ نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھائی، پھر بلال ؓ نے اقامت کہی تو آپ ﷺ نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔
Jafar bin Muhammad narrated from his father, that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ traveled until he came to Arafah, where he found that the tent had been pitched for him in Namirah, so he stopped there. Then when the sun had passed its zenith he called for Qaswa[1] and she was saddled for him. Then when he reached the bottom of the valley he addressed the people. Then Bilal called the Adhan, then he said the Iqamah and he prayed Zuhr, then he said the Iqamah and prayed Asr, and he did not offer any prayer in between them." [1] The name of the Prophets ﷺ mount which was a she-camel.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 655
Notes · وضاحت
١ ؎: نمرہ عرفات کی حدود سے پہلے ایک جگہ کا نام ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ (عرفہ سے) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ ﷺ نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ moved until he came to Al-Muzdalifah, where he prayed Maghrib and Isha with one Adhan and two Iqamahs, and he did not offer any prayer in between them".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 656
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر ؓ کے ساتھ مزدلفہ میں تھے، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی، اور ہمیں مغرب پڑھائی، پھر کہا: عشاء بھی پڑھ لی جائے، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی، میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said concerning Ibn Umar (RA): "We were with him (Ibn Umar) in Jam (Muzdalifah), and he called the Adhan, then the Iqamah, then he led us in praying Maghrib. Then he said: The prayer, and he led us in praying Isha, two Rakahs. I said: What is this prayer? He said: This is how I prayed with the Messenger of Allah ﷺ in this place".
صحيح دون قوله ثم قال الصلاة والمحفوظ ثم أقامصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 657
Takhrij · تخریج
انظر حدیث حدیث رقم: ٤٨٢ (صحیح) (لیکن ” ثم قال: الصلاة “ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کی جگہ ” ثم أقام الصلاة “ صحیح ہے، جیسا کہ رقم: ٨٢ میں گزرا) ۔