سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ؓ نے مقداد کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لے، پھر وضو کرلے ۔
It was narrated that Sulaiman bin Yasár said: “ Ali Ibn Abi Talib (RA) sent Al-Miqdad to the Messenger of Allah ﷺ to ask him about a man who notices Madhi. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Let him wash his penis then perform Wudu’.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 439
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣٦، و بإرسالہ تفرد المؤلف ۔ (” سلیمان بن یسار “ اور ” علی ؓ “ کے درمیان سند میں انقطاع ہے) (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ )
مقداد بن اسود ؓ علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ علی ؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے متعلق پوچھیں کہ جب وہ عورت سے قریب ہوتا ہو تو اسے مذی نکل آتی ہو، چونکہ میرے عقد نکاح میں آپ کی صاحبزادی ہیں اس لیے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے چاہیئے کہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرلے ۔
It was narrated from Al Miqdad bin Al-Aswad that ‘ Ali Ibn Abi Talib (RA) , peace be upon him, told him to ask the Messenger of Allah ﷺ about a man who gets close to a woman and Madhi comes out of him. (He said:) “For his daughter is (married) to me and I feel too shy to ask him.” So he asked the Messenger of Allah ﷺ about that and he said: “If any one of you notices that let him sprinkle water on his private parts and perform Wudu as for prayer.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 440
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلی حدیث میں مخرمہ بن بکیر نے اسے بواسطہ بکیر عن سلیمان بن یسار عن ابن عباس روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور دوسری حدیث میں لیث بن سعد نے بکیر عن سلیمان بن یسار مرسلاً بغیر ابن عباس کے واسطہ کے روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر ہے، تیسری روایت کی سند میں بکیر کا ذکر نہیں ہے، غالباً مصنف نے اسے نضح والی روایت کی تائید میں یا دونوں روایتوں کی تقویت کے لیے ذکر کیا ہے کیونکہ ان دونوں روایتوں میں انقطاع ہے، پہلی میں اس لیے کہ مخرمہ کا سماع اپنے باپ سے نہیں اور دوسری مرسل ہے۔
جس وقت کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اس کو وضو کرنا چاہئے
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں: مجھ سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے، یہاں تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پر پانی ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ۔
Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When any one of you gets up after (sleeping) at night, let him not put his hand into the vessel until he has poured water on it two or three times, for none of you knows where his hand spent the night.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 441
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں (جا کر) آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی داہنی طرف کرلیا، اور نماز ادا کی، پھر لیٹے اور سو گئے اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا (اس نے آپ کو جگایا) تو آپ نے (جا کر) نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا روایت مختصر ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I prayed with the Prophet ﷺ one night, and I stood on his left, but he made me stand on his right, and he prayed. Then he reclined on his side and took a nap, then the Mu‘adhdhin came to him and he prayed, and did not perform Wudu. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 442
بسرہ بنت صفوان ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنے ذکر (عضو تناسل) تک لے جائے (چھوئے) تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔
It was narrated from Busrah bint Safwan that the Prophet ﷺ said: “If any one of you touches his private part with his hand, let him perform Wudu’.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 445
عروہ بن زبیر مروان بن حکم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: شرمگاہ چھونے پر وضو ہے، تو مروان نے کہا: مجھ سے اسے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا ہے، تو عروہ نے بسرہ کے پاس (اس کی تصدیق کے لیے آدمی) بھیجا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ذکر چھونے سے بھی وضو ہے ۔
It was narrated that Marwan bin Al-Hakam said that one should perform Wudu after touching one’s penis. Marwan said: “Busrah bint Safwan told me that.” ‘Urwah sent someone to check that, and she said: “The Messenger of Allah ﷺ mentioned what Wudil’ is done for, and said: ‘Touching the penis.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 446
بسرہ بنت صفوان ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے، تو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کرلے ۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ نے اس حدیث ١ ؎ کو اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔
It was narrated from Busrah bint Safwan that the Prophet ﷺ said: “Whoever touches his penis, he should not perform Salah until he performs Wudu. (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasá’i) said: Hisham bin ‘Urwah did not hear this Hadith from his father.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 447
Notes · وضاحت
١ ؎: اور دوسری حدیثوں کا سماع ان سے ثابت ہے، اور یہ حدیث بواسطہ عروہ عن مروان، عن بسر ۃ متصل اور صحیح ہے، دیکھئیے سند رقم ١٦٣ ، ١٦٤ ۔
انس بن مالک، مالک بن صعصعہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں کعبہ کے پاس نیم خواب اور نیم بیداری میں تھا کہ اسی دوران میرے پاس تین (فرشتے) آئے، ان تینوں میں سے ایک جو دو کے بیچ میں تھا میری طرف آیا، اور میرے پاس حکمت و ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لایا گیا، تو اس نے میرا سینہ حلقوم سے پیٹ کے نچلے حصہ تک چاک کیا، اور دل کو آب زمزم سے دھویا، پھر وہ حکمت و ایمان سے بھر دیا گیا، پھر میرے پاس خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور لایا گیا، میں جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ چلا، تو ہم آسمان دنیا پر آئے، تو پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ ہیں، پوچھا گیا: کیا بلائے گئے ہیں؟ مرحبا مبارک ہو ان کی تشریف آوری، پھر میں آدم (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر ہم دوسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا: کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے ان دونوں کو سلام کیا، ان دونوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم چوتھے آسمان پر آئے، وہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں ادریس (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم پانچویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، میں ہارون (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی، اور نبی! پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! تو جب میں ان سے آگے بڑھا، تو وہ رونے لگے ١ ؎، ان سے پوچھا گیا آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: پروردگار! یہ لڑکا جسے تو نے میرے بعد بھیجا ہے اس کی امت سے جنت میں داخل ہونے والے لوگ میری امت کے داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ اور افضل ہوں گے، پھر ہم ساتویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر بیت معمور ٢ ؎ میرے قریب کردیا گیا، میں نے (اس کے متعلق) جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ بیت معمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں، جب وہ اس سے نکلتے ہیں تو پھر دوبارہ اس میں واپس نہیں ہوتے، یہی ان کا آخری داخلہ ہوتا ہے، پھر سدرۃ المنتھی میرے قریب کردیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کان جیسے تھے، اور اس کی جڑ سے چار نہریں نکلی ہوئی تھی، دو نہریں باطنی ہیں، اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: باطنی نہریں تو جنت میں ہیں، اور ظاہری نہریں فرات اور نیل ہیں، پھر میرے اوپر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں، میں لوٹ کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میرے اوپر پچاس نمازیں فرض کی گئیں ہیں، انہوں نے کہا: میں لوگوں کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں، میں بنی اسرائیل کو خوب جھیل چکا ہوں، آپ کی امت اس کی طاقت بالکل نہیں رکھتی، اپنے رب کے پاس واپس جایئے، اور اس سے گزارش کیجئیے کہ اس میں تخفیف کر دے، چناچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اللہ تعالیٰ نے چالیس نمازیں کردیں، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا، انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس کردی ہیں، پھر انہوں نے مجھ سے وہی بات کہی جو پہلی بار کہی تھی، تو میں پھر اپنے رب عزوجل کے پاس واپس آیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تیس کردیں، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے انہیں بیس پھر دس اور پھر پانچ کردیں، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں نے کہا: (اب مجھے) اپنے رب عزوجل کے پاس (باربار) جانے سے شرم آرہی ہے، تو آواز آئی: میں نے اپنا فریضہ نافذ کردیا ہے، اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی ہے، اور میں نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA), from Malik bin Sa’ that the Prophet ﷺ said: “While I was at the Ka’bah, in a state between sleep and wakefulness, three men came, and one of them who was in the middle came toward me. I was brought a basin of gold, filled with wisdom and faith, and he slit open from the throat to the lower abdomen, and washed the heart with Zamzam water, then — “it was filled with wisdom and faith. Then I was brought a riding-beast, smaller than a mule and bigger than a donkey. I set off with Jibril, peace be upon him, and we came to the lowest heaven. It was said: ‘Who is this?’ He said: ‘Jibril.’ It was said: “Who is with you?’ He said: ‘Muhammad.’ It was said: ‘Has (revelation) been sent to him? Welcome to him, what an excellent visit his is.’ I came to Adam, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent son and Prophet.’ Then we came to the second heaven and it was said: ‘Who is this?’ He said: ‘Jibra’il.’ It was said: ‘Who is with you?’ he said: ‘Muhammad.’ And the same exchange took place. I came to Yahya and ‘Eisa, peace be upon them both, and greeted them, and they said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ Then we came to the third heaven and it was said: ‘Who is this?’ He said: ‘Jibra’il.’ It was said: ‘Who is with you?’ He said: ‘Muhammad.’ And the same exchange took place. I came to Yasuf, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ Then we came to the fourth heaven and the same exchange took place. I came to Idris, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ Then we came to the fifth heaven and the same exchange took place. I came to Harun, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ Then we came to the sixth heaven and the same exchange took place. I came to Musa, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ When I passed him, he wept, and it was said: ‘Why are you weeping?’ He said: ‘Lord, this young man whom You have sent after me, more of his Ummah will enter Paradise than from my nation, and they will be more virtuous than them.’ Then we came to the seventh heaven and a similar exchange took place. I came to Ibrahim, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent son and Prophet.’ Then I was taken up to the Oft-Frequented House (Ad-Bait al Ma’mur) and I asked Jibra’il about it, and he said: ‘This is Al-Bait a! Ma’mur in which seventy thousand angels pray every day, and when they leave it they never come back.’ Then I was taken up to Sidrah Al Muntaha (the Lote-Tree of the Utmost Boundary). Its fruits were like the Qilal of Hajar and its leaves were like the ears of elephants. At its base were four rivers: Two hidden rivers and two manifest rivers. I asked Jibril (about them) and he said: ‘The two hidden ones are in Paradise, and the two manifest ones are the Euphrates and the Nile.’ Then fifty prayers were enjoined upon me. I came to Musaand he said: ‘What happened?’ I said: ‘Fifty prayers have been enjoined upon me.’ He said: ‘I know more about the people than you. I tried hard with the Children of Israel. Your Ummah will never be able to bear that. Go back to your Lord and ask Him to reduce it for you.’ So I went back to my Lord and asked Him to reduce it, and He made it forty. Then I went back to Musa, peace be upon him, and he said: ‘What happened?’ I said: ‘He made it forty.’ He said to me something similar to what he said the first time, so I went back to my Lord and He made it thirty. I came to Musa, peace be upon him, and told him, and he said to me something similar to what he said the first time, so I went back to my Lord and he made it twenty, then ten, then five. I came to Musa, peace be upon him, and he said to me something like he had said the first time, but I said: ‘I feel too shy before my Lord to go back to Him.’ Then it was called out: ‘I have decreed (the reward for) My obligation, and I have reduced the burden for My slaves, and I will give a ten-fold reward for each good deed.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 448
Notes · وضاحت
١ ؎: موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ رونا حسد کے طور پر نہیں تھا، بلکہ یہ بطور تاسف و رنج تھا کہ میری امت نے میری ایسی پیروی نہیں کی جیسی محمد ﷺ کی ان کی امت نے کی۔ ٢ ؎: بیت معمور خانہ کعبہ کے عین اور ساتویں آسمان پر ایک عبادت خانہ ہے جہاں فرشتے بہت بڑی تعداد میں عبادت کرتے ہیں۔ ٣ ؎: سدرۃ المنتھی بیری کا وہ درخت جو ساتویں آسمان پر ہے، اور جس سے آگے کوئی نہیں جاسکتا۔ ٤ ؎: ان دونوں سے مراد جنت کی دونوں نہریں کوثر اور سلسبیل ہیں۔
انس بن مالک اور ابن حزم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا، تو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزر ہوا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اس نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے مجھ سے کہا: جا کر اپنے رب سے پھر سے بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، تو میں نے اپنے رب عزوجل سے بات کی، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے آدھا ١ ؎ معاف کردیا، تو میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے پھر بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، چناچہ میں نے اپنے رب سے پھر سے بات کی، تو اس نے کہا: یہ پانچ نمازیں ہیں جو (اجر میں) پچاس (کے برابر) ہیں، میرے نزدیک فرمان بدلا نہیں جاتا، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے جا کر پھر بات کیجئے، میں نے کہا: مجھے اپنے رب کے پاس (باربار) جانے سے شرم آرہی ہے ۔
Anas bin Malik (RA) and Ibn Hazm said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, enjoined fifty prayers upon my Ummah, and I came back with that until I passed by Musa, peace be upon him, who said: ‘What has your Lord enjoined upon your Ummah?’ I said: ‘He has enjoined fifty prayers on them.’ Musasaid to me: ‘Go back to your Lord,, the Mighty and Sublime, for your Ummah will not be able to do that.’ So I went back to my Lord, the Mighty and Sublime, and He reduced a portion of it. Then I came back to Musaand told him, and he said: ‘Go back to your Lord, for your Ummah will not be able to do that.’ So I went back to my Lord, the Mighty and Sublime, and He said: ‘They are five (prayers) but they are fifty (in reward), and the Word that comes from Me cannot be changed.’ I came back to Musaand he said: ‘Go back to your Lord.’ I said: ‘I feel too shy before my Lord, the Mighty and Sublime.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 449
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پانچ پانچ کر کے پانچ بار میں آدھا معاف کیا، یا شطر سے مراد آدھا نہیں بلکہ کچھ حصہ ہے۔
یزید بن ابی مالک کہتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی، تو میں سوار ہوگیا، اور میرے ہمراہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے، میں چلا، پھر جبرائیل نے کہا: اتر کر نماز پڑھ لیجئیے، چناچہ میں نے ایسا ہی کیا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طیبہ میں نماز پڑھی ہے، اور اسی کی طرف ہجرت ہوگی، پھر انہوں نے کہا: اتر کر نماز پڑھئے، تو میں نے نماز پڑھی، انہوں نے کہا: کیا جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طور سینا پر نماز پڑھی ہے، جہاں اللہ عزوجل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تھا، پھر کہا: اتر کر نماز پڑھئے، میں نے اتر کر نماز پڑھی، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے بیت اللحم میں نماز پڑھی ہے، جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی تھی، پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا، تو وہاں میرے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو اکٹھا کیا گیا، جبرائیل نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے ان کی امامت کی، پھر مجھے لے کر جبرائیل آسمان دنیا پر چڑھے، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں آدم (علیہ السلام) موجود ہیں، پھر وہ مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں دونوں خالہ زاد بھائی عیسیٰ اور یحییٰ (علیہما السلام) موجود ہیں، پھر تیسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں یوسف (علیہ السلام) موجود ہیں، پھر چوتھے آسمان پر چڑھے تو وہاں ہارون (علیہ السلام) ملے، پھر پانچویں آسمان پر چڑھے تو وہاں ادریس (علیہ السلام) موجود تھے، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے وہاں موسیٰ (علیہ السلام) ملے، پھر ساتویں آسمان پر چڑھے وہاں ابراہیم (علیہ السلام) ملے، پھر ساتویں آسمان کے اوپر چڑھے اور ہم سدرۃ المنتہیٰ تک آئے، وہاں مجھے بدلی نے ڈھانپ لیا، اور میں سجدے میں گرپڑا، تو مجھ سے کہا گیا: جس دن میں نے زمین و آسمان کی تخلیق کی تم پر اور تمہاری امت پر میں نے پچاس نمازیں فرض کیں، تو تم اور تمہاری امت انہیں ادا کرو، پھر میں لوٹ کر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا، میں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: تم پر اور تمہاری امت پر کتنی (نمازیں) فرض کی گئیں؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں، تو انہوں نے کہا: نہ آپ اسے انجام دے سکیں گے اور نہ ہی آپ کی امت، تو اپنے رب کے پاس واپس جایئے اور اس سے تخفیف کی درخواست کیجئے، چناچہ میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے دس نمازیں تخفیف کردیں، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چناچہ میں پھر واپس گیا تو اس نے (پھر) دس نمازیں تخفیف کردیں، میں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چناچہ میں واپس گیا، تو اس نے مجھ سے دس نمازیں تخفیف کردیں، پھر (باربار درخواست کرنے سے) پانچ نمازیں کردی گئیں، (اس پر بھی) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اپنے رب کے حضور واپس جایئے اور تخفیف کی گزارش کیجئے، اس لیے کہ بنی اسرائیل پر دو نمازیں فرض کی گئیں تھیں، تو وہ اسے ادا نہیں کرسکے، چناچہ میں اپنے رب کے حضور واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اس نے فرمایا: جس دن میں نے زمین و آسمان پیدا کیا، اسی دن میں نے تم پر اور تمہاری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو اب یہ پانچ پچاس کے برابر ہیں، انہیں تم ادا کرو، اور تمہاری امت (بھی) ، تو میں نے جان لیا کہ یہ اللہ عزوجل کا قطعی حکم ہے، چناچہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: پھر جایئے، لیکن میں نے جان لیا تھا کہ یہ اللہ کا قطعی یعنی حتمی فیصلہ ہے، چناچہ میں پھر واپس نہیں گیا ۔
Anas bin Malik (RA) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “I was brought an animal that was larger than a donkey and smaller than mule, whose stride could reach as far as it could see. I mounted it, and Jibril was with me, and I set off. Then he said: ‘Dismount and pray,’ so I did that. He said: ‘Do you know where you have prayed? You have prayed in Taibah, which will be the place of the emigration.’ Then he said: ‘Dismount and pray,’ so I prayed. He said: ‘Do you know where you have prayed? You have prayed in Mount Sinai, where Allah, the Mighty and Sublime, spoke to Musa, peace be upon him.’ Then he said: ‘Dismount and pray.’ So I dismounted and prayed, and he said: ‘Do you know where you have prayed? You have prayed in Bethlehem, where ‘Eisa, peace be upon him, was born.’ Then I entered Bait Al-Maqdis (Jerusalem) where the Prophets, peace be upon them, were assembled for me, and Jiba’iI brought me forward to lead them in prayer. Then I was taken up to the first heaven, where I saw Adam, peace be upon him. Then I was taken up to the second heaven where I saw the maternal cousins ‘Eisa and Yahya, peace be upon them. Then I was taken up to the third heaven where I saw Yusuf, peace be upon him. Then I was taken up to the fourth heaven where I saw Harun, peace be upon him. Then I was taken up to the fifth heaven where I saw Idris, peace be upon him. Then I was taken up to the sixth heaven where I saw Musa, peace be upon him. Then I was taken up to the seventh heaven where I saw Ibrahim, peace be upon him. Then I was taken up above seven heavens and we came to Sidrah Al-Muntaha and I was covered with fog. I fell down prostrate and it was said to me: ‘(Indeed) The day I created the heavens and the Earth, I enjoined upon you and your Ummah fifty prayers, so establish them, you and your Ummah.’ I came back to Ibrahim and he did not ask me about anything, then I came to Musaand he said: ‘How much did your Lord enjoin upon you and your Ummah?’ I said: ‘Fifty prayers.’ He said: ‘You will not be able to establish them, neither you nor your Ummah. Go back to your Lord and ask Him to reduce it.’ So I went back to my Lord and He reduced it by ten. Then I came to Musaand he told me to go back, so I went back and He reduced it by ten. Then I came to Musaand he told me to go back, so I went back and He reduced it by ten. Then it was reduced to five prayers. He (Musa) said: ‘Go back to your Lord and ask Him to reduce it, for two prayers were enjoined upon the Children of Israel but they did not establish them.’ So I went back to my Lord and asked Him to reduce it, but He said: ‘The day I created the heavens and the Earth, I enjoined fifty prayers upon you and your Ummah. Five is for fifty, so establish them, you and your Ummah.’ I knew that this was what Allah, the Mighty and Sublime, had determined so I went back to Musa, peace be upon him, and he said: ‘Go back.’ But I knew that it was what Allah had determined, so I did not go back.” (Hasan)
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 450
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ١٧٠١) (منکر) (فریضئہ صلاة پانچ وقت ہوجانے کے بعد پھر اللہ سے رجوع، اور اس کے جواب سے متعلق ٹکڑا صحیح نہیں ہے، صحیح یہی ہے کہ پانچ ہوجانے کے بعد آپ نے شرم سے رجوع ہی نہیں کیا )
شراب کی حرمت سے متعلق خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا اے اہل ایمان! شراب اور جوا اور بت اور پانسے (کے تیر) یہ تمام کے تمام ناپاک ہیں شیطان کے کام ہیں اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان میں دشمنی اور لڑائی پیدا کرا دے شراب پلا اور جوا کھلا کر اور روک دے تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے تو تم لوگ چھوڑتے ہو یا نہیں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ (معراج کی شب) جب رسول اللہ ﷺ کو لے جایا گیا تو جبرائیل (علیہ السلام) آپ کو لے کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، یہ چھٹے آسمان پر ہے ١ ؎ جو چیزیں نیچے سے اوپر چڑھتی ہیں ٢ ؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، اور جو چیزیں اس کے اوپر سے اترتی ہیں ٣ ؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، یہاں تک کہ یہاں سے وہ لی جاتی ہیں ٤ ؎ عبداللہ بن مسعود ؓ نے آیت کریمہ إذ يغشى السدرة ما يغشى ٥ ؎ (جب کہ سدرۃ کو ڈھانپ لیتی تھیں وہ چیزیں جو اس پر چھا جاتی تھیں) پڑھی اور (اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے) کہا: وہ سونے کے پروانے تھے، تو (وہاں) آپ کو تین چیزیں دی گئیں: پانچ نمازیں، سورة البقرہ کی آخری آیتیں ٦ ؎، اور آپ کی امت میں سے اس شخص کی کبیرہ گناہوں کی بخشش، جو اللہ کے ساتھ بغیر کچھ شرک کئے مرے۔
It was narrated that ‘Abdullah said: “When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Night Journey, he came to Sidrah Al Muntaha, which is in the sixth heaven. That is where everything that comes up from below ends, and where everything that comes down from above, until it is taken from it. Allah says: When what covered the lote-tree did cover it!. He said: “It was moths of gold. And I was given three things: The five daily prayers, the last verses of Sarah Al-Ba qarah, and whoever of my Ummah dies without associating anything with Allah will be forgiven for Al Muqhimat.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 451
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے انس ؓ والی روایت میں ہے کہ ساتویں آسمان پر ہے، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان پر ہے اور شاخیں ساتویں آسمان پر ہیں۔ ٢ ؎: یعنی نیک اعمال یا روحیں وغیرہ۔ ٣ ؎: یعنی اوامر اور فرامین الٰہی وغیرہ۔ ٤ ؎: مطلب یہ ہے کہ فرشتے یہیں سے اسے وصول کرتے ہیں اور جہاں حکم ہوتا ہے اسے پہنچاتے ہیں۔ ٥ ؎: النجم: ١٦ ۔ ٦ ؎: یعنی یہ طے ہوا کہ آپ کو عنقریب یہ آیتیں دی جائیں گی، یہ تاویل اس لیے کرنی پڑ رہی ہے کہ یہ آیتیں مدنی ہیں اور معراج کا واقعہ مکی دور میں پیش آیا تھا، یا یہ کہا جائے کہ یہ آیتیں مکی ہیں اور باقی پوری سورت مدنی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٧٦ (١٧٣)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النجم (٣٢٧٦)، (تحفة الأشراف ٩٥٤٨)، مسند احمد ١/٣٨٧، ٤٢٢) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ پنج وقتہ نمازیں مکہ میں فرض کی گئیں، دو فرشتے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، وہ دونوں آپ کو زمزم کے پاس لے گئے، اور آپ کا پیٹ چاک کیا، اور اندر کی چیزیں نکال کر سونے کے ایک طشت میں رکھیں، اور انہیں آب زمزم سے دھویا، پھر آپ کا پیٹ علم و حکمت سے بھر کر بند کردیا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the prayers were enjoined in Makkah, and that two angels came to the Messenger of Allah ﷺ , and took him to Zamzam, where they split open his stomach and took out his innards in a basin of gold, and washed them with Zamzam water, then they filled his heart with wisdom and knowledge. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 452
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ابتداء میں دو رکعت نماز فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز (دو ہی) باقی رکھی گئی اور حضر کی نماز (بڑھا کر) پوری کردی گئی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The first time the Salah was enjoined it was two Rak and it remained as such when traveling, but the Salah while resident was made complete.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 453
ولید کہتے ہیں کہ ابوعمرو اوزاعی نے مجھے خبر دی ہے کہ انہوں نے زہری سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا کہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مکہ میں آپ کی نماز کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی ہے، وہ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر دو دو رکعت نماز فرض کی، پھر حضر میں چار رکعت کر کے انہیں مکمل کردی، اور سفر کی نماز سابق حکم ہی پر برقرار رکھی گئی۔
Abu ‘Amr — meaning, Al Awza’i — said that he asked Az uhri about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ in Makkah before the Hijrah to Al-Madinah. He said: “Urwah told me that Aishah (RA) said: ‘Allah enjoined the salah upon the Messenger of Allah ﷺ , and the first thing that He enjoined was two Rak’ahs at a time, then it was made complete four Rak’ahs while in the state of residence resident but the prayer when traveling remained two Rak’ahs, as it was first enjoined.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 454
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نماز دو دو رکعت فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز (دو ہی) برقرار رکھی گئی، اور حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Salah was enjoined two Rak’ahs at a time, then the aah when traveling remained like that, but the Salah while resident was increased.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 455
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن خزیمہ ( ١ /١٥٧) اور ابن حبان ( ٣ /١٨٠) کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے، تو حضر کی نماز میں دو دو رکعتوں کا اضافہ کردیا گیا، اور فجر اور مغرب کی نماز میں اضافہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ فجر میں قرأت لمبی ہوتی ہے اور مغرب دن کی وتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١ (٣٥٠)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین ١ (٦٨٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٠ (١١٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٨)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢ (٨)، مسند احمد ٦/٢٧٢ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نماز بزبان نبی اکرم ﷺ حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت فرض کی گئی ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Salah was enjoined on the lips of the Prophet ﷺ , four Rak’ahs while resident, and two while traveling, and one Rak’ah during times of fear.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 456
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی خوف کی حالت میں ایک ہی رکعت پر اکتفا کرے تو جائز ہے، کئی ایک صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں، حذیفہ ؓ کی روایت میں اس کی صراحت بھی ہے۔
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ آپ نماز (بغیر خوف کے) کیسے قصر کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں (النساء: ١٠١ ) تو ابن عمر ؓ نے کہا: بھتیجے! رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے، آپ نے ہمیں تعلیم دی، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے۔
It was narrated that Umayyah bin ‘Abdullah bin Khalid bin Asid said to Ibn ‘Umar (RA) : “How can the Salah be shortened as Allah says: There is no sin on you if you shorten As-salah (the prayer) if you are in fear.?” Ibn ‘Umar said: “son of my brother! The Messenger of Allah ﷺ came to us when we had gone astray and he taught us. One of the things that he taught us was that Allah, the Mighty and Sublime, has commanded us to pray two Rak’ahs when traveling.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 457
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ٧٣ (١٠٦٦)، مسند احمد ٢/٩٤، ١٤٨، ویأتي عند المؤلف (برقم: ١٤٣٥) (صحیح )
ابو سہیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو کہتے سنا کہ اہل نجد کا ایک آدمی پراگندہ سر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سن رہے تھے، لیکن جو کہہ رہا تھا اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے، یہاں تک کہ وہ قریب آگیا، تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: (اسلام) دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا ہے ، اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر ان کے علاوہ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل پڑھو ، نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ماہ رمضان کا روزہ ہے ، اس نے پوچھا: اس کے علاوہ بھی کوئی روزہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل رکھو ، رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا، تو اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل صدقہ دو ، پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا، اور وہ کہہ رہا تھا: قسم اللہ کی! میں اس سے نہ زیادہ کروں گا نہ کم، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامیاب ہوگیا اگر اس نے سچ کہا ۔
It was narrated from Abu Suhail, from his father, that he heard Talhah bin ‘Ubaidullah say: “A man from the people of Najd came to the Messenger of Allah ﷺ with unkempt hair. We could hear him talking loudly but we could not understand what he was saying until he came closer. He was asking about Islam. The Messenger of Allah ﷺ said to him: ‘Five prayers each day and night.’ He said: ‘Do I have to do anything else?’ He said: ‘No, unless you do it voluntarily.’ He said: ‘And fasting the month of Ramadan.’ He said: ‘Do I have to do anything else?’ He said: ‘No, unless you do it voluntarily.’ And the Messenger of Allah ﷺ mentioned Zakah to him, and he said: ‘Do I have to do anything else?’ He said: ‘No, unless you do it voluntarily.’ The man left saying: ‘By Allah, I will not do any more than this or any less.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘He will achieve salvation, if he is speaking the truth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 458