عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے قرض لیا، ان سے کہا گیا : ام المؤمنین ! آپ قرض لے رہی ہیں حالانکہ آپ کے پاس ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے ؟ ، عرض کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے کوئی قرض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کی فکر میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے ۔
It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah bin Utbah that Maimunah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), took a loan, and it was said to her: "O Mother of the Believers, why have you taken a loan when you do not have the means to pay if off?" She said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever takes a loan intending to pay it back, Allah, the Mighty and Sublime, will help him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4687
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ١ ؎، اور مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If one of you is referred to a rich man (to help repay a debt), he should accept that referral, and (wrongdoing) is when a rich man takes a long time to repay a debt.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4688
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کردینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید عمرو کا سامنا بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کرلے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کر لینی چاہیئے۔
شرید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہوجاتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Ash-Sharid, that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: if one who can afford it delay repayment, his honor and punishment become permissible.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4689
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی برائی کرسکتا ہے اور حاکم اسے سزا دے سکتا ہے۔
شرید (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہوجاتی ہے ۔
It was narrated from Amr bin Ash-Shrid, from his father that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If one who can afford it delays repayment, his honor and punishment become permissible.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4690
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اگر تم میں سے کوئی مالدار آدمی کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرلے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Wrongdoing is when a rich man takes a long time to repay a debt, and if one of you is referred to a rich man (to help repay debt), he should accept that referral.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4691
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تاکہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں، آپ نے فرمایا : تمہارے اس ساتھی پر قرض ہے ، ابوقتادہ نے کہا : میں اس کی ضمانت لیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : پورا ادا کرو گے ؟ کہا : جی ہاں ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah, from his father, that a man from among the Ansar was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) for him to offer the funeral prayer, and he said: "Your companion owes a debt. " Abu Qutdah said: "I will guarantee it for him. "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "In full?" He said: "In full." (Sahah)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4692
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک آدمی نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا لیکن وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا، پھر اپنے قاصد سے کہتا : جو قرض آسانی سے واپس ملے اسے لے لو اور جس میں دشواری پیش آئے، اسے چھوڑ دو اور معاف کر دو ، شاید اللہ تعالیٰ ہماری غلطیوں کو معاف کر دے، جب وہ مرگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا : کیا تم نے کبھی کوئی خیر کا کام کیا ؟ اس نے کہا : نہیں، سوائے اس کے کہ میرے پاس ایک لڑکا تھا، میں لوگوں کو قرض دیتا تھا جب میں اس لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تو اس سے کہتا کہ جو آسانی سے ملے اسے لے لینا اور جس میں دشواری ہو، اسے چھوڑ دینا اور معاف کردینا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تمہیں معاف کردیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There was a man who never did any good deed, but he used to lend to people and he would say to this messenger: "Take what can be paid easily and leave what is difficult, let them off, and perhaps Allah, the Mighty and Sublime, said to him: Did you ever do any good did? He said: No, but I had a slave and I used to lend to people. When I sent him to collect the debts I said to him: Take what can he paid easily and leave what is difficult; let them off, and perhaps Allah will let us off. Allah, the Most High, said: I have let you off.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4694
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک شخص لوگوں کو قرض دیتا تھا، جب کسی مفلس (دیوالیہ) کی پریشانی دیکھتا تو اپنے آدمی سے کہتا : اسے معاف کر دو ، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا ۔
Abu Hurairah said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "A man used to lend to people, but if he realized that someone was going through hardship, he would say to his slave: Let him off, perhaps Allah, the Most High, will let us off. And when he met Allah, He let him off.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4695
عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کردیا جو خریدتے، بیچتے، (قرض) دیتے اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا تھا ۔
It was narrated that Uthman bin Affan said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Mighty and Sublime, admitted to paradise a man who was easygoing in buying and selling, in paying off debts and asking for repayment." (Sahih)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4696
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٨ (٢٢٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٣٠) ، مسند احمد (١/٥٨، ٦٧، ٧٠) (حسن )
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ عمار، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی، چناچہ سعد دو قیدی لے کر آئے، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے۔
It was narratd that Abdullah said: "Sad, Ammar and I entered into a partnership on the Day of Badr, (agreeing to share) whatever was allotted to us. Ammar and I did not get anything. But sad got two prisoners.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4697
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٩٦٩ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو عبیدہ “ کا اپنے باپ ” ابن مسعود “ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ” ابواسحاق “ مدلس اور مختلط ہیں )
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے ایک غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا تو جتنا حصہ باقی ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہوگا بشرطیکہ اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت بھر مال ہو ١ ؎۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever sets free his share of a slave should set him free completely from his own wealth, if he has enough wealth to cover the price of the slave.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4698
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا تعلق اگلے باب سے ہے، کاتبوں کی غلطی سے یہ اس باب میں درج ہوگیا۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت کے برابر مال ہو تو وہ اس کے مال سے آزاد ہوجائے گا ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever sets free his share of a slave, and he has sufficient wealth to set him free completely by paying the price of the slave, then he should set him free with his own wealth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4699
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں اگر کسی کے پاس کوئی زمین یا کھجور کا درخت ہو تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اپنے حصہ دار و شریک سے نہ پوچھ لے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Any one of you who has land, or date palm trees, he should not sell them until he offers them to his partner first.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4700
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوا کہ درخت یا باغ میں حصہ داری جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الشفعة ١ (٢٤٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٦٥) ، مسند احمد (٢/٣٠٧) (صحیح )
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر مشترک مال جو تقسیم نہ ہوا ہو جیسے زمین یا باغ، میں شفعہ کا حکم دیا، اس کے لیے صحیح نہیں کہ وہ اسے بیچے جب تک کہ حصہ دار سے اجازت نہ لے لے، اگر وہ (شریک) چاہے تو اسے لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، اور اگر اس (شریک) سے اس کی اجازت لیے بغیر بیچ دیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that pre-emption is to be given in everything that is shared in which the division is not clear, whether it is a house or a garden. It is not permissible to sell it before informing ones partner, who may take it or leave it, as he wishes. He (the share-owner) sells it without informing him, and then he has more right to it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4701
ابورافع (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے ۔
It was narrated that Abu Rafi said: "The Messenger of Allah ﷺ said" "The neighbor has more right to property that is near.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4702
Notes · وضاحت
١ ؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کرسکے، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں کی جائیداد اس طرح مشترک ہو کہ دونوں کے حصے کی تعیین نہ ہو، اور دونوں کا راستہ بھی ایک ہو، دیکھئیے حدیث رقم ٤٧٠٨۔
شرید (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میری زمین ہے، جس میں کسی کی حصہ داری اور شرکت نہیں اور نہ ہی پڑوس کے سوا کسی کا حصہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے ۔
It was narrated from Amr Bin Ash-Sharid, from his father, that a man said: "O Messenger of Allah ﷺ, not one else has any share in my land, but there are neighbors." He said: "The neighbor has more right to property that is near.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4703
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الشفعة ٢ (٢٤٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٤٠) ، مسند احمد (٤/٣٨٨، ٣٨٩، ٣٩٠) (صحیح )
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو، اس میں شفعہ کا حق ہے۔ لہٰذا جب حد بندی ہوجائے اور راستہ متعین ہوجائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Salamah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Pre-emption takes effect in all cases where land has not been divided. But if the boundaries have been sent, and the roads lay out, then there is no pre-emption.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4704
Notes · وضاحت
١ ؎: حق شفعہ کے سلسلہ میں مناسب اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حق ایسے دو پڑوسیوں کو حاصل ہوگا جن کے مابین پانی، راستہ وغیرہ مشتر کہوں، دوسری صورت میں یہ حق حاصل نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٥٨٣) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، اس لیے کہ ابوسلمہ نے یہاں پر واسطہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الشفعہ (٢٢٥٧) میں ابو سلمہ نے اس حدیث کو جابر (رضی الله عنہ) سے روایت کیا ہے )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کا پہلا قسامہ یہ تھا کہ بنی ہاشم کا ایک شخص تھا، قریش یعنی اس کی شاخ میں سے کسی قبیلے کے ایک شخص نے اسے نوکری پر رکھا، وہ اس کے ساتھ اس کے اونٹوں میں گیا، اس کے پاس سے بنی ہاشم کے ایک شخص کا گزر ہوا جس کے توش دان کی رسی ٹوٹ گئی تھی، وہ بولا : میری مدد کرو ایک رسی سے جس سے میں اپنے توش دان کا منہ باندھ سکوں تاکہ (اس میں سے سامان گرنے سے) اونٹ نہ بدکے، چناچہ اس نے اسے توش دان کا منہ باندھنے کے لیے رسی دی، جب انہوں نے قیام کیا اور ایک اونٹ کے علاوہ سبھی اونٹ باندھ دیے گئے تو جس نے نوکر رکھا تھا، اس نے کہا : اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے، تمام اونٹوں میں اسے کیوں نہیں باندھا گیا ؟ اس نے کہا : اس کے لیے کوئی رسی نہیں ہے، اس نے کہا : اس کی رسی کہاں گئی ؟ وہ بولا : میرے پاس سے بنی ہاشم کا ایک شخص گزرا جس کے توش دان کا منہ باندھنے کی رسی ٹوٹ گئی تھی، اس نے مجھ سے مدد چاہی اور کہا : مجھے توش دان کا منہ باندھنے کے لیے ایک رسی دے دو تاکہ اونٹ نہ بدکے، میں نے اسے رسی دے دی، یہ سن کر اس نے ایک لاٹھی نوکر کو ماری، اسی میں اس کی موت تھی (یعنی یہی چیز بعد میں اس کے مرنے کا سبب بنی) اس کے پاس سے یمن والوں میں سے ایک شخص کا گزر ہوا، اس نے کہا : کیا تم حج کو جا رہے ہو ؟ اس نے کہا : جا نہیں رہا ہوں لیکن شاید جاؤں، اس نے کہا : کیا تم (اس موقع سے) کسی بھی وقت میرا یہ پیغام پہنچا دو گے ؟ اس نے کہا : ہاں، کہا : جب تم حج کو جاؤ تو پکار کر کہنا : اے قریش کے لوگو ! جب وہ آجائیں تو پکارنا ! اے ہاشم کے لوگو ! جب وہ آجائیں تو ابوطالب کے بارے میں پوچھنا پھر انہیں بتانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے سلسلے میں مار ڈالا ہے اور (یہ کہہ کر) نوکر مرگیا، پھر جب وہ شخص آیا جس نے نوکری پر اسے رکھا تھا تو اس کے پاس ابوطالب گئے اور بولے : ہمارے آدمی کا کیا ہوا ؟ وہ بولا : وہ بیمار ہوگیا، میں نے اس کی اچھی طرح خدمت کی پھر وہ مرگیا، میں راستے میں اترا اور اسے دفن کردیا۔ ابوطالب بولے : تمہاری طرف سے وہ اس چیز کا حقدار تھا، وہ کچھ عرصے تک رکے رہے پھر وہ یمنی آیا جسے اس نے وصیت کی تھی کہ جب موسم حج آیا تو وہ اس کا پیغام پہنچا دے۔ اس نے کہا : اے قریش کے لوگو ! لوگوں نے کہا : یہ قریش ہیں، اس نے کہا : اے بنی ہاشم کے لوگو ! لوگوں نے کہا : یہ بنی ہاشم ہیں، اس نے کہا : ابوطالب کہاں ہیں ؟ کسی نے کہا : ابوطالب یہ ہیں۔ وہ بولا : مجھ سے فلاں نے کہا ہے کہ میں آپ تک یہ پیغام پہنچا دوں کہ فلاں نے اسے ایک رسی کی وجہ سے مار ڈالا، چناچہ ابوطالب اس کے پاس آئے اور بولے : تم تین میں سے کوئی ایک کام کرو، اگر تم چاہو تو سو اونٹ دے دو ، اس لیے کہ تم نے ہمارے آدمی کو غلطی سے مار ڈالا ہے ١ ؎ اور اگر چاہو تو تمہاری قوم کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ تم نے اسے نہیں مارا، اگر تم ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہو تو ہم تمہیں اس کے بدلے قتل کریں گے، وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : ہم قسم کھائیں گے، پھر بنی ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اس قبیلے کے ایک شخص کی زوجیت میں تھی، اس شخص سے اس کا ایک لڑکا تھا، وہ بولی : ابوطالب ! میں چاہتی ہوں کہ آپ ان پچاس میں سے میرے اس بیٹے کو بخش دیں اور اس سے قسم نہ لیں، ابوطالب نے ایسا ہی کیا، پھر ان کے پاس ان میں کا ایک شخص آیا اور بولا : ابوطالب ! آپ سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم لینا چاہتے ہو ؟ ہر شخص کے حصے میں دو اونٹ پڑیں گے، تو لیجئیے دو اونٹ اور مجھ سے قسم مت لیجئیے جیسا کہ آپ اوروں سے قسم لیں گے، ابوطالب نے دونوں اونٹ قبول کرلیے، پھر اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! ابھی سال بھی نہ گزرا تھا کہ ان اڑتالیس میں سے ایک بھی آنکھ جھپکنے والی نہیں رہی (یعنی سب مرگئے) ٢ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The first instance of Qasamah during the Jahiliyyah involved a man from Banu Hashim who was employed by a man from Quraish, from another branch of the tribe. He went out with him, driving his camels and another man from Banu Hashim passed by them. The leather rope of that mans bag broke, so he said (to the hired worker): Help me by giving me a rope with which to tie the handle of my bag, lest the camels run away from me. So he gave him a rope and he tied his gab with it. When they halted, all the camels legs were hobbled except one camel. The one who had hired him said: Why is his camel, out of all of them, not hobbled? He said: There is no rope for it. He said: Where is its rope? He said: A man from Banu Hashim passed by and the leather rope of his bag had broken, and he asked me to help him; he said: "Help me by giving me a rope with which to tie the handle of my bag lest the camels run away from me, so I gave him a rope . " He struck him with a stick, which led to his death.Then a man from Yemen passed by him (the man from Banu Hashim, (the man from Banu Hashim, just before he died) and he (the Hashimi man) said: Are you going to attend the Pilgrimage? He said: I do not think I will attend it, but perhaps I will attend it. He said: Will you convey a message from me once in your lifetime? He said: Yes. He said: If you attend the pilgrimage, then call out, O family of Quraish! If they respond, then call out, O family of Hashim! If they respond, then ask for Abu Talib, and tell him that so and so killed me for a rope. Then the hired worker died. When the one who had hired him cam, Abu Talib went to him and said: What happened to our companion? He said: He fell sick and I took good care of him, but he died, so I stopped and buried him. He said: He deserved that from you. Some time passed, then the Yemeni man who had been asked to convey the message arrived at the time of the pilgrimage. He said: O family of Quraish! And they said: Here is Quraish. He said: O family of Banu Hashim! They said: Here is Banu Hashim. He said" Where is Abu Talib? He said: Here is Abu Talib. He said: so and so asked me to convey a message to you, that so and so killed him for a camels rope. Abu Talib went to him and said" Choose one of three alternatives that we are offering you. If you wish, you may give us one hundred camels, because you killed our companion by mistake: or if you wish, fifty of your men may swear an oath that you did not kill him; or if you wish, we will kill you in retaliation. He went to his people and told them about that, and they said: We will swear the oath. Then a woman from Banu Hashim, who was married to one of their men and had born him a child, came to Abu Talib and said: O Abu Talib, I wish that my son, who is one of these fifty men, should be excused from having to take the oath., So the excused him. Then one of the men came to him and said: O Abu Talib, you want fifty men to take the oath in lieu of one hundred camels, which means that each man may give two camels instead, so here are two camels; take them from me, and do not make me take the oath. So he accepted them, and did not make him take the oath. Then forty-eight men came and took the oath." Ibn Abbas said: "By the One in Whose hand is my soul, by the time a year has passed, none of those forty-eight men remained alive.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4706
Notes · وضاحت
١ ؎: نامعلوم قتل کی صورت میں مشتبہ افراد یا بستی والوں سے قسم لینے کو قسامہ کہا جاتا ہے۔ ٢ ؎: ابن عباس (رض) نے ان سب کے مرجانے کی خبر قسم کھا کردی باوجود یہ کہ یہ اس وقت پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ اس سلسلہ میں تین باتیں کہی جاتی ہیں : یہ خبر ان تک تواتر کے ساتھ پہنچی ہوگی، کسی ثقہ شخص کے ذریعہ پہنچی ہوگی، یہ بھی احتمال ہے کہ اس واقعہ کی خبر انہیں نبی اکرم ﷺ نے دی ہوگی۔