Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 22 of 289

420Sunan An Nasai

وضو سے غسل جنابت کا آغاز کرنا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعْرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ جان لیتے کہ اپنی کھال تر کرلی ہے تو اس پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر اپنے تمام جسم کو دھوتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl from Janabah, he would wash his hands, then perform Wudu’ as for prayer, then he would perform Ghusl, then run his fingers through his hair to be sure that the water had reached his scalp, then he would pour water over his head three times, then wash the rest of his body.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 420
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١٥(٢٧٢)، (تحفة الأشراف ١٦٩٦٩) (صحیح )
421Sunan An Nasai

طہارت حاصل کرنے میں دائیں جانب سے ابتدا کرنا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ، وَقَالَ: بِوَاسِطٍ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ طہارت میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھا کرنے میں جہاں تک ہوسکتا تھا داہنے کو پسند فرماتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ used to like to start with the right as much as he could when purifying himself, putting on sandals and combing his hair” — and he (the narrator) said in Wasit (a place in Iraq): “And in all his affairs.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 421
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٢ (صحیح )
422Sunan An Nasai

غسل جنابت کے وضو میں سر کے مسح کرنے کی ضرورت نہیں ہے

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ، قال: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَاتَّسَقَتِ الْأَحَادِيثُ عَلَى هَذَا: يَبْدَأُ فَيُفْرِغُ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَيَصُبُّ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى فَرْجِهِ فَيَغْسِلُ مَا هُنَالِكَ حَتَّى يُنْقِيَهُ، ثُمَّ يَضَعُ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى التُّرَابِ إِنْ شَاءَ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى حَتَّى يُنْقِيَهَا، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ وَيُمَضْمِضُ وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَ رَأْسَهُ لَمْ يَمْسَحْ وَأَفْرَغَ عَلَيْهِ الْمَاءَ. فَهَكَذَا كَانَ غُسْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذُكِرَ.

ام المؤمنین عائشہ اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا، اس جگہ دونوں احادیث (عائشہ ؓ اور ابن عمر ؓ کی) متفق ہوجاتی ہیں کہ آپ (غسل) شروع کرتے تو پہلے اپنے داہنے ہاتھ پر دو یا تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ شرمگاہ پر ہوتا، تو جو گندگی وہاں ہوتی دھوتے یہاں تک کہ اسے صاف کردیتے، پھر اگر چاہتے تو بایاں ہاتھ مٹی پر ملتے، پھر اس پر پانی بہا کر صاف کرلیتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، ناک میں پانی ڈالتے، کلی کرتے اور اپنا چہرہ اور دونوں بازووں تین تین مرتبہ دھوتے، یہاں تک کہ جب اپنے سر کے پاس پہنچتے تو اس کا مسح نہیں کرتے، اس کے اوپر پانی بہا لیتے، تو اسی طرح جیسا کہ ذکر کیا گیا رسول اللہ ﷺ کا غسل (جنابت) ہوتا تھا۔

It was narrated from Abu Salamah from Aishah (RA) , and, from ‘Amr bin Sad, from Nafi’, from Ibn ‘Umar (RA) : That ‘Umar asked the Messenger of Allah ﷺ about Ghusl from Janabah — and the narrations agree on this — that one should start by pouring water on the right hand two or three times, then put the right hand into the vessel and pour water with it onto the private parts, with the left hand on the private parts to wash off whatever is there, until it is clean; then put the left hand on the dust if one wants to, then pour water over the left hand until it is clean; then wash the hands three times, (sniff water into the nose) and rinse the mouth, and wash the face and forearms, three times each until when reaching the head, he does not wipe the head, rather he pours water over it. This is how the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl according to what was mentioned. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 422
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ٨٢٤٧، ١٧٧٨٧) (صحیح الإسناد )
423Sunan An Nasai

غسل جنابت میں جسم صاف کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُخَلِّلُ رَأْسَهُ بِأَصَابِعِهِ حَتَّى إِذَا خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ غَرَفَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ جب آپ کو یہ محسوس ہوجاتا کہ سر کی پوری جلد تک پانی پہنچا لیا ہے، تو اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر پورے جسم کو دھوتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl from Janabah, he would wash his hands, then performe Wudu’ as for prayer, then run his fingers through his hair until he was sure the water had reached the scalp, then he would pour water over his head three times, then wash the rest of his body.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 423
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٦)، (تحفة الأشراف ١٧١٠٨) (صحیح )
424Sunan An Nasai

غسل جنابت میں جسم صاف کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوِ الْحِلَابِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو دودھ دوہنے کے برتن ١ ؎ کی طرح ایک برتن منگاتے، اور اس سے اپنے لپ سے پانی لیتے اور اپنے سر کے داہنے حصہ سے شروع کرتے، پھر بائیں سے، پھر اپنے دونوں لپ سے پانی لیتے، اور انہیں سے اپنے سر پر ڈالتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl from Janabah, he would call for something like a vessel used for milking a she-camel, then he would take (some water) in his hand and start with the right side of his head, then the left, then take (some water) in his hands and start pouring it on his head.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 424
Notes · وضاحت
١ ؎: حلاب بروزن کتاب ایک برتن ہے جس میں دودھ دوہا جاتا ہے، خطابی نے کہا: حلاب وہ برتن ہے جس میں ایک اونٹنی کا دودھ سما جائے، یہی مشہو رہے، زہری نے کہا: جُلاب جیم معجمہ کے ضمہ اور لام کی تشدید کے ساتھ اس سے مراد گلاب ہے یعنی سر میں خوشبو لانے کے لیے آپ گلاب منگواتے، امام بخاری کے ترجمۃ الباب سے یہی معنی مطابقت رکھتا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ لفظ حائے مہملہ کے کسرہ کے ساتھ حلاب ہے جس کے معنی طرف کے ہیں مراد خوشبو کا طرف ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٦ (٢٥٨)، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٨)، سنن ابی داود/الطھارة ٩٨ (٢٤٠)، (تحفة الأشراف ١٧٤٤٧) (صحیح )
425Sunan An Nasai

جنبی شخص کو سر پر کس قدر پانی ڈالنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا. لَفْظُ سُوَيْدٍ.

جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے غسل (جنابت) کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں ۔

It was narrated from Jubair bin Mut’im that mention of Ghusl was made in the presence of the Prophet ﷺ and he said: “As for me, I pour water on my head three times.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 425
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥١ (صحیح )
426Sunan An Nasai

جنبی شخص کو سر پر کس قدر پانی ڈالنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل کرتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے۔

It was narrated that Jabir said: “When the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl, he would pour water on his head three times.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 426
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٤ (٢٥٥)، (تحفة الأشراف ٢٦٤٢)، مسند احمد ٣/٢٩٨، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ١١ (٣٢٩)، نحوہ (صحیح )
427Sunan An Nasai

ماہواری سے غسل کرنے کے وقت کیا کرنا چاہئے

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِصَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهُورِ ؟ قَالَ: خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا. قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا ؟ قَالَ: تَوَضَّئِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا ؟ قَالَتْ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ وَأَعْرَضَ عَنْهَا، فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهَا وَجَبَذْتُهَا إِلَيَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے (پھر) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیرلیا، عائشہ ؓ اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ ﷺ بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ ﷺ جو چاہ رہے تھے اسے بتایا ۔

It was narrated from Aishah (RA) : “A woman asked the Prophet ﷺ : ‘Messenger of Allah ﷺ , how should I perform Ghusl when I become pure?’ He said: ‘Take a piece of cotton wool scented with musk and clean yourself with it.’ She said: ‘How should I clean myself with it?’ He said: ‘Clean yourself with it.’ She said: ‘How should I clean myself with it?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Subhan Allah!’ and turned away from her.” Aishah (RA) understood what the Messenger of Allah ﷺ meant, and said: “So I pulled her toward me and told her what the Messenger of Allah ﷺ meant.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 427
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٢ (صحیح )
428Sunan An Nasai

غسل میں اعضاء کو ایک ایک مرتبہ دھونا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ١ ؎۔

It was narrated that Maimunah,the wife of the Prophet ﷺ said: “The Prophet ﷺ performed Ghusl from Janabah; he washed his private part then rubbed his hand on the ground or the wall, then he performed Wuduas for prayer, then he poured water over his head and the rest of his body.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 428
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ میمونہ ؓ نے پانی بہانے کے متعلق دو یا تین بار کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ایک بار ہی سمجھا جائے گا، کیونکہ یہی اصول ہے، لیکن یہ وجوب کی حد تک ہے، دو یا تین بار بھی دھویا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٤ (صحیح )
429Sunan An Nasai

جس خاتون کا بچہ پیدا ہو وہ کس طریقہ سے احرام باندھے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَحَدَّثَنَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ ؟ فَقَالَ: اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي ثُمَّ أَهِلِّي.

محمد (باقر) کہتے ہیں: ہم لوگ جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے حجۃ الوداع کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ پچیس ذی قعدہ کو (مدینہ سے) نکلے، ہم آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو اسماء بنت عمیس ؓ نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تم غسل کرلو، پھر لنگوٹ باندھ لو، پھر (احرام باندھ کر) لبیک پکارو ۔

Ja’far bin Muhammad said: “My father told me: ‘We came to Jabir bin ‘Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ . He narrated; “The Messenger of Allah ﷺ set out when there were five (days) remaining in Dhul Qa’dah, and we set out with him. When he came to Dhul-Hulaifah, Asma’ bint ‘Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr. She sent word to the Messenger of Allah ﷺ asking what she should do. He said: ‘Perform Ghusl, bind yourself with a cloth then begin (the Talbiyah for Ihram.) (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 429
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٢ (صحیح )
430Sunan An Nasai

غسل سے فارغ ہونے کے بعد وضو نہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ , would not perform Wudu after Ghusl.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 430
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٣ (صحیح )
431Sunan An Nasai

ایک سے زیادہ بیویوں سے جماع کرکے ایک ہی غسل فرمانا

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قالت عَائِشَةُكُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے ١ ؎ پھر آپ محرم ہو کر صبح کرتے، اور آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹتی ہوتی ٢ ؎۔

Aisha (RA) said: “I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ and he would go round to all his wives, then enter Ihram in the morning with the smell of perfume coming from him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 431
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے کنایہ جماع کی طرف ہے۔ ٢ ؎: باب پر استدلال اس طرح سے ہے کہ آپ ﷺ ہر بیوی سے جماع کے بعد الگ الگ غسل کرتے تو جسم پر خوشبو کا اثر باقی نہ رہتا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٧ (صحیح )
432Sunan An Nasai

مٹی سے تیمم کرنا

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ يُصَلِّي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ١ ؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ٢ ؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنادی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پالے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت (عظمیٰ ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں، اور (مجھ سے پہلے) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے ۔

It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have been given five things that were not given to anyone before me: I have been supported with fear being struck into the hearts of my enemy for a distance of one month’s travel; the earth has been made a place of prostration and a means of purification for me, so wherever a man of my Ummah is when the time for prayer comes, let him pray; I have been given the intercession which was not given to any Prophet ﷺ before me; and I have been sent to all of mankind whereas the Prophets before me were sent only to their own people.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 432
Notes · وضاحت
١ ؎: آگے جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس میں صرف چار کا ذکر ہے، پانچویں خصوصیت کا ذکر نہیں، اور وہ مال غنیمت کا حلال کیا جانا ہے جو سابقہ امتوں کے لیے حلال نہیں تھا، صرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے لیے اسے حلال کیا گیا ہے۔ ٢ ؎: یعنی میرا دشمن ایک مہینہ کی مسافت پر ہو تبھی سے میرا رعب اس کے دل میں پیدا ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ١ (٣٣٥)، والصلاة ٥٦ (٤٣٨)، صحیح مسلم/المساجد ٣ (٥٢١)، (تحفة الأشراف ٣١٣٩)، مسند احمد ٣/٣٠٤، سنن الدارمی/الصلاة ١١١(١٤٢٩)، ویأتي عند المؤلف (برقم ٧٣٧) مختصر اعلی قولہ: ” جعلت لي الأرض مسجدا “ الخ (صحیح )
433Sunan An Nasai

ایک شخص تیمم کرکے نماز ادا کرلے پھر اس کو اندرون وقت پانی مل جائے؟

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنِي ابْنُ نَافِعٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا مَاءً فِي الْوَقْتِ فَتَوَضَّأَ أَحَدُهُمَا وَعَادَ لِصَلَاتِهِ مَا كَانَ فِي الْوَقْتِ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ، وَقَالَ لِلْآخَرِ: أَمَّا أَنْتَ فَلَكَ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی، ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا: تم نے سنت کے موافق عمل کیا، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کرگئی ، اور دوسرے سے فرمایا: رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed that two men performed Tayammum and prayed, then they found water when there was still time left for that prayer. One of them performed Wudu’ and repeated the prayer, and the other did not. They asked the Prophet ﷺ about that and he said to the one who did not repeat the prayer: “You followed the Sunnah and your prayer is acceptable.” And he said to the other: “And you will have something like the reward of two prayers.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 433
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٢٨ (٣٣٨، ٣٣٩) مرسلاً، سنن الدارمی/الطھارة ٦٥ (٧٧١)، (تحفة الأشراف ٤١٧٦) (صحیح) (اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، کیوں کہ ابن نافع کے حفظ میں تھوڑی سی کمی ہے، اور دیگر ثقات نے اس کو مرسل ہی روایت کیا ہے )
434Sunan An Nasai

ایک شخص تیمم کرکے نماز ادا کرلے پھر اس کو اندرون وقت پانی مل جائے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي عَمِيرَةُ، وَغَيْرُهُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

عطا بن یسار سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ....، پھر یہی حدیث بیان کی۔

It was narrated from ‘Ata’ bin Yasar that two men — and he quoted the Hadith. (Hasan)

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
435Sunan An Nasai

ایک شخص تیمم کرکے نماز ادا کرلے پھر اس کو اندرون وقت پانی مل جائے؟

أخبرنا محمد بن عبد الأعلى أنبأنا أمية بن خالد حدثنا شعبة أن مخارقا أخبرهم عن طارق بن شهاب أن رجلا أجنب فلم يصل فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقالأصبت. فأجنب رجل آخر فتيمم وصلى فأتاه فقال نحوا مما قال للآخر يعنيأصبت.

طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک شخص جنبی ہوگیا، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا، تو اس نے تیمم کیا، اور نماز پڑھ لی، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا۔

It was narrated from Tariq bin Shihab that a man became Junub and did not pray. He came to the Prophet ﷺ and told him about that, and he said: “You did the right thing.” Then another man became Junub so he performed Tayammum and prayed. He came (to the Prophet ﷺ ) who said to him what he had said to the other man — meaning, “You did the right thing.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٥ (صحیح الإسناد )
436Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ، وَالْمِقْدَادُ، وَعَمَّارٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي امْرُؤٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي فَيَسْأَلُهُ أَحَدُكُمَا، فَذَكَرَ لِي أَنَّ أَحَدَهُمَا وَنَسِيتُهُ سَأَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ الْمَذْيُ إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ أَوْ كَوُضُوءِ الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ علی، مقداد اور عمار ؓ نے آپس میں بات کی، علی ؓ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ ﷺ سے (اس کے بارے میں) پوچھنے سے شرماتا ہوں، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ ﷺ سے پوچھے (عطاء کہتے ہیں:) ابن عباس ؓ نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے (میں اس کا نام بھول گیا) آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مذی ہے، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ، راوی کو شک ہے وضوئه للصلاة کہا یا کوضوء الصلاة کہا۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: Ali, Al-Miqdad and ‘Ammar were talking. ‘Ali said: ‘I am a man who emits a lot of Madhi but I am too shy to ask the Messenger of Allah ﷺ about that because if his daughter’s position with me, so let one of you ask him.’ He told me that one of them but I forgot who — asked him, and the Prophet ﷺ said: ‘That is Madhi. If any one of you notices that, let him wash it off himself and perform Wudu’ as for prayer or similar to the Wudu of prayer.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 435
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٤ (٣٠٣)، (تحفة الأشراف ١٠١٩٥)، مسند احمد ١/١١٠، و عبداللہ بن أحمد، ویأتی عندالمؤلف برقم (٤٣٧، ٤٣٩، ٤٤٠) (صحیح الإسناد )
437Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے بہت مذی آتی تھی، تو میں نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔

It was narrated that ‘Ali, may Allah be pleased with him, said: “I was a man who emitted a great deal of Madhi. I told a man to ask the Prophet ﷺ (about that) and he said: ‘Wudu’(is required) for that.” (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 436
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
438Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، قال: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ. الِاخْتِلَافُ عَلَى بُكَيْرٍ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں مذی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے میں فاطمہ ؓ کی وجہ سے شرما رہا تھا، تو میں نے مقداد کو حکم دیا، انہوں نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔

It was narrated that ‘Ali said: “I felt too shy to ask the Messenger of Allah ﷺ about Mad because of Fatimah, so I told Al-Miqdad to ask him, and he said: ‘Wudu’ (is required) for that.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 437
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کا مقصود اس حدیث کی روایت کے سلسلہ میں سلیمان الاعمش کے تلامذہ کے باہمی اختلاف کو واضح کرنا ہے کہ یہی حدیث محمد بن حاتم کی سند میں عبیدہ نے اسے بواسطہ اعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن سعید بن جبیر عن ابن عباس عن علی اور بعد والی حدیث محمد بن عبدالٔاعلی کی سند میں شعبہ نے بواسطہ اعمش عن منذر عن محمد بن علی عن علی روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٧ (صحیح )
439Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قال عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَخْرَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا.

علی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ وہ (جا کر) آپ سے مذی کے متعلق پوچھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: وضو کرلو، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لو ۔

‘Ali said: “I sent Al-Miqdad to the Messenger of Allah ﷺ to ask him about Madhil, and he said: ‘Perform Wudu’ and sprinkle water over your private part.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman said: Makhramah (one of the narrators) did not hear anything from his father.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 438
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ٤٣٦ (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ) (مخرمہ کا اپنے باپ ” بکیر “ سے سماع نہیں ہے )