Sunan An Nasai 646

اذان کا بیان

646Sunan An Nasai

اذان دینے کے وقت آواز کو اونچا کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْمُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعَهُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک کو یہ کہتے سنا ہے: مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کردی جائے گی، اور تمام خشک وتر اس کی گواہی دیں گے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA), who heard it from the mouth of the Messenger of Allah ﷺ: "The Muadhdhin will be forgiven as far as his voice reaches, and every wet and dry thing will bear witness for him".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 645
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جتنی بلند اس کی آواز ہوگی اسی قدر اس کی بخشش ہوگی، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قدر مسافت میں اس کے جتنے گناہوں کی سمائی ہوگی وہ سب بخش دیئے جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣١ (٥١٥) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الأذان ٥ (٧٢٤) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٦)، مسند احمد ٢/٢٦٦، ٤١١، ٤٢٩، ٤٥٨، ٤٦١ (صحیح )