مسافر آدمی نماز ظہر اور نماز عصر کو کون سے وقت میں ایک ساتھ جمع کرے اس سے متعلقہ احادیث
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے تو عصر تک ظہر کو مؤخر کردیتے، پھر سواری سے نیچے اترتے اور جمع بین الصلاتین کرتے یعنی دونوں صلاتوں کو ایک ساتھ پڑھتے ١ ؎، اور اگر سفر کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "If the Messenger of Allah ﷺ was setting out on a journey before the sun passed its zenith, he would delay Zuhr until the time of Asr, then he would stop and combine the prayer. If the sun passed its zenith before he set out, he would pray Zuhr and then set off.