ابوسلمہ ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے ان دونوں رکعتوں کے متعلق سوال کیا جنہیں رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ انہیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ کسی کام میں مشغول ہوگئے یا بھول گئے تو انہیں عصر کے بعد ادا کیا، اور آپ جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے برقرار رکھتے۔
It was narrated from Abu Salamah that he asked Aishah (RA) about the two prostrations (Rakahs) that the Messenger of Allah ﷺ used to pray after Asr. She said: "He used to pray them before Asr, but if he got distracted or forgot them, he would pray them after Asr, and if he did a prayer he would be constant in it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 578
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٥٤ (٨٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٥٢)، مسند احمد ٦/٤٠، ٦١، ٢٤١، مسند احمد ٦/١٨٤، ١٨٨ (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک بار نبی اکرم ﷺ نے ان کے گھر میں عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھی تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ دو رکعتیں ہیں جنہیں میں ظہر کے بعد پڑھتا تھا تو میں انہیں نہیں پڑھ سکا، یہاں تک کہ میں نے عصر پڑھ لی ، (تو میں نے اب عصر کے بعد پڑھی ہے) ۔
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) once prayed two Rakahs after Asr in her house. She asked him about that and he said: "They are two Rakahs that I used to pray after Zuhr, but I got distracted and forgot them until I prayed Asr".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 579
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨٢٤٢)، مسند احمد ٦/ ٣٠٤، ٣١٠ (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر سے پہلے والی دو رکعت نہیں پڑھ سکے، تو انہیں عصر کے بعد پڑھی۔
It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ got distracted and did not pray the two Rakahs before Asr so he prayed them after Asr".
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 580
عمران بن حدیر کہتے ہیں: میں نے لاحق (لاحق بن حمید ابومجلز) سے سورج ڈوبنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن زبیر ؓ یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے، تو معاویہ ؓ نے ان سے پچھوا بھیجا کہ سورج ڈوبنے کے وقت کی یہ دونوں رکعتیں کیسی ہیں؟ تو انہوں نے بات ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کی طرف بڑھا دی، تو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ عصر سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے تو (ایک مرتبہ) آپ انہیں نہیں پڑھ سکے، تو انہیں سورج ڈوبنے کے وقت ١ ؎ پڑھی، پھر میں نے آپ کو انہیں نہ تو پہلے پڑھتے دیکھا اور نہ بعد میں۔
Imran bin Hudair said: I asked Lahiq about the two Rakahs before sunset. He said: "Abdullah bin Az-Zubair used to pray them, and Muawiyah sent word to him asking: What are these two Rakahs at sunset? He had to refer to Umm Salamah, and Umm Salamah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ used to pray two Rakahs before Asr, then he was distracted and did not pray them, so he prayed them when the sun set, and I never saw him pray them before or after that".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 581
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسے وقت میں پڑھی جب سورج کے ڈوبنے کا وقت قریب آگ یا تھا، یہ مطلب نہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد پڑھی کیونکہ اس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔
ابوالخیر کہتے ہیں کہ ابوتمیم جیشانی مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو میں نے عقبہ بن عامر ؓ سے کہا: انہیں دیکھئیے! یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھ کر بولے: یہ وہی نماز ہے جسے ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں پڑھا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Yazid bin Abi Habib that Abu Al-Khair told him: "Abu Tamim Al-Jaishani stood up to pray two Rakahs before Maghrib, and I said to Uqbah bin Amir: Look at this man, what prayer is he praying? He turned and looked at him, and said: This is a prayer that we used to pray at the time of the Messenger of Allah ﷺ".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 582
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنا جائز ہی نہیں بلکہ مستحب ہے، صحیح بخاری (کے مذکورہ باب) میں عبداللہ مزنی ؓ کی روایت میں تو صلوا قبل المغرب حکم کے صیغے کے ساتھ وارد ہے، یعنی مغرب سے پہلے (نفل) پڑھو۔
عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کون اسلام لایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام ١ ؎ میں نے عرض کیا: کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ حاصل ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، رات کا آخری حصہ ہے، اس میں فجر پڑھنے تک جتنی نماز چاہو پڑھو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور اسی طرح اس وقت تک رکے رہو جب تک سورج ڈھال کی طرح رہے (ایوب کی روایت میں وما دامت کے بجائے فما دامت ہے) یہاں تک کہ روشنی پھیل جائے، پھر جتنی چاہو پڑھو یہاں تک کہ ستون اپنے سایہ پر کھڑا ہوجائے ٢ ؎ پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اس لیے کہ نصف النہار (کھڑی دوپہر) میں جہنم سلگائی جاتی ہے، پھر جتنا مناسب سمجھو نماز پڑھو یہاں تک کہ عصر پڑھ لو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔
It was narrated that Amr (RA) bin Abasah said: "I came to the Messenger of Allah,and said: who became Muslim with you? He said: Free men and slaves. I said: Is there any moment which brings one closer to Allah than another? He said: Yes, the last part of the night, so pray as much as you want until you pray Subh, then stop until the sun has risen until and it looks like a shield and (its shinning) spreads. Then pray as much as you want until an objects shadow is at its shortest, then stop until the sun passes its zenith, for Hell is stoked at midday. Then pray Asr, then stop until you pray Asr, then stop until the sun has set, for it sets between the horns of a Shaitan and rises between the horns of a Shaitan". Similar has been recorded by Muslim.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 584
Notes · وضاحت
١ ؎: آزاد سے ابوبکر ؓ اور غلام سے بلال ؓ مراد ہیں۔ ٢ ؎: یعنی سایہ کم ہوتے ہوتے صرف ستون کے نیچے رہ جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٨ (١٢٥١)، ١٨٢ (١٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٢)، مسند احمد ٤/١١١، ١١٣، ١١٤ (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس سند کے اندر ” عبدالرحمن بیلمانی “ ضعیف ہیں )
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! تم کسی کو رات یا دن کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کرنے، اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔
It was narrated from Jubair bin Mutim that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "O Banu Abd Manaf, do not prevent anyone from circumambulating this House and praying at any time he wants of night or day".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 585
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٥٣ (١٨٩٤)، سنن الترمذی/الحج ٤٢ (٨٦٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٤٩ (١٢٥٤)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٧)، مسند احمد ٤/٨٠، ٨١، ٨٤، سنن الدارمی/المناسک ٧٩ (١٩٦٧)، ویأتي عند المؤلف في المناسک ١٣٧ (برقم: ٢٩٢٧) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے تو عصر تک ظہر کو مؤخر کردیتے، پھر سواری سے نیچے اترتے اور جمع بین الصلاتین کرتے یعنی دونوں صلاتوں کو ایک ساتھ پڑھتے ١ ؎، اور اگر سفر کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "If the Messenger of Allah ﷺ was setting out on a journey before the sun passed its zenith, he would delay Zuhr until the time of Asr, then he would stop and combine the prayer. If the sun passed its zenith before he set out, he would pray Zuhr and then set off.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 586
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں سفر میں جمع بین الصلوٰتین کا جواز ثابت ہوتا ہے، احناف سفر اور حضر کسی میں جمع بین الصلوٰتین کے جواز کے قائل نہیں، ان کی دلیل ابن عباس ؓ کی روایت من جمع بين الصلاتين من غير عذر فقد أتى باباً من أبواب الکبائر ہے، لیکن یہ روایت حد درجہ ضعیف ہے، قطعاً استدلال کے قابل نہیں، اس کے برعکس سفر میں جمع بین الصلاتین پر جو روایتیں دلالت کرتی ہیں وہ صحیح ہیں، ان کی تخریج مسلم اور ان کے علاوہ اور بہت سے لوگوں نے کی ہے۔
ابوالطفیل عامر بن واثلۃ ؓ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل ؓ نے انہیں خبر دی کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے سال نکلے، تو رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے رہے، چناچہ آپ ﷺ نے ایک دن نماز کو مؤخر کیا، پھر نکلے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ ادا کیا، پھر اندر داخل ہوئے، پھر نکلے تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
It was narrated from Abu At-Tufail Amir bin Wathilah that Muadh bin Jabal told him that they went out with the Messenger of Allah ﷺ in the year of Tabuk, and the Messenger of Allah ﷺ was joining Zuhr and Asr, and Maghrib and Isha. He delayed the prayer one day then he went out and prayed Zuhr and Asr together, then he went in and came out again and prayed Maghrib and Isha.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 587
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان کے والد (عبداللہ بن عمر ؓ) کی نماز کے بارے میں پوچھا، نیز ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سفر کے دوران کسی نماز کو جمع کرتے تھے؟ تو انہوں نے ذکر کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید (جو ان کے عقد میں تھیں) نے انہیں لکھا، اور وہ اپنے ایک کھیت میں تھے کہ میرا دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے (یعنی قریب المرگ ہوں آپ تشریف لائیے) تو ابن عمر ؓ سوار ہوئے، اور ان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بڑی تیزی دکھائی یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئیے، لیکن انہوں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی یہاں تک کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہوگیا، تو سواری سے اترے اور بولے: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو (پھر) تکبیر کہو، ٢ ؎ چناچہ انہوں نے نماز پڑھی، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا تو ان سے مؤذن نے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، انہوں نے کہا: جیسے ظہر اور عصر میں کیا گیا ویسے ہی کرو، پھر چل پڑے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہوگئے، تو سواری سے اترے، پھر مؤذن سے کہا: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو پھر تکبیر کہو، تو انہوں نے نماز پڑھی، پھر پلٹے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور بولے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کسی کو ایسا معاملہ پیش آجائے جس کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو وہ اسی طرح (جمع کر کے) نماز پڑھے ۔
Kathir bin Qarawanda said: "I asked Salim bin Abdullah about how his father prayed when traveling. We asked him: Did he combine any of his prayers when traveling? He said that Safiyyah bint Abi Ubaid was married to him, and she wrote to him, when he was at some farmland of his, saying: This is the last of my days in this world, and the first day of the Hereafter". He rode quickly to go to her, and when the time for Zuhr came, the Muadhdhin said to him: "The prayer, O Abu Abdur-Rahman"! But he paid no attention to him until it was between the time for the two prayers, then he stopped and said: "Say the Iqamah and when I say the Taslim, say the Iqamah". Then he rode on again, and when the sun set the Muadhdhin said to him; "The prayer"! He said: "Do as you did for Zuhr and Asr". When the stars had appeared, he stopped and said to the Muadhdhin: "Say the Iqamah and when I say the Taslim, say the Iqamah". He prayed, then when he had finished he turned to us and said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If any one of you has an urgent need that he fears he may miss, let him pray like this". Meaning that she was dying.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 588
Notes · وضاحت
٢ ؎: یعنی تھوڑا سا رک کر کے جیسا کہ صحیح بخاری میں فلما يلبث حتى يقيم العشاء کے الفاظ وارد ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٧٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٦ (١٠٩١)، العمرة ٢٠ (١٨٠٥)، الجھاد ١٣٦ (٣٠٠٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٤ (١٢٠٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٧ (٥٥٥)، مسند احمد ٢/٥١، ویأتي عند المؤلف برقم: (٥٩٨) (حسن) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” کثیر بن قاروندا “ لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ میں ایک ساتھ آٹھ رکعت، اور سات رکعت نماز پڑھی، آپ نے ظہر کو مؤخر کیا، اور عصر میں جلدی کی، اور مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "I prayed with the Prophet ﷺ in Al-Madinah, eight together and seven together. He delayed Zuhr and brought Asr forward, and he delayed Maghrib and brought Isha forward".
صحيح دون قوله أخر الظهر .. إلخ فإنه مدرجصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 589
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٢ (٥٤٣)، ١٨ (٥٦٢)، التھجد ٣٠ (١١٧٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٥) سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٤ (١٢١٤)، ” کلہم بدون قولہ: أخّر… إلخ “، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٥٣٧٧)، مسند احمد ١/٢٢١، ٢٢٣، ٢٧٣، ٢٨٥، ٣٦٦، ویأتی عند المؤلف برقم: ٥٩١، ٦٠٤، (صحیح) (لیکن ” أخر الظھر…إلخ “ کا ٹکڑا حدیث میں سے نہیں ہے، نسائی کے کسی راوی سے وہم ہوگیا ہے، یہ مؤلف کے سوا کسی اور کے یہاں ہے بھی نہیں، مدرج ہونے کی صراحت مسلم میں موجود ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بصرہ میں پہلی نماز ١ ؎ (ظہر) اور عصر ایک ساتھ پڑھی، ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، اور مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، انہوں نے ایسا کسی مشغولیت کی بناء پر کیا، اور ابن عباس ؓ کا کہنا ہے کہ انہوں نے مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلی نماز (ظہر) اور عصر آٹھ رکعتیں پڑھی، ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز فاصل نہیں تھی۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that he prayed Al-Uula (Zuhr) and Asr together in Al-Basrah with nothing in between them, and he prayed Maghrib and Isha together with nothing in between them. He did that because he was busy and Ibn Abbas (RA) said that he had prayed Zuhr and Isha together with the Messenger of Allah ﷺ in Al-Madinah, eight Rakahs with nothing in between.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 590
Notes · وضاحت
١ ؎: صحابہ کرام ؓ نماز ظہر کو اولیٰ کہتے تھے کیونکہ یہی وہ پہلی نماز تھی جسے جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی اکرم ﷺ کو پڑھائی تھی۔
قریش کے ایک شیخ اسماعیل بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں حمی ١ ؎ تک ابن عمر ؓ کے ساتھ رہا، جب سورج ڈوب گیا تو میں ڈرا کہ ان سے یہ کہوں کہ نماز پڑھ لیجئیے، چناچہ وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ افق کی سفیدی اور ابتدائی رات کی تاریکی ختم ہوگئی، پھر وہ اترے اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Ismail bin Abdur-Rahman, a Shaikh of the Quraish, said: "I accompanied Ibn Umar (RA) to Al-Hima. [1] When the sun set I felt too nervous to remind him of the prayer, so he went on until the light on the horizon had disappeared and it was getting dark, then he stopped and prayed Maghrib, three Rakahs, then he prayed two Rakahs immediately afterwards, then he said: This what I saw the Messenger of Allah ﷺ do". [1] A place near Madinah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 591
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ جہاں سرکاری جانور چرا کرتے تھے اور یہ سرکاری چراگاہ تھی۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ کو سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب مؤخر کرتے یہاں تک کہ اس کو اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
It was narrated that Az-Zuhri said: "Salim told me that his father said: I saw the Messenger of Allah ﷺ, when he was in a hurry to travel, delaying Maghrib so that he could combine it with Isha".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 592
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٦ (١٠٩١)، ١٣ (١١٠٦)، ١٤ (١١٠٩)، العمرة ٢٠ (١٨٠٥)، الجھاد ١٣٦ (٣٠٠٠)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٦٨٤٤)، مسند احمد ٢/٧، ٨، ٥١، ٦٣ (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اور رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے، تو آپ نے مقام سرف ١ ؎ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
It was narrated that Jabir (RA) said: "The sun set when the Messenger of Allah ﷺ was in Makkah, and he joined the two prayers in Sarif: A valley about 12 km northeast of Makkah on the way to Al-Madinah.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 593
Notes · وضاحت
١ ؎: سرف مکہ سے دس میل کی دوری پر ایک جگہ ہے سورج ڈوبنے کے بعد اتنی مسافت طے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جمع صوری نہیں حقیقی رہی ہوگی، اور نماز آپ نے شفق غائب ہونے کے بعد پڑھی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٤ (١٢١٥)، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٧)، مسند احمد ٣/٣٠٥ (ضعیف الإسناد) (اس کے رواة ” مومل، یحییٰ، اور عبدالعزیز “ تینوں حافظے کے کمزور رواة ہیں )
انس بن مالک ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر دونوں کو ایک ساتھ جمع کرتے، اور مغرب کو شفق کے ڈوب جانے تک مؤخر کرتے، اور پھر اسے اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
It was narrated from Anas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the Messenger of Allah ﷺ wanted to travel quickly, he would delay Zuhr until the time of Asr and combine them, and he would delay Maghrib until he combined it with Isha when the twilight had disappeared".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 594
نافع کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، وہ اپنی زمین (کھیتی) کا ارادہ کر رہے تھے، اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آپ کی بیوی صفیہ بنت ابو عبید سخت بیمار ہیں تو آپ جا کر ان سے مل لیجئے، چناچہ وہ بڑی تیز رفتاری سے چلے اور ان کے ساتھ ایک قریشی تھا وہ بھی ساتھ جا رہا تھا، آفتاب غروب ہوا تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ نماز کی بڑی محافظت کرتے ہیں، تو جب انہوں نے تاخیر کی تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق ڈوبنے لگی تو اترے، اور مغرب پڑھی، پھر عشاء کی تکبیر کہی، اس وقت شفق غائب ہوگئی تھی، انہوں نے ہمیں (عشاء کی) نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: جب رسول اللہ ﷺ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے تھے۔
Nafi said: "I went out with Abdullah bin Umar (RA) on a journey to some of his land. Then someone came to him and said: Safiyyah bint Abi Ubaid is sick, try to get there before it is too late. He set out quickly, accompanied by a man of the Quraish. The sun set but he did not pray, although I knew him to be very careful about praying on time. When he slowed down I said: The prayer. He turned to me but carried on until the twilight was almost gone, then he stopped and prayed Maghrib, then he said the Iqamah for Isha, at that time the twilight had totally disappeared and led us in prayer. Then he turned to us and said: If the Messenger of Allah ﷺ was in a hurry to travel he would do this".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 595
نافع کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عمر ؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے (اور برابر چلتے رہے) یہاں تک کہ ہم نے شام کرلی، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں، چناچہ ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہوگئی ١ ؎ پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی، اور جب شفق غائب ہوگئی تو عشاء پڑھی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated that Nafi said: "We came back with Ibn Umar (RA) from Makkah. One night he kept on travelling until evening came, and we thought that he had forgotten the prayer! But he kept quiet and kept going until the twilight had almost disappeared, then he stopped and prayed, and when the twilight disappeared he prayed Isha. Then he turned to us and said: This is what we used to do with the Messenger of Allah ﷺ if he was in a hurry to travel".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 596
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ جمع صوری تھی حقیقی نہیں، لیکن صحیح مسلم کی روایت میں نافع سے جمع بین المغرب والعشاء بعدأن یغیب الشفق کے الفاظ وارد ہیں، اور صحیح بخاری میں حتیٰ کان بعد غروب الشفق نزل فصلی المغرب والعشاء جمعاًبینہما اور سنن ابوداؤد میں حتیٰ غاب الشفق وتصوبت النجوم نزل فصلی الصلاتین جمعاً اور عبدالرزاق کی روایت میں فاخرالمغرب بعد ذہاب الشفق حتیٰ ذہب ہوی من اللیل کے الفاظ ہیں، ان روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ اسے تعدد واقعہ پر محمول کیا جائے، نہیں تو صحیحین کی روایت راجح ہوگی۔
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا عبداللہ بن عمر ؓ سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے، پھر چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ تھیں، انہوں نے انہیں کہلوا بھیجا کہ میں دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں ١ ؎ (اس لیے آپ آ کر آخری ملاقات کرلیجئے) ، تو وہ سوار ہوئے، اور میں اس ان کے ساتھ تھا، وہ تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا، تو ان سے مؤذن نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئے، لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آگیا، تو اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، اور جب میں ظہر پڑھ لوں تو اپنی جگہ پر (دوبارہ) اقامت کہنا، چناچہ اس نے اقامت کہی، تو انہوں نے ظہر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر تو (مؤذن نے) اپنی اسی جگہ پر پھر اقامت کہی، تو انہوں نے عصر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن نماز پڑھ لیجئے، تو انہوں نے کہا جیسے پہلے کیا تھا، اسی طرح کرو اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہوگئے تو اترے، اور کہنے لگے: اقامت کہو، اور جب سلام پھیر چکوں تو دوبارہ اقامت کہنا، پھر انہوں نے مغرب کی تین رکعت پڑھائی، پھر اپنی اسی جگہ پر اس نے پھر تکبیر کہی تو انہوں نے عشاء پڑھائی، اور اپنے چہرہ کے سامنے ایک ہی سلام پھیرا، اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے ۔
Kathir bin Qarawanda said: "We asked Salim bin Abdullah about prayer while traveling. We said: Did Abdullah combine any of his prayer while traveling? He said: No, except at Jam. Then he paused, and said: Safiyyah was married to him, and she sent word to him that she was in her last day in this world and the first day in the Hereafter. So he ride off in a hurry, and I was with him. The time for prayer came and the Muadhdhin said to him: The prayer, O Abu Abdur-Rahman! But he kept going until it was between the time for the two prayer. Then he stopped and said to the Muadhdhin: "Say the Iqamah, and when I say the Taslim at the end of Zuhr, say the Iqamah (again) straight away". So he said the Iqamah and he prayed Zuhr, two Rakahs, then he said the Iqamah (again) straight away, and he prayed Asr, two Rakahs. Then he rode off quickly until the sun set and the Muadhdhin said to him: "The prayer, O Abu Abdur-Rahman"! He said: "Do what you did before". He rode on until the starts appeared, then he stopped and said: "Say the Iqamah, then when I say the Taslim, say the Iqamah. So he said the Iqamah and he prayed Maghrib, three Rakahs, then he said the Iqamah (again) straight away and he prayed Isha, then he said one Taslim, turning his face. Then he said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If any one of you has urgent need that he fears he may miss, let him pray like this".