Sunan An Nasai 4692

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4692Sunan An Nasai

دولت مند شخص قرض دینے میں تاخیر کرے اس سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ، وَالظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ١ ؎، اور مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If one of you is referred to a rich man (to help repay a debt), he should accept that referral, and (wrongdoing) is when a rich man takes a long time to repay a debt.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4688
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کردینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید عمرو کا سامنا بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کرلے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کر لینی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحوالة ١(٢٢٨٨)، سنن الترمذی/البیوع ٦٨ (١٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٦٢)، موطا امام مالک/البیوع ٤٠ (٨٤)، مسند احمد (٢/ ٣٧٦، ٤٦٣، ٤٦٤) (صحیح )