Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 21 of 289

400Sunan An Nasai

جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ. قَالَ سُفْيَانُ: قَالُوا لِهِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ: إِنَّ أَيُّوبَ إِنَّمَا يَنْتَهِي بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: إِنَّ أَيُّوبَ لَوِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَرْفَعَ حَدِيثًا لَمْ يَرْفَعْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا نہ ہو ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل بھی کرے۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “None of you should urinate into standing water which does not flow and then perform Ghusl with it.” (One of the narrators) Sufyan said: “They said to Hisham — meaning Ibn Hassan — ‘Ayyub only attributed this Hadith to Abu Hurairah (RA) h?’ So he said: ‘If Ayyulb is not able to raise up a narration then he does not raise it.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 400
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ١٤٤٤٠) (صحیح الإسناد) (موقوف في حکم المرفوع )
401Sunan An Nasai

حمام (غسل خانہ) میں جانے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو بغیر تہبند کے حمام میں داخل نہ ہو ۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ said: “Whoever believes in Allah and the Last Day, let him not enter a bath house except wearing an Izar (waist wrap).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 401
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ٢٨٨٧)، مسند احمد ٣/٣٣٩ (صحیح )
402Sunan An Nasai

برف اور اولے سے غسل

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُكَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے ۔

‘Abdullah bin Abi Awfa narrated that the Prophet ﷺ would supplicate:(Allah, purify me of sin and error, Allah cleanse me of it as a white garment is cleansed of dirt, Allah purify me with snow and hail and cold water).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 402
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٠ (٤٧٦)، (تحفة الأشراف ٥١٨١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ١٠٢(٣٥٤٧)، مسند احمد ٤/٣٥٤، ٣٨١ (صحیح )
403Sunan An Nasai

برف اور اولے سے غسل

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رُقْبَةَ، عَنْ مَجْزَأَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ.

ابن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔

It was narrated that Ibn Abi Awfa said: “The Prophet ﷺ used to say: (Allah, purify me with snow and hail and cold water, Allah, purify me of sin as a white garment is cleansed of dirt).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 403
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
404Sunan An Nasai

سونے سے قبل غسل سے متعلق

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ، أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ.

عبداللہ بن ابوقیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا کہ حالت جنابت میں رسول اللہ ﷺ کیسے سوتے تھے؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل سے پہلے سوتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ یہ سب کرتے تھے، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی (صرف) وضو کر کے سو جاتے۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Abi Qais said: “I asked Aishah (RA) : ‘How did the Messenger of Allah ﷺ sleep while he was Junub? Did he perform Ghusl before sleeping or sleep before performing Ghusl?’ She said: ‘He did both.Sometimes he would perform Ghusl then sleep, and sometimes he would perfrom Wudu’ then sleep.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 404
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦(٣٠٧)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٣ (٢٩٢٤)، (تحفة الأشراف ١٦٢٨٠)، وقدأخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٧) (صحیح )
405Sunan An Nasai

رات کے شروع میں غسل کرنا

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْتُهَا، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ كَانَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ. قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.

غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، تو میں نے ان سے سوال کیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں طرح سے (کرتے تھے) ، کبھی رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے، اور کبھی آخری حصہ میں، اس پر میں نے کہا: اس اللہ کی تعریف ہے جس نے شریعت مطہرہ والے معاملہ کے اندر گنجائش رکھی ہے۔

It was narrated that Ghudaif bin Al-Harith said: “I entered upon Aishah (RA) and asked her: ‘Did the Messenger of Allah ﷺ perform Ghusl at the beginning of the night or at the end?’ She said: ‘Both. Sometimes he performed Ghusl at the beginning and sometimes at the end.’ I said: ‘Praise be to Allah Who has made the matter flexible.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 405
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٣ (صحیح )
406Sunan An Nasai

غسل کے وقت پردہ کرنا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْيَعْلَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ.

یعلیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حلیم بردبار ، حیی باحیاء اور ستر پردہ پوشی پسند فرمانے والا ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کرلے ۔

It was narrated from Ya’la that the Messenger of Allah ﷺ saw a man performing Ghusl in an open place, so he ascended the Minbar and praised and glorified Allah, then he said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, is forbearing, modest and concealing, and He loves modesty and concealment. When any one of you performs Ghusl, let him conceal himself.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 406
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحمام ٢ (٤٠١٢)، (تحفة الأشراف ١١٨٤٥)، مسند احمد ٤/٢٢٤ (صحیح )
407Sunan An Nasai

غسل کے وقت پردہ کرنا

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سِتِّيرٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ.

یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل ستر پردہ پوشی کرنے والا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کرلے ۔

It was narrated from Safwan bin Ya’lathat his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah loves concealment, so when any one of you performs Ghusl let him conceal himself with something.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 407
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحمام ٤(٤٠١٣)، (تحفة الأشراف ١١٨٤٠)، مسند احمد ٤/٢٢٣ (حسن صحیح )
408Sunan An Nasai

غسل کے وقت پردہ کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت: وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً، قَالَتْ: فَسَتَرْتُهُ فَذَكَرَتِ الْغُسْلَ، قَالَتْ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں (لینا) چاہا۔

It was narrated that Maimunah said: “I put some water out for the Messenger of Allah ﷺ then I concealed him” — and she mentioned how he performed Ghusl, then she said: “Then I brought him a cloth (a towel) but he did not want it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 408
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٤ (صحیح )
409Sunan An Nasai

غسل کے وقت پردہ کرنا

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَمَا أَيُّوبُ عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ، قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَاتِكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایوب (علیہ السلام) ننگے غسل کر رہے تھے ١ ؎ کہ اسی دوران ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گری، تو وہ اسے اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی: ایوب! کیا میں نے تمہیں بےنیاز نہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں میرے رب! لیکن تیری برکتوں سے میں بےنیاز نہیں ہوسکتا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘While Ayyub, peace be upon him, was bathing naked, locusts of gold landed on him and he started to collect them in his garment. Then his Lord called him (saying): “Ayyub, did I not make you rich?” he said: “Yes, Lord, but I cannot do without Your blessing.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 409
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ غسل انہوں نے ایسی جگہ پر کیا ہوگا جہاں وہ لوگوں کی نگاہوں سے مامون و محفوظ رہے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢٠(٢٧٩) تعلیقاً، والأنبیاء ٢٠(٣٣٩١)، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٣)، (تحفة الأشراف ١٤٢٢٤)، مسند احمد ٢/٣١٤ (صحیح )
410Sunan An Nasai

پانی میں کسی قسم کی حد کے مقرر نہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قال: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَغْتَسِلُ فِي الْإِنَاءِ وَهُوَ الْفَرَقُ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے جس کا نام فرق تھا غسل کرتے تھے، اور میں اور آپ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to perform Ghusl from a vessel which was the size of a Faraq and he and I used to perform Ghusl from a single vessel.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 410
Notes · وضاحت
١ ؎: فرق ایک معروف برتن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ١٧٥٥٣) (صحیح )
411Sunan An Nasai

مرد اور عورت اگر ایک ساتھ اکٹھا غسل کریں

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، ح وأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَغْتَسِلُ وَأَنَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا. وَقَالَ سُوَيْدٌ: قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور میں دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم اس سے لپ (بھربھر کر) لیتے تھے۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to perform Ghusl, he and I from a single vessel, both of us scooping water from it. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 411
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٣، (تحفة الأشراف ١٦٩٧٦، ١٧١٧٤) (صحیح الإسناد )
412Sunan An Nasai

مرد اور عورت اگر ایک ساتھ اکٹھا غسل کریں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔

Abdur-Rahman bin Al Qasim said: “I heard Al-Qasim narrating that Aishah (RA) said: ‘I used to perform Ghusl — the Messenger of Allah ﷺ and I — from a single vessel for Janabah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 412
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٣٤ (صحیح )
413Sunan An Nasai

مرد اور عورت اگر ایک ساتھ اکٹھا غسل کریں

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: لَقَدْ رَأَيْتُنِيأُنَازِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِنَاءَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے برتن کے سلسلے میں کھینچا تانی کر رہی ہوں، میں اور آپ دونوں اسی سے غسل کر رہے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I remember competing over the vessel with the Messenger of Allah ﷺ , when he and I were performing Ghusl from it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 413
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٥ (صحیح )
414Sunan An Nasai

مرد اور عورت کو ایک ہی برتن سے غسل کرنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْعَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، أُبَادِرُهُ وَيُبَادِرُنِي حَتَّى يَقُولَ: دَعِي لِي، وَأَقُولَ أَنَا: دَعْ لِي. قَالَ سُوَيْدٌ: يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، فَأَقُولُ: دَعْ لِي، دَعْ لِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک برتن سے غسل کرتے تھے، میں چاہتی کہ آپ سے پہلے میں نہا لوں اور آپ چاہتے کہ مجھ سے پہلے آپ نہا لیں یہاں تک کہ آپ ﷺ فرماتے: تم میرے لیے چھوڑ دو ، اور میں کہتی: آپ میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to perform Ghusl —the Messenger of Allah ﷺ and I — from one vessel. He would compete with me and I would with him (to take the water) until he would say: ‘Leave me some,’ and I would say, ‘Leave me some.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 414
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٠ (صحیح )
415Sunan An Nasai

ایسے پیالے سے غسل کرنا جس میں آٹا کا اثر باقی ہو

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَوَهُوَ يَغْتَسِلُ قَدْ سَتَرَتْهُ بِثَوْبٍ دُونَهُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ، قَالَتْ: فَصَلَّى الضُّحَى، فَمَا أَدْرِي كَمْ صَلَّى حِينَ قَضَى غُسْلَهُ.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا، اور آپ کو (فاطمہ ؓ ١ ؎ ) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو جب آپ غسل کرچکے، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی۔

Umm Hani’ narrated that she entered upon the Prophet ﷺ on the day of the Conquest of Makkah, when he was performing Ghusl — while a garment was screening him — from a vessel in which were traces of dough. She said: He prayed Ad-Duha — but I do not know how many Rak’ahs he prayed — after he finished Ghusl.” (Hasan)

صحيح دون قوله فما أدري .. إلخ فإنه شاذ ولعله من أوهام عبدالملک فقد صح من طرق عن أم هانىء أنه صلى ثمان رکعات بعضها في الصحيحينصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 415
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہے راوی نے اختصار کی غرض سے یہاں ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ١٨٠٠٩)، مسند احمد ٦/٣٤١ (شاذ) (اس کا آخری ٹکڑا ” فما ا ٔدری…الخ ہی شاذ ہے، کیوں کہ ام ہانی کی حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں، دیکھئے حدیث رقم ٢٢٦ )
416Sunan An Nasai

جس وقت عورتوں کے سر کی مینڈھیاں گندھی ہوئی ہوں تو سر کا کھولنا لازمی نہیں ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّعَائِشَةَ، قالت: لَقَدْ رَأَيْتُنِيأَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا، فَإِذَا تَوْرٌ مَوْضُوعٌ مِثْلُ الصَّاعِ أَوْ دُونَهُ، فَنَشْرَعُ فِيهِ جَمِيعًا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي بِيَدَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَمَا أَنْقُضُ لِي شَعْرًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں اس برتن سے غسل کرتے تھے، تو میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہاں ایک ڈول رکھا ہوا تھا جو ایک صاع کے برابر تھا، یا اس سے کچھ کم، (اور وہ اسی کی طرف اشارہ کر رہی تھیں) (وہ کہہ رہی تھیں کہ) ہم دونوں غسل ایک ساتھ شروع کرتے، تو میں اپنے سر پر اپنے ہاتھوں سے تین مرتبہ پانی بہاتی، اور میں اپنا بال نہیں کھولتی تھی۔

Aisha (RA) said: “I remember performing Ghusl — myself and the Messenger of Allah ﷺ , from this” — a vessel like a Sa’ or smaller. “We both started taking water from it and I poured water over my head with my hand, three times, without undoing any of my hair.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 416
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣١) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٨(٦٠٤) مطولاً، (تحفة الأشراف ١٦٣٢٤)، مسند احمد ٦/ ٤٣ کلاھمافي سیاق آخر (صحیح )
417Sunan An Nasai

اگر کسی شخص نے احرام کے واسطے غسل کیا اور اس نہ احرام کے بعد پھر خوشبو لگائی اور اس خوشبو کا اثر باقی رہ گیا تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنَضَخُ طِيبًا، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَفَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ، فَقَالَتْطَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں (اپنے جسم پر) تارکول مل لوں یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، تو (محمد بن منتشر کہتے ہیں) میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، اور میں نے انہیں عبداللہ بن عمر ؓ کی یہ بات بتائی تو ام المؤمنین ؓ نے کہا: میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی تھی، اور آپ نے اپنی بیویوں کا چکر لگایا ١ ؎ آپ نے محرم ہو کر صبح کی (اس وقت آپ کے جسم پر خوشبو کا اثر باقی تھا) ۔

It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir that his father said: “I heard Ibn ‘Umar say: ‘I would rather wake up in the morning covered in tar than wake up and enter Ii with the smell of perfume coming from me.’ I entered upon Aishah (RA) and told her what he had said, and she said: ‘I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ and he went round to all his wives, then in the morning he entered Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 417
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان سے صحبت کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١٢(٢٦٧)، ١٤(٢٧٠)، صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٩٢)، (تحفة الأشراف ١٧٥٩٨) مسند احمد ٦/١٧٥، ویأتي عندالمؤلف بأرقام: ٤٣١، ٢٧٠٥ (صحیح )
418Sunan An Nasai

جنبی شخص اپنے تمام جسم پر پانی ڈالنے سے قبل دیکھ لے کہ اگر ناپاکی اس کے جسم پر لگی ہو تو اس کو زائل کرے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، ثُمَّ نَحَّى رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، قَالَتْ: هَذِهِ غِسْلَةٌ لِلْجَنَابَةِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، البتہ اپنے دونوں پاؤں نہیں دھوئے، اور (وضو سے پہلے) آپ نے اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی گندگی دھوئی، پھر اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے دونوں پاؤں کو ہٹایا اور انہیں دھویا، یہی (آپ کے) غسل جنابت کا طریقہ تھا۔

It was narrated that Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ performed Wudu’ as for prayer, but did not wash his feet, and he washed his private part and whatever had got onto it, then he poured water over himself, then he moved his feet and washed them.” She said: “This is Ghusl from Janabah.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 418
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٤ (صحیح )
419Sunan An Nasai

شرم گاہ دھونے کے بعد زمین پر ہاتھ مارنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ يَمْسَحُهَا ثُمَّ يَغْسِلُهَا، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ وَعَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ يَتَنَحَّى فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ.

ام المؤمنین میمونہ بنت حارث ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر زمین پر اپنا ہاتھ مارتے، پھر اسے ملتے، پھر دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے، پھر وہاں سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔

It was narrated that Maimunah bint Al-Harith, the wife of the Prophet ﷺ said: “When the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl from Janabah, he would start by washing his hands, then he would pour water with his right hand onto his left and wash his private part, then he would strike his hand on the ground then wipe it then wash it. Then he would perform Wudu as for prayer, then he would pour water on his head and all of his body. Then he would move and wash his feet.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 419
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٤ (صحیح )