عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب چلنے کی جلدی ہوتی یا کوئی معاملہ درپیش ہوتا، تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "If the Messenger of Allah ﷺ was in a hurry to travel, or some emergency arose, he would combine Maghrib and Isha".
صحيح الإسناد لکن قوله أو حزبه أمر شاذ لعدم وروده في سائر الطرق عن نافع وغيره ويمكن أن يكون محرفا ففي مصنف عبدالرزاق / بإسناده هذا أو أجد به المسير والله أعلمصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 599
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٥٠٥)، مسند احمد ٢/٨٠ (صحیح الإسناد) (لیکن ” أوحز بہ أمر “ کا جملہ شاذ ہے کیونکہ نافع کے طریق سے مروی کسی بھی روایت میں یہ موجود نہیں ہے، نیز اس کے محرف ہونے کا بھی امکان ہے، اور مصنف عبدالرزاق (٢/ ٥٤٧) کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے، ” أو أجد بہ المسیر “ )
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قال: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
Sufyan said: "I heard Az-Zuhri say: Salim told me that his father said: I saw the Prophet ﷺ, if he was in a hurry to travel, joining Maghrib and Isha".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 600
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھی ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ prayed Zuhr and Asr together, and Maghrib and Isha together, when there was no fear and he was not traveling".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 601
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شدید ضرورت کے وقت مقیم بھی جمع بین الصلاتین کرسکتا ہے لیکن یہ عادت نہ بنا لی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٤ (١٢١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/السفر ١ (٤)، (تحفة الأشراف: ٥٦٠٨)، مسند احمد ١/٢٨٣، ٣٤٩ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ ایسا کیوں کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تاکہ آپ کی امت کے لیے کوئی پریشانی نہ ہو۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray in Al-Madinah combining two prayer. Joining Zuhr and Asr, and Maghrib and Isha, when there was no fear nor rain. It was said to him: "Why"? He said: "So that there would not be any hardship on his Ummah".
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 602
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حالت قیام میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع بین الصلاتین بوقت ضرورت جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس ؓ سے مروی یہ روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو دو نمازوں کو بغیر کسی عذر کے جمع کرے تو وہ بڑے گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہوگیا ضعیف ہے، اس کی اسناد میں حنش بن قیس راوی ضعیف ہے، اس لیے یہ استدلال کے لائق نہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یہ ضعیف حدیث ان صحیح روایات کی معارض نہیں ہوسکتی جن سے جمع کرنا ثابت ہوتا ہے، اور بعض لوگ جو یہ تاویل کرتے ہیں کہ شاید آپ ﷺ نے کسی بیماری کی وجہ سے ایسا کیا ہو تو یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ یہ ابن عباس ؓ کے اس قول کے منافی ہے کہ اس (جمع بین الصلاتین) سے مقصود یہ تھا کہ امت حرج میں نہ پڑے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (حج میں منی سے مزدلفہ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ ١ ؎ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ٢ ؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال ؓ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھائی، پھر بلال ؓ نے اقامت کہی، تو آپ ﷺ نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔
Jafar bin Muhammad narrated from his father that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ traveled until he came to Arafah, where he found that the tent had pitched for him. He stayed there until the sun had passed its zenith, then he called for Al-Qaswa which was saddled for him. When he reached the bottom of the valley he addressed the people. Then Bilal (RA) called the Adhan, then the Iqamah, then he prayed Zuhr, then he called the Iqamah, then he prayed Asr, and he did not offer any other prayer in between".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 604
Notes · وضاحت
١ ؎: عرفات میں ایک جگہ کا نام ہے، جو عرفات کے مغربی کنارے پر ہے، آج کل یہاں ایک مسجد بنی ہوئی ہے جس کا آدھا حصہ عرفات کے اندر ہے، اور آدھا مغربی حصہ عرفات کے حدود سے باہر ہے۔ ٢ ؎: نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کا نام قصواء تھا، قصواء کے معنی کن کٹی کے ہیں لیکن آپ کی اونٹنی کن کٹی نہیں تھی یہ اس کا لقب تھا۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٩)، سنن الدارمی/المناسک ٣٤ (١٨٩٢)، ویأتي عند المؤلف برقم: (٦٥٦) (صحیح )
ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھی۔
It was narrated from Abdullah bin Yazid that Abu Ayyub Al-Ansari (RA) told him, that during the Farewell Pilgrimage. He prayed with the Messenger of Allah ﷺ Maghrib and Isha prayers together at Al-Muzdalifah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 605
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب ابن عمر ؓ عرفات سے چلے تو میں ان کے ساتھ تھا، جب وہ مزدلفہ آئے تو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی، اور جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے: اس جگہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح نماز پڑھی تھی۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "I was with Ibn Umar (RA) when he departed from Arafah. When he came to Jam (Al-Muzdalifah), he combined Maghrib and Isha, and when he finished he said: The Messenger of Allah ﷺ did similar to this in this place".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 606
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو مزدلفہ کے علاوہ کسی جگہ جمع بین الصلاتین کرتے نہیں دیکھا ١ ؎، آپ نے اس روز فجر (اس کے عام) وقت سے ٢ ؎ پہلے پڑھ لی۔
It was narrated that Abdullah (RA) said: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ combine any two prayers except in Al-Muzdalifah, and on that day he prayed Subh before its time".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 608
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن مسعود کا نہ دیکھنا جمع بین الصلاتین کی نفی کو مستلزم نہیں، خصوصاً جب عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور اکابر صحابہ ؓ اجمعین سے جمع بین الصلاتین کی صحیح روایات منقول ہیں۔ ٢ ؎: یعنی فجر طلوع ہوتے ہی پڑھ لی جب کہ عام حالات میں طلوع فجر کے بعد کچھ انتظار کرتے تھے۔
اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ (انہیں نبی اکرم ﷺ نے عرفہ میں سواری پر پیچھے بٹھا لیا تھا) تو جب آپ ﷺ گھاٹی پر آئے تو اترے، اور پیشاب کیا، (انہوں نے لفظ بَالَ کہا أهراق الماء نہیں کہا ١ ؎ ) تو میں نے برتن سے آپ ﷺ پر پانی ڈالا، آپ نے ہلکا پھلکا وضو کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز پڑھ لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے، جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب پڑھی، پھر لوگوں نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتارے، پھر آپ نے عشاء پڑھی۔
It was narrated from Usamah bin Zaid, whom the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had seated behind him on his camel on the way from Arafah, that when he reached the mountain pass, he dismounted and urinated - and he did not say that he passed water. He (Usamah) said: "I poured water for him from a small vessel and he performed a light Wudu. I said to him: The prayer. He said: The prayer is still ahead of you. When he came to Al-Muzdalifah he prayed Maghrib, then they untied the saddles of their mounts and then he prayed Isha".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 609
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ١ ؎۔
Al-Walid bin AlAyzar said: "I heard Abu Amr Ash-Shaibani say: The owner of this house - and he pointed to the house of Abdullah - said: I asked the Messenger of Allah ﷺ: Which deed is most beloved to Allah, may He be exalted? He said: Prayer offered on time, honoring ones parents, and Jihad in the cause of Allah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 610
Notes · وضاحت
١ ؎: مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو افضل الاعمال (زیادہ بہتر) کہا گیا ہے، اس کی توجیہ بعض لوگوں نے اس طرح کی ہے کہ ان میں مِن پوشیدہ ہے یعنی من افضل الاعمال یعنی یہ کام زیادہ فضیلت والے عملوں میں سے ہے یا ان کی فضیلت میں مختلف اقوال، اوقات یا جگہوں کا اعتبار ملحوظ ہے، مثلاً کسی وقت اول وقت نماز پڑھنا افضل ہے، اور کسی وقت جہاد یا حج مبرور افضل ہے، یا مخاطب کے اعتبار سے اعمال کی ا فضیلت بتائی گئی ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ۔
It was narrated that Abdullah bin Masud (RA) said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ which action is most beloved to Allah? He said: Establishing prayer on time, honoring ones parents and Jihad in the cause of Allah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 611
محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے کہ نماز کی اقامت کہی گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے (جب وہ آئے تو) انہوں نے کہا: میں وتر پڑھنے لگا تھا، (اس لیے تاخیر ہوئی) عبداللہ بن مسعود ؓ سے لوگوں نے پوچھا: کیا (فجر کی) اذان کے بعد وتر ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ سو گئے حتیٰ کہ سورج نکل آیا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی ١ ؎ اس حدیث کے الفاظ یحییٰ بن حکیم کے ہیں۔
It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir that his father was in the Masjid of Amr bin Shurahbil and the Iqamah for prayer was said, so they were waiting for him. He said: "I was praying Witr, and Abdullah was asked: Is there any Witr after the Adhan? He said: "Yes, and after the Iqamah, and he narrated that the Prophet ﷺ slept and missed the prayer until the sun rose then prayed". And the wording is that of Yahya.
صحيح الإسناد إن کان محمد بن المنتشر سمع ابن مسعود وقصة النوم صحيحةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 612
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ابن مسعود ؓ کا مطلب یہ تھا کہ وقت گزر جانے سے نماز ساقط نہیں ہوتی بلکہ اس کی قضاء کرنی پڑتی ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ قضاء فرائض کے ساتھ خاص ہے وہ اس حدیث سے وتر کے واجب ہونے پر دلیل پکڑتے ہیں، لیکن اس روایت میں فرائض کے ساتھ قضاء کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں، سنتوں کی قضاء بھی ثابت ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو نماز سے سو جاتا ہے یا اس سے غافل ہوجاتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آجائے تو اسے پڑھ لے ۔
It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man who slept and missed the prayer, or forgot it. He said: The expiation for that is to pray it when he remembers it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 614
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٥)، مسند احمد ٣/٢٦٧، (تحفة الأشراف: ١١٥١) (صحیح )
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے نمازوں سے اپنے سو جانے کے متعلق نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: نیند کی حالت میں کوئی تقصیر (کمی) نہیں ہے ، تقصیر (کمی) تو جاگنے میں ہے (کہ جاگتا ہو اور نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وقت گزر جائے) ، تو جب تم میں سے کوئی آدمی نماز بھول جائے، یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے ۔
It was narrated that Abu Qatadah (RA) said: "They told the Prophet ﷺ that they had slept and missed the prayer. He said: There is no negligence when one sleeps, rather negligence is when one is awake. If any one of you forgets a prayer or sleeps and misses it, let him pray it when he remembers it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 615
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیند کی حالت میں کوئی تقصیر (کمی) نہیں ہے، تقصیر (کمی) تو اس شخص میں ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ جس وقت اسے اس کا ہوش آئے تو دوسری نماز کا وقت ہوجائے ۔
It was narrated that Abu Qatadah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no negligence when one sleeps, rather negligence is when one does not offer one prayer until the time of the next prayer comes and he realizes that he has missed a prayer".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 616
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ جب لوگ نماز سے سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اسے دوسرے روز اس کے وقت پر پڑھنا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Qatadah (RA) that when they missed the prayer because they slept until the sun rose, the Messenger of Allah ﷺ said: "Let any one of you pray it during its time tomorrow".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 617
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آج نیند کی وجہ سے تقصیر ہوگئی تو ہوگئی، اس کی ابھی قضاء پڑھ لی ہے، لیکن کل سے اسے اپنے وقت پر پڑھنا، کیونکہ صحیح مسلم میں اس روایت کے الفاظ یوں ہیں فلیصلھاحین ینتبہ لھا، فإذا کان الغد فلیصلھاعند وقتھا یعنی: اس نماز کو جب اٹھے تب پڑھ لے (یعنی قضاء کر کے)، اور کل سے اس کو اپنے وقت پر پڑھا کرے) مؤلف سے ذہول ہوا ہے، اسی ذہول کی بنا پر انہوں نے مذکورہ باب باندھا ہے۔