انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! اللہ عزوجل نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اس نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کیا ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں ہی فرض کی ہیں ، تو اس آدمی نے قسم کھائی کہ وہ نہ اس پر کوئی اضافہ کرے گا، اور نہ کوئی کمی کرے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا ۔
It was narrated that Anas said: “A man asked the Messenger of Allah ﷺ : ‘Messenger of Allah ﷺ , how many prayers has Allah enjoined upon His slaves?’ He said: ‘Allah has enjoined upon His slaves (five) prayers.’ He said: ‘Messenger of Allah ﷺ , is there anything before them or after them?’ He said: ‘Allah has enjoined upon His slaves (five) prayers.’ The man swore that he would not do anything more or less than that. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If he is speaking the truth he will most certainly enter Paradise.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 459
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ١١٦٦)، وقد أخرجہ: حم ٣/٢٦٧، صحیح مسلم/في الإیمان ٣ (١٢)، سنن الترمذی/في الزکاة ٢ (٦١٩) والمؤلف في الصوم ١ (برقم: ٢٠٩٣) من طریق ثابت عن أنس مطولاً (صحیح )
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کرو گے؟ آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کرلی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے ، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں ۔
‘Awf bin Malik Al-Ashja`i said: “We were with the Messenger of Allah ﷺ , and he said: ‘Will you not pledge to the Messenger of Allah ﷺ ?‘ And he repeated it three times. So we stretched forth our hands to give our pledge. We said: ‘Messenger of Allah ﷺ , we are willing to give you our pledge, but on what?’ He said: ‘That you will worship Allah and not associate anything with him, and (offer) the five daily prayers.’ And he said, very quietly: ‘And you will not ask the people for anything.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 460
ابن محریز سے روایت ہے کہ بنی کنانہ کے ایک آدمی نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا شام میں ایک آدمی کو جس کی کنیت ابو محمد تھی کہتے سنا کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں: تو میں عبادہ بن صامت ؓ کے پاس گیا، اور میں نے مسجد جاتے ہوئے انہیں راستے ہی میں روک لیا، اور انہیں ابو محمد کی بات بتائی، تو عبادہ ؓ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو انہیں ادا کرے گا، اور ان میں سے کس کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا، تو اللہ کا اس سے پختہ وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جس نے انہیں ادا نہیں کیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ۔
It was narrated from Ibn Muhairiz that a man from Banu Kinanah who was called Al-Mukhdaji heard a man in Ash-Sham, who was known as Abu Muhammad, saying that Witr was obligatory. Al-Mukhdaji said: “In the morning I went to ‘Ubadahh bin As-Samit, and I met him while he was on his way to the Masjid. I told him what Abu Muhammad said, and ‘Ubadahh said: ‘Abu Muhammad is wrong. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Five prayers are those that Allah has decreed for (His) slaves, whoever does them, and does not neglect any of them out of disregard toward them, will have a promise from Allah that He will admit him to Paradise. And whoever does not do them will have no such promise from Allah; if He wills he will punish him and if He wills He will admit him to Paradise.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 461
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٧ (١٤٢٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٩٤ (١٤٠١)، (تحفة الأشراف: ٥١٢٢)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ٣/١٤ (١٤)، مسند احمد ٥/٣١٥، ٣١٩، ٣٢٢، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہے گا ، لوگوں نے کہا: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: تو اسی طرح پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Do you think that if there was a river by the door of any one of you, and he bathed in it five times each day, would there be any trace of dirt left on him?” They said: “No trace of dirt would be left on him.” He said: “That is the likeness of the five daily prayers. By means of them Allah erases sins.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 462
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن شرط یہ ہے کہ ان نمازوں کو سنت کے مطابق خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے۔
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو (فرق کرنے والا) عہد ہے، وہ نماز ہے، تو جو اسے چھوڑ دے گا، کافر ہوجائے گا ١ ؎۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Buraidah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The covenant that stands between us and them is the Salah; whoever abandons it, he was committed disbelief.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 463
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور کے نزدیک یہ حکم ایسے شخص کے لیے ہے جو نماز کے ترک کو حلال سمجھے، اور جو شخص محض سستی کی وجہ سے اسے چھوڑ دے تو وہ کافر نہیں ہوتا، لیکن صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے بہت سے محققین کے نزدیک نماز کی فرضیت کے عدم انکار کے باوجود عملاً چھوڑ دینے والا بھی کافر ہے، دیکھئیے اس موضوع پر عظیم کتاب تعظيم قدر الصلاة مؤلفہ امام محمد بن نصر مروزی (تحقیق دکتور عبدالرحمٰن الفریوائی)، اور تارک صلاۃ کا حکم تصنیف شیخ ابن عثیمین (ترجمہ: دکتور عبدالرحمٰن الفریوائی)۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ٩ (٢٦٢١)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٧٧ (١٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٩٦٠)، مسند احمد ٥/٣٤٦، ٣٥٥ (صحیح )
حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، وہ کہتے ہیں: میں نے دعا کی، اے اللہ! مجھے کوئی نیک ہم نشیں عنایت فرما، تو مجھے ابوہریرہ ؓ کی ہم نشینی ملی، وہ کہتے ہیں: تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ عزوجل سے دعا کی تھی کہ مجھے ایک نیک ہم نشیں عنایت فرما تو (مجھے آپ ملے ہیں) آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کیجئیے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، ہوسکتا ہے اللہ اس کے ذریعہ مجھے فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: (قیامت کے دن) بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہوگی، اگر یہ درست ہوئی تو یقیناً وہ کامیاب و کامراں رہے گا، اور اگر خراب رہی تو بلاشبہ ناکام و نامراد رہے گا ، راوی ہمام کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم یہ قتادہ کی بات ہے یا روایت کا حصہ ہے، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی رہی تو اللہ فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ (اگر ہو تو) ١ ؎ فرض میں جو کمی ہے اس کے ذریعہ پوری کردی جائے، پھر اس کا باقی عمل بھی اسی طرح ہوگا ۔
It was narrated that Huraith bin Qabisah said: “I arrived in Al Madinah and said: ‘Allah, make it easy for me to find a righteous companion.’ Then I sat with Abu Hurairah (RA) h, may Allah be pleased with him, and said: ‘I prayed to Allah to help me find a righteous companion.’ So tell me a Hadith that you heard from the Messenger of Allah ﷺ , so that Allah might benefit me from it. He said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “The first thing for which a person will be brought to account will be his Salah. If it is sound then he will have succeeded, be salvaged, but if it is not then he will have lost and be doomed.” — (One of the narrators) Hammam said: “I do not know whether this was the words of Qatadah or part of the report.” — “If anything is lacking from his obligatory prayers, He will say: ‘Look and see whether My slave has any voluntary prayers to make up for what is deficient from his obligatory prayers.’ Then all of his deeds will be dealt with in like manner.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 465
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٨٩ (٤١٣)، مسند احمد ٢/٤٢٥، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣٩) وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٢ (١٤٢٥) (صحیح) راوی ابوالعوام نے (جو اگلی سند میں ہیں) ہمام کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔ وضاحت ١ ؎: مخالفت اس طرح ہے کہ ہمام نے اسے بطریق قتادہ عن الحسن عن حریث عن ابی ہریرہ، اور ابوالعوام نے بطریق قتادہ عن الحسن عن ابی رافع عن ابی ہریرہ روایت کیا ہے ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندہ سے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہوگی، اگر وہ پوری ملی تو پوری لکھ دی جائے گی، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو تم اس کے پاس کوئی نفل پا رہے ہو کہ جس کے ذریعہ جو فرائض اس نے ضائع کئے ہیں اسے پورا کیا جاسکے، پھر باقی تمام اعمال بھی اسی کے مطابق جاری ہوں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The first thing for which a person will be brought to account on the Day of Resurrection will be his Salah. If it is found to be complete then it will be recorded as complete, and if anything is lacking He will say: ‘Look and see if you can find any voluntary prayers with which to complete what he neglected of his obligatory prayers.’ Then the rest of his deeds will be reckoned in like manner.” (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے بندہ سے نماز کی بازپرس ہوگی، اگر اس نے اسے پورا کیا ہے (تو ٹھیک ہے) ورنہ اللہ عزوجل فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ اگر اس کے پاس کوئی نفل ملا تو فرمائے گا: اس کے ذریعہ فرض پورا کر دو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The first thing for which a person will be brought to account will be his Salah. If it is complete (all well and good), otherwise Allah will say: ‘Look and see if My slave did any voluntary prayer.’ If he is found to have done voluntary prayers, his obligatory prayers will be completed therewith.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 467
ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو، اسے چھوڑ دو گویا آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Ayyub that a man said: “Messenger of Allah ﷺ , tell me of a deed that will gain me admittance to Paradise.” The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Worship Allah and do not associate anything with Him, establish the ‘salah, pay the Zakah and uphold the ties of kinship. Let go!” — as if he was riding his camel. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 468
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اعرابی سامنے آ کر اونٹنی کی باگ تھام کر پوچھ رہا تھا آپ ﷺ جواب دے چکے تو آپ نے اس سے فرمایا: اونٹنی کی باگ چھوڑ دے اسے جانے دے۔
ابن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے انس ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Al Munkadir and Ibrahim bin Maisarah, that they heard Anas say: “I prayed Zuhr with the Prophet ﷺ in AI-Madinah, four Rak’ahs, and ‘Asr in Dhul-Hulaifah, two Rak’ahs.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 469
Notes · وضاحت
١ ؎: قصر اس لیے پڑھی کہ آپ حج کے لیے مکہ جا رہے تھے، نہ اس لیے کہ ذوالحلیفہ قصر کی حد ہے۔
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر میں نکلے (ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ (بطور سترہ) تھا۔
It was narrated that Al Hakam bin ‘Utaibah said: “I heard Abu Juhaifah say: ‘The Messenger of Allah ﷺ set off at midday, during the time of intense heat’ — (One of the narrators) Ibn Al Muthanna said, to Al-Batha’ — and he performed Wuii and prayed Zuhr, two Rak’ahs, and ‘Asr, two Rak with a short spear (‘Anzah) in front of him. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 470
عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Bakr (RA) bin ‘Umarah bin Ruwaibah Ath-Thaqafi that his father said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘He will never enter the Fire, the one who prays before the sun rises and before it sets.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 471
Notes · وضاحت
١ ؎: فجر اور عصر کی نمازوں کا ذکر ان کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر کیا گیا ہے، یہ مطلب نہیں کہ صرف ان نمازوں کی پابندی کرنے والا جہنم سے محفوظ رہے گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو ان دونوں کی پابندی کرے گا وہ یقیناً دوسری نمازوں میں بھی کوتاہی نہیں کرے گا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں، اور کہا: جب اس آیت کریمہ: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى (البقرہ: ٢٨٣ ) پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چناچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا، تو انہوں نے مجھے املا کرایا حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين پھر انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Yunus, the freed slave of Aishah (RA) the wife of the Prophet ﷺ said: Aishah (RA) told me to copy a Mu for her, and she said: ‘When you reach this verse, call my attention: Guard strictly the Salawat especially the middle (Al-Wusta) Salah. When I reached it, I called her attention and she dictated to me: ‘Guard strictly the Salawat especially the middle (Al-Wusta) Salah and the ‘Asr prayer, and stand before Allah with obedience.’ Then she said: ‘I heard it from the Messenger of Allah ﷺ . (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 472
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صلاۃ وسطیٰ عصر کے علاوہ کوئی اور صلاۃ ہے إلاّ یہ کہ اسے عطف تفسیری مانا جائے، اور صحیح بھی یہی لگتا ہے کہ اسے نبی اکرم ﷺ نے آیت کی تفسیر کے طور پر ذکر کیا ہوگا، اور اسے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے آیت کا جزء سمجھ لیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٢٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤١٠)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٨٢)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٨ (٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٩)، مسند احمد ٦/٧٣، ١٧٨ (صحیح )
ابوالملیح (ابوالملیح بن اسامہ) کہتے ہیں کہ بدلی والے ایک دن میں ہم بریدہ ؓ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا: نماز جلدی پڑھو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل رائیگاں گیا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Qilabah said: “Abu Al-Malih narrated to me: ‘We were with Buraidah on a cloudy day and he said: “Pray early, for the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever abandons Salat Al-’Asr, his good deeds will perish.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 474
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اس معصیت کی سنگینی کا اظہار مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٥ (٥٥٣)، ٣٤ (٥٩٤)، وقد اخرجہ: (تحفة الأشراف: ٢٠١٣)، مسند احمد ٥/٣٤٩، ٣٥٠، ٣٥٧، ٣٦٠، ٣٦١ (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، تو ہم نے ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ سورة السجدہ کی تیس آیتوں کے بقدر لگایا، اور آخر کی دونوں رکعتوں میں اس کا آدھا، اور ہم نے عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر لگایا، اور عصر کی آخری دونوں رکعتوں کا اندازہ اس کا آدھا لگایا۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “We used to estimate how long the Messenger of Allah ﷺ stood when praying in Zuhr and ‘A We estimated that he stood in Zuhr for as long as it takes to recite thirty verses, as long as Sarat As-Sajdah in the first two Rak’ahs, and half that in the last two. And we estimated that he stood for as long in the first two Rak’ahs of ‘Asr as he stood in the last two Rak ‘ahs of uhr, and we estimated that he stood half as long as that in the last two Rak’ahs of ‘Asr.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 475
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز ظہر میں قیام کرتے تھے تو ہر رکعت میں تیس آیت کے بقدر پڑھتے تھے، پھر عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں پندرہ آیت پڑھنے کے بقدر قیام کرتے۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri ‘said: “The Messenger of Allah ﷺ used to stand in Zuhr and recite the equivalent of thirty verses in each Rak’ah, then in the first two Rak’ahs of ‘Asr he would stand for the equivalent of fifteen verses.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 476
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت، اور ذوالحلیفہ میں نماز عصر دو رکعت پڑھی۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ prayed Zuhr in Al-Madinah, four Rak’ahs, and he prayed ‘Asr in Dhul-Hulaifah, two Rak’ahs. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 477
نوفل بن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: کہ جس کی نماز عصر فوت ہوگئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔
‘Irak bin Malik narrated that Nawfal bin Muawiyah told him that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever misses ‘Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” ‘Irak said: ‘And ‘Abdullah bin ‘Umar informed me that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying: ‘Whosoever misses ‘Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” (Sahih) Yazid bin Abl Habib contradicted him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 478
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، تحفة الأشراف: (١١٧١٧)، وحدیث عراک بن مالک عن عبداللہ بن عمر قد تفرد بہ النسائی (أیضاً )، تحفة الأشراف: (٧٣٢٠)، وقد أخرجہ عن طریق مالک عن نافع عن عبداللہ بن عمر: صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٠٢)، مواقیت ١٤ (٥٥٢)، صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٢٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤١٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦ (١٧٥)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦ (٦٨٥)، طا/وقوت الصلاة ٥ (٢١)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٥)، مسند احمد ٢/٨، ١٣، ٢٧، ٤٨، ٥٤، ٦٤، ٧٥، ٧٦، ١٠٢، ١٣٤، ١٤٥، ١٤٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٧ (١٢٦٧) (صحیح) یزید نے (آنے والی روایت میں) جعفر کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔ وضاحت ١ ؎: یہ مخالفت سند اور متن دونوں میں ہے، سند میں اس طرح کہ جعفر کی روایت میں ہے کہ نوفل نے عراک سے بیان کی ہے اور یزید کی روایت میں ہے کہ عراک کو یہ بات پہنچی ہے کہ نوفل بن معاویہ نے کہا، دونوں میں فرق واضح ہے پہلی صورت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عراک نے نوفل بن معاویہ سے خود سنا ہے، اور دوسری صورت سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں کے بیچ میں واسطہ ہے، متن میں مخالفت اس طرح ہے کہ جعفر کی روایت میں ” من فاتته صلاة العصر “ کے الفاظ ہیں، اور یزید کے الفاظ اس طرح ہیں ” من الصلاة صلاة من فاتته “۔