Sunan An Nasai 641

اذان کا بیان

641Sunan An Nasai

اگر دو موذن ہوں تو ایک ساتھ اذان دیں یا الگ الگ

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُشَيْمٍ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا.

انیسہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب (عبداللہ) ابن ام مکتوم اذان دیں تو کھاؤ پیو، اور جب بلال اذان دیں تو کھانا پینا بند کر دو ١ ؎۔

It was narrtaed from Khubaib bin Abdur-Rahman that his paternal aunt Unaisah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When Ibn Umm Maktum calls the Adhan, eat and drink, and when Bilal calls the Adhan, do not eat nor drink".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 640
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ان بیشتر روایتوں کے خلاف ہے جن میں ہے کہ بلال کی اذان پہلے ہوتی تھی، چناچہ ابن عبدالبر وغیرہ نے کہا ہے کہ اس روایت میں قلب ہوا ہے، اور صحیح وہی ہے جو بیشتر روایتوں میں ہے، امام بیہقی نے ابن خزیمہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: اگر یہ روایت صحیح ہے تو ممکن ہے ان دونوں کے درمیان باری رہی ہو، تو جب بلال ؓ کی باری رات میں اذان کہنے کی ہوتی تو وہ رات میں اذان کہتے، اور جب ابن ام مکتوم ؓ کی ہوتی تو وہ رات میں کہتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٣)، مسند احمد ٦/٤٣٣ (صحیح )